انسانی زندگی میں ہار اور جیت یکساں پیمانے

اس دنیا میں جتنے پھول ہیں اتنی ہی تازگی اورمہک انسانوں کے سبب ہے۔ ہر ایک شخص اپنی ذات کے چھپے خزانو ں سے اس دنیا کو مالامال کررہا ہے۔

نعیم جاوید ڈائریکٹر ادارہ شخصیت سازی’’ ہدف ‘‘سعودی عرب

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا ۚ اِنَّ اَكْـرَمَكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ اَتْقَاكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـرٌ (الحجرات: ۱۳)

ترجمہ :اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔

اس دنیا میں جتنے پھول ہیں اتنی ہی تازگی اورمہک انسانوں کے سبب ہے۔ ہر ایک شخص اپنی ذات کے چھپے خزانو ں سے اس دنیا کو مالامال کررہا ہے۔جیسے کمہار بڑے جتن سے اپنے چاک پر سجا کر مٹی سے شہکار برتن بناتا ہے ٹھیک اسی طرح ہم بھی اپنی ذات کو اس دنیاکے چاک پر رکھ کر سنوارتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہزاروں مسکراہٹوں کی دھنک رنگ کمانوں کی اوٹ نے نہ جانے کتنی روحوں کے ویران منظروں کوچھپارکھاہے۔

لیکن دنیا اِس یقین پر قائم ہے کہ یہ دنیاحوصلہ مندوں کی دنیا ہے۔ دل والوں کا یہ قافلہاپنی خوشی کے رنگ ‘ ہنسی کے پھول اور پیار کی خوشبو کے سبب کڑی سی کڑی آزمائشوں کی گھڑیوں میں ہنستے گاتے آگے بڑھتارہا۔ حسن ِ فطرت کے یہ معصوم بنجارے آج چاند ستاروں کی جبیں چوم چکےہیں۔ زمین کے ماتھے پر اپنی خلائی مشین کا جھومر سجا آئے ہیں۔ توکہیں دورکہکشانوں میں افشاں جمانے کی مہم جاری ہے۔

اگر انسان ‘ حسن ِ فطر ت کا قیمتی موتی ہے۔ اوراس کی چمک دمک کو بچائے رکھنے میں پورے کائنات جٹی ہوئی ہے تو پھریہ جاننا ضروری ہے کہ آخر انسانوں میں وہ کونسی تعمیری قوتیں ہیں جس میں زندگی کے راز چھپے ہوئے ہیں۔ اور کہاں غارت گرقوتیں چھپی اسکی گھات میں رہتی ہیں۔ جہاں اُس سے چوک ہوجاتی ہے اور وہ خود سے ہی اوجھل ہو جاتا ہے۔ وہ بھی ایسے چُھپ جاتا ہے جیسے برفیلے پہاڑوں کی مہیب وادیوں میں کوئی ننھا سا بچہ۔

جہاں اُسے خود کا پتہ نہیں ملتا۔ حالات کے تابڑ توڑ حملوں میں اسے اپنی شخصیت کے رنگ پھیکے اورخوبی کھوٹ نظر آتی ہے۔ ایسے میں ہماری تلاش یہ ہوگی کہ زندگی کے سفر میں کہاں پھولوں کی وادیاں اور کہاں بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ اس پس ِ منظر میں آئیے آج ہم انسانی زندگی کی سب سے اہم نفسیاتی الجھن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہے ’’ہار‘‘ اور’’ جیت ‘‘کی الجھن۔

جیت کے راز

ہم جانتے ہیں کہ کوئی ہار آخری نہیں ہوتی۔ ہار تواصل میں کامیابی کی تمہید ہوتی ہے۔ یہ حیرت انگیز راز سب کے پاس ہوتا ہے لیکن پہلے پہل ہمیں سجھائی نہیں دیتا۔ ہار کا تازہ ترین غم اور شعلہ پوش اداسی کا کہرا سب منظروں کو دھواں دھواں کردیتا ہے۔ جبکہ ناکامی ہی وہ یقینی منزل ہے جہاں سے دنیا جیت لینے کی راہیں نکلتی ہیں۔ آئیے ہم اور آپ مل کر جیت کے راز پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی محاذ پر ناکام ہوتے ہی ہم جن مراحل سے گذرتے ہیں ان میں چار اہم موڑ ہوتے ہیں۔ 1۔ انکار شکست 2۔ خوف 3۔ برہمی 4۔ اداسی اور 5۔ احساس ِمحرومی۔

