کیا شہری معاشرہ نیا جنگی محاذ ہوگا؟ اجیت دیول کا فلسفہ ملک میں پیش آنےو الے حالات کا غماز

بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کے کئی مخالف عوام اقدامات کے باوجود جس کے نتیجہ میں ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں ،عوام نے بڑے پیمانہ پر احتجاج نہیں کیا، حتیٰ کہ نوٹ بندی کے بعد پیش آنے والی دشواریوں کو بھی عوام نے چپ چاپ برداشت کرلیا ۔

اطہر معین

مشیر قومی سلامتی اجیت دیول نےگزشتہ دنوں سردار ولبھ بھائی نیشنل پولیس اکیڈیمی‘حیدرآبادمیں آئی پی ایس پروبیشنرس کے 73ویں بیاچ کی پاسنگ اوٹ پریڈ کے مشاہدہ کے دوران خطاب کرتے ہوئے ایک نئی فکر دی کہ آنے والے دنوں میں جنگ کا نیا محاذ شہری معاشرہ ہوگا،جس کے لئے انہوں نے یہ جواز دیا کہ روایتی جنگوں کے خاطر خواہ مطلوب نتائج برآمد نہیں ہونے لگے ہیں اس لئے دشمن اب قومی مفادات کو نقصان پہنچانے شہری سماج کا استحصال کرسکتا ہے۔ اس طرح انہوں نے ساری پولیس مشنری کو یہ باور کروایا کہ اب آپ کا مقابلہ اپنے ہی عوام سے ہوگا اور اس سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔ اجیت دیول جنہوںنے پڑوسی ملک میں 7برسوں تک ایک مسلمان کی طرح رہتے ہوئے جاسوسی کے فرائض انجام دئیے اور انٹلی جنس بیورو کےڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں ، قومی سلامتی امور کے ماہر مانے جاتے ہیں اور شورش پر قابو پانے کی پالیسیوں کی تدوین میں بھی ان کا بڑا دخل ہوتا ہے۔

انہوں نے آئی پی ایس پروبیشنرس سے خطاب کرتے ہوئے الفاظ کا بہت ہی سوچ سمجھ کر استعمال کیا جو بہ ظاہر قابل اعتراض نہیں لگتےاور حالیہ دنوں میں ملک میں طویل احتجاج کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے تناظر میں ان کی پیش کردہ صورت حال حقیقت کے قریب نظر آتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ جنگ کے نئے محاذ جنہیں آپ جنگ و جدل کا چوتھا دور کہہ سکتے ہیں، وہ سیول سوسائٹی ہے۔

اس کی مزید توضیح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی اور حربی مقاصد حاصل کرنے میں اب جنگیں مؤثر طریقہ ٔ کار باقی نہیں رہی ہیں اور یہ مہنگی اور ناقابل برداشت بھی ہوگئی ہیں اور ان کے غیر یقینی نتائج برآمد ہونے لگے ہیںمگر شہری سماج اب بھی باقی ہے جس کو قوم کے مفادات کو نقصان پہنچانے تخریب کاری ، خلاف قانون کام کرنے ، بانٹنے اور ساز باز کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کا کامل تحفظ ہو۔ اگرچہ انہوں نےاس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ نوجوان پولیس آفیسرس یہ جان جائیں کہ عوام کی خدمت عظیم خدمت ہوتی ہے ، نہ صرف ملک کی تعمیر کےاعتبار سے بلکہ ملک کی سلامتی کے اعتبار سے ۔ اس طرح انہوں نے غیر محسوس انداز میں یہ ذہن دے دیا کہ عوام کے فطری احتجاج میں بھی ملک کے خلاف سازش کا پہلو تلاش کرنے کی کوشش کی جائے اور کسی بھی احتجاج کو طوالت اختیار کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے،اپنی ہی عوام کےخلاف سختیاں اختیار کرنے کے لئے انہیں جو احکام اوپر سے ملیں گے اس کی تعمیل کرنے میں انہیں کسی قسم کا تذبذب نہیں ہونا چاہئے چوں کہ یہ سب کچھ ملک کی سلامتی کے مفاد میں ہوگا، آپ کو یہ جاننے اور سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ عوام کے احتجاج کا مقصد کیا ہے اور کیا ان کے مطالبات حق بہ جانب ہیں، اس لئےکہ ہوسکتا ہے جائز مطالبات کی آڑ میں ملک کی دشمن طاقتیں، عوام کوورغلا کر ملک کے خلاف استعمال کرنے نہ لگی ہوں۔

بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کے کئی مخالف عوام اقدامات کے باوجود جس کے نتیجہ میں ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں ،عوام نے بڑے پیمانہ پر احتجاج نہیں کیا، حتیٰ کہ نوٹ بندی کے بعد پیش آنے والی دشواریوں کو بھی عوام نے چپ چاپ برداشت کرلیا چونکہ انہیں یہ باورکروایا گیا تھا کہ یہ اقدام کالادھن باہر سے لانے اور دہشت گردوں کی اعانت کو ختم کرنے میں نہایت ہی مؤثر اقدام ہے۔

