اسلام کا نظام معیشت

اﷲ تعالی ہمیں اپنے دین اور اپنے قرآن کا لذت آشنا بنائے، اور ہماری رگوں میں وہ بجلی دوڑادے جو ہمیں اس نظام کو لے کر آگے بڑھنے کے لیے بے چین کردے۔ آمین۔

محمد سلمان ابن خواجہ معین الدینؒ
اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی دنیاوی فلاح ہو یا اخروی بہبود کا انحصار اسلام ہی کی پیروی میں ہے؛قطع نظر اس بات سے کہ اسلام ایک آسمانی اور الٰہی مذہب ہے اور اس کا اصل مقصود آخرت میں انسان کو کامیابی کے پروانے سے نوازنا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسان کو اس دنیاوی زندگی کے تمام مراحل میں خواہ اجتماعی ہوں یا انفرادی، سماجی ہوں یا سیاسی معاشی ہوں یا معاشرتی ہر چیز کی ہر اعتبار سے مکمل رہنمائی فراہم کیا ہے،اور بالخصوص معیشت کے تئیں جو کہ انسانیت کی بقا کا بنیادی مسئلہ ہے جو بہترین اور معتدل نظام اسلام نے مدون کیا ہے اس کی نظیر دیگر مذاہب میں عنقا ہے،قبل اس کے کہ ہم اسلامی نظام معیشت کے مقاصد و فوائد پر مطلع ہوں، رائج الوقت نظام معیشت کے مفاسد و مضرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ الاشياء تتبين باضدادها کے تحت ہم بہتر طریقے سے اسلامی نظام معیشت کے فوائد کو سمجھ سکیں۔
اس وقت دنیا میں جو نظام معیشت رائج ہیں وہ دو طرح کے ہیں:
ایک: سرمایہ دارانہ نظام (capitalism)
دوسرا: اشتراکیت کا نظام (socialism )
سرمایہ دارانہ نظام میں بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان سرمائے کا خود مختار مالک ہے، تمام تر سرمایہ حتی کہ انسانی ضروریات و حاجات پر اسی کو بےلاگ تصرف کا اختیار حاصل ہے، وہ جب چاہے جس طرح چاہے پیداوار اور مال کی مارکیٹنگ کرے،اور جن لوگوں کے ساتھ چاہے اپنی منشا کے مطابق شرائط کے ساتھ معاملات کرے،اور اشیاء کی قیمتوں میں جتنا چاہے کمی بیشی کرے،اس نظام میں اس کے تصرف پر کوئی لگام یا حکومتی اور ریاستی سطح پر بالکل ہی کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی یا ایسی جزوی اور محدود پابندیاں ہیں جو سرمایہ دار لوگوں کو ان کی من مانی سے روکنے میں کسی بھی درجے میں کار گر نہیں ہیں،اس نظام میں سرمایہ ہی اصل چیز ہے اور سرمایہ ہی کے تحفظ کے لیے تبادلہ دولت،تقسیم دولت اور صرف دولت کے قوانین وضع کیے جاتے ہیں،ارباب اقتدار سے لے کر عوام الناس تک سبھی اس نظام میں خالص سرمائے کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں اور رہی انسانیت جس کے وجود کا مقصود ہی دنیاوی سرمائے سے انتفاع ہے اس کے تلے دم توڑتی ہے،اس نظام بد کا اجمالی نتیجہ یہ ہے کہ دولت ساری کی ساری سمٹ کر چند لوگوں کے ہاتھوں میں رہ گئی ہے اور سرمایہ دار لوگ مال اور سرمائے کی بڑھوتری کے لئے سود،سٹہ پر مبنی کاروبار کو اور اکتناز و احتکار کے فاسد معاملات کو خوب بڑھاوا دے رہے ہیں،اور بیچارے عام لوگ اور مزدور طبقہ مالی اعتبار سے ترقی تو کیا کرتا اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل بھی مشکل سے کر پا رہا ہے۔
اشتراکیت: سابقہ نظام کے مضرت رساں اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ ارباب دانش نے ایک نئے نظام معیشت اشتراکیت کو وجود بخشا۔
