اولاد کی تربیت کے ذریعہ ان کی دینی زندگی خوشگوار بنائیں

نبی اکرم ا نے فرمایا ’’ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘ پھر اس کے ماں باپ یا تو اسے یہودی بنادیتے ہیں یا مجوسی اور یا پھر نصرانی بنادیتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد عطاء کیا ہے اس کی قدر بہت زیادہ انسان کو کرنا چاہئے۔

جھلکیاں
  • اللہ تعالیٰ نے درست طریقہ سے اولاد کی پرورش پر بڑا اجروانعام کا ذکر کیا ہے کہ نبی کریم ا کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام پہنچایا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنے بچہ کو حافظ قرآن کریم بنادیا تو اس کو ہی نہیں جنت کا حقدار قراردیا بلکہ اس کے والدین کو عزت وتکریم سے نوازنے کا ذکر ملتاہے ۔
  • اللہ تبارک تعالیٰ نے اولاد کی اہمیت وافادیت کو بڑے پیارے انداز میں اجاگر کیا جس کو سمجھنے اور اس کو عملی میدان میں نافذ کرنے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے۔
  • بہت زیادہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم دنیاوی معاملات میں، دنیاوی تعلیم کیلئے خطیر رقم خرچ کرتے ہوئے ان کے بہتر مستقبل کیلئے ہمہ جہت کوشش کرتے ہیں جبکہ دنیاوی تعلیم دنیا کی حدتک ہی کارگر ہے اور دینی تعلیم سے کتراتے ہیں۔

رب ذوالجلال نے جب سے دنیا کو بنایا اور مختلف چیزوں سے اس کو خوشنما بنا کر آدم وحوا کو آباد کیا تب سے فروغ انسانی کیلئے وجود اولادسے زینت بخشی اور گھر و باہر میں اس کو رونق کی قرار دیا۔ گویاکہ وجود اولاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو بہت خوشنما بنا دیا ہے۔

اولاد ہونا اور اس کی بہتر پرورش اور نگہبانی کی ذمہ داری بھی والدین پر رکھا۔ نزول قرآن کے بعد اور فرمان نبوی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ اس کی بہتر انداز میں کس طرح پرورش کریں کیوں کہ بچہ اپنی زندگی میں اول اپنے گھر اور اس میں رہنے والے افراد کو دیکھتا ہے اور انہی سے حالات اور طرز زندگی کو دیکھ کر اس کے ذہن وقلب میں صورت گیری کی نقش ہوجاتی ہے اور اولاد ابتدائی ماحول کے منظر سے پوری طرح متاثر ہوتا ہے۔

امام غزالیؒ نے بڑے پیارے انداز میں ایک ہیئت کا ذکر کیا کہ ’’بچہ اپنے والدین کے پاس امانت ہوتا ہے اور جو چیز اس پر نقش ہوجائے اسے قبول کرلیتا ہے اور اسے جس چیز کی طرف مائل کیا جائے وہ مائل ہوجاتا ہے۔ پس اگر اسے خیر کا عادی بنایاجائے گا اور خیر کی تعلیم دی جائے گی تو اس کی پرورش اسی کے مطابق ہوگی اور اس کے والدین دنیا وآخرت میں سرخرو ہوں گے بلکہ اس کے تمام معلّمین اور مؤدبین سعادت مند ہوں گے اور اگر اسے شر اور برائی کا عادی بنایا جائے گا اور جانوروں کی طرح مہمل اور بیکار چھوڑا جائے گا تو بدبخت اور برباد ہوگا اور گناہ کا سارا بوجھ اس کے ذمہ دار کی گردن پر ہوگا‘‘۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘ پھر اس کے ماں باپ یا تو اسے یہودی بنادیتے ہیں یا مجوسی اور یا پھر نصرانی بنادیتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد عطاء کیا ہے اس کی قدر بہت زیادہ انسان کو کرنا چاہئے اور اس کی تربیت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرتے ہوئے ان کیلئے بہتر سے بہتر تربیتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان کو صراط مستقیم پر گامزن رہنے کیلئے ہمہ تن جٹ کر اسلامی طور وطریقہ سکھاتے ہوئے جد وجہد کرتے رہیں ورنہ اللہ کا جیسا کہ فرمان ہے مال واولاد دنیا کی زینت ہے اور اعمال صالحہ باقی رہنے والی ہے۔

جس طرح دنیاوی زینت کے تمام اسباب کو بہتر انداز میں رنگ وروغن کرتے اور سلیقہ سے اس کو ترتیب دے کر عمدہ اور خوشنما بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنا چاہتے اسی طرح لخت جگر کی بہتر پرورش کرنے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی اورلغزش کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور ان کوکامیاب بنانے کے تن من تھن سے جتن کریں اور ان کو کامیاب بنائیں تو پھر آپ کیلئے یہ صرف دنیاوی عزت وسلامتی کا سبب نہیں بنے گا بلکہ آخرت کیلئے بہترین سودہ ثابت ہوگالہٰذا اولاد کے دل ودماغ میں ہر وہ چیز پیوست کی جائے جس سے دین کا اصل جذبہ اور فضیلت حاصل ہو۔دماغ وقلب کے فرحت وانبساط کا سبب بن جائے۔