۱۔ انکار شکست :

سب سے پہلے شکست کے غیر امکانی منظر میں گھر تے ہی ہم اس کو قبول نہیں کرتے کہ ہمیں شکست ِ فاش ہوئی ہے۔ہمارا ردّ عمل ہوتا ہے کہ ’’ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ہے ‘‘۔ وجوہات کی نئی نئی تعبیریں ہم گھڑنے لگتے ہیں۔ جیسے انٹرویو میں فیل ہوتے ہی ہم کبھی ذات پات‘ زبان ‘علاقہ اور اپنے مذہب کو بیچ میں لے آتے ہیں۔

امتحان میں فیل ہوتے ہی پرچہ میں دھاندلی، ممتحن کی بے جا سختی ‘لاپرواہی اپنے پرچے کی گمشدگی کے احساس سے اپنے دل کوجلاتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان جرائم سے ہماری دنیا خالی ہے۔ لیکن ایسے خدشات کی اصولی چانچ کروانا الگ چیز ہے اور ہوائی تصورات میں زندہ رہ کر اپنی شخصیت کو برباد کرنا اورہی سرگرمی ہے۔ ایک دلچسپ سبب تو ہماری ذات میں چھپی توہّمات کی پرانی حویلی ہے۔

جہاں خوفناک منفی تصورات کی بھٹکی ہوئی بلائیں جو دورکہیں تحت الشعور کے پاتال میں ہم نے پا ل رکھیں ہیں جہاں ہمارے بھٹکے ہوئے خیالات رہتے ہیں۔ وہاں سے ایک گم راہ کن وسوسہ ہمیں دہلا دیتا ہے۔ توہمات یوں دلیلیں ترتیب دیتے ہیں کہ فلاں دن‘ شخص ‘گھڑی ‘حرکت یا جانور(بلی ، الو)کی نحوست کے سب ناکامی ہوئی۔ یا کبھی ہم اپنی حماقت سے بیماریوں کو بلاوا بھیج کر اسکو نظر ِبد کانام دیتے ہیں۔

کبھی کسی کے حسد کا فسانہ گھڑ کر بے سبب اپنی ذات میں الجھے رہتے ہیں۔ اپنی ناکامی پر یہ سوچنا کہ ضرور کسی دوسرے سبب سے ہوا ہے۔ اور اس سبب کی تلاش میں ہم اپنی خاصی توانائیاں ضائع کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فوراً سے اس شکست کو مشروط انداز میں قبول کرلیں اور ایک بار لگی ٹھوکرسے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کراٹھ کھڑے ہوں اور پھرکمر ِہمت کَس کراپنے منصوبوں کی خبر لیں۔ مقابلوں اور مسابقت کی دنیا میں اقبال ِشکست ‘ دراصل ناکامی کی امکانی خطرات میں گھرنے سے بچنے کی پہلی کڑی ہے اور پہلی جیت بھی۔

یہ تجربہ بھی ہوا ہے بجھے چراغوں سے کہ ہر اندھیرا ہ میں دیکھنا سکھاتا ہے

۲۔ خوف (کا قہر):

خوف زدہ چہرہ چاہے قائد کا ہو وہ جھوٹا اورارادوں سے بزدل لگتا ہے۔ اس کے بے قابو جذباتی ابال سے لوگوں کو ابکائی آتی ہے۔خوف سے دل دہلادینے والی دھک دھک پر جس کا قابو نہ ہووہ اوروں کے دلوں پر کیا حکمرانی کرسکتا ہے۔ دلوں کی راجدھانی میں صرف یقین کے سکے چلتے ہیں۔خوف کے کھوٹے سکے نہیں چلتے۔ جس شخص کو ڈر کی دیمک چاٹ رہی ہو اس عمارت میں کس کو پناہ مل سکتی ہے۔

دراصل یہ انا کی خود رو جھاڑ جھنکار ہے۔ خوف زدہ شخص انا کی دلدل کے سڑے ہوئے کیڑے کھا کر زندہ رہتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم بڑی قیمت دے کر اس بدترین لعنت کو خریدتے ہیں۔ یہ ایک بد بو ہے۔ اورتو اور’’ غصہ‘‘ بھی خود اس کے خمیر سے اٹھا ہوا تعفن ہے۔ یہ بدبو دار پانی آپ کی روح کے زمزم کے چشمے کو سڑا دیتا ہے۔ اس کو فوراً بند کریں۔ جب جب خوف کی ’’دماغی ڈکاروں‘‘ سی آوازیں جب روح میں گونجنے لگیں تو اس کو فوراً میوٹ کریں۔ یہ اندیشوں سے لرز کرکمزور کے وجود میں گھس پڑتا ہے۔

