کیا فیس بک بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے…؟

تیسرا اہم سوال ہیکہ اگر بھارت کے مسلمانوں کے خلاف فیس بک کا استعمال ہورہا ہے تو فیس بک کیوں خاموش ہے....؟

سید سرفراز احمد (بھینسہ)

دورِ جدید کا سب سے اہم پلیٹ فارم سوشیل میڈیا ہے جو گھر بیٹھے ساری دنیا کے انسانوں کو ایک سماجی رابطے کے تحت جوڑ کر ذرائع ابلاغ کا کام کررہا ہے اور دنیا کے احوال سے باخبر کرتا ہے اب بھلا وہ خبر جھوٹی ہو یا سچی اسکی کوئی دلیل پختہ نہیں ہوتی ان سوشیل میڈیا نیٹ ورک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا واٹس ایپ اور فیس بک ہے جس کے ذریعہ سے دنیا کے کسی بھی حصہ کے افراد کے درمیان باہمی رابطے کیئے جاسکتے ہیں مزید اسکی ٹکنالوجی میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا جارہا ہے اسی طرح اسکا بے تحاشہ استعمال ہونے لگا ہے ۔

سوشیل میڈیا نیٹ ورک کا اہم اطلاعات سے آگاہ کرنے سے زیادہ جھوٹے پروپگنڈے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طرح کی سرگرمیوں کو فیس بک پر نشر کیا جاسکتا ہے جس میں سماجی و غیر سماجی غرض یہ کہ ہر طرح کے کارکردو غیر کارکرد افعال کو اس فیس بک پر صارفین اپلوڈ کرتے ہیں لیکن فیس بک صارفین میں ہم اگر بھارت کی بات کرتے ہیں تو خاص طور پر بھارتی سنگھی صارفین کا یہ حال ہوگیا ہیکہ اس فیس بک کا استعمال ملک کے مخصوص طبقہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کیلئے بے تحاشہ استعمال کیا جانے لگا جس سے ہم اور آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس فیس بک کو سماجی طور پر کارکرد ثابت ہونا چاہیئے تھا وہ آج غیر کارکرد ہوکر رہ گیا جتنے فائدے فیس بک سے حاصل ہونے چاہیئے تھے آج اس سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے ملک کی ساکھ گھٹتی جارہی ہے جو بھارت کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہےـ۔

فیس بک کا آغاز امریکہ کے مارک زکر برگ نے 2003 میں کیا تھا جو دن بہ دن ترقی کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچا کہ جسکے نام کو فیس بک سے بدل کر میٹا کرنا پڑا سوال یہ ہیکہ آخر اس نام کو تبدیل کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی…؟دوسرا اہم سوال یہ ہیکہ کیا فیس بک بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے….؟تیسرا اہم سوال ہیکہ اگر بھارت کے مسلمانوں کے خلاف فیس بک کا استعمال ہورہا ہے تو فیس بک کیوں خاموش ہے….؟

آیئے ہم ان جوابات کا خلاصہ خود فیس بک کے محققین کے دیئے گئے حوالوں کی نظر میں دیکھیں گے بات زیادہ پرانی نہیں بلکہ 2020 کے دہلی فسادات کی ہے جس میں خود فیس بک کے محققین کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف کیا گیا کہ دہلی فسادات کے وقت واٹس ایپ کو تشدد پر اکسانے کیلئے ذریعہ بنایا گیا جس کا علم فیس بک کو تھا لیکن فیس بک خاموش تماشائی کی طرح دہلی فسادات کا تماشہ دیکھتا رہا ‘ جس میں کئی مسلمانوں کی جانیں گئی ‘دکانات اور مکانات کو نشانہ بنایاگیا کئی خاندان بکھر کر رہ گئے اور کئی نوجوان بے روزگار ہوگئے فیس بک کی سابقہ پروڈیوسر منیجر ہیگن نے بھی کچھ دنوں قبل ایک انکشاف کیا تھا کہ فیس بک بھارت میں سنگھ پریوار کی جانب سے پھیل رہی نفرت کو روکنے میں ناکام رہا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ فیس بک سنگھ پریوار کی حمایت میں بھر پور کام کررہا ہے۔

بات یہیں نہیں رکتی امریکی جریدہ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دو سال میں بھارت میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں جسمیں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج ،دہلی فسادات،اور کورونا کو پھیلانے کیلئے مسلمانوں کو بالخصوص تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانا ان تینوں واقعات پر بتایا کہ اس دوران فیس بک پرفرضی خبروں کی اشاعت، نفرت پر مبنی بیانات،اور افواہوں کو اتنی تیزی سے پھیلا یا گیاگویا کہ کورونا وائرس اور نفرت کا وائرس دونوں قدم سے قدم ملا کر ساتھ ساتھ چل رہے تھے مزید وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اس دوران فیس بک ہو یا واٹس ایپ نفرت پر مبنی بیانات ‘فرضی خبریں جھوٹے پروپگنڈے کا تناسب گذشتہ سے 300گنا زیادہ بڑھ گیا تھا جو ایک مخصوص طبقہ کے خلاف تھا۔

ان تمام خبروں اور اطلاعات سے فیس بک با خبر رہتا ہے لیکن فیس بک نے ان سب کو پس پشت ڈال کر بھارت میں نفرت پھیلانے کا خود بھی ذمہ دار ٹھہرا ‘اور نہ نفرت پھیلانے والوں پر روک لگائی امریکی اخبار کے مطابق فیس بک اپنے قوانین کے ذریعہ دنیا کے با اثر افراد کے خلاف نرمی برتتا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کی تکمیل کرسکیں اسکے علاوہ فیس بک پر جس طرح سے ہجومی تشدد ہو یا گائے کے گوشت کے نام پر قتل یا جے سری رام زبردستی کہلوانے کے نام پر مار پیٹ ایسے ویڈیوز کو فیس بک جانتے بوجھتے ہوئے اپلوڈ کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ فیس بک کی حقیقت یہ ہیکہ جب ہم کوئی سچائی پر مبنی ویڈیو یا تحریر سنگھی پریوار کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کیلئے نشرکرتے ہیں تو فیس بک ہمیں فوری مطلع کرتا ہے کہ آپ فیس بک کے قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور ہمارے اکاؤنٹ کو لاک کرنے کا بھی انتباہ دیتا ہے تو کیا یہ سوال بھارتی فیس بک کمپنی سے نہیں پوچھا جانا چاہیئے کہ جتنے فرضی خبریں ہو یا ہجومی تشدد کے واقعات یا بیف کے نام پر قتل ہو یا زبردستی جے سری رام کہلوانے کے واقعات کیا فیس بک نے ان صارفین پر کوئی کاروائی کی ہے یقیناً بات مضحکہ خیز ہے کیونکہ کاروائی تو دور کی بات فیس بک نے ایسے ویڈیوز کو ایسی تحریروں کو اپنے پیج سے تک نہیں ہٹایا ہے تب ہی ہم دوٹوک کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے میں فیس بک نے اہم رول ادا کیا ۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.