’’میں پدم شری ایوارڈ ہوں!‘‘

پچھلے دنوں کنگنا رناوت نے آزادی کا نیا سن عیسوی بتا کر میرے (پدم شری ایوارڈ) ساتھ ساتھ سب کو سُن کردیا...ایک خانگی ٹیلی ویژن پر انہوں نے مودی جی کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے شوشہ چھوڑا کہ ’’1947 ء میں ملی آزادی،آزادی نہیں تھی بلکہ ایک بھیک تھی، ملک کو اصل آزادی 2014 میں ملی ہے۔‘‘

حمید عادل

’’ جی ہاں ! میں پدم شری ایوارڈ ہوں …فن، تعلیم، ادب،آرٹس، سائنس ،کھیل کود، خدماتِ عامہ وغیرہ میں بہترین اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے ہندوستانی شہریوں کو حکومت کی طرف سے عطا کرنے والا اعزاز …میں بھارت رتن، پدم وبھوشن، پدم بھوشن کے بعد دیا جانے والا سب سے امتیازی اعزاز ہوں… میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ مجھے ان ہاتھوں میں بھی تھما دیا جائے گا جو نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں …

پچھلے دنوں کنگنا رناوت نے آزادی کا نیا سن عیسوی بتا کر میرے (پدم شری ایوارڈ) ساتھ ساتھ سب کو سُن کردیا…ایک خانگی ٹیلی ویژن پر انہوں نے مودی جی کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے شوشہ چھوڑا کہ ’’1947 ء میں ملی آزادی،آزادی نہیں تھی بلکہ ایک بھیک تھی، ملک کو اصل آزادی 2014 میں ملی ہے۔‘‘بات چونکہ وہ آزادی کی کررہی تھیں، اسی مناسبت سے انہوں نے ساری کے ساتھ مختصر اور مفید بلوز پہنا ہوا تھا،غالباً یہ جتانا چاہ رہی ہوں کہ دیکھو ! یہ ہے اصلی آزادی …

مجھ(پدم شری ایوارڈ) کو افسوس اس بات کا ہے کہ جس خانگی چینل پر کنگنا رناوت نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا ، اس پروگرام کی قابل ٹی وی اینکر نے ہمت کرکے کنگنا سے یہ نہیں پوچھا کہ جب ہندوستان کو 2014ء میں آزادی ملی تو براہ کرم آپ تاریخ بتا کرایک نئی تاریخ رقم کردیں…تاکہ مودی جی آئندہ سال 15اگست کی بجائے آپ کی بتائی ہوئی تاریخ پر یوم آزادی کا پرچم لہرا سکیں…مودی جی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی چپ ہیں، ان کی خاموشی کو آخرمیں(پدم شری ایوارڈ) کیا نام دوں؟ وہ ایک طرف آزادی کا 75سالہ جشن منارہے ہیں تو دوسری طرف کنگنا کہہ رہی ہیں کہ 2014ء میں ہندوستان کو آزادی ملی… اس لحاظ سے تو ملک کو آزاد ہوئے محض آٹھ سال ہی ہوئے ہیں تو پھر75سالہ جشن کیوں؟

دنیا کی نظروں میںکنگنا لاکھ بری سہی،وہ نفرت کا کتنا ہی زہر پھیلانے والی سہی، چاپلوس اور مفاد پرست سہی لیکن میں(پدم شری ایوارڈ) اس بات کو پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ نمک حرام نہیں ہیں…اب یہی دیکھیے نا کہ جیسے ہی انہیں پدم شری ایوارڈ ملا، مودی جی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانا شروع کردیے، ہوا میں ’’ سوپر وویمن‘‘ کی طرح اڑنا شروع کردیا،آخر کیوں نہ اڑیں، بی جے پی ہی تو انہیں اڑا رہی ہے …کنگنامیں ایک خوبی اور بھی ہے ، وہ نہایت سادگی پسنداور صاف گوہیں،جو دل میں ہے وہی زبان پر ہے ،چنانچہ انہوں نے ازخوداعتراف کیا ہے کہ حکومت سے انہیں بڑی مدد ملتی ہے اور اسی کی وجہ سے انہیں ایوارڈ ملا ہے….

کنگنا کے آزادی والے ریمارک پر سخت اعتراض کیا جارہا ہے ،حتیٰ کہ خود بی جے پی کے اندر ہلچل مچی ہے ،بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ٹوئٹ کیا ’’کبھی مہاتما گاندھی کی قربانی اور تپسیا کی توہین، کبھی ان کے قاتل کی عزت اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس تک اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی توہین،اس سوچ کو پاگل پن کہوں یا غداری؟‘‘ ورون گاندھی نے جو کہا خوب کہالیکن افسوس! انہیں ایک بھی مسلم مجاہد آزادی یاد نہیں رہا…