سرمایہ دارانہ نظام نے کہا تھا کہ انسان بحیثیت فرد تمام زرعی پیداوار کا مالک ہے تو اشتراکیت نے یہ تصور پیش کیا کہ زمینوں،کارخانوں کو سرمایہ دار اور جاگیر دار لوگوں کے چنگل سے آزاد کرکے ایک کمیٹی تشکیل دو اور تمام صنعتیں اور کاروباریاں انفرادی املاک سے نکال کر ان کے حوالے کر دو،پھر یہ کمیٹی حالات کے تناظر میں ایک منصوبہ بند معیشت کی بنیاد ڈالےگی،پھر یہ کمیٹی طے کرے گی کہ کیا چیز پیدا کرنی ہے اور کتنی مقدار میں پیدا کرنی ہے،اور یہی لوگ مزدوروں کو استعمال کرکے پیداوار حاصل کریں گے اور اس کو ایک تناسب کے ساتھ ان محنت کش عوام اور مزدوروں میں تقسیم کریں گے،یہ نظام بظاہر انسانیت کا حامی اور مزدوروں کا مسیحا بن کر سامنے آیا مگر یہ نظام پچھلے نظام سے پیدا شدہ مسائل کو حل تو کیا کرتا،کچھ نئے مسائل کو لا کھڑا کردیا جن سے انیس بیس کے تفاوت کے ساتھ غریب پرور طبقے کو نقصان ہی ہوا۔ان دونوں نظاموں کے مقابل نہایت ہی متوازن اور انصاف پر مبنی اور ہر طرح سے انسانیت کے لیے انفع اسلام کا نظام معیشت ہے،اسلام نے معاشی زندگی کے تمام مراحل میں مکمل ہدایات عطا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشیات کی حقیقت اور ان کی مکمل تعریف بیان کرتے ہوئے قومیت و مذہبیت، ذات پات اور برادری کے امتیاز کے بغیر ایک نہایت بہترین اقتصادی اور معاشی نظام کو تشکیل دیا ہے،موجودہ نظام معیشت میں سرمائے کو بنیادی حیثیت دے کر انسان کو اس کے تحفظ کے تابع کیا گیا تھا مگر اسلام نے قدرت کے اس تصور کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ’’عالم کی تسخیر بنی آدم کے اکرام میں ہے‘‘ انسان کو اصل قرار دیا اور جو کچھ قوانین اور شرائط مدون کیے اس میں خالص انسانیت کے فائدے کو پیش نظر رکھا۔
اولا ًتو اسلام یہ کہتا ہے کہ اس کائنات کے ذرے ذرے کی اصل ملک اس مالک حقیقی کو حاصل ہے جو سب چیزوں کا خالق ہے: لله ما في السماوات وما في الارض (البقره)؛اور اس ذات نے اپنی ملک سے مجازی طور پر فائدہ اٹھانے کے لیے بندوں کو ہر چیز دے رکھی ہے۔ان الارض لله يورثها من يشاء من عباده (الاعراف: ۱۲۸)
جب ہر چیز اللہ کی ملک ہے تو اس کا استعمال بھی اللہ کی مرضی کے مطابق ہو نا چاہیے لہٰذا ان مجازی مالکوں کو چاہیے کہ وہ اس مال کے استعمال میں دوسروں پر ظلم و ستم اور فساد برپا کرنے کے بجائے اللہ کی رضا اور آخرت میں مقام کو پانے کی کوشش کریں اور اس اللہ کی نعمت و امانت سے اسکے بندوں کو جس قدر ہو سکے فائدہ پہنچائیں،جیسا کہ فرمایا: وابتغ فيما اتاك الله الدار الاخره ولا تنس نصيبك من الدنيا واحسن كما احسن الله اليك ولا تبغ الفساد في الارض (القصص ٧٧)
موجودہ نظام معیشت کی خرابیوں اور نقصانات پر نظر ڈالی جائے تو بنیادی طور پر چار باتیں سامنے آتی ہیں: سود،سٹہ،احتکار،واکتناز۔
تو اسلام نے سود قمار سٹہ بازی کے ناجائز معاملات پر قدغن لگاتے ہوئے واضح اعلان کردیا کہ يا ايها الذين امنوا لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل (النساء)، اور ساتھ ہی سودی نظام کا انسداد کرتے ہوئے فرمایا: احل الله البيع وحرم الربا (البقرہ) اور اکتناز (concentration) یعنی مال و دولت کو ایک جگہ جمع کرنےاور اس کو اپنے قبضے میں لینے اور ضرورت کے وقت خرچ نہ کرنے والوں کو والذين يكنزون الذهب والفضه ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب اليم(التوبہ) جيسى وعیدیں سنائی،اور احتکار (Hoarding) کرنے والوں کو یعنی زمین دار اور تاجر لوگ جو کہ پیداوار کو گرانی اور قیمت کی بڑھوتری کے لیے اسٹاک کرکے رکھتے ہیں بزبان رسول یہ بد دعا سنائی: ضربہ الله بالافلاس او بجذام (مسند احمد رقم الحديث ١٣٣)
