ملت اسلامیہ ہند کو اپنا زاویہ فکر بدلنا ہوگا

ہمارے علمائے کرام نےملک آزاد ہوجانے کے بعد اسے دارالحرب یا دارالکفرسے نکال کر دارالامن قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ دارالسلام، دارالحرب یا دارالکفر اوردارالامن میں مسلمانوں کی معاشرتی و دینی ذمہ داریاں کسی قدر مختلف ہوتی ہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کو دارالحرب نہ بننے دیا جائےتو پھر ہمیں اپنی فکر کے زاویے کو بدلنا ہوگااور اپنی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔

جھلکیاں
  • کانگریس کے اقتدار کے دس برسوں میں بی جے پی نے ملک کے ہندؤں کو یہ باور کروانا شروع کردیا کہ کانگریس پارٹی ، مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی مگن ہے۔
  • ملت اسلامیہ ہند ان تمام ایام میں حکومت ہند کی زد پر رہی ہےمگر افسوس کہ حقیقت حال کا اعتراف کرنے اور عملی جدوجہد کی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر رہی ہے۔
  • ہمارے اس رویہ کے باعث اسلام دشمن عناصر کو بڑا حوصلہ ملا اور آج یہ نوبت آگئی کہ مولانا کلیم صدیقی جیسےعظیم مبلغ کو تبدیلی مذہب کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔
  • ہمارے علمائے کرام نےملک آزاد ہوجانے کے بعد اسے دارالحرب یا دارالکفرسے نکال کر دارالامن قرار دیا تھا۔
  • آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا لائحہ عمل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں طئے کریں اور دورِ نبوی ؐو دورِ صحابہؓ کے واقعات سے سبق سیکھیں۔

اطہر معین

نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ملک عزیز کے حالات کا رخ ایک نئی سمت موڑ دیا گیا۔ حکومت کی تمام پالیسیوں اور اقدام کا محور امت مسلمہ کو بنادیاگیا ۔ بی جے پی کے دورِ حکومت میں امت مسلمہ کے خلاف جو کارروائیاں کی جانے لگی ہیں اس میں الجھ کر ہم نے یہ فراموش ہی کردیا کہ مسلمانوں پر ضرب کاری کا آغاز تو کانگریس پارٹی کی زیرِقیادت یو پی اے حکومت نے ہی کردیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانان ہند نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں کو جو بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی سے ہم آہنگی نہیں رکھتی تھیں ان کا ساتھ دینا شروع کردیا تھا مگر نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ہی امت کا ایک طبقہ بی جے پی کا خوف دلاکر کانگریس پارٹی کے جرائم کو فراموش کردینے کے لئے ملت کا ذہن بنانا شروع کردیا تھا اور یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگیا کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا ہوتو قومی سطح پر امت مسلمہ کو یک قطبی انداز میں کانگریس پارٹی کے حق میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔

مسلمانان ہند کے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے کئی علاقائی جماعتوں نے اقتدار کے حصول کو یقینی بنانے کانگریس پارٹی سے مفاہمت کرلینے میں ہی عافیت سمجھی تھی۔ اس طرح کانگریس پارٹی 2004ء کے عام انتخابات میں مرکز اور پھر کئی ریاستوں میں اقتدار میں آگئی۔ اقتدار حاصل کرتے ہی ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی فرضی انکاؤنٹرس میں ہلاکتوں اورگرفتاریوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا مگر ہم اس وقت بہت دیر سے جاگے اورتب تک ہمارے کئی نوجوانوں کو اپنی جانیں گنوانا پڑا۔

دنیاکے دوسرے خطوں خاص کر امریکہ کی طرح کانگریس پارٹی کے حکمرانوں نے مسلمانوں کو یہ باور کروانا شروع کردیا تھا کہ امن و آشتی اور بقائے باہم کو یقینی بنانے کے لئے مسلمانوں کو ایک اقلیت ہونے کے ناطے اکثریتی طبقہ کی کچھ زیادتیوں کو برداشت کرنا ہوگا اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کو چپ چاپ سہنا ہوگا۔ 

ساتھ ہی منظم انداز سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اور عدل کے لئے آواز اٹھانے والوں پر فرقہ پرست بلکہ دہشت گرد ہونے کا لیبل لگادیا گیا اور ابتداء میں صالح فکر رکھنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل ہونے بلکہ دہشت گرد کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئےایک مخصوص مکتب فکر کے حامل نوجوانوں کی گرفتاریاں اور فرضی انکاؤنٹرس میں ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔

  • مسلمانوں میں پائے جانے والے مسلکی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ صرف مسلمانوں کا ایک طبقہ جو دہشت گردی کی طرف مائل ہوگیا ہے اس کے خلاف ہےاور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں ملک کی سلامتی کے لئے ناگزیر ہیں۔
  • مسلم نوجوانوں کی جانوں کے ضیاع پر ہم اس لئے خاموش رہے کہ اس سے ہم میں موجود مسلکی بغض و عناد کی وجہ سے ہمیںایک طرح کی تسکین ملتی رہی تھی اور ہم دل ہی دل میںخوش ہوتے رہے تھے کہ ہمارے نظریاتی مخالفین کم ہوتے جارہے ہیں۔
جب حکومت نے یہ دیکھا کہ مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونس دینے اور فرضی انکاؤنٹرس میں ان کی جانیں لینے کے باوجود امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ خاموش ہی ہے تو پھر مسلمانوں کی بڑی ہستیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا گیا۔ اس پر ہم خاموش ہی رہے۔ شائد اس وقت تک عام مسلمانوں کا بھی یہ مزاج بن گیا تھا کہ چلو ہم تو محفوظ ہی ہیں نا۔

ہماری یہ خوش قسمتی رہی کہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عدل پسند غیر مسلموں نے آواز اٹھانا شروع کیا اور حکومت کی کارروائیوں کی مذمت کرنے بڑے پیمانہ پر عوامی تحریک شروع کی اور ان کو انصاف دلانے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا تب کہیں جاکر دہشت گردی کے الزام میں گرفتاریوں اور فرضی انکاؤنٹرس کا سلسلہ تھما مگر اب یہ امید بھی ختم ہوگئی ہے چونکہ بی جے پی دور حکومت میں انہیں بھی معتوب کیا جانے لگا۔

  • کانگریس کے اقتدار کے دس برسوں میں بی جے پی نے ملک کے ہندؤں کو یہ باور کروانا شروع کردیا کہ کانگریس پارٹی ، مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی مگن ہے جس کے لئے اسی کروڑ ہندؤں کے مذہبی جذبات کی پروا نہیں کی جارہی ہے اور کانگریس پارٹی کے اقتدار میں ہوتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، یکساں سیول کوڈ، کشمیر کے خصوصی مؤقف کی برخاستی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
  • بی جے پی کی ان کوششوں میں میڈیا کا بھر پور ساتھ رہا ہے۔ کانگریس پارٹی ، ملک کے شہریوں کی بدلتی سوچ سے گھبراگئی اور فرقہ پرست ذہنیت کا خاتمہ کرنے کی بجائے اس کی تمام تر کوشش یہ رہی کہ وہ کسی طرح ہندؤں کو یہ باور کروائے کہ وہ بھی ہندو توا کی ہی حامی ہے مگر اس کا وہ برملا اظہار نہیں کرسکتی جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ گودھرا واقعہ کے بعد گجرات میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے.
  • مظالم کو لیباریٹری میں کئے جانے والے تجربات سے تعبیر کرتے ہوئے ملک بھر میں ان تجربات کو دہرانے کے وعدے اورمذکورہ بالا امور پر ہندؤں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اقدامات کرنے کے عزم کے ساتھ نریندر مودی نے خود کو ملک کے آئندہ کے وزیر اعظم کے طور پر ابھارنا شروع کیااور بالآخر وہ 2014 ء میں ملک کے وزیر اعظم بن ہی گئے۔

ان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد ہندؤں سے کئے گئے تقریباً اہم وعدوں کو وفا کردیا گیا ۔ مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نے یہ جتلادیا کہ کس طرح اقتدار کی طاقت کا اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔اتنا سب کچھ ہوگیا مگر ہم اب بھی غفلت ہی کو اپنا مزاج بنائے رکھا۔

ملت اسلامیہ ہند ان تمام ایام میں حکومت ہند کی زد پر رہی ہےمگر افسوس کہ حقیقت حال کا اعتراف کرنے اور عملی جدوجہد کی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر رہی ہےبلکہ اسی میںاپنی عافیت سمجھتی رہی کہ حالات کے موافق خود کو ڈھال لیا جائے ۔ جس امت کو یہ درس دیا گیا تھا کہ وہ تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سےپیوست ہیں اورایک جسم کی مانند ہے کہ جس کے کسی حصہ پر چوٹ لگ جائے تو اس کا درد دوسرےاعضاء محسوس کرتے ہیں، وہ ملی امور سے خود کو اس طرح دور رکھنا شروع کردیا جیسے وہ ملت کا حصہ ہے ہی نہیں۔

