نبی ٔ رحمت ؐ کی اُمت کے اعمالِ زحمت

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر منعقد کی جانے والی محفلیں اور جلوس و جلسوں کا کا محرمات و مکروہات سے پاک ہونا ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت و عقیدت کا ثبوت ہے ۔

اطہر معین

حبیب کبریا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت یقیناًتمام مخلوقات کے لئے نعمت عظمیٰ ہے اوراس نعمت کی صحیح قدر اس گروہ انسانی نے کی ہے جسےشفیع المذنبین کی صحبت کا شرف حاصل ہوا ہے اور جنہیں انبیائے کرام کے بعد انسانوں میں سب سے زیادہ افضل ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت بیان کرنا ہر مسلمان اپنے ایمان کی دلیل سمجھتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ماہ ربیع الاول میں جشن منایا جاتا ہے جب کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس کا قائل نہیں ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی اصل تاریخ کیا ہے اور کیا ولادت کے دن جشن منانا قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ضرور ی ہے کہ جو لوگ جشن منانے کے قائل ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کہ جشن کے نام پر کہیں ہم ایسے امور انجام دینے نہ لگ جائیں جو خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ ہوں۔

جو لوگ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے قائل ہیں ان کے جید علمائے کرام کی بھی یہی رائے ہے کہ غیر شرعی امور سے پرہیز کیا جائے مگر یہ دیکھا گیا ہے کہ بر صغیر خاص کر حیدرآباد ہند میںگزشتہ چند برسوں سے 12ربیع الاول کے موقع پر جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہمارے کم عقل نوجوان سڑکوں پر بہت سی بے ہودہ حرکتوں کا ارتکاب کرنے لگے ہیںاور سڑکوں پر کی جانے والی کرتب بازیوں کو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر قرار دینے لگے ہیں۔ ایسےعشق مصطفیٰ سے کیا فائدہ جو اتباع مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بندہ کو نہ لے آئے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر موسیقی اور ڈی جے کی دھنوں پر رقص کرتے ہوئے یہ نوجوان خود کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ یہ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر منعقد کی جانے والی محفلیں اور جلوس و جلسوں کا کا محرمات و مکروہات سے پاک ہونا ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت و عقیدت کا ثبوت ہے ۔ اس لئے کہ سراجاً منیرا ً کا لقب پانے والے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کا مقصد ہی ظلمت و جہالت کے اندھیروں کو دور کرنا ہےاور بندگانِ حق کو احکام الٰہی کا پابند بنانا ہے، رذیل صفات کو ختم کرتے ہوئے انسانوں میں حسن اخلاق کا اعلیٰ معیار پیدا کرنا ہے ۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن منانے والوں کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ کوئی امر خلاف شرع نہ ہونے پائے۔ ہمیں ایسے مظاہر کا اہتمام کرنا چاہئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضواناللہ علیہم اجمعین کی مجالس میں نظر آتے ہیں۔ اس کے برخلاف کئے جانے والا کوئی بھی غیر شرعی امر دعویٰ حبّ ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی ہے۔

حضرت عطا بن یسار رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ سے توریت میںمذکور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں! قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ اے نبی! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور اۡمی ‘قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔

تم نہ بدخو ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے (اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ( وہ( میرا بندہ اور رسول ) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرا لے، یعنی لوگ لا إله إلا الله نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوںکےپردے کھول دے گا۔(رواہ بخاری) ۔

اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ بازاروں میں شور وغل مچانے والے نہیںہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس لئے مبعوث کیا گیا تھا کہ وہ پیشرو انبیائے کرام کے لائے ہوئے دین میں جو بگاڑ پیدا ہوگیا تھا اس کا خاتمہ کریں اور ایسا اسوہ پیش کریں جو قیامت تک آنے والی انسانی نسل کے لئے بہترین نمونہ ہو۔ کیا کوئی کامل مومن ہوسکتا جب تک اس کی خواہش اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت مطہرہ کے تابع نہ ہو۔ حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی تقاضہ ہے کہ ہمارا ہر عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ جشنِ میلاد کے نام پر ہمارے اکثر نوجوان وہ سب کچھ کرنے لگے ہیں جنہیں ہم اغیار کے تہواروں میں دیکھتے ہیں ۔مشرکین مکہ ، بیت اللہ شریف کے پاس تالیاںاور سیٹیاں بجانے کو ہی عبادت سمجھا کرتے تھےاور اس پر فخر بھی کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتا ہے ’’اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا ور تالیاں بجانا سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘ (سورہ الانفال(35)۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے کفار مکہ کی عبادت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے تالیاں اور سیٹیاں بجانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے کفر پر محمول کیا ہے اور اس پر عذاب کی وعید بھی دی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن امور کو خالق کائنات نے کفر قرار دیا ہے کیاانہیں عشق نبی کے مظاہرہ کے لئے اختیار کرنے پر وہ ثواب میں بدل جائے گا اور کیاایسی حرکتوں پر اللہ ذوالجلال اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوںگے۔ حضرت اوزاعیؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عمر بن ولید کو لکھا کہ تیرےباپ (ولید بن عبدالملک بن مروان) نے تجھے پورا خمس دے دیا تھا، حالانکہ درحقیقت تیرے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کے برابر تھا۔ اس (خمس) میں تو اللہ تعالیٰ کا حق تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا ، یتامیٰ و مساکین اور مسافروں کا حق تھا۔

قیامت کے دن تیرے باپ سے جھگڑا کرنے والے لوگ کس قدر ہوں گے ! وہ شخص کیسے نجات پائے گا جس سے حق وصول کرنے والے اس قدر زیادہ ہوں ؟ پھر تیرا علانیہ آلات موسیقی استعمال کرنا اور بنسری بجانا اسلام کے اندر ایک بدعت ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں تیرے پاس ایسا شخص بھیجوں جو تیرے لمبے لمبے قبیح بالوں کو کاٹ دے۔(یا تیرے لمبے قبیح بالوں سے پکڑ کر تجھے گھسیٹ لائے۔)(سنن نسائی)۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےاس امت میں زمین میں دھنسانا، پتھروں کی بارش اور چہروں کا بدلنا ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے اور گانے بجانے والیوں کا اہتمام کریں گے اور آلات موسیقی بجائیں گے۔

ہمارے فقہ نے تو مسجد کی چھت پر بھی اگر کوئی قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتا ہے اور اس سے کسی پڑوسی کو خلل ہوتا ہے تو اس سے بھی منع فرمایا ہے مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ ماہ ربیع الاول کے ابتدائی 12دنوں میں اور جن جن علاقوں میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر غرباء میں طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے، لاؤڈا سپیکرس پر موسقی کی دھنوں پر تیار کردہ نعت اور قوالیاں لگائی جاتی ہیں۔ ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ پڑوس میں کوئی اختلاج قلب کا مریض ہے اور اسے ہماری موسیقی ریز نعتوں سے گھبراہٹ اور تکلیف ہوگی۔ راستوں میں کٹ اوٹس لگائے جاتے ہیں اور اسٹیج سجائے جاتے ہیں جس سے راہروں کو تکلیف ہوتی ہے۔

بعض نادان تو شعائر اسلام کے بھی کٹ اوٹس لگانے لگے ہیںجن سے بے وقاری کا احتمال پیدا ہوتا ہے۔ شہر حیدرآباد میں آج سے 14برس قبل 12 ربیع الاول کے موقع پر جلوس کا انصرام کیا گیا اور آج یہ صورت حال ہے کہ جن لوگوں نے اس جلوس کی حمایت اس لئے کی تھی کہ اس کے ذریعہ نوجوانوں کو دین کی رغبت پیدا ہوگی اور ان کے دلوں میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جاگزیں ہوگی اور وہ سنتوں کی طرف لوٹ آئیں گے مگر آج وہ بھی ان جلوسوں کو دیکھ کر ملال اور افسوس کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