اور اجارہ داری جس میں ایک مخصوص طبقہ تجارتی اموال اور زمینی پیداوار پر غاصبانہ تسلط حاصل کر لیتا ہے اور کسانوں اور کاریگروں سے پیداوار اور چیزوں کو کم قیمت پر خرید خرید کر اپنی منشا کے مطابق قیمتوں میں کاروبار کرتا ہے ان کو ان الفاظ میں نہی فرمائی: نهى أن تتلقى السلع حتى تبلغ الأسواق.، وفي رواية عنه: نهى عن تلقي البيوع.، وعن أبي هريرة: نهى أن يتلقى الجلب۔
اور سٹہ بازی(speculation) جس میں سراسر دھوکا ہوتا ہے اور جھوٹی امیدوں کی بنیاد پر معاملات طے ہوتے ہیں تو اس طرح کے معاملات پر اسلام نے لا تبغ ماليس عندك (رواه الترمذي: 1232 والنسائي: 4613 وابو داود: 3503 وابن ماجه: 2187 واحمد:14887) کی مہر چسپاں کردی،اور لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل فرما كر اس قسم کے دھوکہ دہی پر مبنی معاملات کو باطل قرار دیا۔ نیز اسلام نے آمدانی کے نا جائز ذرائع پر پابندی لگانے کے علاوہ مالداروں سے غرباء و مساکین تک دولت کو پہنچانے کے لیے ان پر سالانہ زکوٰۃ وغیرہ واجبات مقرر کیے جن کو حکومتی طور پر جبراً وصول کیا جا سکتا ہے، زکوٰۃ کے علاوہ قربانی، کفارات، نفقات، وصایا اور مواریث کی شکل میں چھوٹی بڑی مالی مدیں بھی قائم کی تاکہ مال کی ریل پیل صرف مالداروں کے بیج ہی نہ ہو جس کو قرآن نے ان الفاظ میں تعبیر فرمایا ہے:كي لا يكون دوله بين الاغنياء منكم (الحشر)
اور ساتھ ہی ساتھ وانفقوا مما رزقناكم؛ وفي اموالهم حق للسائل والمحروم جیسے نصوص سے مالداروں کو غریبوں پر خوب خرچ کرنے اور امت کے نادار طبقہ کو دولت و مالیت سے فائدہ پہنچانے کی شاندار ترغیب دی، اور موجودہ باطل و ظالمانہ نظام معیشت کے مقابلے میں اسلام نے شرکت و مضاربت اور مختلف نوع کے تجارت کی ایسی عمدہ اور حلال شکلیں پیش کیا ہے کہ جن کے نفاذ سے سارا سرمایہ ایک جگہ جمع ہونے اور دولت پر ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری ہونے، اور دولت کی فراوانی کے لیے نت نئی سودی شکلوں کے وجود میں لانے کے بجائے شرکاء و عاملین اور محنت کش مزدوروں کو اپنی محنت کے بقدر دولت سے انتفاع کا پورا استحقاق حاصل ہوتا ہے۔
الغرض اسلام کے معاشی نظام کی یہ خاصیت ہے کہ وہ طبیعتوں میں بلندی، ذہنوں میں وسعت، اور دلوں میں خلق خدا سے محبت پیدا کرتا ہے، وہ دولت جمع کرنے، یا تعیّش کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔اسلام کے معاشی نظام کو صحیح طور سے قرآن پاک کی روشنی میں جو سمجھ لیتا ہے، اسے غریبوں، مسکینوں، اور مصیبت زدہ انسانوں کے آنسو پونچھنے میں جو مزہ آتا ہے، اسے کوئی دوسرا کیا جانے!
اﷲ تعالی ہمیں اپنے دین اور اپنے قرآن کا لذت آشنا بنائے، اور ہماری رگوں میں وہ بجلی دوڑادے جو ہمیں اس نظام کو لے کر آگے بڑھنے کے لیے بے چین کردے۔ آمین۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.