کیا طالبان کی فتح مغرب کی سلطنت کے خاتمےکا نکتہ آغاز بنے گی؟

پاکستان اور افغانستان کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں دو لاکھ اکتالیس ہزار انسان زندگی سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ دو ہزار چار سو اڑتالیس امریکی جبکہ چار سو چوپن برطانوی فوجی مارے گئے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ بیس سال بعد طالبان پھر اقتدار میں واپس آگئے ہیں۔

ڈیوڈ ہرسٹ(برطانوی صحافی) ترجمہ : سید ابرار حسین

7 اکتوبر 2001 کو جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ٹائم میگزین نے سرورق پر یہ شہہ سرخی جمائی،’’طالبان کے آخری ایام‘‘۔ یوں وہ سلسلہ شروع ہوا جسے بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے جانا گیا۔ یہ جنگ دراصل نوقدامت پرستوں کی زوال یافتہ روس کی جگہ اسلام کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کرنے کی خواہش کا شاخسانہ تھی۔ دسمبر 2001 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طرف سے جنگی مہمات کی نگرانی اورافغان فورسز کو تربیت دینے کے لیئے ایساف International security assistance force کا قیام عمل میں لایا گیا۔

تب سے اب تک دو کھرب امریکی ڈالروں سے زائد رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں دو لاکھ اکتالیس ہزار انسان زندگی سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ دو ہزار چار سو اڑتالیس امریکی جبکہ چار سو چوپن برطانوی فوجی مارے گئے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ بیس سال بعد طالبان پھر اقتدار میں واپس آگئے ہیں۔

2001 میں چوراسی ہزار ہیکٹر زیر کاشت علاقے سے افیون کی فصل کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔ جبکہ 2017 میں یہ اعدادوشمار دوبارہ بڑھ کر تین لاکھ اٹھائیس ہزار ہیکٹر تک پہنچ گئے تھے۔ جنگ کے علاوہ افیون افغانستان کی سب سے بڑی معاشی سرگرمی ہے۔ امریکی جنگ کے بڑے مقاصد میں سے ایک مقصد افغان آرمی کو طالبان کے خلاف لڑنے کے لیئے تیار کرنا تھا۔ لیکن ہلاکتوں اور بھاگنے والے فوجیوں کی شرح اس قدر زیادہ تھی کہ امریکی افغان فوج کے صرف ایک تہائی حصے کو ہی تربیت دے سکے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن میں افغانستان 180 ممالک میں سے 165 نمبر پر ہے۔ کرپشن نے اربوں ڈالرز ہڑپ کرلیئے ہیں جو ہسپتال اور اسکول بنانے کے لیئے مالی امداد کی مد میں دیئے گئے تھے۔ ہسپتال ہیں جن میں مریض نہیں ہیں اور اسکول ہیں جو بچوں سے خالی ہیں۔ غربت زوروں پر ہے اور شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود بی۔بی۔سی کی طرح یہ کہنا کہ امریکہ اور اتحادیوں نے تو انتخابات کی نگرانی کی ہے اور افغان فورسز کو تربیت دی ہے لیکن طالبان نے حملے جاری رکھے ہیں جس کی وجہ سے ناکامی ہوئی ہے‘ عقل کے ساتھ ساتھ بنیادی حقائق کے بھی خلاف ہے۔

مغرب کی شکست : لیکن وہ خوش فہمی ابھی بھی عبرت انگیز ہے جس خوش فہمی کے ساتھ مغربی لبرل ازم مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں تسلسل کے ساتھ بروئے کار ہے۔ یہ خوش فہمی ہمیں کمزور ہوتی ہوئی سلطنت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ مغرب حالت انکار میں ہے۔ اس کی یہ حالت انکار موجودہ تباہی میں اس کے اپنے کردار بارے بھی کم نہیں ہے۔ افغانستان میں امریکہ کا اعلی کماندار ڈیوڈ پیٹریاس، برطانیہ کے دفاعی اسٹاف کا سربراہ جنرل سر نک کارٹر اور امریکہ اور برطانیہ کا ہر وہ جنرل جس نے اس جنگ میں خدمات سرانجام دی ہیں اس پر اس جنگ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو افغانستان کے لوگ نہ لڑ سکتے تھے نہ لڑنا چاہتے تھے۔