ملک کے معصوم عوام کو ہندو مت کے وقار کی سربلندی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ایک اقدام قرار دیتے ہوئےمعصوم عوام کو سب کچھ سہہ لینے پر آمادہ کرنے میں حکومت بڑی حد تک کامیاب رہی مگر این آر سی اور زرعی قوانین پر وہ ملک گیر طویل ترین احتجاجوں کو روک نہ سکی۔ اگرچہ ان احتجاجوں کو روکنےکے لئےحکومت نے بہت سے جتن بھی کئے اور طاقت کااستعمال بھی کیا ۔ یہی نہیںبلکہ ذرائع ابلاغ نے سماج کو دوحصوں میں بانٹنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ سماج کے غنڈہ عناصر احتجاجیوں سے متصادم بھی ہوگئے ۔

احتجاجیوں کو دہشت گرد تک قرار دے دیا گیا اور جس طرح دشمن کو زیر کرنے کے لئے جوحربے اختیار کئے جاسکتے تھے کئے گئے مگر احتجاجیوں کے پایہ استقلال کو ہلایا نہیںجا سکا۔یہی بات ملک کے اقتدار پر موجود طاقتوں کو بہت زیادہ کھٹکنے لگی چوں کہ یہ دیکھا گیا کہ جن کے مفادات کو ٹھیس پہنچائی گئی وہ تو سراپا احتجاج بنے رہے مگر وہ لوگ جو راست یا بالواسطہ طور پر متاثر نہیں ہوئے ان کی تمام تر ہمدردیاں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ رہیں۔ لاکھ پروپگنڈہ کے باوجود عوام کی اکثریت کی رائے کو بدلا نہیں جاسکا تو عوام کو ہی محاذ جنگ تصور کرنے اور ان سے نمٹنے کے جدید حربے اختیار کرنے پر غورو خوض ہونے لگا۔

اجیت دیول کے اس بیانیہ کی گہرائی اور اس کے آنے والے دنوں میں مرتب ہونے والے اثرات کےادراک کے لئے ہمیں ماضی قریب میں پیش آئے حالات کاسرسری جائزہ بھی لینا ہوگا۔ ہندوتوا کے حامل ذہنوں نے کانگریس کے خلاف قومی سطح پر علاقائی پارٹیوں کے محاذ کی تشکیل کی راہیں ہموار کیں چوں کہ انہیں یہ لگنے لگا تھا کہ کانگریس بہت ہی سست رفتاری سے ان کے ایجنڈہ کو آگے بڑھارہی ہے۔

ان لوگوں نے مخالف کانگریس محاذ میں بی جے پی کو شامل کرواتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کو 2سے بڑھاکر 89تک پہنچانے میں کامیابی اختیار کرلی تو سوچا تھا کہ ہندوتوا کے ایجنڈہ کو غیر محسوس طریقہ سے آگے بڑھانے کا موقع ہاتھ آگیا مگر محاذ کے مرکز پر اقتدار کے بعد برہمنی طاقتوں کو یہ احساس ہوگیا کہ عددی اعتبار سے اکثریت میں رہنے والے پسماندہ طبقات جمہوری نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ساتھ صدیوں سے ہونے والی ناانصافیوں کا خاتمہ کرنے اور سماجی مساوات کے لئے اقتدار کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں ،اور جب وی پی سنگھ حکومت نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تو بی جے پی نے محاذ کا حصہ ہونے کے باوجود رام مندر کے لئے اڈوانی کی قیادت میں ملک گیر یاترا کا آغاز کیا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

جب ہندوتوا طاقتوںکویہ یقین ہوگیاکہ کانگریس کے مقابل ایک ٹھیٹ ہندو پارٹی کھڑی کی جاسکتی ہے اور اس کو اقتدار بھی سونپنا مشکل نہیں ہوگا تو منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کو روکنے کےلئے رام مندر کا مسئلہ چھیڑ دیا گیا اور ایل کے اڈوانی کی قیادت میں رام مندر کے لئے ملک گیر یاترا کا اہتمام کیا گیا اور ایسا ماحول پیدا کردیا گیا کہ مخلوط حکومت زوال پذیر ہوجائے اور پھر پی وی نرسمہا راؤ کی زیر قیادت حکومت وجود میں آئی تھی جس کے دور میں بابری مسجد شہید کردی گئی۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کا تنہا اقتدار حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں رہا جس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ بابری مسجد کی شہادت کو روکنے میں کانگریس کی ناکامی سے دلبرداشتہ مسلمانوں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا اور پھر 2004ء میں کانگریس دوبارہ اقتدار پر واپس آسکی۔ اقتدار سے محرومی نے کانگریس کو ہندوتوا پالیسی سازوں کے آگے جھکنے پر مجبور کردیا اور پھر کانگریس جو مسلمانوں کی بھرپور تائید سے اقتدار پر دوبارہ واپس آئی تھی نرم ہندوتوا کو اختیار کرلیا جو اس کی فاش غلطی رہی۔اس سے قبل 2002ء گجرات میں گودھرا ٹرین سانحہ ہوا ۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے اس کے بعد بھڑک اٹھنے والے فسادات کو جس انداز سے نمٹا اس کو بعد میں لیباریٹری تجربات کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔

