مسلمان خود کو بدلیں ورنہ دوسرے درجہ کا شہری بن کر رہنے کا سلیقہ سیکھ لیں

وہ کل تک بھی یہی سوچتے تھے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنا حکومت کے لئے بھی ممکن نہیں ہےچاہے بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ بر سر اقتدار آجائے ۔

جھلکیاں
  • بھارتی مسلمانوں کو کم از کم اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دستور ہند جس پر وہ آج بھی ناز کرتے ہیں اور انہیں قوی توقع ہے کہ ان کے حقوق کی پاسداری دستوری ضمانتوں کے ذریعہ ہوجائے گی، وہی باقی نہیں رکھا جائے گا ۔
  • ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کو ہماری آمدنی کے ذرائع کا پتہ نہیں ہیں اور ہم سرکاری محکموں کو چکمہ دے کر خوش ہیںجبکہ حکومت کو نہ صرف آپ کی حقیقی آمدنی کا علم ہے بلکہ اس کے ذرائع کا بھی علم ہے۔
  • ملک میں یکے بعد دیگر ایسے قوانین مدون کئے جارہے ہیں جس کا راست شکار مسلمان بننے والے ہیں۔

اطہر معین

تقسیم ہند سے بہت پہلے ہی ہمارے اکابر نے یہ بھانپ لیا تھا کہ بھارت میں انگریزسامراجیت کا سورج غروب ہونے والا ہے اور جمہوریت کا نیا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ انگریزوں نے بھی جب ملک چھوڑنے کا تہیہ کرلیا تو اس ملک کے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے ایسے ایسے شوشے چھوڑے کہ اس کے مضمرات آج محسوس ہونے لگے ہیں۔ جمہوریت کو سب سے بہترین نظام حکمرانی کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور آج بھی اسے سب سے بہترین طرز حکمرانی سمجھا جاتا ہے مگر اس نظام کے امکانی بے جا اور غلط استعمال کے بارے میں ہمارے اکابر نے ملک کے آزاد ہونے سے بہت پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کردیا تھا اورمسلمانوں کے لئے جو اس ملک میں ایک بڑی اقلیت ہیں، دستوری ضمانت کویقینی بنانے علحدہ حلقۂ انتخاب مختص کرنے کی وکالت کی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ جمہوریت میں اعداد کی اہمیت ہوتی ہے اور ہندو اکثریتی فکر بھارتی سیاست ، ثقافت اور سماج پر غالب آجائے گی اور مسلمانوں کو بتدریج حاشیہ بردار کردیا جائے گا اور بھارت سے بے دخل کردیا جائے گا یا پھر بھارت میں ہی انہیں اجنبی بناکر رکھ دیا جائے گا۔

 جب ہمارے قومی قائدین نے مسلمانوں کے لئے مساوی دستوری حقوق کو یقینی بنانےان کے لئے علحدہ فہرست رائے دہندگا ن رکھنے اورانتخابی حلقے مختص کرنے کی تجویز رکھی تو اسے انڈین نیشنل کانگریس نے یہ کہتےہوئے مسترد کردیاتھا کہ بھارت آزادی پانے کے بعد کسی ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے ماننے والوں حتیٰ کہ مذہب کے نہ ماننے والوں کا بھی ہوگا اور اس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق و مراعات حاصل ہوںگے۔
  • مسلم قائدین کےایک طبقہ نے اس کو ایک چال پر محمول کرتے ہوئے مسلمانوں کے لئے علحدہ خطہ کا مطالبہ شروع کردیا چونکہ انہیں یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ ملک ہندو راشٹر بن کر رہ جائے گا۔
  • وہیں کٹر پسند ہندؤں کےایک گروپ نے بھی مذہبی خطوط پر دو ملکی نظریہ کی تائید و حمایت کی تھی جبکہ جدوجہد آزادی کے تمام اہم قائدین جیسےگاندھی جی، پنڈت نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم وطن کے سخت مخالف تھے۔
  • مولانا ابوالکلام آزاد نے تو مسلمانوں کو دین اور وطن دونوں کا حوالہ دیتے ہوئے بڑی کوشش کی تھی کہ تقسیم وطن کے بعد بھی مسلمان اسی ملک میں رہیں۔
شائد انہوں نے یہی سوچ کر مسلمانوں کے پاکستان ہجرت کرنے کی مخالفت کی تھی کہ یہ ہجرت سبھی بھارتی مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں ہے اور ایسا ہو بھی جائے تو پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کے بس جانے کے باعث غربت و افلاس پھیل جائے گی اور اگر بڑی تعداد بھی نقل مکانی کرلیتی ہے تو یہاں رہ جانے والے مسلمان بہت ہی کم تعداد میں رہ جائیں گے اور ان کے لئے یہاں مشکلات بڑھ جائیں گی۔

