مسلم سب پلان کی منظوری میں تاخیر کیوں ؟

حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلم اقلیتوں کی ہرمحاذ پر ترقی وبہبودی کی خاطر بجٹ میںاضافہ اور بروقت بجٹ کی اجرائی کے ذریعہ مختلف اسکیموں اور اسکالرشپس کی منظوری کو ترجیح دی جائے۔

سلیم احمد،ایم اے، ایم فل

ریاست میں قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے اعلان کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کے نظم ونسق پر کئی ایک سوالیہ نشان اٹھنے شروع ہوگئے ہیں ۔ا پوزیشن جماعتوں کی جانب سے اجلاس کے باہر اور اندر مختلف عوامی مسائل کے سدباب کیلئے گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے بعد اپنا دورہ نئی دہلی مختصر کرتے ہوئے حیدرآباد روانہ ہوچکے ہیں۔

حکومت وقت کی جانب سے گزشتہ سات سالہ عرصہ کے دوران اقلیتوں کی ترقی وبہبودی پر منظورہ بجٹ اور مختلف اسکیمات جو اقلیتوں کیلئے جاری ہیں، مذکورہ اسکیمات کی عمل آوری میںحکومت کی تساہلی اور بروقت بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت جاری اسکیموں پر عدم عمل آوری سے مذکورہ محکمے کے مکمل طور پر غیر کارکرد ہونے کا حکومت وقت کو اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کا سامنا ہے، جیسے اقلیتی فینانس کارپوریشن بغیرعملہ کے غیر کارکرد ہوچکا ہے۔

یہاں پر جو بھی اسکیمات حکومت کی جانب سے کارکرد دکھائی جاتی تھیں، اب وہ نہیں کے برابر ہیں۔دوسرے وقف بورڈ میں مستقل چیف ایگزیکٹیو عہدیدار جو آئی اے ایس عہدہ کے حامل رتبہ کاہوتا ہے، موجود نہیں ہے ۔ محکمہ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو وقف بورڈ کا سی ای او بنایا گیا جو محکمہ کے تحت اعلیٰ عہدہ کے حصول کیلئے تربیت کی خاطر غیر حاضر رہیں گے۔

ان کے بدلے میںسکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کو شاہنواز قاسم کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ عوام کو مذکورہ عہدوں کے حامل افراد دستیاب نہ ہونے سے عوامی مسائل خاص طور پر محکمہ وقف کے مسائل جوکہ وقف جائیدادوں سے متعلق ہواکرتے ہیں،جوں کے توں برقرار رہیںگے ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مستقل عہدیداروں کی اقلیتی محکموں میں تعیناتی عمل میں لائے اور ساتھ ہی اقلیتوں کیلئے حکومت کی جانب سے مختص کردہ بجٹ کو فوری طورپر جاری کرنے کی کوشش کی جائے۔

ذرائع ابلاغ میں گزشتہ چنددنوں سے یہ خبریں زیرگشت ہیں اور سابقہ وزیر محمد علی شبیر کی جانب سے حکومت وقت پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ تلنگانہ ریاست میںزیر تعلیم ایک لاکھ انتیس ہزار اقلیتی طالب علموں کو تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑاہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے طلباء کو سالانہ دی جانے والی اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کی عدم اجرائی ہے جس کے سبب تقریباً ایک لاکھ انتیس ہزار طلباء وطالبات کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے۔

حکومت تلنگانہ کو چاہیے کہ وہ جب بجٹ مختص کرتی ہے تو اس کی بھرپور ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ وقت پرمختص کردہ بجٹ کی سہ ماہی قسط ہو یا ششماہی فوری طور پر اجرائی کو ترجیح دے۔ حکومت کے ارباب مجاز کی تساہلی کے سبب اس کا خمیازہ طلباء کو بھگتنا پڑرہا ہے اور غریب پسماندہ طبقات کے طلباء وطالبات جو اپنی معاشی ابتر حالت کے سبب فیس ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں،حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری حرکت میں آتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دے اور اسکالر شپ اور فیس باز ادائیگی کی رکی ہوئی رقم کو فوری جاری کرے تاکہ طلباء کا سال ضائع ہونے نہ پائے۔

ارباب مجاز خاص طور پر اقلیتی امور کے وزیر کے ایشوردستیاب نہیںہیں جو حضورآباد اسمبلی کے ضمنی چنائو کی انتخابی تشہیر میں مصروف ہیںلیکن وہ انتہائی ضروری دستاویزات پردستخطوں کیلئے اپنے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے مالیہ کی اجرائی کیلئے ہدایات جاری کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر اوران کی ساری ٹیم کی توجہ صرف حضورآباد اسمبلی کے ضمنی چنائو پر مرکوز ہے، جہاں انتہائی سخت اور سہ رخی مقابلہ کے امکانات ہیں۔

ایک اسمبلی نشست پر کامیابی کیلئے بذات خود چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو اور دیگر وزراء اسمبلی حلقہ میں کیمپ کئے ہوئے ہیں جبکہ ریاست کے حل طلب مسائل کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کردیاگیا ہے۔ اگر حکومت اقلیتوں کیلئے تلنگانہ میں اقلیتی سب پلان کی منظوری دیتی تو اقلیتوں کو موجودہ صورتحال کا سامنا کرنا نہیںپڑتا۔ اقلیتوں کیلئے مختص کردہ بجٹ کی سہ ماہی ،ششماہی سالانہ قسطوں کی بروقت اجرائی عمل میںلائی جاتی تو ریاست میں مسلم پسماندہ طبقات کی ترقی وبہبودی میں مدد ملتی۔ یہاں تلنگانہ ریاست میں عوام کو طبقہ واری اساس پر بجٹ منظوری کیاجاتا ہے جیسے ایس سی طبقہ، بی سی طبقہ ان طبقات کو سب پلان کے تحت بجٹ مختص کیاجاتا ہے، جو بجٹ بچ جاتا ہے وہ اگلے سال زیر استعمال لایا جاتا ہے۔

اس کے برخلاف اقلیتی بہبود کا بجٹ سب پلان کے نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ کو مکمل خرچ نہیں کیاجاتا اور جو بھی بجٹ منطور کیا جاتا ہے وہ عملاً ناکافی ہوتا ہے اور اس طرح سال کے اختتام پر اقلیتوں کیلئے جاری کردہ بجٹ کو خرچ نہ کرتے ہوئے دیگر حکومتی امور پر خرچ کردیا جاتا ہے۔ اگر حکومت وقت واقعی اقلیتوں کی ترقی وبہبودی پر سنجیدہ ہوتی تو اقلیتوں کیلئے سب پلان کی منظوری عمل میں لائی جاتی۔

پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں جہاں پر وائی ایس جنگ موہن ریڈی کی زیر قیادت وائی ایس آر کانگریس کی سرکار ہے مسلم پسماندہ طبقات کی ترقی وبہبودی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلم سب پلان کا آغاز کردیاگیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کی ترقی وبہبودی اور ان کی بھلائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلم سب پلان کو منظور ی دے تاکہ ریاست میں مسلم طبقہ کی ہر محاذ پر ترقی وبہبودی ہوسکے۔

saleemjournalist@yahoo.com
٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.