کیا سناتن ہندو دھرم اور ’ہندتوا‘ ایک ہیں؟

’’ بھارت کے سادھو سنت صدیوں سے جس سناتن دھرم اور بنیادی ہندو مذہب کی بات کرتے آئے ہیں اس کو آج کٹر ہندتوا کے ذریعہ در کنار کیا جا رہا ہے آج ہندتوا کا ایک ایساسیاسی ورژن کھڑا کیا جارہا ہے جو اسلامی جہادی تنظیموں،’ داعش اور’ بوکو حرام‘ کے مماثل ہے‘‘۔

اختر جمال عثمانی۔ (بارہ بنکی)

سلمان خورشید کی کتاب ’ سن رائیزیز اوور ایودھیا۔ نیشن ہڈ ان اور ٹائم‘ Sunrise Over Ayodhya-Nationhood in our time )کو لیکر ایک طوفان کھڑا ہوا ہے۔ اور قومی سطح پر ایک بحث شروع ہوئی ہے کہ سناتن ہندو دھرم اور آر ایس ایس کے سیاسی’ ہندوتوا‘ میں کیا فرق ہے وہ اپنی کتاب کے چھٹے باب دی سیفران اسکائی’The Saffron sky‘ میں رقم طراز ہیں:

’’ بھارت کے سادھو سنت صدیوں سے جس سناتن دھرم اور بنیادی ہندو مذہب کی بات کرتے آئے ہیں اس کو آج کٹر ہندتوا کے ذریعہ در کنار کیا جا رہا ہے آج ہندتوا کا ایک ایساسیاسی ورژن کھڑا کیا جارہا ہے جو اسلامی جہادی تنظیموں،’ داعش اور’ بوکو حرام‘ کے مماثل ہے‘‘۔

اسی جملے کو لیکر سارا طوفان کھڑا کیا گیا ہے۔ ایک بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا آر ایس ایس کے ہندتوا اور قدیم سناتن ہندو دھرم میں واقعی فرق ہے ۔ حسب روایت بی جے پی اور آر ایس ایس نے اس کتاب میں اٹھائے گئے سوال کو ملک کے سارے ہندوؤںکے لئے توہین آمیز بتایا ہے۔ ان کے لیڈران میڈیا پر آ کرہندوئوں کو سمجھانے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ سلمان خورشید نے اپنی کتاب میںسو کروڑ ہندوؤںکو دہشت گرد کہا ہے ۔ او ر وہ سلمان خورشید کے ساتھ ساتھ گانگریس پارٹی پر بھی بری طرح حملہ آور ہیں۔

آر ایس ایس کی ذیلی تنظم وشو اہندو پریشد کے کارکنوں نے شاہ جہاں پور میں نہ صرف سلمان خورشید کا پتلا جلایا بلکہ ان کی زبان کاٹ لینے کی دھمکی بھی دی۔مدھیہ پردیش کی حکومت نے ان کی کتاب پر پابندی لگانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ دہلی کے کچھ وکیلوں نے پولیس کمشنر کے یہاں ان کے خلاف شکایت بھی درج کرائی ہے۔اسی دوران ان کے نینی تال والے گھر میں توڑ پھوڑ اور آ گزنی کی تصاویر بھی سامنے آئیں ہیں ۔ اس طرح کے واقعات سلمان خورشید کو اپنی بات صحیح ٹھہرانے میں مدد گار ہی ہونگے ۔

سلمان خورشید کا کہنا ہے کہ ان کی تین سو صفحات کی کتاب میں بہت سی اچھی باتیں بھی ہیں لیکن صرف تین سطروں کو لیکر تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مخالفین کی انگریزی کی سمجھ پر بھی سوال اٹھائے ۔ انہوں کے کہا کہ میں نے لفظ same (اسی جیسا) نہ لکھ کر similar (ملتا جلتا) لکھا ہے ۔ وہ اس معنی میں کہ جہادی تنظیمیں اور ہندتوا دونوں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے ایودھیا کی بابری مسجد مقدمے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی اس معنی میں تعریف کی ہے کہ مدتوں چلنے والا ایک تنازعہ ختم ہوا۔ اب ملک کے ہندو اور مسلمان مل جل کر اس ملک کی تعمیر میں لگ جائیں۔حالانکہ اسی فیصلے کے متعلق سابق وزیرِ داخلہ پی چدمبرم جنکے ہاتھوں مذکورہ کتاب کا اجرا ء عمل میں آیا ۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ صحیح تھا اس لئے لوگوں نے قبول نہیں کیا بلکہ لوگوں نے قبول کر لیا اس لئے فیصلہ صحیح تھا۔

