اے غافل انسان! دنیا کی زندگی تو محض دھوکہ کے سوا کچھ نہیں

ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا ، پوری زندگی کے اعمال نگاہوں کے سامنے ہوں گے۔نیک افراد حسرت کریں گے کہ کاش اور نیکی میں اضافہ کرتا اور برے لوگ اپنے اعمال بد پر افسوس کررہے ہوں گے مگر وہاں افسوس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی
بانی وناظم ادارہ مبین العلوم قاسمیہ

اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق ومالک ہے اور اس نے کسی بھی چیز میں ہمیشہ کی بقا نہیں رکھا بلکہ تمام چیزوں کو فنائیت سے مزین کیا ہے، چاہے وہ کیسا بھی دیوہیکل ہو، قوت وطاقت میں کتنا ہی قوی سے قوی تر ہو اور فنائیت کے ذریعہ اشرف المخلوقات یعنی اولاد آدم کو جو دانشمندی اور کئی چیزوں کو ترتیب دینے کا ماہر بنایا ہے۔ کیونکہ جتنی بھی چیزیں دنیا میں وجود پاتی ہیں ان کے وجودیت میں رب کائنات کی تخلیق شدہ اشیاء کی ہی ترتیب ہوتی ہے اور ترتیب دینے والے انسان جو عقل وشعور اور قوت وہوشیاری اور ترتیب کے بعد اس کو وجود میں لاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی ہی کاریگری شامل رہتی ہے کیونکہ وجود انسان خود اپنی وجودیت کیلئے رب کا محتاج ہے۔

اسی لئے کلمہ گو انسان جب جب کسی چیز کے اوپر نظر ڈالتاہے تو ان کو وہاں رب کی کاریگری اور قدرت رحمن نظر آتاہے اور پھر اس کی بقاء وفنائیت پر جب غور کرتا ہے تو کسی بھی چیز میں بقاء نظر نہیں آتا بلکہ تمام کے تمام فانی معلوم ہوتا ہے۔ اس میں انسان بذات خود اپنے وجود کو فانی پاتا ہے کہ ایک وقت اس کی ولادت ہوتی ہے اور دنیاوی زندگی جتنا رب نے مقدر کیا ہے اس کی تکمیل ہوتی ہے اور پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کی روح کو قفس عنصری سے نکال لے جاتاہے اور یہ بے جان ہوکر مردہ شمار ہوجاتا ہے اور دنیا ان کو ’ تھا‘ میں لکھنے لگتی ہے۔ ہاں صرف اور صرف رب جلال کی ذات اقدس ہی باقی رہ جاتی ہے۔ارشاد مبارکہ ہے:کل من علیھا فان‘ ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام،’’زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا‘‘۔

اسی لئے ایک مسلمان کو جس طرح موت پر یقین ہے ، اسی طرح وہ یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ نظام کا ئنا ت ایک وقت متعین پر درہم برہم ہوجائے گا، دنیا کی تمام چیزیں فنا ہوجائیں گی،یہ اونچے اونچے پہاڑ، خوفناک جنگلات ، زمین کے سینے کو چیر تے ہوئے عظیم سمندر ، یہ خوبصورت اور عالیشان عمارتیں ، یہ بڑی بڑی کمپنیاں اور انسان و حیوان کی پھیلی ہوئی نسلیں ، سب کے سب حضرت اسرافیل علیہ السلام کے صو ر پھونکنے کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گے ، سورج اور چاند روشنی بکھیرنے کا کام چھوڑدے گا اور ایک عجیب و غریب خوفناک منظر ہوگا جس کو قرآن نے قیامت سے تعبیر کیا ہے۔

متعلقہ

قیامت کا بپا ہونا دراصل ایک ایسا دن ہے جس میں دنیا میں کئے ہوئے تمام اعمال کا جزا ء ملنے کا دن ہے۔ اب ایک انسان دنیا میں جیسا عمل کرتا ہے خیر کا ہویا شر کا ان بدلہ برابر سرابر ملیں گے کیونکہ دنیاوی نظام میں انسان سے بھول چوک ہوتے ہیں مگر احکم الحاکمین، رب العالمین، علام الغیوب کے یہاں ذرہ برابر بھی نا انصافی یا کمی وزیادتی نہیں ہوگا۔

