پہلے سب کچھ امریکہ کرتا تھا‘اب پاکستان کرتا ہے

کہرام مچا ہوا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان نے پناہ دیے رکھی اسکو گوریلا جنگ کی ٹریننگ دی،اسلحہ دیا اور اب انہی افغان طالبان نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ملک پر قبضہ جما لیا ہے ۔

اسد اللہ غالب

افغانستان میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ نہیں ہوا اس کی ساری ذمہ داری پاکستان کے سر پر دھری جا رہی ہے ،بھارت تو باقاعدہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر دہائی دے رہا ہے کہ پاکستان نے اسکی لٹیا افغانستان میں ڈبو ڈالی۔

امریکی حکومت اور امریکی میڈیا بھی پاکستان کو طعنوں پر طعنے سنا رہا ہے ،سب کا خیال یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ڈیڑھ لاکھ فوج کو پاکستان کی وجہ سے شکست ہوئی ۔کہرام مچا ہوا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان نے پناہ دیے رکھی اسکو گوریلا جنگ کی ٹریننگ دی،اسلحہ دیا اور اب انہی افغان طالبان نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ملک پر قبضہ جما لیا ہے ۔

یہ بھی سننے کو مل رہا ہے کہ امریکہ اوراسکے اتحادی جدید ترین اسلحہ افغانستان میں چھوڑ گئے ہیں اور سارا کا سارا افغان طالبان کے قبضے میں آگیا ہے اور وہ دھڑا دھڑ اسے پاکستانی افواج کے حوالے کر رہے ہیں ۔افغانستان میں کوئی حکومت بنے گی یا نہیں بنے گی اس کا دارومدار بھی پاکستان کی مرضی اور منشا پر ٹھہرایا جا رہا ہے ۔

عام طور پر دنیا میں کہیں پتہ بھی ہلتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ یہ امریکہ کی کارستانی ہے مگر اب معاملہ الٹ ہوگیا ہے۔ اب دنیا میں کہیں بھی ٹھوں ٹھاں ہو جائے ،بغیر دیکھے بھالے اسکی ذمہ داری پاکستانی آئی ایس آئی پر عائد کر دی جاتی ہے ۔ممبئی حملوں کے پانچ منٹ بعد بھارت نے اسکی ذمہ داری پاکستان کے سر پر ڈال دی تھی اور دھمکی دیدی تھی کہ وہ پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کرکے اس کا بدلہ لے گا ۔نواز شریف جیسے تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے بھی کہہ رہے ہیں کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ۔

پاکستانی میڈیا نے تو پاک پتن میں کہیں سے اجمل قصاب کا گھر بھی ڈھونڈ ڈالا ۔امریکہ نے پاکستان کو سمجھایا کہ بھارت کو اپنی رائے عامہ کا غصہ ٹھنڈاکرنے کیلئے کہیں پاکستان میں ایک دو بم مار لینے دیں لیکن پاکستان کی غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا۔

سری لنکا میں باغیوں نے برسوں اپنی حکومت کو پریشان رکھا ،بھارت واویلا مچاتا رہا کہ پاکستان باغیوں کو کچلنے کیلئے سری لنکا کی حکومت کی مدد کر رہا ہے ،بوسنیا میں یو گو سلاویہ کو شکست ہوئی تو یہی کہا گیا کہ پاکستان نے خوراک اور غذا کی سپلائی کے سعودی طیاروں میں ٹینک شکن ہتھیا ر بوسنیا کو فراہم کیے جس نے یوگوسلاویہ کے بکتر بند ڈویژن کا بھرکس نکال ڈالا ہے۔دنیا کا کہنا یہ ہے کہ پاکستانی افواج اردن کے شاہ حسین کے ذاتی دفاع پر معمور رہیں۔

یہ اتفاق کی بات ہے عرب کے خلیجی ممالک کی مشترکہ افواج کے کمانڈر پاکستان کے جنرل راحیل شریف ہیں مگر بات کا بتنگڑ بنانے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج یمن کی جنگ لڑ رہی ہے ۔