کانگریس برسوں سے اس طرح کے سوالوں سے دامن بچاتے ہوئے خاموشی اختیار کرتی آ رہی تھی اور نرم ہندتوا کی سیاست کر رہی تھی لیکن اب لگتا ہے اس نے بھی سمجھ لیا ہے کہ نرم یا گرم کسی طرح کے ہندتوا کی سیاست کر کے وہ بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے کانگریس نے اس معاملے میں واضح موقف اختیار کیا ہے۔ جس کا ثبوت راہل گاندھی کا بیان ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان میں دو طرح کے نظریات ہیں ایک کانگریس کا اور دوسرا آر ایس ایس کا، ہمیں یہ بات ماننی پڑے گی کہ آج کے ہندوستان میں بی جے پی، آر ایس ایس نے نفرت پھیلا دی ہے ۔ کانگریس کا نظریہ جوڑنے اور بھائی چارے کا نظریہ ہے اسکو بی جے پی کے نفرت کے نظریے نے ڈھانپ لیا ہے۔

مٹایا نہیں ہے ہرایا نہیں ہے مگر ان کی نشر و اشاعت ہم سے زیادہ ہے ان کے ہا تھ میں لائوڈ اسپیکر ہے امپلیفائر ہے مشینری ہے۔ ہم کہتے ہیں ہندو دھرم اور ہندتوا میں فرق ہے۔ دگوجے سنگھ بھی جو سیکولرازم کی حمایت میں بیان دیکر اکثر فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہتے ہیںکتاب کی رسمِ اجراء کے موقع پر موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندتوا کا ہندو دھرم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سناتن روایات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور یہ بنیادی سناتنی روایات اور نظریات کے بر خلاف ہے، ساورکر کوئی مذہبی آدمی نہیں تھے۔آج کہا جاتا ہے کہ ہندو دھرم خطرے میں ہے ۔ پانچ سو سال کی مسلمانوں کی حکومت میں اور ڈیڑھ سو سال کی عیسائیوں کی حکومت میں ہندو دھرم کا کچھ نہیں بگڑا تو اب ہندو دھرم کو کس بات کا خطرہ ہے۔۔ مشہور وکیل اور کانگریس لیڈر کپل سبل کے مطابو ہندتوا ایک سیاسی آئیڈیالوجی ہے جس کا ہندوازم یا سناتن دھرم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

اب آتے ہیں اس بنیادی سوال پر کہ ہندتوا اور ہندوازم میں کیا فرق ہے ؟ صدیوں سے ہندوستان کی پہچان ایک ایسے ملک کی رہی ہے جس میں مختلف عقیدوں ، رنگ ونسل کے لوگ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں ‘سناتن ہندو مذہب میں رواداری اور برداشت کا جذبہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ دوسروں کی بھلائی کا جذبہ رہا ہے اور بقائے باہم کا اصول ہمیشہ مقدم رہا ہے۔سناتن ہندو دھرم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے لیکن آج جس ہندتوا کا شور ہے اس کو ابھی سو سال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ سناتن ہندو دھرم اور ہندتوا بالکل الگ چیزیںہیں بلکہ کچھ معاملات میں ایک دوسرے کی ضد ہیں عوام جتنی جلد اس فرق کو سمجھ لینگے ملک اور قوم کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا۔سناتن ہندو دھرم ایک قدیم مذہب ہے جب کہ ہندتوا ایک سیاسی تحریک ہے۔

سناتن ہندو دھرم اپنے اصولوں اور عقائد کے مطابق پوری دنیا کو ایک کنبہ مان کر اس کی فلاح و بہبود کا متمنی ہے۔ظلم و جبر کا خاتمہ اور انصاف کا قیام اور انسانیت نوازی اس کا مقصد ہے۔ رشیوں منیوں کے فلسفے کے مطابق سماج کی تشکیل جس کا نصب العین ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ سناتن ہندو مذہب کے پیروکاروں نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ہندتوادیوں کے قول و عمل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بابری مسجد کی تحریک کے دوران اور اس کے بعد کئی موقعوں پر ملک میں خوف و دہشت کا ماحول ۔ بابری مسجد کا بھیڑ اکٹھا کر کے انہدام، مہاراشٹر کے فسادات جسکا احوال جسٹس شری کرشنا کی رپورٹ میں درج ہے۔

گجرات( 2002 )، تریپورہ کے حالیہ واقعات، ماب لنچنگ کے بے شمار واقعات، لو جہاد اور تبدیلی مذہب کے نام پر جگہ جگہ تشدد اور زبان کھولنے پر دہشت گردی اور غداری کے مقدمات۔ ابھی گذشتہ ستمبر میں کئی یونیورسٹیوں کے زیرِ انتظام امریکہ میں ہندتوادیوں کی شدید مخالفت کے بعد بھی ڈسمینٹلنگ گلوبل ہندتوا Global Hindutva) (Dismentlingنام سے ایک کانفرنس ہوئی جس میں اس نظریے پر سوالات اٹھائے گئے۔ پروفیسر گیان پرکاش نے اس کانفرنس پر ہو رہی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوازم اور ہندوتوا کو ایک نہیں سمجھتے یہ دونوں مختلف ہیں اور ہمارا مقصد اس فرق سے عام لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ کچھ بھی کہیں ،سلمان خورشید کی کتاب پر اٹھے تنازعے نے ملک کے عوام کو سناتن ہندو دھرم اور ہندتوا کے فرق کو سمجھنے کا ایک موقع فراہم کیاہے۔

۰۰۰٭٭ ٭ ۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.