مادہ پرستی ہم میں اس قدر ودیعت کردی گئی کہ ہم اپنے خاندان اور اپنی ذات کے علاوہ سوچنا ہی چھوڑدیا۔ نام نہاد دانشوروں نے ہمیں یہ گھٹی پلادی تھی کہ فلسطینیوں پر ہونے والے یہودی مظالم یا کشمیریوں کے خلاف مملکتی کارروائیوں پر ہم بھارت کے کسی دور افتادہ مقام پر احتجاج کرتے ہیں تو اس کا اثر نہ ہی یہودی مملکت پر ہوگا اور نہ ہی بھارتی سرکار پر بلکہ بند منانے کے نتیجہ میں ہماری معیشت ہی تباہ ہوگی۔

 اس سوچ کے اس قدر خطرناک نتائج برآمد ہوئے ہیں کہ ہمارے پڑوس میں بھی ہمارے بھائی پر ہونے والے مظالم پر ہم نے اپنی آنکھیں موند رکھنا شروع کردیا ۔ اگر ہم حیدرآباد ہی کی بات کریں تو مولانا نصیر الدین اور مولانا عبدالعلیم اصلاحی اوران کے خاندانوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر ہم نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ اپنی بزدلی کو چھپانے کے لئے ہم نے خود ہی انہیں دہشت گردوں کے سرخیل کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا تھا اور ان سے ایسی دوری اختیار کرلی جیسے وہ ملت اسلامیہ کے فرد ہوتے ہی نہیں۔ اس طرح ہم یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے خود کو محفوظ کرلیا ہے۔

ہمارے اس رویہ کے باعث اسلام دشمن عناصر کو بڑا حوصلہ ملا اور آج یہ نوبت آگئی کہ مولانا کلیم صدیقی جیسےعظیم مبلغ کو تبدیلی مذہب کے الزام میں حراست میں لے لیا گیااور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا۔ اب بھی اگر ہم نے اپنی روش نہیں بدلی تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے چپہ چپہ میں میانمار دہرایا جائے گا۔

اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ ہم اپنی بقاء کے لئے اسلامی اقدار کو فراموش کرتے ہوئے ان کا طرز معاشرت اختیار کرلیں گے اور ان جیسا بن جائیں تو جان بخش دی جائے گی تواسے یہ جان لینا چاہئے کہ برہمنیت میں ان ہی کے دیوی ویوتاؤں کو پوجنے والے دلتوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جاتی ہیں تو مرتد ہوکر ان کا مذہب اختیار کرلینے والوں کو اس لئے چھوڑدیا جائے گا کہ ان کی شدھی کرن ہوچکی ہے نہیں بلکہ ان پر یہ کہتے ہوئے مظالم ڈھائے جائیں گے کہ تمہارے باپ دادؤں نے ہمارا مذہب ترک کرنے کی خطا کی تھی۔

ہمارے علمائے کرام نےملک آزاد ہوجانے کے بعد اسے دارالحرب یا دارالکفرسے نکال کر دارالامن قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ دارالسلام، دارالحرب یا دارالکفر اوردارالامن میں مسلمانوں کی معاشرتی و دینی ذمہ داریاںکسی قدر مختلف ہوتی ہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کو دارالحرب نہ بننے دیا جائےتو پھر ہمیں اپنی فکر کے زاویے کو بدلنا ہوگااور اپنی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔

اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور نفرتوں کو دور کرنا ہوگا اورانہیں یہ بتانا ہوگا کہ اسلام بنی نوع انسانی کی فلاح چاہتا ہے اور ایک مسلمان ہرگز کسی انسان کا دشمن نہیں ہوسکتا۔ ہمیں نہ صرف اپنی ذاتی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہوگا بلکہ اجتماعی زندگی کے مظاہر کو بھی تبدیل کرنا ہوگا اور یہ باور کروانا ہوگا کہ ملک کی بقاء اسی میں ہے کہ یہاں رہنے والے تمام باشندوں کو یکساں سلامتی کی ضمانت حاصل ہو۔اب ہمیں اپنے حقوق کے لئے د وسروں کی بے ساکھیوں کا سہارا تلاش کرنے کی عادت ترک کردینی چاہئے اور اپنے حقوق کے لئے خود ہی آواز اٹھانا ہوگا۔ 

سب سے پہلے ہم کو اپنوں کی نیتوں پر شک کرنے کی روش سے باز آجانا چاہئے۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قیادت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ۔بسااوقات قیادت اپنی پالیسی کی توضیح نہیں کرپاتی اور ہمیں بظاہر ان کا اختیار کردہ مؤقف غلط نظر آتا ہےاور ہم جھٹ سے قیادت کے خلاف ہی علم بغاوت بلند کردیتے ہیںیہ سوچے بغیر کہ اس کا فائدہ بڑی آسانی سے اغیار اٹھالیں گے۔ آج ہم اپنے ہی اکابر کی چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی، اغیار کے سامنے ہتک کرنےسے بھی گریز نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ برآمد ہونے لگا ہے کہ ملت بے یار و مددگار ہوگئی اور اس کا کوئی ترجمان باقی نہیں رہا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا لائحہ عمل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں طئے کریں اور دورِ نبوی ؐو دورِ صحابہؓ کے واقعات سے سبق سیکھیں۔ ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے فدائیت کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ کیسے ممکن ہوا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی ہی ایسی با برکت تھی کہ آپ کے ایک اشارہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جانوں کا نذرانہ نچھاور کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی زندگی کا محور صرف اور صرف ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات ان کے لئے اللہ کے حکم کا درجہ رکھتی تھی۔