پاکستان نے تو اپنی طرف سے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی ،شمولیت کا فیصلہ کرنیوالا جنرل مشرف پاکستانی عوام کی نظروں میں گر گیا لیکن ا مریکہ کے یہ طعنے بند نہیں ہوئے کہ پاکستان حقانی گروپ کی سر پرستی کر رہا ہے ۔اصل میں امریکہ اور باقی دنیا سوویت روس کیخلاف جنگ کے دوران اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی کہ پاکستان نے کس طرح افغان مجاہدین کی مختلف تنظیموں کے ذریعے روس کو شکست فاش سے دوچار کیا اس لیے اب پاکستان ہزار بار کہے کہ اس کا افغان گروپوں پر کوئی اثر اور کنٹرول نہیں تو اس بات پر کوئی یقین نہیں کریگا۔

پاکستان نے نہ صرف افغان مجاہدین کیلئے روس کی سپر پاور کا خاتمہ کیا بلکہ جب امریکہ افغان مجاہدین کو تنہا چھوڑ کر اس خطے سے بھاگ گیا تھا تو تب بھی افغان مجاہدین میں پاکستان کا اس قدر اثر و رسوخ تھا کہ وہ کبھی معاہدہ اسلام آباد کے ذریعے ان کو متحد کرتا اور کبھی حرم کعبہ میں بٹھا کر ان کو صلح نامے پر مجبور کرتا ،پاکستان کا یہ اثر و رسوخ بلا وجہ نہیں ہے ،افغانی جب یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان انکے شانہ بشانہ برابر کی قربانیاں دے رہا ہے وہ اسکے پچاس لاکھ مہاجرین کی بھی دیکھ بھال کر رہا ہے اور دامے درمے سخنے افغان عوام کی مدد میں سرگرم عمل تھا۔

تو جواب میں افغان مجاہدین کے گروپ پاکستان پر اعتماد کیوں نہ کرتے۔ملا عمر کی حکومت کو وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر ٹینکوں پر بٹھا کر قندھار لے گئے تھے ۔اسکے بعد طالبان کی حکومت افغانستان میں نائن الیون تک قائم رہی ۔تو یہ ہے وہ پس منظر جس میں افغان عوام ہر حالت میں آنکھیں بند کرکے پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔

امریکہ نے پاکستان اور افغانیوں کو ایک دوسرے سے بد ظن کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی بنیاد رکھنے ،دہشت گردی کو ہوا دینے اور معیشت کو زیر زبر کرنے میں امریکہ نے ہر کوشش کر دیکھی۔اسکے باوجود افغان طالبان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے رہے ۔

پچھلے چند برسوں میں جب امریکہ پر واضح ہوگیا کہ وہ افغانستان میں شکست پر شکست کھا رہا ہے تو اس نے پھر اسی پاکستان سے مدد مانگی جس پر وہ ڈبل گیم کا الزام عائد کرتا رہا ہے ،پاکستان نے پس منظر میں رہ کر امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کی راہ ہموار کی اور پاکستان کے سلسلہ جنبانی کی کامیابی یہ ہے کہ بالآخر قطر کے دار الحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔

افغانستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسی امن معاہدے پر عمل در آمد کا نتیجہ ہے اسی معاہدے کی وجہ سے امریکہ اپنی فوجیں نکال رہاہے اور اسی معاہدے کی وجہ سے افغان طالبان اکتیس اگست تک امریکہ پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہیں۔ امریکہ اگر اس معاہدے کو توڑتا ہے تو ضروری نہیں کہ طالبان بھی اس معاہدے کو تسلیم کریں ۔

ویسے یہ اللہ کی شان ہے کہ وہی امریکہ جو پہلے سمجھتا تھا کہ اس کی مرضی کے بغیر پتّہ تک نہیں ہل سکتا اب وہ سر پیٹ پیٹ کر کہہ رہا ہے کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہورہا ہے۔اللہ اللہ یہ کریڈٹ بھی پاکستان کو ملنا تھا اور امریکہ کو اس قدر بے بسی کا اظہار کرنا تھا۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.