ہمارے اکابر نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ ہندوؤں کا ایک طبقہ ، برطانوی سامراجیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ تو ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کو ان کے برابر حقوق، مراعات اور سہولتیں میسر نہ آئیں ۔ اسےانگریزوں کی غلامی تو قبول ہے مگر مسلمانوں کی آزادی برداشت نہیں۔

انگریز اس طبقہ کی ایسی تربیت کرکے چلے گئے کہ ان کے ملک چھوڑ کر جانے کے بعد بھی مسلمانوں کی پریشانیاں ختم نہ ہوں چونکہ وہی تھے جن کی وجہ سے بھارت پر ان کی گرفت کمزور پڑگئی تھی۔انگریزوں نے جان بوجھ کر بھارتیوں میں فرقہ پرستی، عصبیت اور نفرت کے جذبات ایسے بھڑکائے تھے کہ آج وہ لاوا بن کر پھٹ پڑرہے ہیں۔

  • آج کانگریس کا سیکولراز م ایک فریب بن چکا ہے۔ کانگریس نے سیکولرازم کی جو دہائی دی تھی وہ ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوچکا ہے اور آج بھارت میں ہندؤں کا غلبہ مکمل ہوچکا ہے۔ ہندوؤں کے غلبہ والے بھارت میں مسلمان حاشیہ پر کھڑے کردئیے گئے ہیں۔

اب جب ہم آزادی کے 74برسوں بعد بھارت میں مسلمانوں کی صورتحال دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اکابرین نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہی سب کچھ ان کے ساتھ ہوتا نظرآرہا ہے۔ ہمارے اکابرین چاہتے تھے کہ آزاد ملک کا جو دستور بنایا جائے اس میں مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور جو بھی قوانین بنائے جائیں وہ صرف اکثریتی آراء کی بنیاد پر نہ ہوں بلکہ اقلیتوں کے مفادات کے تحفظات کی ضمانت کی گنجائش رکھی جائے اور ان کی آراء کو بھی ملحوظ رکھا جائے ۔

وہ اقتدار میں بھی مسلمانوں کی متناسب شراکت کو یقینی بنانا چاہتے تھے تاکہ ایوان مملکت میں ایک توازن قائم رہے۔ وہ اس ملک میں مسلمانوں کے تشخص کا تحفظ چاہتے تھے اور ان کے امتیاز کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ وہ آزادی کے بعد دوسروں پر مسلمانوں کی حکمرانی نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی دوسروں کی ان پر حکمرانی کو وہ تسلیم کرنا چاہتے تھے ۔ وہ دوسروں کے غلام بن کر رہنا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں پر انحصار کرنا چاہتے تھے۔