ہندوتوا طاقتوں نے اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی کی بجائے نریندر مودی کو قومی قائد کے طور پرابھارا اور آخرکار انہیں وزیر اعظم کے چہرہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کو وزارت عظمیٰ تک پہنچادیا۔ مودی کے دور حکومت میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ سپریم کورٹ میں فیصل ہوااورمسجد کی اصل زمین رام مندر کے لئے الاٹ کردی گئی، جموں و کشمیر کو خصوصی مؤقف عطا کرنے والے دستور کے آرٹیکل 370کی تنسیخ عمل میں آئی اور پڑوسی ممالک میں مقیم مخصوص مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو بھارتی شہریت عطا کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی۔ انہی کے دور حکومت میں ملک کی مختلف ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ کے خلاف قوانین منظور کئے گئے، یکلخت تین طلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہجومی تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ہندؤں کا ایک بڑاطبقہ اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فخر کرنے لگا ۔ اس دوران دلتوں کو یہ موقع ہی نہیںدیا گیا کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔ وہ خود کو ہندو شمار کئے جانے میں اپنی عافیت محسوس کرنے لگے ہیں ۔

سب کچھ منصوبہ کے مطابق ہوتا رہا تھا، کشمیر کا خصوصی مؤقف ختم کردینے کے باوجود بھی خلاف توقع بڑی ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی اور طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے شورش کو دبادیا گیا تھاجس سے حوصلہ پاکر مودی حکومت نے دسمبر 2019میں شہری ترمیمی قانون منظور کیا۔ حکومت کو یہ یقین تھا کہ اس کے خلاف صرف مسلمان ہی مظاہر ہ کریں گے اور اس کو فرو کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا مگر اس کے خلاف نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر طبقات نے بھی ملک گیر سطح پر سخت احتجاج کیاجو صرف کوویڈ وباء کے باعث ختم کرنا پڑا۔

اس کے بعد ستمبر 2020ء میں مودی حکومت نے زرعی اصلاحات کے نام پر تین قوانین پارلیمنٹ میںمنظور کروالئے۔ یہاں ہندوتوا طاقتوں کو یا تو یہ اندازہ نہیں تھا کہ کسان برادری بھی سراپا احتجاج بن جائےگی یا پھر دانستہ طور پر اس احتجاج کو طوالت دی گئی تاکہ ایک تاثر دیا جاسکے کہ ایک مخصوص طبقہ ان کے حق میں کئے گئے اصلاحات کا بھی مخالف ہوکر ملک دشمن ہاتھوں میں کھلونا بن سکتا۔یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ میڈیا کے ذریعہ یہ باور کروانے کی بھی کوشش کی گئی کہ کسان احتجاج کے پس پردہ علحدگی پسند خالصتانی گروپ کارفرماہے۔ طویل احتجاج کے باوجود حکومت نے احتجاجیوں سے مذاکرات کرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیںکی اور اچانک وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف تینوں قوانین کو واپس لینے کا وعدہ کیابلکہ کسانوں سے معذرت خواہی بھی کرلی۔

زرعی قوانین کی تنسیخ اور معذرت خواہی کرنے سے چند دن قبل اجیت دیول کا پولیس پروبیشنرس سے خطاب کے دوران یہ کہنا کہ آئندہ محاذ شہری معاشرہ ہوگا اس بات کا غماز ہے کہ پولیس مشنری کو ابھی سے عوامی احتجاج کو دشمن نہ سہی دشمن کا آلہ کار سمجھا جائے۔ آنے والے دنوں میں تربیت کے نام پر باضابطہ طور پر عوامی احتجاج سے نمٹنے کےطریقے مروج کئے جائیں گے بلکہ ممکن ہے کہ پرامن عوامی احتجاج کو کچلنے کےلئے قانون سازی بھی کی جائے گی اور ان احتجاج کو ملک کے خلاف سازش متصور کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ملک کے عوام ، احتجاج کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑدیں ۔

اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ آنے والوں دنوں میں مزید سخت ترین قوانین مدون کئے جائیں گے اور ان کے خلاف احتجاج کرنے کا عوام کو حاصل دستوری حق بھی چھین لیا جائے گا۔یہ حالات عمومی طور پر عام شہریوں کےکسی بھی طور پر حق میں نہیں ہوں گے مگرعالمی اور قومی سطح پر بھارتی مسلمانوں پر کٹھن حالات کی پیش بینی بھی کرتے ہیں۔ ان حالات میں یہ خدشات بھی برمبنی قیاس نہیں کہ آنے والے دنوں میںبابا صاحب امبیڈکر کی قیادت میں مدون کردہ دستور کو ازکار رفتہ قرار دیتے ہوئےمنسوخ کردیا جائے اور ایک ایسا دستور مدون کیا جائے جس میں شہریوں کی درجہ بندی کردی جائے اور ملک کو ہندوراشٹرا قراردیا جائے۔ان حالات میں مسلمانان ہند کو حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا اور ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ان کے شہری حقوق پامال نہ ہونے پائیں اور ان کامذہبی تشخص پر بھی آنچ نہ آنے پائے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.