ان میں سے کسی میں بھی اس تباہی کی ذمہ داری قبول کرنے اور افغان عوام سے معافی مانگنے کی قابلیت نہیں ہے۔ بلکہ ایسا کرنا ان سے بہت بعید ہے۔ پیٹریاس نے سیاسی دھوکہ دہی کے بارے میں اس طرح شور مچایا ہے کہ گویا اس کی قیادت کو ایک اور عشرے مل جاتا تو وہ اس مسئلے کو حل کر دیتی۔ کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کررہا۔

فضائی طاقت ، جو غیر ملکی موجودگی کو برقرار رکھے ہوئے تھی ، وہ مہربان نہیں تھی۔ وہ افغان خواتین کے حقوق میں بہتری نہیں لائی۔ یہ فقط موت دینے والی مشین تھی۔

2017 اور 19 کے درمیان ، پینٹاگون نے فضائی حملوں کے قوانین میں نرمی کردی اور نتیجتاً شہری ہلاکتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔2019 کے فضائی حملوں میں 700 افغان شہری ہلاک ہوئے جو کہ جنگ شروع ہونے کے بعد کسی بھی سال میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔افغان فضائیہ نے بھی ایسا ہی کیا۔2020 کی پہلی ششماہی میں اے۔اے۔ایف نے 86 افغانوں کو ہلاک اور 103 کو زخمی کردیا‘ اگلے تین ماہ میں یہ شرح دگنی ہو گئی۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ افغان فضائیہ کے پائلٹوں کو طالبان نے نشانہ بنایا ہے اور امریکی انخلا کے بعد اے۔اے۔ایف کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے۔

تاہم اس وہم کا شکار ہونا کہ امریکہ اور برطانیہ کی فوجیں اچھے کام کرنے کے لیےافغانستان میں آئی تھیں حقیقت سے اتنا ہی دور ہے جس قدر یہ کہنا کہ مغربی حکومتوں کی طرف سے افغانستان پر مسلط کٹھ پتلی حکومتوں کو عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ دو بار منتخب ہونے والے صدر اشرف غنی کی حکومت کا قانونی جواز صرف پانچ ہفتوں تک قائم رہ سکا۔ یعنی 8 جولائی سے، جونہی امریکی صدر بائیڈن نے انخلاء کے لیئے 31 اگست کی تاریخ مقرر کی، 15 اگست تک جب غنی اپنے خاندان کے ساتھ کابل فرار سے ہو گیا۔

المیہ یہ ہے کہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے بھی امریکہ سبق نہیں سیکھے گا کہ طاقت کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ امریکہ نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ وہ ایک زوال پذیر طاقت ہے۔ یہ الزام تراشی اور تنہائی پسندی کے ذریعے شکست کی خفت مٹانے کی کوشش کرے گا جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے۔

شکست کے مضمرات : یہ ایک ایسی تباہی تھی جس کے اسباب فراہم کرنے میں کم از کم چار امریکی صدور کا ہاتھ تھا۔ یہ واقعی دو طرفہ کوشش ہے۔ لہٰذا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ افغانستان میں مغربی اقوام کی شکست کے اثرات اس متاثرہ ملک کی سرحدوں سے باہر بھی مرتب ہوں گے۔ 32 سال پہلے اگر سوویت یونین کی شکست اس کےخاتمے کا آغاز بن گئی تھی (اور مہم جوئی کرنے والی روسی افواج کا یقینی طور پرخاتمہ ہوگیا تھا یہاں تک کہ پھر روس نے 2015 میں شام میں فوج بھیجی) تو اب یہ شکست مغربی سلطنت کے خاتمے کا آغاز ہے۔ مغرب کی یہ شکست غالب فوجی اور اقتصادی ورلڈ آرڈر کی حیثیت سے ہے۔ مغرب کا یہ عالمی نظام اس لئے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوا کہ اسے زبردست دشمنوں کا سامنا تھا۔