اپنے آپ سے خوف زدہ شخص سے بے جا توقع بھی بے کار ہے۔ اسے خوف ، خاردار جھاڑیوں میں کھدیڑ دیتا ہے۔ جب ہم ذرا ہمت اکھٹی کرکے اپنی روح کیInner skiing کریں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ دنیا اتنی خوف ناک نہیں بلکہ محبت بھری وادی ہے۔

جہاں پہنچتے ہی روح گنگنا اٹھتی ہے۔ اگر ہم اپنیواد ی ء جاں کی خبر نہ لیں گے تویہ خوف ہمار ے متاع یقین کو مٹادیتا ہے۔ کاہلی تو اس کا بہروپ ہے۔ زندگی کئی اختیارات عطا کرتی ہے اورخوف صرف موت۔ پہلے ارادوں کی موت پھر شخصیت کی موت پھر عزت، ملت اور آخر کار نظریہ کی موت۔

خوف کو حوصلے کے ہاتھیوں سے روند دو

کسی بھی ناکامی پرایک زنجیرہمیں خوف کی پہننی پڑتی ہے۔ خوف سے ہمارا پورا وجود لرز اٹھتا ہے۔ شعور کی سطح پر زلزلوں کا احسا س ہوتا ہے۔ تمناوں کی ہری بھری زمین سرکنے لگتی ہے۔ شکست ؛ہمیں دہشت زدہ کرکے ہماری ساکھ دہلاکر رکھ دیتی ہے۔ اپنوں اور پرایوں کے طنزو طعنوں کے خوف ناک آتش فشاں دہانے کھل پڑتے ہیں۔ تصوراتی عزت کی بلندی سے ہم ٹوٹ کر پاش پاش ہو رہے ہوتے ہیں۔

زمین گھوم جاتی ہے۔ لفظ چھن جاتے ہیں۔ حوصلے کھوجاتے ہیں۔ دکھ کبھی وحشت کا روپ لیکر قیامت ڈھاتا ہے۔ کبھی آنسووں کا سیلاب صبرکے ساحل توڑجاتا ہے۔ ایسے میں تسلی بھی اچھی نہیں لگتی۔ ڈھارس ٹھیس پہنچاتی ہے۔ ہونٹوں پر کپکپی ‘ہاتھوں میں لرز ش اورآنکھوں میں ندامت کے بھنورا سقدر ٹوٹ پھوٹ مچاتے ہیں کہ خود کو سمیٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اپنی ذات پر بنایا ہوا یقین لرز اٹھتا ہے۔

ہم تھوڑی دیر کے لئے یہ بھول جاتے ہیں کہ’’اعتما د‘‘ اپنی ذات کی ایک ایسی چوکی ہے جس پر باہر کا دشمن کبھی بھی حملہ نہیں کرسکتا۔ یہاں پر خود ہماری غفلت سے بارودی سرنگ بچھتی ہے۔ یہاں حملہ انجانے دشمن کا نہیں بلکہ اپنے ہی تصورات کے ترشے ہوئے دیوہیکل پیکروں سے ہوتا ہے۔ جو ہمیں ریزہ ریزہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ باہر کا خوف اتنا شدید اور ہمہ گیرنہیں ہوتا اوراس سے نمٹنا آسان بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ باہر کا ڈر بلکل دوسرا ہوتا ہے۔ جیسے بلوایوں کا خوف‘ لٹیروں کا دھڑکا، وباوں کا حملہ وغیرہ۔

خوف کا چھٹکار ا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ ہمیں شک کا خوانچہ ہاتھ میں تھما کر خوف کی گھنٹی ہاتھ میں دے کر گلی گلی گھماتا ہے۔ جب کہ ہم تواس دنیا میں یقین کے مہمات کے امین و پیامبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

