اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا

اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے دین کی مد د کرنیوالے ہر زمانے میںکامیاب ہوئے

مولانامحمد عبدالحفیظ اسلامی

اسلامی برادری سے تعلق رکھنے والا ہر شخص آج دنیا میں سخت پریشانی وبے اطمینانی کے عالم میں مبتلا ہے، جنہیں ہم تین طبقات میں تقسیم دیکھتے ہیں۔ پہلا طبقہ تووہ ہے جو اپنے حقیقی نصب العین کو بھول کر دنیا برائے دنیا کے نشہ میںمست ہے۔ دوسرا وہ ہے جو عیش کوشی اور تعیشات دنیا میں مگن اور آخرت کو فراموش کرچکا ہے، یعنی ’’بابرعیش کو ش کہ یہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کے مصداق زندگی بسر کررہا ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو دین کے ایک دھندلے تصور کے ساتھ شب و روز گزار رہا ہے۔

البتہ کچھ عبادات کے سلسلہ میں مسلمانیت کا بنیادی حصہ الحمد اللہ ان میں پایا جاتا ہے اور دنیا کی نظروں میں یہ مسلمان ہیں اورسرکاری رجسٹر میں مسلمان کی حیثیت سے نام درج ہے۔ مجموعی طور پر یہ پوری امت کلمہ گو ہے اور اپنے کو مسلمان کہلانا پسند کرتی‘ اور اسے فخر بھی ہے۔ غرضیکہ لاکھ خرابیوں کے باوجود ہزاروں خوبیاں بھی یہ اپنے اندر رکھتی ہے۔

لیکن عالم اسلام ہو یا غیر اسلامی دنیا، ہر طرف اہل ایمان مشکلات سے دوچار ہیں، جہاں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ اسلام کے نام لیوا ظلم کی چکی میں پیسے نہ جاتے ہوں۔ جہالت و اقتدار کی خواہش نے مسلمانوںکے درمیان آپسی دشمنی، بغض و عداوت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

متعلقہ

دوسری جانب زرپرست وباطل پرست طاقتوں نے ہر طرف مسلمانوں کو تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ مختصر یہ کہ ملت اسلامیہ اس وقت بہت نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ان کا مذہبی تشخص خطرہ میں پڑچکا ہے، مذہبی شناخت کے ساتھ آزادانہ طور پر اللہ کی زمین پر چلنا پھرنا دشوار معلوم ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مضبوط سہارا ہوسکتا ہے تووہ ہے اللہ جل شانہ کا سہارا، اسی لیے اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے وعدہ فرمارہا ہے کہ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جماد ے گا‘‘ (سورۃ محمد آیت: 7)

محترم بھائیو! ذرا ہم غور کریں آخر ہر میدان میں ہم بے یار و مددگار کیوں ہورہے ہیں؟ ہر جگہ ہمارے قدم کیوں ڈگمگا رہے ہیں؟ باطل کا سیلاب ہمیں تنکوں کی طرح کیوں بہالے جارہا ہے؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو ہمیں ایک امت خیر لمحہ فکر ودعوت اصلاح دے رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کی کامیابی مشروط ہے، قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کہیں کامیابی کیلئے شرائط بیان کی گئیں تو کہیں پر اہل ایمان کو حصول غلبہ کیلئے بنیادی بات بتائی گئی کہ اگر تم مومن ہوتو غلبہ تمہارا ہی ہوگا۔

آیت مذکورہ بالا (سورۃ محمد آیت: 7) میں جس بات کا ذکر و یاد دہانی کروائی گئی ہے یہ وہی چیز ہے،یعنی

’’إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ‘‘

( اگر تم اللہ کی مدد کروگے تووہ تمہاری مدد کرے گا)۔

نصرت وکامیابی کا مستحق بننا مقصود ہوتو اللہ کی مدد کرناہوگا، اللہ کی مدد یہ ہے کہ اس کے دین کی مدد کی جائے، اس کی اقامت کیلئے جدوجہد کی جائے۔

محترم قارئین! آیت کریمہ کا آغاز ایمان کے حوالے کے ساتھ ہورہا ہے۔فرمایا: ’’اے ایمان والو‘‘یعنی ان لوگوں کو خطاب فرمایا جارہا ہے جو ایمان والوں کی فہرست میں شامل ہوچکے، اپنے کو اللہ الہ واحد کی بندگی بجالانے کا وعدہ کرتے ہوئے صراط مستقیم کی راہ اختیار کرلئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو تسلیم کرنے اور عمل کرنے کا دل سے ارادہ کرچکے ہوں، اب انہیں چاہیے کہ جس طرح اس دین کو دین حق سمجھ کر قبول کرلیے ہوں اس پر اب ہمیشہ قائم رہیں۔

اس دین حق و دین رحمت پر قائم رہنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے اگر تم اس کے مددگار ہوگے تو اس کی برکت یہ ہوگی کہ خود تمہارے قدم اس دین رحمت پر جم جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ کوئی کام اللہ کی مدد ونصرت کے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ دوسری چیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے دین کی اقامت کیلئے کسی کا محتاج نہیں، لیکن اللہ تبارک تعالیٰ اہل ایمان بندوں کو آزمائش میں ڈال کر دراصل ان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور جو لوگ اس میںپورے اترتے ہیں تو انہیں اپنا مددگار کہتا ہے۔ یہ بات کتنے بڑے اعزاز کی ہے کہ دین کی اقامت اور اس کی جدوجہد کرنے والے اونچے لقب سے نوازے جارہے ہیں، لہٰذا ظاہری طور پر اس کے معنی یہ ہوئے کہ مسلمان اللہ کے دین کی مدد کرتے ہوئے اللہ کے مددگار بن جاتے ہیں اور حقیقتاً دین کی مدد کرنا خود اپنی مددکرنا ہے۔