یہ غرور ، تکبر ، اور ان لوگوں کا تجزیہ اور تفہیم نہ کرسکنے کی وجہ سے ٹوٹا ہے جن کی زمین پر اس نے قبضہ کیئے رکھا ہے۔ یہ نظام ایسے وقت میں زوال پذیر ہوا ہے جب کسی دوسری طاقت نے اسے چیلنج نہیں کیا اور عجیب یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقت پر اس کی اپنی ہی اجارہ داری تھی۔ سوویت یونین کی طرح یہ مغربی نظام بھی بھک سے اڑ گیا ہے۔ اس نے خود پر اور اپنے رہنماؤں پر اعتماد کھو دیا ہے۔ اس کے رہنما عوامی خدمت کااحساس کھو بیٹھے میں ہیں۔ اقتدار سے محرومی کے بعد اس کے راہنما منافع بخش ملازمتوں کے لالچ میں مبتلاء ہوگئے ہیں۔

جب یہ اقتدار میں تھے تو انہوں نے جنگ کی نجکاری کردی یہاں تک کہ افغانستان میں مداخلت کا کوئی مطلب ہی باقی نہ رہا۔ کاروباری ذہنیت نےخارجہ پالیسی کا بیڑہ غرق کردیا اور اسے علاقائی اتحادیوں کو ان کے اپنے ایجنڈے کے ساتھ آؤٹ سورس کردیا گیا۔ اگر طالبان کو معلوم تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں تو ان افغانیوں کو جنہوں نے طالبان کی مخالفت کی جنگ کے مقاصد کا ادراک نہیں تھا۔ وہ فوجیں جو ہماری حکومتوں نے طالبان کے خلاف لڑنے کے لیئے وہاں بھیجی تھیں وہ تو سرے سے اس جنگ کے مقاصد سے ناواقف تھیں۔

خوف ناک پیغام! : افغانستان میں امریکہ کی شکست خوردگی اور اپنے’بندوں‘ سے بے وفائی مشرق وسطیٰ کے ان شہزادوں اور جرنیلوں کے لیئے خوف کا پیغام ہے جن کا اقتدار امریکہ کی فوجی امداد کے بغیر بمشکل پانچ ہفتے ہی قائم رہ پائے گا۔ ریاض ، ابوظہبی اور عمان میں شاہی دربار اور قاہرہ میں صدارتی محل، سب کو اس سوال کا سامنا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقبول اسلامی بغاوت پھوٹ پڑی تو وہ کتنا عرصہ اپنے تسلط کو برقرار رکھ سکیں گے۔ معلوم ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ چلا گیا تو سعودی عرب دو ہفتے ہی نکال پائے گا۔ اور ظاہر کے کہ یہ اس نے دل لگی کے لیئے نہیں کہاتھا۔

اگر افغان فوج غنی کے لیے نہیں لڑی تو کیا سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے خیال میں نیشنل گارڈ‘ جس کے اعلیٰ سطحی جرنیلوں کو اس نے باقاعدگی کے ساتھ عمل تطہیر سے گزارا ہے‘ اس کے لیے لڑیں گے؟

سعودی سیاسی تجزیہ کار اور تعلیمی ماہر خالد الدخیل نے ٹویٹ کیا: ’’جیسے ہی کابل طالبان کے قبضے میں آیا ‘ کچھ لوگ سازش اور خطے میں سیاسی اسلام کی واپسی کے خوف سے لرز اٹھے۔ خائف ہونا اور پیش بینی کرنا عقل مندی اور مستعدی ہے۔ لیکن دہائیوں تک خوفزدہ رہنا کمزوری اور نقص بصیرت ہے۔ جہاں تک سازش کا تعلق ہے تو سیاست اور تنازعات کے آلے سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیئے سازشی نظریات تاریخ اور اس کی حرکت کی وضاحت کرنے کے لیئے کارگر نہیں ہیں‘‘۔

الدخیل نے جن سازشی دعوؤں کا حوالہ دیا ہے ان کے مطابق امریکہ اور اسلام پسند ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ جس طرح سعودیوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما پر شک کیا تھا جب اس نے 25 جنوری کی بغاوت کے دوران مصری صدر حسنی مبارک کو چھوڑ دیا تھا۔ لیکن حقیقت میں امریکہ اور اسلام پسندوں کے مابین تعلقات آمروں، سیکولر یا مذہبی گروہوں کے ساتھ اس کےتعلقات کی نسبت زیادہ معنی خیز ہیں۔