بچوں کی تربیت و کفالت کی ذمہ داری کا احساس نہ ہوگا تو مجھے خدشہ ہے کہ کہیں تم دگنے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائو اور اس قیمتی جوہر کو بگاڑنے پر عبرتناک سزا سے دوچار ہوجائو وار تم اس عام جرم میں سے اپنا مقررہ حصہ حاصل کر رہے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی تربیت کی مکمل ذمہ داری والدین کے کندھوں پر ڈالی ہے چنانچہ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کے امور کا مسئول ہے۔

حاکم بھی نگران ہے اور رعایا کے امور کا مسئول ہے اور آدمی بھی اپنے گھر کی نگران ہے اور اپنی رعایا کے امور کی مسئول ہے اور خادم بھی اپنے مالک کے مال کا نگران ہے اور اپنی رعایا کا مسئول ہے اور تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعایا کا مسئول ہے۔ (متفق علیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث مبارک میں ایک بنیادی ضابطہ بیان فرمادیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کے دین کے مطابق پرورش پاتی ہے اور والدین اس پر بڑا گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہربچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں جس طرح جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے کیا تم اس میں کوئی مقطوع الاعضاء دیکھتے ہو؟بعدہٗ سورۃ الروم کی یہ آیت تلاوت کی ۔ ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کی اس پیدا کردہ چیز کو بدلنا نہ چاہئے پس سیدھا اور درست دین یہی ہے‘‘۔ (الروم۔30)۔ نیز اللہ رب العزت نے والدین کو اولاد کی تربیت واصلاح کا حکم دیا ہے اور ان کو اس کی ترغیب دی اور ان کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ارشاد رب العالمین ہے کہ: ’’اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جس پر تندخو مضبوط فرشتے متعین ہیں جو خدا کی نافرمانی نہیں کرتے۔ بایں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو بجالاتے ہیں‘‘ (تحریم)۔

اللہ تعالیٰ نے درست طریقہ سے اولاد کی پرورش پر بڑا اجروانعام کا ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں یہ پیغام پہنچایا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنے بچہ کو حافظ قرآن کریم بنادیا تو اس کو ہی نہیں جنت کا حقدار قراردیا بلکہ اس کے والدین کو عزت وتکریم سے نوازنے کا ذکر ملتاہے اور یہاں تک ہی بات ختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ یہ معلوم کرایا گیا کہ اگر کوئی بچہ حفظ قرآن کے بعد اس کا محافظ بنارہتا ہے۔ کل قیامت میں اللہ ان کو اختیار دے گا کہ وہ ایسے دس اشخاص کو جن کے مقدر میں جہنم لکھ دیا گیا ہوگا اس کو جنت میں جانے کی سفارش کرتے ہوئے ان کو جنت میں داخل کرلے۔

بہت زیادہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم دنیاوی معاملات میں، دنیاوی تعلیم کیلئے خطیر رقم خرچ کرتے ہوئے ان کے بہتر مستقبل کیلئے ہمہ جہت کوشش کرتے ہیں جبکہ دنیاوی تعلیم دنیا کی حدتک ہی کارگر ہے اور دینی تعلیم سے کتراتے ہیں اور اس کیلئے ویسی لگن وٹرپ نہیں کرتے جو دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی اور کامرانی کا سبب بننے والا ہے۔

اولاد آدم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مقدس سے یہ پیغام پہنچوایا کہ تم اولاد کو بہتر تعلیم سکھائو اور بہترین اخلاق کا خوگر بنائو یہ ان کیلئے بہترین تحفہ ہوگا۔ قوا انفسکم واھلیکم نارًا کے تحت مفسرین کرام نے مختلف زاویہ سے آگاہ کرنے کی فکر کی ہے تاکہ کسی طرح فانی دنیا میں رہنے بسنے والے خود کے ساتھ ساتھ اپنے اولاد کو بہتر تعلیم وتربیت کے ذریعہ نیک وصالح بنادے تو کیا ہی اچھاہوگا۔اسی ضمن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد مبارکہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خیرکی تعلیم دو۔

امام فخر الدین رازیؒ رقمطراز ہیں کہ جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ تمہیں منع کیا ہے ان سے بازآئو۔امام زمخشریؒ فرماتے ہیں کہ قوا انفکسم کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو معاصی ترک کرکے اور طاعات بجالاکر دوزخ کی آگ سے بچائو اور اپنے گھر والوں کو اس طرح بچائو کہ جیسے تم اپنا مواخذہ اور محاسبہ کرتے ہو اسی طرح ان کا بھی مواخذہ کیا کرو۔معلوم ہوا کہ بچوں کی اصلاح وتربیت کا کام تندہی سے کرتے رہنا اور ان کو اچھے کاموں کا عادی بنانا انتہائی ضروری ہے اور یہی انبیاء ومرسلین کا راستہ ہے۔