ملک کی آزادی کے فوری بعد ہی فرقہ وارانہ حملوں اور فسادات میں مسلمانوں کا زبردست جانی و مالی نقصان ہوا مگر مسلمان اس ملک کے قانون پر ہمیشہ بھروسہ کیا۔ جمہوریت کے اس کھیل میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر یکا و تنہا کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔
  • وہ سیاسی پارٹیاں بھی جو کبھی سیکولرازم کی دہائی دیتے نہیں تھکتی تھیں اب اپنی ہی پارٹی کے مسلم قائدین سے دامن جھاڑنے لگی ہیں۔ آج پنڈت نہرو کا سیکولراز م اور سوشلزم کو خود کانگریس نے ہی شکست دے دی ہے اور اکثریتی ہندؤں کی خوشنودی کے لئے نرم ہندوتوا اختیار کرلیا ہے ۔
  • کئی علاقائی پارٹیاں جو کانگریس اور بی جے پی کے نظریات کو مسترد کرتے ہوئے علاقائی مسائل کی بنیاد پر یا کسی مخصوص برادری کو حقوق دلانے کے مقصد سے وجود میں آئی تھیں وہ بھی اپنے مؤقف کو برقرار نہیں رکھ سکیں ۔
  • ابتداء میں ان پارٹیوں نے کانگریس پارٹی کے ساتھ مفاہمت کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی مگر جب ان کا وجود ہی خطرہ میں محسوس ہونے لگا تو علاقائی پارٹیوں کی ایک بڑی تعداد نے بی جے پی کی گود میں ہی پناہ لے لی۔
ہمارے اکابرین نے بھارت کے مستقبل کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ یکے بعد دیگر درست ثابت ہوتے آرہے ہیں اور جن حالات کی پیش قیاسی کی تھی وہ وقوع پذیر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات اور پھر ہجومی تشدد کے ذریعہ غریب اور متوسط طبقہ کے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مسلمانوں کا طبقہ اشراف بھی اب زد میں آنا شروع ہوگیا ہے۔ 
  • ملک کے بدلتے حالات کودیکھتے ہوئے بھی مسلمانانِ ہند پر غفلت طاری ہے ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد یہی سمجھ رہی ہے کہ وہ اب بھی محفوظ ہیں اور کسی صورت میں یہ ملک ’ہندوراشٹر‘ بن نہیں سکتا اور اس ملک میں جہاں مسلمان 20کروڑ سےزائد تعداد میں ہیں اس لئے ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ہی انہیں ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔
  • میانمار میں مسلمانوں کےمملکتی سطح پر کئے گئے قتل عام کے باوجود بھی مسلمان یہی سوچتے ہیں کہ بھارت میں وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ان کا نہ ہی قتل عام کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنا کر رکھا جاسکتا ہے چونکہ انہیں مساویانہ حقوق کے لئےدستوری ضمانت حاصل ہے۔
  • وہ کل تک بھی یہی سوچتے تھے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنا حکومت کے لئے بھی ممکن نہیں ہےچاہے بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ بر سر اقتدار آجائے ۔
  • انہیں یہ بھی بھروسہ تھا کہ کشمیر کا خصوص مؤقف برقرار رکھا جائے گا اور آسام کے مسلمانوں کو درانداز قرار دیتے ہوئے جیلوں میں ٹھونسا نہیں جائے گا۔ ان کے گمان میں اب بھی یہ نہیں ہے کہ سارے بھارت کے مسلمانوں کو آسام کے مسلمانوں کی طرح اپنے بھارتی ہونے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

ملک کو ہندو راشٹر کی سمت دھکیلنے کی کوششیں خاموشی کے ساتھ آزادی کے فوری بعد سے ہی شروع کردی گئی تھیں اس وقت ہم نے جس طرح احتجاج کرنا چاہئے تھا نہیں کیا۔ اور کانگریس پارٹی پر اندھا بھروسہ کرتے ہوئے اسے اقتدار سونپنے میں اہم رول ادا کرتے رہے۔

جب اس ملک کی مختلف ریاستوں میں گائے کے تحفظ کے لئے قوانین مدون کئے گئے تھے تو ہم نے’سیکولر دستور ‘ کی دہائی دیتے ہوئے اس کی مخالفت کرنے کی بجائے یہ سوچ کر تسلیم کرلیا تھا کہ اس سے ہمارے وہ ہم وطن جو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور جو لوگ سبزی خور ہیں ، مسلمانوں کی رواداری کے قائل ہوجائیں گے اور اس سے ایک اچھا پیغام جائے گا کہ مسلمانوں نے ہم وطنوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی ایک مرغوب غداء کو ترک کرنا گوارہ کرلیا۔