یقیناً نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے اس کو ایک اچھا موقع جان کر نیکی اور بھلائی کے کئی کاموں کا آغاز کیا ہے اور غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی بھی کوشش کی ہے۔کئی تنظیمیں اس مناسبت سے خون کے عطیہ کے کیمپس کا اہتمام کرتی ہیں ۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ کل تک بلڈ بنکس والے یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ مسلمان صرف خون لینا جانتے ہیں مگر دینا نہیںمگر آج وہی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے برتھ ڈے پر خون کا جتنا عطیہ دیتے ہیں سال بھر میں کوئی اور طبقہ اتنی زیادہ مقدار میں نہیں دیتا۔ بہت سی تنظیمیں اور نوجوان، اس موقع پر ہسپتالوں کے مریضوں میں پھل تقسیم کرتے ہیں ۔

میرے مربی حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نقشبندی نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ان کے والد ماجد کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر ہفتہ ہسپتال جایا کرتے تھےان کے ساتھ ایک تھیلی ہوا کرتی تھی جو ان کی والدہ ماجدہ انہیں تھمادیا کرتی تھی ۔ ہسپتال کے باہر ایک میوہ فروش ہوا کرتا تھا جس سے وہ پھل لیتے اور انہیں باہر ہی ٹھہرا کر وہ خود اندرہسپتال چلا جاتے واپسی پر بھی ان کی تھیلی بھری ہوئی ہوتی، انہوں نے بارہا جاننےکی کوشش کی تھی کہ اس تھیلی میں آخر کیا ہوتا ہے جو جاتے ہوئے بھی بھری ہوتی ہے اور آتے ہوئے بھی۔ والدہ ماجدہ کے انتقال کے بعد ان کی ہمشیرہ کا یہ معمول تھا۔

والد ماجد کے انتقال کے بعد حضرت کے اصرار پر یہ عقدہ کھلا کہ دراصل ان کے والد ماجد، ایسے مریضوں کے میلے کچیلے کپڑے گھر لے آیا کرتے تھے جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی اور نہیں ہوتا اورانہیں دھلاکر انہیں لوٹادیتے۔ اسی طرح شہر میں کچھ ایسی تنظیمیں ہیں جو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر غیر مسلموں میں تحائف تقسیم کرتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر سا تعارف مختلف زبانوں میں پیش کرتے ہیںاس سے غیر مسلموں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کے بارے میں پتہ چلتا ہے اور اسلام کے بارے میں ان میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ برس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس اور جلسوں کا اہتمام نہیں ہوا تھا۔ اس مرتبہ انتظامیہ نے اس کی اجازت تو دی تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اس کا کچھ ناجائز فائدہ ہی اٹھایا۔ جلوس کے نام پر نوجوان ٹولیوں کی شکل میں نکل کر سڑکوں پر ٹووہیلرس ہی نہیں بلکہ آٹوز کے ذریعہ بھی کرتب بازیاں کرنے لگے۔ گھنٹوں ٹرافک جام رہی۔ راہروں کو کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان قبیح افعال پر جب سنجیدہ فکر ذہن کے لوگوں اور علمائے کرام کی طرف سے مذمت کی جانے لگی تو اس کا مثبت نوٹ لیتے ہوئے آئندہ ایسی حرکتوں سے اجتناب کرنے کا تہیہ کرنے کی بجائے کچھ لوگ علمائے کرام پر طعن و تشنیع کرنے لگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اکابر خاموشی کو توڑتے ہوئے امت کی صحیح رہنمائی کریں۔

ہمارے اکثر نوجوان جو حرکات کررہے ہیں ان سے کسی بھی طور پر غیر مسلموں میں ایک اچھا پیغام نہیں جاتا بلکہ اس سے تو وہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے متنفر ہوجائیں گے، نبی رحمت کو امت وسط اور خیر امت کے لقب سے بھی سرفراز کیا گیا ہے اس لئے ہمیں اس منصب کو ادا کرنے والا ہونا چاہئے اور ہمارے کسی عمل سے کسی کو بھی زحمت نہیں ہونا چاہئے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.