اللہ تبارک تعالیٰ نے اولاد کی اہمیت وافادیت کو بڑے پیارے انداز میں اجاگر کیا جس کو سمجھنے اور اس کو عملی میدان میں نافذ کرنے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے۔ خاص کر موجودہ دور میں جبکہ کثرت اولاد کو معیوب سمجھا جارہا ہے اور ان کو دنیا میں آنے سے قبل ہی ضائع کردیا جارہا ہے جبکہ گھرمیں بچوں کے رہنے سے کئی قسم کی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: اور اپنی اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی ‘بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑی خطاء ہے‘‘۔

لہٰذا جو شخص اولاد کی ناقدری کرتے ہوئے ایک تو ان کو آمد دنیا سے روکتا ہے اور ولادت پر دینی تربیت سے احتراز کرتے ہوئے خود کو جہاں رب کی پکڑ کا مستحق بناتا ہے وہیں انہیں بے کار چھوڑے رکھتا ہے۔ وہ بہت برا کام انجام دیتا ہے اور عموماً بچوں کا بگاڑ ان کے والدین کی غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں دین کے فرائض اور سنن کی تعلیم نہیں دلاتے۔وہ بچپن میں انہیں برباد کرتے ہیں پھر وہ خود بھی نفع نہیں اٹھاتے اوربڑے ہوکر بھی اپنے ماں باپ کیلئے مفید ثابت نہیں ہوتے۔

ایک واقعہ جو عبرت بھرا ہے کہ ایک باپ نے نافرمانی پر اپنے بیٹے کی سرزنش کی تو بیٹا بولا کہ اباجان آپ نے بچپن میں میری نافرمانی کی تو میں نے بھی بڑے ہوکر آپ کی نافرمانی کی۔ آپ نے مجھے بچپن میں ضائع کیا تو میں نے بھی آپ کو بڑھاپے کی عمر میں ضائع اور برباد کردیا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’قیامت کے روز بندے کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا میں نے تجھے کان‘ آنکھیں اور مال و اولاد عطاء نہیں کئے تھے؟ اور چوپائے اور کھیت تمہاری خدمت میں نہیں لگادئے تھے اور تجھے خوشحالی اور بلند مرتبہ نہیں بنایا تھا؟ پس کیا تو گمان رکھتا تھا کہ تجھے آج کے دن مجھ سے ملاقات کرنا ہے؟ وہ کہے گا کہ نہیں۔

اس پر اللہ تعالیٰ اس کو فرمائیں گے کہ جیسے تم نے مجھے فراموش کردیا تھا آج میں بھی تجھے فراموش کرتا ہوں‘‘۔ اس لئے اولاد کو بے یارومددگار نہ چھوڑو بلکہ ان کی بہتر سے بہتر انداز میں پرورش اور تربیت میں ہمہ تن متوجہ رہو اور ان کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرو اور ان کی بہتر رشتہ دیکھ کر شادی کرو تاکہ وہ سلجھے ہوئی زندگی گذارسکے اور دین کی خدمت اور دنیاوی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے اس کے تقاضہ کو پورا کرسکے۔

جس کے دل میں والدین کی قدرو اہمیت ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ کسی بھی حال میں ہم سے ماں باپ کی نافرمانی ہو اور اس کی ناراضگی ہمارے لئے سوہان روح ثابت ہو۔ ایسے بچے جو دین سمجھ لیتے ہیں وہ والدین کے ساتھ دیگر اعزاہ واقرباء کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی ضرورت کا حسب گنجائش خیال رکھنا اور اس کی ضرورت پر دھیان رکھنا اپنے لئے خوش نصیبی تصور کرتا ہے۔

ہم کو قرآن وحدیث اور دیگر ذریعہ سے بہت سی باتیں ملتی ہیں جو اختیار کرتے ہوئے اپنے نورنظر لخت جگر کو ہنرمند اور کارگر بناسکتے ہیں بس ضرورت ہے تو اس طرح تھوڑی توجہ دینے کا۔ دنیاوی منفعت کیلئے ہم کیسی کیسی تکالیف اور آزمائش کو قبول کرتے ہوئے اس مشن پر کمربستہ ہوجاتے ہیں اسی طرح ہمارے لئے اولاد بھی دنیا وآخرت کیلئے ایک قیمتی لاثانی سرمایہ حیات ہے جس کوعالمین میں نفع بخش بنانے کیلئے کبھی بھی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرنا ہے۔

اولاد کو نفع بخش بنانے کے چند اصول ایسے ہیں جس کو اختیار کرتے ہوئے اولاد سے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے اور بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعہ اولاد بھی قلب مطمئنہ کے خوش وخرم دنیاوی زندگی کی تکمیل کرسکتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی ان کا میسر ہوگا۔

(جاری)

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی

بانی وناظم ادارہ مبین العلوم قاسمیہ

mumshadrahi@gmail.com

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.