اسلام کے عائلی قوانین اور یکساں سیول کوڈ

قرآن کا اعلان ہے کہ ایک مرد عدل وانصاف کی شرط کے ساتھ بیک وقت چار شادیاں کرسکتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے واختیار کا مالک ہو اس قانون کو ایک شادی تک محدود نہیں کرسکتا۔

یاسمین تہنیت

ممبرجی آئی او ، مرادنگر ،حیدرآباد

ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے کہ نکاح و طلاق ہویا وراثت وہبہ یاکوئی اور قانونی نظام سب کا ماخذ قرآن وحدیث ہے۔ سب کی جڑ و بنیاد کتاب وسنت ہے۔ قانون حکم کا نام ہے اور حکم وہی دے سکتا ہے جو اس کا حقدار ہو۔ اور حکم دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ کو ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے جو احکام نازل فرمائے ہیں، وہ قرآن وحدیث کہلاتے ہیں اور اسلام قرآن وحدیث کانام ہے۔ جس قانون کا ماخذ قرآن وحدیث ہو، جو قانون قرآن وسنت کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو کیا وہ غیر مستحکم ہوسکتا ہے ؟ کیا اس میں تغیر وتبدل کی گنجائش ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں! بھلا احکامات خداوندی میں تبدیل کا کیا سوال ہوسکتا ہے۔لا تبدیل لکلمات اللہ، اللہ کے احکامات میں تبدیلی ممکن نہیں، جو خدائی قانون نازل ہوچکا اس میںتبدیلی ممکن ہی نہیں۔ وہ انمٹ اور لازوال ہے، وہ قیامت تک کیلئے ہے، وہ ساری دنیا کے انسانوں کیلئے ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس قانون کو بدلنے کاحق نہیں رکھتی۔

قرآن نے کہہ دیا کہ طلاق دینے کاحق مرد کو ہے، عورت کو نہیں! لہٰذا دنیا کی کوئی طاقت یہ حق مرد سے چھین کر عورت کو نہیں دے سکتی۔
قرآن کا اعلان ہے کہ ایک مرد عدل وانصاف کی شرط کے ساتھ بیک وقت چار شادیاں کرسکتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے واختیار کا مالک ہو اس قانون کو ایک شادی تک محدود نہیں کرسکتا۔ اسلام کہتا ہے کہ مطلقہ کونان ونفقہ صرف اس وقت تک ملے گا جب تک وہ عدت میں ہو، لہٰذا کوئی سپر پاور نان ونفقہ کو نکاح ثانی یا تاوفات بڑھانے کا حق نہیں رکھتا۔

اسلام اعلان کرتاہے کہ ہر میراث میں بیٹے کی طرح بیٹی بھی حقدار ہے، لہٰذا کسی ایسے قانون کو تسلیم نہیں کیاجاسکتا جو اسلام کے اس حکم کو بدل دے اور کسی خاص ترکہ و میراث کو صرف بیٹے کا حق قرار دے۔

جو اسلام کے عائلی قوانین میںتبدیلی کی بات کرتاہے وہ سوچے اور غور کرے کہ وہ کس قانون کو بدلنے کی بات کررہا ہے؟ اسے اپنی حیثیت اور اپنے مقام کو پہچاننا چاہئے۔ اس کا مقام اس کی حیثیت ایک بندے اور غلام کی ہے۔ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا غلام ہے اور غلام کو مالک کے حکم کی مخالفت کبھی زیب نہیں دیتی۔میں پوچھنا چاہوںگی کہ سول کوڈ کے نام پر جو لوگ ’’سب کا قانون ایک ہو‘‘ کی بات کررہے ہیںتو کیا وہ لوگ مختلف مقامات پر رہنے والوں کے لباس وکھانے کو تبدیل کریں گے؟ کیا ان کے رہن سہن ، تہذیب وتمدن کو تبدیل کر پائیں گے؟

لاکھ کوششیں سول کوڈ کی کرلیجئے مگر اس میں 100 فیصد انفرادیت پائی جائے گی، کیونکہ ایک راجستھانی اپنی تہذیب کو بدلنے تیار نہیں ہوگا۔ ایک آسامی اپنے تمدن کو تبدیل نہیں کرے گا۔ ایک گجراتی اپنے رہن سہن کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

میں تو کہتی ہوں کہ ان تمام فضول چیزوں میں پڑنے کے بجائے میرے مشورے پر عمل کرلو کہ قانون اسلام کو بدلنے کے بجائے، قانون اسلام ہی کولاگو کر دو پھردیکھو۔جس مساوات کی تم مانگ کررہے ہو وہ تمہیں ہر طرف دکھائی دے گا۔جس امن وامان کی تم تلاش کررہے ہو وہ تمہیں میسر آجائے گا۔جس روشنی کی تم تلاش کررہے ہو اسلام نہ صرف اس تاریکی کو دور کردے گا بلکہ تمہیں روشنی کے فوارے عطا کرے گا۔

اے اسلام کے علمبردارو! آج ہر طرف سے اسلام کو ختم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ اگر تم واقعی مشہور اسلام ہوتو تمام یکجاومتحد ہوکر اس آنے والے مسئلہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دو کہ پھر کوئی حکومت قوانین اسلام کو بدلنا تو درکنار اسے بدلنے کی سونچ بھی ذہن میں نہ آسکے۔

مسلمانو! اٹھو اسلام کی دعوت کو پھیلاؤ
جہانِ بے اماں کو عافیت کے راز سمجھاؤ
زمانہ آج بھی اسلام ہی سے فیض پائے گا
مٹے گی ظلمت شب اور سورج جگمگائے گا

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ اسلام کے نور سے سارے عالم کو منورکردے اور مسلمانوں کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنے والا بنائے۔ (آمین)
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.