  • بابری مسجد کی شہادت کو بھی یہ سوچ کر برداشت کرلیاتھا کہ یہ چند جنونی فرقہ پرستوں کی کارستانی ہے اور عدلیہ سے مسلمانوں کو انصاف حاصل ہوگا اور ایک نہ ایک دن عدالت کے حکم پر بابری مسجد اپنی جگہ پر قائم ہوگی مگر اس کا برعکس نتیجہ برآمد ہوا۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد فرقہ پرست قوتوں کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا اور عدالت کا فیصلہ بھی ہماری توقعات کے برخلاف آیا۔ ہم اب بھی یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ جو رام مندر تعمیر کی جارہی ہے وہ کسی اکھاڑے یا ہندؤں کے مذہبی گروہ کی طرف سے نہیں بلکہ حکومت ہند کی راست نگرانی میں تعمیر کی جارہی ہے جس کا سنگ بنیاد اس ملک کے وزیر اعظم نے رکھا۔

ملک میں یکے بعد دیگر ایسے قوانین مدون کئے جارہے ہیں جس کا راست شکار مسلمان بننے والے ہیں۔ قانون تحفظ مسلم خواتین ،قانون شہریت اورقانون انسداد جبری تبدیلی مذہب تو ابتدائی مرحلہ کے قوانین ہیں جوبظاہر سب کے لئے یکساں ہیں ۔کچھ قوانین پہلے ہی سے لاگو کردئیے گئے ہیں جن پر سختی سے اطلاق نہیں کیا جارہا ہے مگر آگے چل کر ہمیں ان قوانین کے مضمرات کا پتہ چلے گا۔

آنے والے دنوں میں مزید ایسے قوانین لاگو کئے جائیں گے جس کی زد میں مسلمانوں کی شریعت، ثقافت ، تعلیم اور غدائی عادتیں آئیں گی۔ ان کی عیدین پر تحدیدات عائد کی جائیں گی۔ کئی شرعی قوانین پر عمل کرنا قانوناً جرم قرار دے دیا جائے گا۔

بھارتی مسلمانوں کو کم از کم اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دستور ہند جس پر وہ آج بھی ناز کرتے ہیں اور انہیں قوی توقع ہے کہ ان کے حقوق کی پاسداری دستوری ضمانتوں کے ذریعہ ہوجائے گی، وہی باقی نہیں رکھا جائے گا اور دستور کو ہی بدل کر رکھ دیاجائے گا اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر قرار دے دیا جائے گا۔

تعلیم کا جس انداز میں بھگوا کرن ہوا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارتی ، مذہبی خطوط پر تقسیم ہوکر رہ جائیں گے ۔ جس طرح اسباق میں ہم اور وہ کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے اس سے یہی ہوگا کہ مستقبل میں مقننہ، عدلیہ اور عاملہ پر جو لوگ فائزہوں گے وہ مذہبی خطوط پر ہی سوچنے والے ہوںگے اور ان کے فیصلے ’ہم اور وہ‘ کی اساس پرہی ہوں گے۔

ہم کو یہ غلط فہمی بھی دور کرلینی چاہئے کہ بھارت کے دستور کو بدل دینے یا ہندو راشٹر قرار دینے پر سارے عالم میں ایک ہنگامہ برپا ہوگا اوربھارتی حکومت پر ایسا دباؤ پڑے گا کہ اسے واپس ملک کو سیکولر مملکت قرار دینا پڑے گا اورتمام شہریوں کو مساویانہ حقوق کو بحال کرنا ہوگا۔

