امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ

1908ءمیں مولانا آزاد نے ایران اور مصر کا دورہ کیا۔ وہاں عربوں اور ترکوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے قومی تحریک میں شریک نہ ہونے اور برٹش کے وفادار رہنے پر تعجب کا اظہار کیا۔

سید شجاعت اللہ حسینی بیابانی
موظف پرنسپل ورنگل

امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کا پورا نام ابوالکلام غلام محی الدین احمد اور قلمی نام آزاد تھا۔ آپ 11نومبر 1888عیسوی (7 ربیع الاول 1306ہجری) بروز یکشنبہ مکہ مکرمہ، حجاز، سلطنت عثمانیہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا آزاد کے والد حضرت خیرالدین حسینی ایک قابل عالم دین، بارہ دینی کتب کے مصنف اور صوفی منش افغانی نسل کےشخص اور دہلی میں قیام پذیر تھے۔ آپ کے والد محترم کے کئی ہزار مریدین تھے۔ مولانا آزاد نے اپنے والد اور مختلف اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور بہت ہی کم عمری میں عربی، فارسی اور اردو زبانوں اور ادب میں کافی عبور حاصل کیا۔ آپ کو بچپن ہی سے مضمون نویسی اور شاعری کا شوق تھا۔ ایک مرتبہ آپ گیارہ سال کی عمر میں ایک جلسہ میں اپنا لکھا مضمون سنا رہے تھے تو سامعین نے یہ سمجھا کہ شاید مولانا آزاد نے اپنے صاحبزادے کو اپنی تقریر پڑھ کر سنانے بھیجا ہے۔ حب مولانا آزاد نے اپنا تعارف پیش کیا تو لوگ حیران رہ گئے۔ آپ نے سترہ سال کی عمر میں (1905) بنگال کی انقلابی تحریک سے متاثر ہوکر اربندو گھوش سے ملاقات کی اور انقلابی گروپ میں شامل ہوگئے۔

1908ءمیں مولانا آزاد نے ایران اور مصر کا دورہ کیا۔ وہاں عربوں اور ترکوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے قومی تحریک میں شریک نہ ہونے اور برٹش کے وفادار رہنے پر تعجب کا اظہار کیا۔ اس بات سے مولانا آزاد کو یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہندوستان کی سیاسی آزادی تحریک میں حصہ لیں۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد جون 1912ء میں مولانا آزاد نے ایک ہفتہ وار ” الہلال” شائع کرنا شروع کیا جس میں اپنے انقلابی خیالات کو ظاہر کیا جس سے مسلم دانشوروں کے انداز فکر میں کافی تبدیلی آئی اور مسلمانوں کو تحریک آزادی میں شامل کرنے میں کافی مدد ملی۔ مولانا آزاد نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس تحریک میں وہ ہندؤں کے دوش بہ دوش رہیں جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام امن و امان کے لئے غیر مسلموں کے ساتھ معاہدہ امن فرمایا تھا۔

مولانا آزاد نے نشان دہی کی کہ قرآن کریم میں خود اللہ تعالیٰ امن پسند غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اسلام تلوار کی زور سے نہیں بلکہ امن و حسن سلوک سے پھیلا ہے۔ ہندو مسلم کے ایک ہزار سالہ قدیم مشترکہ تہذیب و ثقافت پر انہیں فخر تھا۔ مولانا آزاد نے علی گڈھ اسکول اور مسلم لیگ کی جانب سے مسلمانوں کو قومی تحریک آزادی میں شریک نہ ہونے کے مشورہ کی کھلے عام مخالفت کی اور کہا کہ مسلمانوں کی غلامی، موت سے کہیں زیادہ بری ہے۔ شہری آبادی چھوڑ کر جنگل میں رہ کر سانپوں اور بچھوئوں کے ساتھ رہنا بہتر ہے ،بجائے اس کے کہ انگریزوں اور ان کی حکومت کے وفادار رہیں۔ 1914ء میں انگریزی حکومت نے "الہلال” اخبار بند کردیا۔ لیکن مولانا آزاد نے ایک اور اخبار ” البلاغ” کی اشاعت شروع کی جو تھوڑے عرصے بعد بند ہوگیا۔