میزان عدل میدان حشر میں قائم کیا جائے گا جس کے نام سے ہی بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ کیسا میزان ہوگا۔ گویا قیامت بدلہ کا دن ہوگا ، نیک عمل کرنے والوں کو نیکی اور بروں کو برائی کا بدلہ ملے گا،دنیا میں جس نے جو عمل کیا ، اس کے ایک ایک ذرے کا حساب و کتاب ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اچھے اور برے کام کی جزا یا سزا مل کر رہے گی جس سے کوئی انسان نجات نہیں پاسکتا۔ قیامت کا دن انتہائی خوفناک اور کسمپرسی کا دن ہوگا وہاں کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ، نہ قرابت کام آئے گی اور نہ ہی دوستی اور محبت و تعلقا ت کام آئیں گے ،ہر ایک کے ساتھ بس اس کا عمل ہوگا جو نیک انسانوں کے لئے راحت اور بروں کے لئے وبال جان ثابت ہوگا ، دن بھی اتنا ہولناک کہ آج اس کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ روز محشر میں سورج دس گنا زیادہ تیز ہوگا آدمی کو ایسا محسوس ہوگا کہ سورج زمین سے چند گز کے فاصلے پر ہے، دھوپ کی سختی کی وجہ سے لوگ پسینے میں ڈوبے ہوں گے ، رسول اکرم ا نے اس دن کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مخلوق دھوپ اور پیاس کی وجہ سے تڑپ رہی ہوگی اور کوئی پرسان حال نہیں ہوگا ، اسی حالت میں کئی ہزار سال گذر جائیں گے ۔

پھر شافع محشر رسول اکرم اکی شفاعت سے اس دن خدا کی عدالت قائم ہوگی مگر وہ انصاف کی عدالت ہوگی جہاں ظلم اور حق تلفی کا شائبہ بھی نہ ہوگا ، خدا کے حکم سے ایک ترازو میں وزن کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سارے انسانوں کو اس دن کی عدالت عظمیٰ سے خبردار کیا ہے۔ونضع الموازین القسب لیوم القیامتۃ فلا تظلم نفس شیئا و ان کان مثقال جنۃ من خیر دل اتینا بھا و کفیٰ بنا حاسبین(الانبیائ:۸۴) ’’اور قیامت کے دن عدل کے لئے ہم ترازو قائم کریں گے ، پس کسی بات کا ظلم نہ ہوگا ، اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی کا کوئی عمل ہوگا تو ہم اسے حاضر کریں گے اور ہم ہی حساب کے لئے کافی ہیں ‘‘۔

ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا ، پوری زندگی کے اعمال نگاہوں کے سامنے ہوں گے۔نیک افراد حسرت کریں گے کہ کاش اور نیکی میں اضافہ کرتا اور برے لوگ اپنے اعمال بد پر افسوس کررہے ہوں گے مگر وہاں افسوس سے کچھ حاصل نہ ہوگا اور نہ نجات کی کوئی سبیل نکل سکے گی پھر اس دن سارے انسانوں کو پل صراط سے گذاراجائے گا ، پل صراط وہ پل ہے جو دوزخ کی پشت پر قائم کیا جائے گا۔ یہ بال سے زیادہ باریک ،آگ سے زیادہ گرم اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا،مؤمن بندے جو اہل جنت ہوں گے وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے آسانی یا کچھ مشکلات کے ساتھ پل سے گذر کر جنت میں چلے جائیںگے اورجو مؤمن گنہگار ہوں گے وہ غیر مسلموں کی طرح کٹ کٹ کر جہنم میں گرتے جائیں گے۔

قرآن نے اس کو بھی صاف انداز میں بیان کردیا ہے۔وان منکم الا واردھا کان علیٰ ربیک حتما مقضیا ثم ننجی الذین اتقوا ونذر الظٰلمین فیھا جثیا۔ (مریم ) ’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو،یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمہ ہے،پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو متقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گراہوا چھوڑ دیں گے‘‘۔رب تعالیٰ ارحم الراحمین ہیں اس لئے بندوں پر ہمیشہ نظر کرم رکھتا ہے اور ستر مائوں سے زیادہ مخلوق کل سے محبت کرتے ہیں۔مگر ہماری بد اعمالیاںجب حد سے تجاوز کرجاتی ہیں تو متنبہ کرنے کیلئے کبھی ابنیاء کو مبعوث کرتے ہیں اور کبھی کوئی ناگہانی واقعات رونما کرتے ہیں تاکہ انسان احساس رکھے کہ میں کچھ نہیں ہوں اور میرا کچھ بھی اختیار دنیا مافیہا میں نہیں چلنے والا ۔