مسلمان وطن عزیز میں اس مؤقف میں نہیں ہیں کہ وہ اقتدار پر فائز ہوکر ان قوانین کو منسوخ کرواسکیں یا پھر ایسی سیاسی پارٹیوں کو اقتدار میں لے آئیںجو ان قوانین کو جو تفریق پر مبنی ہیں یا تو منسوخ کردے یا ان پرعمل آوری کو ترک کردے۔ یہ بھی خام خیالی ہی ہے کہ ان کے بچاؤ کے لئے عدلیہ ایک مضبوط سہارا ثابت ہوں گے۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے ملک کے حالات پر غور کرتے ہوئے قومی سطح پر اپنا ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کے مسلمانوں کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہوگا اور ہم میں بہت سی تبدیلیاں لانی ہوں گی، اپنے لئے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام کرنا ہوگا، اپنے ادارے تشکیل دینا ہوگا اور ایسی تجارتی و صنعتی پالیسی اختیار کرنا ہوگا جس کے ذریعہ سے دوسروں پر ہمارا انحصار کم ہوجائے ۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ دیگر ابنائے وطن کی طرح مسلمان بھی دانستہ طور پر ایسی کوتاہیاں اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان پر قانونی گرفت کی جائے تو جیل جانے کے سواء کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ یہ غلطیاں عام مسلمان ہی نہیں بلکہ ہمارے اشراف اور تنظیمیں بھی کررہے ہیں اور ابھی بھی انہیں اندازہ نہیں ہیں کہ کسی نہ کسی دن ان کی بھی باز پرس ہوگی اور وہ بھی جیل بھیج دئے جاؤگے اور ان کی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں گی۔

ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کو ہماری آمدنی کے ذرائع کا پتہ نہیں ہیں اور ہم سرکاری محکموں کو چکمہ دے کر خوش ہیں جبکہ حکومت کو نہ صرف آپ کی حقیقی آمدنی کا علم ہے بلکہ اس کے ذرائع کا بھی علم ہے۔
  • آج ہم سمجھ رہے ہیں کہ شہری اداروں کی اجازت کے بغیر ہم نے جو مساجد اور دیگر دینی اداروں کی عمارات تعمیر کررکھی ہیں وہ نہیں گرائے جائیں گے۔
  • یقیناًمبلغین اسلام عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی کو ایک سازش کے تحت ہی پھانسا گیا ہے اور انہیں نذر زنداں کردیا گیا ہے ۔ ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ جبری تبدیلی مذہب کے ان پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں اسی کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جائے گا اور وہ ان پر عائد الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور وہ بہت جلد عدالت سے بے قصور ثابت ہوکر بری ہوجائیں گے۔
اگرچہ تشہیر تو اسی بات کی، کی جارہی ہے کہ وہ جبری تبدیلی مذہب کے مرتکب ہیں مگر ان پر ان الزامات کو ثابت کرنے کے لئے تحقیق کرتے ہوئے یہ ثابت کیا جائے گا کہ وہ اس مقصد کے لئے ناجائز طریقہ سے فنڈس اکٹھا کئے ہیں اور چندے جمع کرنے کے لئے مروجہ قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ 

آنے والے دنوں میں ملک کی کئی بڑی مسلم تنظیموں کے خلاف بھی مالی بے قاعدگیوں کے الزام کے تحت کارروائیاں کی جانے والی ہیں۔ انتقامی کارروائیوں سے بچنےکے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر ایسی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بچنا ہوگا ورنہ ہمیں خود کو دوسرے درجہ کے شہری بن کر رہنے کا سلیقہ سیکھ لینا ہوگا چونکہ بھارتی مسلمانوں کے لئے فی زمانہ ہجرت ممکن نہیں ہے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

athermoin1@gmail.com

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرے

  1. بہت خوب محترم….
    امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم سجانا موجودہ وقت کیلئے ناگزیر ہے….
    ان شاء اللہ اس تحریر کے بعد کچھ تو ملک کے داشواران و علماء پر اسکا اثر ہوگا….اور ہونا بھی چاہیئے ورنہ ایسے ہی خاموش رہیں تو دوسرے درجہ کے شہری ہی بن کر رہ جائیں گے

تبصرہ کریں

Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.