بددعا: طاقت و قوت اور نصرت الٰہی کا عظیم سرچشمہ

مؤمن کا سب سے بہترین ہتھیار صبر اور دعا ہے‘‘ (ضعیف الجامع للالبانی) ہاں معنوی اعتبار سے دعا ہتھیار ہے، دعا طاقت ہے، دعا زندگی ہے، دعا رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے، دعا اصل عبادت ہے۔

ابو أرقم عبد الرحیم خرم عمری جامعی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے مؤمن کو دعا کے ہتھیار سے سرفراز فرمایا ہے جس پر نہ کسی کا اختیار ہے نہ روک و پابندی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الدُّعَائُ سِلَاحُ المُوْمِنِ ’’دعا مؤمن کا ہتھیار ہے‘‘ (ضعیف الجامع للالبانی) اسی طرح کی ایک اورضعیف روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے:

نِعْمَ سِلَاحُ المُوْمِنِ الصَّبْرُوَالدّعَا

’’مؤمن کا سب سے بہترین ہتھیار صبر اور دعا ہے‘‘ (ضعیف الجامع للالبانی) ہاں معنوی اعتبار سے دعا ہتھیار ہے، دعا طاقت ہے، دعا زندگی ہے، دعا رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے، دعا اصل عبادت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الدُّعَاءُ ھُوَ العِبَادَۃُ

’’دعا وہی عبادت ہے‘‘ (ابوداؤد:1479) یہی نہیں بلکہ دعا کو افضل عبادت قرار دیا گیا ہے ارشاد نبوی ہے:

اَفْضَلُ العِبَادَۃِ الدُّعَائُ

’’سب سے بہترین عبادت دعا ہے‘‘ (حاکم/صحیح الجامع:1122) یہی نہیں بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے ارشاد نبوی ہے:

الدُّعَائُ مُخُّ العِبَادَۃِ

’’دعا عبادت کا مغز ہے‘‘ (ترمذی: 3371 /ضعیف) پھر بھی اگر کوئی مسلمان اس کا استعمال نہیں کرتا تو اس سے بڑا بخیل، غافل، کم ظرف کوئی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قوت و طاقت کو نظر اندازکرکے انسانی وسائل و ذرائع پر بھروسہ و اعتماد کرنا منافقت ہی نہیں بلکہ کفر ہے۔ کسی بھی زمانے میں مسلمان کو طاقت و قوت ہی کے سبب غلبہ حاصل نہیں ہوا بلکہ انکی کامیابیوں و فتوحات میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا سب سے بڑا دخل رہا ہے جو دعا کے ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہے، ایک گروہ میدان کارزار میں نبرد آما تھا تو ایک گروہ اللہ کے حضور دست بہ دعا و سربسجود ہوکر نصرت و فتح کی دعا ئیں مانگتا رہا ہے۔ اسی لئے ہر مؤمن کو تسلسل کے ساتھ دعا کرتے رہنا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر موقع کے لئے دعائیں سکھائی ہیں۔

دعا کی اہمیت کا انداز اس حدیث شریفہ سے کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الدُّعَائُ یَنْفَعُ مِمَّانَزَلَ وَمِمَّالَمْ یَنْزِلْ فَعَلَیْکُمْ عِبَادَاللّٰہِ بِالدُّعَائِ

’’جو کچھ نازل کردہ اور غیر نازل کردہ چیزیں ہیں اس میں دعا ہی فائدہ دینے والی ہے، اے اللہ کے بندو تم دعا کو لازم پکڑو‘‘ (ترمذی:3373 صحیح)

دعا دو طرح کی ہوتی ہے۔ انسان اپنے حق میں رب سے جو مانگتا ہے اور جو کسی انسان کے خلاف مانگتا ہے اسے بد دعا کہا جاتا ہے۔ دونوں چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن بد دعا کے متعلق کچھ باتیں جاننا ہمارے لئے ضروری ہے، اس لئے کہ آج ہم مسلمان انتہائی سخت حالات سے گزر رہے ہیں۔

ہمیں ہماری شہریت سے محروم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں جس کے سبب ہماری جان و مال، عزت و آبرو، زر زمین ہر چیز خطرہ میں محسوس کی جارہی ہے جس سے ہمیں محروم کردیا جائے گا، ہر روز ایوانوں میں نت نئی سازشیں رچی جارہی ہیں۔ ہر طرح سے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، مسلمان اپنے آپ کو دل شکستہ محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے سوائے اللہ تعالی کی مدد کے۔ یہاں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بد دعا کس طرح کرنا چاہئے ؟