اگر ہمارے پیش نظر یہ احساس اجاگر ہوجائے کہ ہم کو یہ اتنا سخت ہوگا کہ کسی انسان کو دوسرے کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے اور دوسرے کے احوال کے بارے میں سونچے کا موقع ہی نہیںملے گا ، ہر شخص کو اپنی نجات کی فکر ہوگی ، خود انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے اور ایک ایک اعمال کا اظہار کریں گے۔ آدمی سونچے گا کہ جس جسم کو آرام و راحت پہنچانے کے لئے حرام و حلال کی تمیز اٹھا دی تھی ، خدا کی رضا اور ناراضی کا تصور دماغ سے نکال دیا تھا وہی آج میرا دشمن بنا بیٹھا ہے ،اب کون ہے جو میرا ساتھ دے گا ، وہ سوچتا رہے گا اور دنیوی زندگی پر ماتم کرتا رہے گا ، اس دن مشرکین پریشانیوں میں تو رہیں گے ہی، خود مسلمان جو گنہگارہوں گے ، شراب ، رشوت ، سود ،زنا ، قتل و غارت گری اور مختلف گناہوں میں ملوث ہوں گے ان کے لئے بھی یہ دن نہایت سخت ثابت ہوگا ایسی سختی جس سے بڑھ کر سختی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین،آسمان ،شمس وقمر اوردیگر تمام مخلوقات کو وجود بخشا اور بہتر عمل کی ترغیب وتعلیم دی اور کہا کہ حکم کی پاسداری کرتے رہنا اورنافرمانی سے اپنے آپ کو ہمیشہ بچاتے رہتا تاکہ تمہارے ساتھ کل میدان حشر میں بہتر انصاف کیا جاسکے جو اصل فیصلہ اور انجام متعین کرنے کی جگہ ثابت ہوگی اور وہاں کا فیصلہ ہی انسان کو ابدی زندگی کے مقام تک رسائی کرائے گی۔

نیک لوگوں کو جنت اور ان کے لوازمات حسب خواہش دی جائے گی اور بد اعمالیوں و بدکرداریوں کی پاداش میں جہنم میں جھونک دیاجائے گا۔ انسان بھی کتنا غافل اور مدہوش ہے کہ فانی دنیا کیلئے اتنا زیادہ محنت کرتا ہے جس کی محنت کو دیکھاجائے تو افسوس صد افسوس ہوتا جبکہ یہاں حاصل شدہ تمام چیزیں یہیں چھوڑ کر جانا پڑتا ہے مگرآخرت اور وہاں کی زندگی سے تغافل برتتا ہے اور اپنے آپ کو قعر مذلت کا مستحق بنالیتا ہے۔ہم آخرت ،میدان حشر کی حولناکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو ہوشیار بناکر رب کی رضا، نبی کریم ا کے طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے وہی عمل اختیار کریں جس سے دنیاوی عیش وعشرت کے ساتھ اخروی زندگی میںنجات یافتہ اور کامیاب ترین بنادے۔ہم کو صراط مستقیم پر ہمیشہ عمل کرنا چاہئے۔

ہاں اس دن کچھ ایسے بھی خوش نصیب افراد ہوں گے جن کے لئے قیامت کا دن سخت نہ ہوگا ،عین اس وقت جب کہ سورج کی تمازت اور تپش سے لوگ پریشان وسرگرداں ہوں گے۔ اس کی گرمی اور سختی سے بچنے کے لئے ہر آدمی کسی ایسی جگہ کو تلاش کررہاہوگا ، جہاں انہیں مختصر وقفہ کے لئے ہی سہی تھوڑی دیر کے لئے راحت مل سکے مگر وہاں کوئی سایہ ہوگا اور نہ کوئی ایسی جگہ ملے گی جہاں وہ سر چھپا سکے ، البتہ سات ایسے خوش نصیب افراد ہوں گے جن کو عرش کے سائے میں پناہ ملے گی اور وہ ساری شدتوں کے باوجود راحت وآرام محسوس کر رہے ہوں گے ، ایک ایسا بادشاہ جو اپنے رعایاکے ساتھ ہمیشہ عدل وانصاف کو ملحوظ رکھاہوگا۔