جب اسلام پسند امریکی فوجیوں سے لڑتے ہیں تو نتیجتاً امریکی فوجیوں کو ان سے بات چیت کرنی پڑتی ہےجس طرح انہوں نے دوحہ کے اجلاسوں میں طالبان کے ساتھ گفت و شنید کی اور وہ شکست کو قبول کر لیتے ہیں جیسا کہ وہ اب کابل میں کر رہے ہیں۔

لیکن اگر کوئی اسلامی تحریک ، جیسا کہ حماس، کھل کر اعلان کرتی ہے کہ اس کی لڑائی امریکہ کے ساتھ نہیں ہے، اور اس نے ایک بھی امریکی فوجی نہیں مارا ہے تو واشنگٹن اس بات کو نظر انداز کردیتا ہے کہ حماس اس نے طویل مدتی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیتا ہے۔ کسی بھی دوسرے فلسطینی دھڑے کو حماس کےساتھ اتحادی حکومت بنانے سے روکتا ہےاور غزہ کا محاصرہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

امریکہ ان اسلام پسندوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے گا جنہوں نے تشدد سے گریز اختیار کرکےانتخابات، جمہوریت اور پارلیمنٹ کا انتخاب کیا ہے۔ امریکہ ان لوگوں پر پابندیاں لگانے کی کوشش کرے گا۔

آٹھ سال قبل جب مصری فوج نےتیانانمین اسکوائر کے احتجاج کے بعد نہتے شہریوں کا بدترین قتل عام کیا تھا اور قاہرہ کے ربا چوک میں دھرنے کے مظاہرین کو پرتشدد انداز میں منتشر کردیا تھا تو سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اوباماگولف کھیلنے واپس چلے گئے تھے۔

اس سے ایک ماہ قبل جب مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی بغاوت کی تھی تب بھی اوباما نے اسے بغاوت کہنے سے انکار کر دیا تھا۔ جمہوریت کو تباہ کردو تو امریکہ نظر انداز کردے گا۔ ہتھیار اٹھاؤ تو امریکہ بات چیت کرے گا اور پھر پیچھے ہٹ جائے گا۔ لیکن امریکہ سے آزاد ہونے کی کوشش کروگے تو جہنم اپنی تمام تر وحشتوں کے ساتھ تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ مالیاتی منڈیاں تمہاری معیشت کا خون چوس لیں گی۔ تمہارے بینکوں اور کاروباری اداروں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔تمہارے ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کردیا جائے گا۔

مغرب کی سماجی ، عسکری ، معاشی برتری کا سامراجی تصور اور اس بناء پر یہ قائم یہ مفروضہ کہ مغرب کو اخلاقی طور پر دنیا کی قیادت کا حق حاصل ہے نہ صرف یہ کہ غیر مستند ہے بلکہ تزویراتی اعتبار سے نہایت تباہ کن بھی ہے۔ امریکہ بائیڈن کے اقتدار میں بھی اتنی ہی تیزی سے اپنا اثر و رسوخ کھوتا جارہا ہے جس طرح سے یہ ٹرمپ کے دور میں کھورہا تھا۔ کیونکہ بائیڈن کے آنے سے بھی بالآخر زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے۔

قابض اور آمر جو انسانی حقوق کے بنیادی معیارات کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں اب بھی پیسے اور اسلحہ سے نوازا جاتا ہے۔ کرپشن اب بھی امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے پہ پلتی ہے۔ جو لوگ ان کی غلامی کے بوجھ تلے پستے ہیں انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔بایں ہمہ، پھراس پر حیرت کیسی کہ افغانیوں نے طالبان کے خلاف جنگ نہیں کی۔