٭ مظلوم کی بد دعا سے بچو: شریعت اسلامیہ نے سب سے پہلے یہ اصول بتایا ہے کہ

اِتَّقِ دَعْوَۃَ المَظْلُوْمِ

’’مظلوم کی بد دعا سے بچو‘‘ (مسلم: ۱۲۱) اب یہ جاننا ضروری ہے کہ مظلوم کس کو کہتے ہیں؟ یہ تعریف ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اپنے حقوق، جائیداد، دولت، تشخص، گھر، وطن سے محروم کیا جانے والا مظلوم ہے، اسی طرح ناحق ستایا جانے والا، بربریت کا شکار، چاہے وہ حکمرانوں، رشتے داروں، دوستوں اور برادران وطن کے ہاتھوں مجروح کیا گیا ہو یا عدالتوں و منصفوں کے ہاتھوں عدل و انصاف سے محروم کیا گیا ہو وہ مظلوم ہے جس کی کو ئی فریاد سننے والا نہ ہو ان سب مظلوموں کی آہ و بکا، چیخ و پکار سننے والی ایک ہی ذات ہے جو اللہ رب العالمین کی ہے وہ ہر اس انسان کی سنتا ہے جو مظلومیت کا شکار ہو اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ ’’مظلوم کی بد دعا سے بچو‘‘۔

ایک حدیث شریفہ میں واقعہ یوں ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب محصل زکوٰۃ کی حیثیت سے بھیجا جارہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ نصیحتیں فرمائیںکہ اے معاذ! ’’تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔

اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتا نا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کیاہے، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انھیں بتا نا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور فرمایاکہ:

اتَّقِ دَعْوَۃَ المَظْلُوْمِ فَاِنَّہَا لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ

’’مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں‘‘ (ابواؤد:1584 )

اس حدیث شریفہ میں مظلومیت کی بہت ہی آسان تشریح کی گئی ہے۔ اس حدیث کے پیش نظر ایک واقعہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی فریاد کس طرح سنتا ہے؟ یہ واقعہ کسی عام انسان کا نہیں بلکہ دو مؤمنین کے درمیان کا ہے۔ واقعہ یوں کہ ’’حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ارویؔ بنت اویس سے ان کے ساتھ گھر کے ایک حصے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔

انہوں نے کہا: اسے اور گھر کو چھوڑ دو (جوچاہے کرتی رہے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی قیامت کے دن وہ سات زمینوں (تک) اس کی گردن کا طوق بنا دیا جائے گا (اس کی ایذا رسانی سے تنگ آکر) سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میںبد دعا کی کہ:

اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَأَعْمِ بَصَرَھَا،وَاجْعَلْ قَبْرَھَافِیْ دَارِھَا

’’اے اللہ یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کردے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے‘‘ محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت (اروی بنت اویس) کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی: مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر میں کنویں کے پاس سے گزری اور اس میں گر گئی وہی کنواں اس کی قبر بن گیا ‘‘۔( مسلم:4133)

٭خواہ مخواہ کے بد دعا کی ممانعت: عوام ا لناس کو اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ بد دعا حق کے ساتھ دینی چاہئے، ہر چھوٹی موٹی بات پر بددعا اچھی بات نہیں ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث حضرت جابر بن عبد للہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تَدْعُوْاعَلَی اَنْفُسِکُمْ، وَلاَ تَدْعُوْاعَلَی اَوْلَادِکُمْ، وَلَا تَدْعُوْاعَلَیَ خَدَمِکُمْ، وَلَا تَدْعُوْاعَلَی أَمْوَالِکُم، لَاتُوَافِقُوْامِنَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَاعَۃَ نَیْلٍ فِیْھَاعَطَائٌ فَیَسْتَجِیْبَ لَکُمْ

’’تم لوگ نہ اپنے لئے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لئے، اور نہ اپنے خادموں کے لئے اور نہ ہی اپنے اموال کے لئے، کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کرلے‘‘ (ابو داؤد:1532 )

اسی طرح ایک اور حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بواطؔ کی جنگ میں تھے۔ آپ قبیلہ جہنیہ کے سردار مجدی بن عمرو جہنی کو ڈھونڈ رہے تھے پانی ڈھونے والے ایک اونٹ پر ہم پانچ، چھ اور سات آدمی باری باری بیٹھتے تھے۔

انصار میں سے ایک آدمی کی اپنے اونٹ پر (بیٹھنے کی) باری آئی تو اس نے اونٹ کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا، پھر اس کو اٹھایا تو اس (اونٹ) نے اس(کے حکم)پر اٹھنے میں کسی حد تک دیر کی تو اس نے کہا: کھڑا ہو، تم پر اللہ لعنت کرے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا:’’یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا: اللہ کے رسول ! میں۔ آپ نے فرمایا: اس سے اترجاؤ جس پر لعنت کی گئی ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے، پھرفرمایا:

لَاتَدْعُوْا عَلَی اَنْفُسِکُمْ وَلاَ تَدْعُوْاعَلَی اَوْلَادِکُمْ وَلَاتَدْعُوْا عَلَی اَمْوَالِکُمْ لَاتُوَافِقُوْامِنَ اللّٰہِ سَاعَۃً یُسْأَلُ فِیْہَا عَطَائٌ فَیَسْتَجِیْبُ لَکُمْ