میں(پدم شری ایوارڈ) نے کافی غور و فکر کیا کہ آخر کنگنا 2014ء میں ملی کس آزادی کی بات کررہی ہیں ؟ پھر میں نے 2014ء کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ کنگنا رناوت ٹھیک ہی کہہ رہی ہیں، 2014ء کے بعد ہی تو ہندوستان کو اصلی آزادی ملی ہے …پٹرول ،ڈیزل اور رسوئی گیاس کی قیمتوں میں اس سے پہلے اس قدر آزادی سے کہاں اضافہ ہوا تھا؟ 2014ء کے بعد ہی تو خواتین کے خلاف جرائم کی شرح میںآزادی سے اضافہ ہوا ہے۔2014ء سے قبل چین اس قدر آزادی سے ہندوستانی علاقے پر سو گھروں پر مشتمل گاؤں بسانے میں کہاںکامیاب ہوا تھا؟ (پنٹگان رپورٹ)2014ء سے قبل فرقہ پرستوں کو زہر گھولنے کی اس قدر آزادی کہاں تھی؟2014سے سارے ملک بطور خاص اتر پردیش میں قانون کی آزادی سے دھجیاں کہاں اڑائی جارہی تھیں؟یہ سب2014ء کے بعد ہی تو ہوا ہے …اور تو اور 2014ء سے قبل خود مجھے(پدم شری ایوارڈ) بھی کہاں اتنی آزادی سے ہر ایرے غیرے کو سونپا جاتا تھا…اور بھی بہت سارے کام2014ء کے بعد آزادی سے ہوئے ہیں…تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں(پدم شری ایوارڈ) اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کنگنا بڑی ہی جہاں دیدہ خاتون ہیں، انہوں نے ملک میں2014ء کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے اور گہرے مطالعے کے بعد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ملک کو2014ء میں حقیقی آزادی ملی ….

17 سال کی عمر میں ’’گینگسٹر‘‘ جیسی فلم سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والی کنگنا کا شماراُن لوگوں میں ہوتا ہے جو ’’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘ پر یقین رکھتے ہیں …وہ ٹوئٹر پر نہیں ہیں ،کیوں کہ جاریہ سال مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد پر ایک ٹویٹ کی وجہ سے ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا…بے تکے ٹوئٹس کی وجہ سے وہ ٹوئٹر سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور ان کے فالورورس تیزی سے گھٹتے چلے گئے …ایک ٹوئٹر صارف نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ’’ کنگنا حکمران جماعت بی جے پی کے ہاتھوں کنٹرول کی جانے والی کٹھ پتلی بن گئی ہیں۔ ‘‘

بی جے پی حکومت کی کنگنا کس قدر چہیتی ہیں، اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ممبئی میں حکام کی جانب سے کنگنا کے دفتر کا حصہ مسمارکیا گیا تو انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ انھیں ’’ممبئی میں ڈر لگتا ہے۔‘‘جواب میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے جھٹ سے انھیں ’’ وائی کیٹیگری‘‘ کی سکیورٹی فراہم کروا دی…اورجب اداکار عامر خان نے اپنی بیگم کرن راؤ کے حوالے سے کہا کہ انھیں ہندوستان میں عدم برداشت کے موجودہ ماحول سے ڈر لگتا ہے، تو بی جے پی کے رہنماؤں نے انہیں پاکستان جانے کا مفت میں مشورہ دے ڈالا تھا۔

کنگنا رناوت فن سے زیادہ اپنی زبان کی بدولت سرخیوں میں رہی ہیں ، وہ چین سے بیٹھنے والی خاتون ہیں ہی نہیں … انہیں قرار اسی وقت ملتا ہے جب وہ اپنے کسی بیان سے تضاد پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں.. ایک موقع پر کہہ دیا کہ 99 فیصد فلمی ہستیاں منشیات کا استعمال کرتی ہیں…انہوں نے غالباً 100 فیصد اس لیے نہیں کہاکیوں کہ وہ خودبھی توفلم انڈسٹری کا حصہ ہیں، اگر وہ فلم انڈسٹری کا حصہ نہ ہوتیں تو یقینا سو فیصد فلمی ہستیاں منشیات کی عادی ہونے کا اعلان کر جاتیں… انہوں نے فلم انڈسٹری کو رسوا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا کہ اسی انڈسٹری کی بدولت وہ آج اس مقام تک پہنچی ہیں… کنگنا چلتی پھرتی زہر اگلنے والی مشین ہیں، ایک موقع پر مودی جی کو مشورہ دے ڈالا کہ آپ 2002ء والا فارمولہ دہرا دیں …کنگنا اسی 2002ء کی بات کررہی ہیں جس میں گجرات فساد ہوا تھا۔اتنی زہر آلود بات کہنی والی بہادر خاتون کے لیے پدما شری ایوارڈ دینے کا حق تو بنتا ہی ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ انہیں بھارت رتن ایوراڈ سے بھی مستقبل قریب میں نوازا جائے …