کڑوا سچ !
سوچنے سمجھنے کی اس جنونی منطق کا کہ آپ ہزاروں میل دور غریب لوگوں پر ڈرون گرا کر جمہوریت کو فروغ دے رہے ہیں، ایک متبادل بھی موجود ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر امریکہ نے افغان عوام پر دو ٹریلین ڈالر خرچ کیے ہوتے۔ غور کیجیئے کہ اگر اس نے طالبان کی طرح مذہبی قدامت پسند تحریکوں کو جنگ اور ڈرون حملوں کی بجائے بات چیت کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی ہوتی۔ ذرا تصور کریں کہ افغانستان اب کہاں پہنچ چکا ہوتا اور مغرب کے پاس اب بھی اثر انداز ہونے کے لیئے کتنی ثقافتی طاقت ہوتی۔

پسپائی اختیار کرتے ہوئےامریکہ کو ان لوگوں کی جنہیں وہ چھوڑ کر گیا ہے ان سے بھی کم پرواہ ہے جن پر اس نےقبضہ کیا تھا۔ ابھی کابل ایئر پورٹ پر ایک ہجوم ہے جو خروج کا منتظر ہے۔ آخر یہ افغان کہاں جائیں گے؟

یقینی طور پر ان میں سے صرف ایک حصہ برطانیہ یا امریکہ پہنچے گا۔ وہ ترکی اور یورپ کا رخ کریں گے جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا ہے۔ جلد ہی وہ مغربی لبرلز کی نظر میں اسلام پسندوں کے جبر سے بھاگے ہوئے پناہ گزینوں سے ناپسندیدہ مہاجر بن جائیں گے۔ پیر کے روز کابل کے ہوائی اڈے پر خوف و ہراس کے مناظر آج پورے یورپ کے دارالحکومتوں میں منعکس ہورہے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ “یورپ کو ہجرت کے اس متوقع طور پر بڑے اور غیر قانونی بہاؤ سے اپنی حفاظت کرنی چاہیے”۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ سیہوفر نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ پچاس لاکھ افراد افغانستان سے ہجرت اختیار کریں گے۔

جرمنی نے 2015 میں تارکین وطن کے بہاؤ کے دوران لاکھوں افراد کو قبول کیا تھا۔ بہت سی قومیں جنہوں نے ایساف میں اپنے فوجیوں اور جرنیلوں کو شامل کیا تھا وہ اب اپنے اعمال کے انسانی نتائج کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

سچائی یہ ہے کہ مغرب اب ان حکومتوں پہ بم گرا کے دنیا پر حاوی نہیں رہ سکتا جو اسے پسند نہیں ہیں۔لیکن ہم پیچھے بھی نہیں ہٹ سکتے۔ آپ مشرق وسطیٰ کو چھوڑ سکتے ہیں لیکن یہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔

بہت بڑا اور خوش فہمی میں مبتلا مغربی اتحاد افغانستان میں جنگ ہار گیا۔اس اتحاد کا خیال تھا کہ وہ طالبان کو منہدم کر سکتا ہے اور کاٹھ کباڑ سے ایک نئے ملک کی تعمیر کر سکتا ہے۔ حالانکہ یہ تمام اتحادی اس ملک کی تاریخ ، زبانوں اور اس کے لوگوں سے ناواقف تھے۔

مغرب دو دہائیوں میں صرف جنگ کی بربریت اور مصیبت کو پھیلانے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ بربریت زیادہ تر افغانیوں نے برداشت کی ہے۔ اس مداخلت کی قیمت کا اس اعتبار سے اندازہ لگانا کہ کتنے امریکی اور برطانوی فوجیوں کی زندگی چلی گئی، اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ ہم ایک تباہ ہوتی ہوئی تہذیب ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے بھی امریکہ سبق نہیں سیکھے گا کہ طاقت کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ امریکہ نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ وہ ایک زوال پذیر طاقت ہے۔ یہ الزام تراشی اور تنہائی پسندی کے ذریعے شکست کی خفت مٹانے کی کوشش کرے گا جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے۔ اس دفعہ امریکہ کا بیانیہ یہ ہوگا کہ دنیا اس کے ‘احسانات’ پر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتی۔ اگر امریکہ نے اپنی فوجی شکستوں سے سبق سیکھا تو یہ اس دنیا میں صحیح کام کرنا شروع کر دے گا جو حقیقی معنوں میں ایک مشترکہ وجودی خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ خطرہ نہ تو کمیونزم کی طرف سے ہے اور نہ ہی اسلام کی طرف سے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.