سیرت کی کتابوں میں ہم نے یہ پڑھا کہ میدان جنگ کا ماحول ہے ایک صحابی ؓ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور بتاتے ہیںکہ ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھجور کی ایک ٹہنی تھمادیتے ہیں اور صحابی یہ سوچے بغیر کہ ایک ٹہنی کس طرح تیز دھار تلوار کا مقابلہ کرسکتی ہے مگر ان کا یہ ایمان تھا کہ یہ ٹہنی چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہے اس لئے وہ تلوار سے بھی تیز ہوسکتی ہے اور اگر اس دوران جام شہادت بھی حاصل ہوجائے تو اس سے بڑا اعزاز کیا ہوگا۔
  • اسی طرح حضرت سیدنا عامر بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سےر وایت ہے ’’میرے والد گرامی حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھنے لگوارہے تھے، جب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو مجھے ارشاد فرمایا ’’اے عبد اللہ! اس خون کو ایسی جگہ ڈال دو جہاں کسی کی تم پر نظر نہ پڑے۔
  • ‘‘ فرماتے ہیں ‘جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماکر تشریف لے گئے تو میں نے وہ خون مبارک پی لیا۔ ’ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو مجھ سے استفسار فرمایا ’’اے عبد اللہ تم نے خون کے ساتھ کیا کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا، میں ایک خفیہ جگہ کو جانتا تھا جہاں کسی کی بھی نظر نہیں پڑے گی میں نے وہ خون وہاں ڈال دیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے اور ارشاد فرمایا ’’ تم نے اسے پی لیا ہے‘‘ میں نے عرض کیا جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا اور تمہیں لوگوں سے ۔
  • ان دو واقعات کو پیش کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ہم میں بھی کوئی ایک ایسی ہستی ہونی چاہئے کہ جس کے ایک اشارے پر ہم اپنا سب کچھ قربان کردیں اور ان سے کسی حکم کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی جائے۔ جب ہم میں بھی ایسی فدایت پیدا ہوجائے گی تو وہ دن دور نہیں جب دنیا ایک بار پھر سے ہم سے ڈرنے لگے ۔ آخر ملت اسلامیہ سے یہی خواہش ہے کہ وہ اپنے اکابر کی قدر کرنا سیکھیں اور کسی ایک ہستی کو ملک میں اپنا امیرمان لیں۔
 ہم نے دیکھا کہ جب ہم میں حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی علیہ الرحمہ موجود تھے تو ملت اسلامیہ کا وقار کچھ اور ہی تھانہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی ملت اسلامیہ ہند کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ شائد قارئین کے ذہنوں میں یہ بات ہوگی کہ ملک میںاور اترپردیش ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی تو اس وقت اترپردیش حکومت نے تمام اسکولس میں سرسوتی وندنا پڑھنے کا لزوم عائد کرتے ہوئے اسمبلی میں ایک بل منظور کیا تھا اس وقت علی میاں علیہ الرحمہ نے صرف ایک بیان دیاتھا کہ مسلمان اپنے بچوں کو ان اسکولس سے نکال لیں جہاں سرسوتی وندنا پڑھایا جائے گا چاہے ہمارے بچے جاہل ہی کیوں نہ رہ جائیں ۔ 

ہم فاقوں سے پیٹ پر پتھر باندھ لینا پسند کرلیں گے مگر ہم ایمان کاسودا نہیں کرسکتے۔ مولانا کے اس دوٹوک مؤقف کے بعد اس بل کو کبھی گورنر کی منظوری حاصل نہیں ہوسکی ۔آج مسلمانان ہند کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک کو اپنا امیر تسلیم کرلیں اور تمام جماعتیں اور افراد ہر مسئلہ میں ان سے رجوع ہوں اور ان کا فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگادیں تبھی کہیں جاکر ملک کے مسلمانوں کی قسمت بدلے گی

 مگر افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جن خانوادوں کے در پر وقت کے بادشاہ اپنی جبینیں ٹکانے کےآرزومند رہا کرتےتھے آج ان کی اولادیں ارباب اقتدار کی قدم بوسی کرنے لگی ہے۔

athermoin1@gmail.com

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

ایک تبصرہ

تبصرہ کریں

Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.