بی جے پی کی محبت میں کنگنا نے ایک موقع پر کسانوں کو دہشت گرد قرار دیدیا تھا، وہ کسان جو ملک و قوم کے لیے اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں …. کسانوں کے احتجاج میں شامل بھٹنڈا کی ایک بزرگ خاتون مہندر کور کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے انھیں شاہین باغ کی مشہور بلقیس دادی کی تصویر بتاتے ہوئے کہا کہ ’سو روپے لے کر شاہین باغ کی یہ دادی اب کسانوں کے احتجاج میں بھی پہنچ گئیں۔‘ظاہر ہے تصویر شاہین باغ کی دادی کی نہیں تھی جس پر کنگنا کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا تو کرنا پڑا ہی ساتھ ہی انھیں ملنے والے لیگل نوٹس میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا۔اس سے پہلے ٹوئٹر پر ہی فرقہ وارانہ پوسٹ لگانے کے الزام میں ممبئی پولیس نے ان کے خلاف کیس درج کیا تھا اور کرناٹک پولیس نے بھی کسانوں کے احتجاج پر ان کی ایک ٹویٹ کے حوالے سے کیس درج کیا ہے اور تو اور جاوید اختر کی جانب سے بھی ان پر ہتکِ عزت کا مقدمہ درج ہے۔

آزادی والے ریمارک کے بعد ایک بڑا طبقہ کنگنا کو پاگل قرار دینے پر آمادہ نظر آرہاہے ،جب کہ وہ نہایت ذہین اور فطین خاتون واقع ہوئی ہیں۔ دور اندیش کنگنا کو اس بات کا بخوبی علم تھاکہ وہ ملک کی آزادی سے متعلق کتنا غلط کہہ رہی ہیں،چنانچہ انہوں نے خود کہا کہ اب میرے خلاف مزید دس ایف آئی آر درج کی جائیں گی… کنگنا کہتی ہیں کہ جب سے میں پیدا ہوئی ہوں مجھے ہر چیز کے لیے لڑنا پڑا ہے…لیکن میں( پدم شری ایوارڈ) تو ان کی جھولی میں بآسانی ٹپکا دیا گیا…ایک موقع پر کنگنا نے لکھا تھا کہ’’ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے ’(فلم بنانے والوں کا) سر اتارنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘اوروہ جو خودمذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات جاری کرتی ہیں ،وہ کیا ہے ؟

لڑائی جھگڑاکنگنا کا محبوب مشغلہ رہاہے ،جب تک وہ ’’تو تو میں میں ‘‘نہیں کرلیتیں، ان کا کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا چاہے کتنے ہی ہاج مولا کھا لیں …انہوں نے صحافیوں کو تک نہیں بخشا…کنگنا نے خودانٹرویو کے دوران کہا کہ وہ دل کی بات سنتی ہیں اور انھیں غصہ بھی آتا ہے، کبھی کبھی تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خبطی ہوں۔کنگناکو بچپن سے ہی اس بات پر اعتراض رہا تھا کہ ان کے پاپا ان کے بھائی کے لیے گن او ران کے لیے گڑیا کیوں لاتے ہیں؟ کنگنا ہمیشہ ہی باغی رہیں اور والدین سے ناراض ہو کر چھوٹی سی عمر میں ہی گھر چھوڑ کر دلی اور پھر ممبئی چلی گئیں…

1947ء میں ملی آزادی کو بھیک میں ملی آزادی کہہ کر کنگنا نے گاندھی جی سمیت آزادی کے بے شمار متوالوں کی توہین کی ہے لیکن پھر بھی وہ دیش کی غدار ہیں اور نہ ہی انہیں دہشت گردی سے جوڑا گیا…اگر یہی بات کوئی اور کہتا تو جانے اس پر کتنی ہی دفعات عائد کردی جاتیں …مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک( مکروہ عناصر کا باجا بجانے کی مہارت سے متاثر ہوکر کچھ لوگ انہیں نواب ملک کی بجائے انو ملک کہنے لگے ہیں)نے کنگنا رناوت کے آزادی والے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کنگنا رناوت سے پدم شری واپس لے اور انہیں گرفتار کرتے ہوئے غداری کا مقدمہ درج کرے۔نواب ملک نے مزیدکہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کنگنا رناوت نے یہ بیان دینے سے پہلے ڈرگس کی بھاری خوراک لی ہے۔

کنگنا سے ایوارڈ واپس لیا جائے گا یا نہیں ، یہ الگ بحث ہے البتہ مجھ(پدم شری ایوارڈ) کواس بات کا شدید دکھ ہے کہ غلط ہاتھوں میں سونپے جانے سے میرا وقار ضرورمجروح ہوا ہے …اور اب مجھے(پدم شری ایوارڈ) پاکر حقداروں کوغالباًوہ خوشی نہ ہو جو پہلے ہوا کرتی تھی …کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ بھیک میں آزادی نہیں ، ایوارڈ ملتے ہیں…کنگنا، اس کہے کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں…‘‘

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.