آیت کریمہ مذکورہ بالا کے اول مخاطبین وہ لوگ ہیں جنہوں نے کامل طور پر عمل کیا، اس دین کی اقامت اور اسے ساری دنیا میں پھیلانے کیلئے تن من دھن کی بازی لگائی، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر موقع پر ساتھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وابستگی میں دیوانگی کی کیفیت تھی اور اس میں آگے ہی آگے رہے اور آپ کے ایک اشارہ پر دل پسند دولت، عزیز ترین جان بھی دین اسلام کی اشاعت و حفاظت کیلئے لڑانے ہر آن ہر دم تیار رہا کرتے تھے، جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ اللہ نے ان پاکبازوں کے قدموں کو باطل کے مقابل مضبوط طریقے سے جما دیا، خواہ معاملہ بدر کا ہو یا اُحد و خندق و حنین کا۔ ہر محاذ و مرحلہ پر ان سعید روحوں (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) نے دین اسلام سے سچی وابستگی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری میں زندگی بسر کرتے ہوئے اللہ کے دین کے مددگار بنے رہے۔

اللہ کی مدد کا وعدہ آج بھی ہم سے ہے، اگر ہم اللہ کی مدد کریں گے تو اللہ بھی ہماری مدد کو تیار ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمارا مالک و آقا صرف ہماری مدد ہی نہیںکرے گا بلکہ ہمارے قدموں کو اپنے اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے مقابلہ میں مضبوط جما دے گا، پھر اس کے بعد ہمیں کوئی باطل طاقت نوالہ تر نہیں بناسکتی۔

اے میرے بھائیو! قرآن آج بھی ہم سے (اپنے حالت و ماحول کے مطابق جتنی کچھ سہولتیں اور گنجائش و مواقع ہمارے لئے موجود ہیں اسی حد تک) یہ مطالبہ کررہا ہے کہ ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے کیلئے کمر بستہ ہوجائیں، اہل ایمان کو ہر نازک موڑ پر اللہ ہی کی مدد ونصرت ہی کا سہارا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس سہارے سے محروم ہوجائیں تو ہماری حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدترین ہوتے چلے جائے گی۔ ہم سے

’’اَن اَقِیْمُوا الدِّیْن‘‘

کے معاملہ میں پچھلے 75 برسوں میں غفلت ہوچکی، ہم صرف گنگا جمنی تہذیب کے گن گاتے رہے، ادھر باطل کے پرستاروں نے اپنا علم ناحق بلند کرتے رہے، اور قانون کے دھجیاں اڑائی جاتی رہیں اور ہم قانون کی دہائی دیتے رہے۔ غرضیکہ اب اس وقت ملت اسلامیہ کو جس چیز کی شدید ضرورت ہے ، وہ ہے اللہ کی مدد ونصرت اور دشمنوں کی مکروہ حکمت عملی سے محفوظ رہنا اور ان کی چالبازیوں سے بچتے ہوئے ایک نئے حوصلہ وقوت ارادی کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرنا پڑے گا۔ اگر اب بھی اس جانب توجہ نہیں کی گئی تو عین ممکن ہے کہ اس ملک میں ہمارا مذہبی تشخص خطرہ میں پڑ جائے گا۔

باشعور آنکھیں یہ چیز دیکھ رہی ہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر مسلم تشخص کو ختم کرنے کی کامیاب کوششیں ہورہی ہیں، تعلیم گاہوں سے اردو کو ختم کیا گیا، مسلم ناموں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا جارہا ہے، ملازمت کے دروازے ہمارے لئے بند کردئیے جارہے ہیں، اسکو ل و کالج یہاں تک کہ یونیورسٹی میں تک اسباق کو بدل ڈالا جارہا ہے، ہندو مذہبی مقدس کتابوں کی تعلیم کو لازمی کرنے کی بھی آواز یں بلند ہورہی ہیں، یہ اور اس طرح کی دیگر باتیں ہمیں بحیثیت خیرامت یہ دعوت فکر دے رہی ہیں کہ ہم اللہ تبارک تعالیٰ کے اس مشروط وعدہ پر دھیان دیں کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا وپکا ہوتا ہے۔

اس میںشک وہی کرتا ہے جو اپنے اندر ایمان نہیں رکھتا۔ اب اس وقت ہم جس خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں اس سے جلد از جلد نکلنے اور گلوخلاصی کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں، دوسری بات یہ کہ اپنے معاشرے کی اسلامی بنیادوں پر تعمیر کریں۔

اگر یہ دو کام پورے خلوص کے ساتھ انجام پائیں تو اپنے اطراف میں ایک صالح جہاں کا وجود میں آنا ممکن ہوسکے گا۔ دوسری اہم چیز یہ بھی ہے کہ ہم مسالک کے جھگڑوں سے دور ہوجائیں، خود ساختہ و طبع ذات اعمال سے دستبردار ہوجائیں خالص طور پر کتاب وسنت وروش صحابہ ؓ پر عمل پیرا ہوجائیں، ہم صرف محب قرآن ہی نہیں عامل قرآن بنیں، صرف عشق نبیؐ ہی نہیں بلکہ اطاعت رسولؐ ہمارے شب و روز بن جائیں، اور سیرت صحابہؓ وعظمت صحابہؓ پر صرف بیان ہی نہ کئے جائیں بلکہ ان سعید ہستیوں کے طریقہ پر چلیں اور لوگوں کو چلائیں، یہ بات بھی خوب یاد رہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مقدور بھر کوششیں کرتے ہیں اللہ راستے ہموار کرتا ہے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.