خوف سے کھائی روٹی غذا اور خون تو بن جاتی ہےلیکن زندگی کو مطلوب شخصیت یا کردار نہیں بنا سکتی
ہم اسی مقام پر رک کرخوف کے تمام بہروپ کو دیکھ لیتے ہیں کہ تاکہ اس کریہہ جذبہ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ کیسے خوف کا کنکھجورا ہزار قدموں سے ہماری روح میں گھس سکتا ہے۔

خوف کے کانٹوں سے بھر ا ذات کا جنگل

اُف!کتنے خوف۔ (۱)ناکامی کا خوف (۲)رد کئے جانے کا (۳) مذاق اڑائے جانے کا (۴)[کوشش سے پہلے] ہار جانے کا (۵) تنقیدکئے جانے کا (۶) بڑھتی عمر (۷)گرتی صحت (۸) گمنامی کا (۹) سماجی رسوائی کا( ۱۰)انجانی بات اور کام کا (۱۱)نامعلوم کا جانے کیا ہو جائےاجنبی سے ڈر (۱۳) تقریر کا (۱۴) قیمتی چیز اور شخصیت کے کھوجانےکا اوراس کے علاوہ صد ہزار خوف کے کانٹوں بھرے جنگل میں ہم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ نفسیات کے ماہرین نے تقریباً ۵۰۰سے زیادہ خوف کی فہرست مرتب کی ہے۔ اس کانٹوں بھرے جنگل میں پوری انسانیت غیر مہذب وحشی آدی واسیوں کے طرح برہنہ شعور گھومتی رہتی ہے۔

خوف زندگی کی گاڑی کا اندھا ڈرائیور ہے

خوف کی رہنمائی تو جیسے اندھے ڈرائیور پر یقین کرکے اس کے ساتھ سفر کرنا۔ اس کے بربادانجام پر خود ہمیں تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آپ کو کھا ئی میں اتار دے گا۔ کیونکہ نہ اس کو رفتار پر قابوہے۔ نہ گفتار پر گرفت اور نہ فیصلوں میں فراست۔ بنیادی طور پر خوف کا مزاج رد عمل کا ہوتا ہے۔ کسی امکانی چیالنج کو ذہن جب بے حد کڑا سمجھے تو ردّعمل بھی اتنا ہی اکھڑا ہوا ہوگا۔ سفر اندازوں پر نہیں ہوتا، قیاس پر قدم نہیں اٹھتے، گمانوں پر گمراہی یقینی رہتی ہے۔ کوئی سفر ہو پہلاقدم خوف کی چھاتی پر رکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔

اُمید جنت کی شہریت اور خوف جہنم کی

دوستو! اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھ لو کہ سوائے ’’خوفِ خدا ‘‘کے جو ہمیں اپنے عمل کی جوابدہی کے سلسلے میں ہوتا ہے اس کے علاوہ ہرخوف عقل و دانش کادشمن ہے۔ اور خوف خدا تو عقل و دانش کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر خوفاندیشوں ، خدشوں اور فریب کا پروردہ رہتاہے۔ سارے ’’ڈر‘‘ اَنا کے کھیت کے زہریلے کانٹے ہوتے ہیں۔ جیسے زقوم کے پھل۔ ان کانٹوں میں گتھے گندم کی چبائی ہوئی روٹی سے زندگی کو مطلوب نہ تازہ خون ملتا ہے نہ شخصیت و کردار میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔

جبکہ ربّ کا ڈر ، علم کے سایہء میں رہتا ہے۔ جہل کی گود میں نہیں۔ اور جہل کاپروردہ ڈرخداپرستوں کی بستیوں میں گھسا ہوا غارت گر ڈاکو ہوتاہے۔ یہ ابلیسی سفیر ہمارے ذہن کو یرغمال بناکر اپنی شرطیں منواتا ہے۔ جیسے کوئی آپ کے کعبہء دل میں شک و شبہات کے بد شکل بت گاڑ دے اور اس کے طواف پر جبراً مجبور کردے۔ جس کا بوجھ آپ اپنی چھاتی پر وزنی پتھر سا محسوس کریں۔ اس لئے خوف زدہ رہنا گناہ ِ عظیم ہے۔ خوف سے جتنی دوری اور اُمید سے جتنی قربت بڑھے گی اتنا ہی ہماری شخصیت میں نکھار آئے گا۔ ’’اُمید ‘‘جنت کی شہریت دلاتی ہے اور ’’خوف ‘‘جہنم زار کا غلام بناتی ہے۔

ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کر تو ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر (اسمٰعیل میرٹھی)

٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.