جس کو حاکم عادل کہاجاتا ہے ،دوسرے قسم میں وہ نوجوان ہوں گے جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اورجوانی کے قوت میں مست رہتے ہوئے بھی آخرت کی فکر کرتے ہوئے اپنے آپ احکام رب کی فرمانبرداری میں لگائے رکھا ہوگا جس کو وہ نوجوان جس نے اپنے رب کی عبادت میں جوانی گذاری سے یاد کیا جاتاہے۔تیسرا وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہو،کیونکہ مسجد ہی وہ جگہ ہے جہاں انسان یکسوئی حاصل کرتے ہوئے عبادت وریاضت میں خود کو مشغول رکھ سکتاہے، جہاں نور الٰہی اور انعامات خداوندی،رحمت کا نزول ہوتے رہتاہے۔چوتھے وہ دو اشخاص جو باہم صرف خدا کے لئے دوستی کریں،جب جمع ہوں تو اسی کے لئے اور جداہوں تو اسی کے لئے ،رب نام پر جب بھی انسان جمع ہوتا ہے تو وہاں خیر ہی خیر کا بول بالا ہوتا ہے جیساہم دیکھتے ہیں ساری دنیا سے ہمہ نسلی اور لسانی اسلام کے ایک مقدس عمل کیلئے جمع ہوتے ہیں اور رب کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں جس کو حج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس لئے ہماری کوشش رہے کہ ہم رب کی رضاء و خوشنودی کیلئے جمع ہوں ۔پانچواں وہ شخص جس کو کوئی منصب اور جمال والی عورت زنا کے لئے بلائے اور وہ یہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، اس لئے نہیں آسکتا ،جب جب انسان اللہ تعالیٰ کو پیش نظر رکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ ہم جہاں بھی ہیں جس طرح بھی ہیں ہم کو رب کائنات دیکھ رہاہے جس کے اندر یہ احساسات پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ کوئی بھی عمل اختیار کرنے سے قبل اس کے اندر غوروفکر کرتاہے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا ایک نتیجہ نکالتا ہے اور اس پر عمل کرتاہے تو وہ منزل مقصود کو پالیتاہے۔

اس لئے منصب کیسا بھی ہو وہ دائمی نہیں ہوتا اور جیسی بھی عورت کے ساتھ زناکرے یقینا وقتی لطف ملتا ہے مگر اس کا عذاب مستقل رہتا ہے اور اس کے اثرات نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ جن کے اندر یقیناخوف خدا ہوگا وہ ایسی حرکات وسکنات سے اپنے آپ کو محفوظ ومامون رکھے گا۔ چھٹا وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور ساتواں وہ شخص جو خلوت میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں میں تر ہوجائیں۔

جب محسوسات کے دنیا میں انسان غوطہ زن ہوتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ انسان یا اللہ کی کوئی دوسری مخلوق اس کو کچھ فائدہ ونقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔ صرف اور صرف ایک ایسی ذات ہے جو ہم کو دنیا وآخرت میں بہتر زندگی ودیعت کرسکتی ہے تو وہ رب کو خلوت میں یاد کرکرکے خود کو بخشوالینے کے فکر میں موجزن رہتاہے اور یقینا جو تنہائی میں رب کو یادد کرتاہے اللہ تعالیٰ بھی اس کو کامیاب وکامران کردیتاہے۔

بہرحال اے نادان انسان تو دنیا میں رہ کر خود کو دنیا جمع کرنے میں مشغول ومہمک کر رکھا ہے آخرت کی فکر کر کیونکہ وہاں صرف اور صرف تمہارے نیک اعمال ہی تم کو نجات دلاسکتی ہے۔بقیہ تمام رائیگاں جانے والا ہے۔ ان ساتوں کے علاوہ اور بھی ایسے خوش نصیب افراد ہوں گے جن کے لئے اللہ تعالیٰ بلاحساب و کتاب جنت میں داخل کرنے کا اعلان کریں گے او ر کچھ نیک افراد ہوں گے جو اپنے حساب و کتاب میں کامیاب ہوکر جنت کے مستحق ہوں گے،ایسی جنت جس کی نعمتیں یقینا اس دن کی کامیابی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس دن کی ناکامی سب سے بڑی ناکامی ہے، عقلمند انسان وہ ہے جو دنیا کی چند روزہ زندگی کو خوشگوار بنانے کے بجائے آخرت کی ابدی زندگی کو بہتر اور خوشگوار بنائے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہی ہدایت دی ہے اور آئندہ کل (روز محشر) کو کامیاب بنانے کی فکر کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ قیامت کے یہ ہولناک مناظر اگر ذہن میں رہیں تو برائیوں اور بے حیائیوں سے انسان خود بخود دوری اختیار کرے گا اور فلاح کی فکر پیدا ہوگی۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.