متعلقہ

1916میں مولانا آزاد کو بنگال چھوڑنے کا حکم ملا اور پنجاب، اتر پردیش اور مدراس کی انگریزی حکومتوں نے ان علاقوں میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا تو وہ رانچی گئے جہاں انہیں 1920ء تک نظر بند رکھا گیا۔ جنوبی افریقہ میں کامیابی کے ساتھ عدم تعاون کے طریقہ کو آزمانے کے بعد مہاتما گاندھی جی نے ایک کانفرنس میں مسلم رہنمائوں سے اس طریقہ کار کو اپنانے کا مشورہ دیا۔ مولانا آزاد نے گاندھی جی کی تائید کی اور 1921ء میں اس نظریہ کی تشہیر کے لئے ملک کے کئی مقامات کا دورہ کیا۔ مولانا آزاد کی باغیانہ تقاریر کے جرم میں انگریزی حکومت نے انہیں گرفتار کیا۔ فروری 1922ء میں مولانا آزاد کو قید بامشقت ہوئی۔ رہائی کے بعد 1923ء میں مولانا آزاد کو بہ عمر 35 سال انڈین نیشنل کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا تو انہوں نے تمام ہندوستانیوں سے بلا تفریق مذہب و ملت اور ذات و پات حصول آزادی کے لئے مہاتما گاندھی جی کے پروگرام میں حصہ لینے کے لئے تہہ دل سے وقف ہوجانے کی خواہش کی۔

1924ء میں مولانا آزاد نے یونٹی کانفرنس میں سرگرم حصہ لیا جو فرقہ وارانہ یکجہتی و اتحاد کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ مولانا آزاد نے اعلان کیا کہ ہندوستان کو حصول آزادی کے لئے نہ ہندو فرقہ وارانہ طاقت اور نہ مسلم فرقہ وارانہ طاقت کی ضرورت ہے بلکہ اس کو تو انڈین نیشنل کانگریس کی ضرورت ہے۔ مولانا آزاد نے کہا: "اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ملک کو آزادی چاہئے یا ہندو مسلم اتحاد چاہئے تو میں ملک کی آزادی کے مقابلہ میں ہندو مسلم اتحاد کو ترجیح دوں گا۔” اگر آزادی میں دیر لگتی ہے تو یہ صرف ہندوستان کا نقصان ہوگا اور اگر ہندو مسلم اتحاد میں دیر لگتی ہے تو ساری انسانیت کا نقصان ہوگا۔ مولانا آزاد نے 1930ء میں تحریک شہری نافرمانی میں حصہ لیا اور گاندھی جی اور موتی لال نہرو کی گرفتاری کے بعد کانگریس کے کار گذار صدر بنے۔ اسی سال آپ کو چھ مہینے کی جیل ہوئی۔1932ء کو دوبارہ گرفتار کئے گئے۔

1940ء میں مولانا آزاد دوبارہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر چنے گئے اور اس عہدے پر 1946ء تک فائز رہے۔ 1940ء میں مولانا آزاد کو مخالف حکومت تقاریر کی پاداش میں اٹھارہ ماہ کی جیل ہوئی۔ اگست 1942ء میں کانگریس گاندھی جی کی رہنمائی میں ہندوستان چھوڑو تحریک شروع کی تو مولانا آزاد پیش پیش رہے اور انہیں تین سال کی جیل ہوئی اور اسی دوران آپ کی زوجہ محترمہ بیمار ہوئیں تو جیل کے حکام نے مولانا آزاد کو پیرول پر چھوڑنے کے لئے برٹش حکومت کو درخواست پیش کرنے کے لئے کہا تو آپ نے برٹش حکومت کو ہی ماننے سے انکار کیا اور درخواست نہیں دی۔ مصیبت میں بھی اپنے اصول نہیں چھوڑے۔

چنانچہ آپ جیل ہی میں تھے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کا انتقال ہوا۔ 1945ء میں شملہ کانفرنس اور 1946ء میں کیبنیٹ مشن کانگریس کی طرف سے مولانا آزاد نے نمائندگی کی اور علیحدہ پاکستان کے مطالبہ کو مسترد کیا اور کہا: "جب تک میں زندہ ہوں میں ہندوستان کی تقسیم کے لئے کبھی تیار نہ ہوں گا۔” لارڈ مونٹ بیٹن کی تجویز کے لحاظ سے 14اگست 1947ء کو پاکستان مسلم مملکت وجود میں آئی اور 15 اگسٹ 1947کو ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئی۔

پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے اور مولانا آزاد ملک کے پہلے وزیر تعلیم مقرر ہوئے۔ مولانا آزاد کے دور وزارت ہی میں ملک میں کئی سائنسی ادارے اور یو جی سی قائم ہوا۔ مولانا آزاد کی خدمات کو ہندوستان کی عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ 22فروری 1958ء کو مولانا آزاد کا انتقال ہوا۔ آپ کو کونچہ عالم وکیل پورہ چاندنی چوک دہلی میں سرکاری اعزازات کے ساتھ دفنایا گیا۔ مولانا آزاد کو بعد از مرگ بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مولانا آزاد کے یوم پیدائش 11نومبر کو ہر سال یوم قومی تعلیم کی حیثیت سے ملک بھر میں منایا جاتا ہے اور آپ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.