’’اپنے آپ کو بد دعا نہ دو، نہ اپنی اولاد کو بد دعا دو، نہ اپنے مال مویشی کو بد دعا دو اللہ کی طرف سے (مقرر کردہ مقبولیت کی) گھڑی کی موافقت نہ کرو جس میں (جو) کچھ مانگا جاتا ہے وہ تمہیں عطاء کردیا جاتا ہے‘‘ (مسلم: 7515)

حدیث شریفہ میں ایک واقعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یوں بیان کیا گیا ہے کہ:

سُرِقتْ ملحقۃٌفجعلتْ تَدْعُوْعَلَی مَنْ سَرَقَہَا، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ: یَقُوْلُ: لاتُسبِّخِی عَنْہُ

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک لحاف چرالیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو‘‘ ( ابو داؤد: 1497 )

٭ نوح علیہ السلام کی بددعا: اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت نوح علیہ السلام ہیں جنہوں نے 950 تک سال دعوت و تبلیغ کا کام کیا ہے لیکن ان کی قوم نے انہیں خوب ستایا، ان کی دعوت کا تمسخر کیا،ان کی کردار کشی کی، انھیں جھٹلایا،اور قوم کو ان کے خلاف ابھارااور بے بس کردیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ انھوں نے اپنی قوم کے حق میں بد دعا کی جس کا ذکر قرآن میں یوں کیا گیا ہے:

وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا، اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَایَلِدُوٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا

’’اور(حضرت) نوح ( علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑناگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو (یقیناً) یہ تیرے ( اور) بندوں کو (بھی) گمراہ کر دیں گے اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں ہی کو جنم دیں گے‘‘۔ ( نوح: ۲۶،۲۷)

یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ ’’یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے‘‘۔ اسی لئے جابروں، ظالموں کے خلاف بد دعا کرنا امت مسلمہ کا حق ہے۔

٭ رسول اللہؐ اور آل ہاشم کے سماجی بائیکاٹ پر رسولؐ اللہ کی بد دعا:کفار قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، آزادی سے عبادات و معاملات کا راستہ روک دیا، سنہ ۷ نبوی کا واقعہ ہے کہ کفار مکہ کے تمام سردار وادی محصّب میں خیف بنی کنانہ میں جمع ہوئے اور آل ہاشم کے خلاف یہ ایجنڈہ تیار کیاکہ

(۱) نہ ان سے شادیاں کریں گے(۲) نہ خرید و فروخت(۳)نہ ساتھ اٹھیں گے نہ بیٹھیں گے(۴) نہ میل جول رکھیں گے(۵) نہ ان کے گھروں کو آئیں گے نہ جائیں گے (۶) نہ ان سے بات چیت کریں گے۔جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالے نہ کردیں گے۔ یہ معاہدہ خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا۔ اور سارے بنو ہاشم کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا گیا،جس کے چار اسباب تھے۔ (۱) حمزہؓ کا قبول اسلام (۲) حضرت عمرؓ کا قبول اسلام (۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی سودے بازی کا رد کیا جانا (۴) بنو ہاشم کے سارے مسلمانوں کا رسول اللہ کی حفاظت کے لئے متحد ہوجانا۔یہ محاصرہ تین سال یعنی سنہ ۱۰ نبوی تک جاری رہا، سامانِ خورد و نوش ختم ہوا تو پتے اورسوکھا چمڑا پانی میں بھگو کر کھانے پر مجبور ہوئے۔سنہ ۱۰ نبوی میں جب یہ صحیفہ اس معاہدہ کے ناراض مشرکین نے چاک کردیا، اصل میں کیڑوں نے اس صحیفے کو کھالیا صرف اللہ کا نام :

بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ‘‘ بچا تھا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعب ابی طالب سے نکل آئے اورایک شخص بغیضؔ بن عامر بن ہاشم نامی جس نے بنو ہاشم کے بائیکاٹ کا صحیفہ لکھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کی تو اس کا ہاتھ شل ہوگیا تھا۔ (الرحیق المختوم ص: ۱۷۲/ زاد المعاد: ۲۔۴۹)

٭رسول اللہ پر اوجھڑی ڈالنے والوں کے حق میں بددعا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح کی ہوئی تھی، ابو جہل نے کہا: تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کے بچے والی جھلی (بچہ دانی) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بدبخت شخص (عقبہ بن ابی معیط) اٹھا اور اس کو لے آیا۔

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے، میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا، کاش اگر مجھے کچھ بھی تحفظ حاصل ہوتا تو میں اس جھلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے۔

اپنا سر مبارک نہیں اٹھا رہے تھے، حتی کہ ایک شخص نے جاکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی وہ آئیں حالانکہ اس وقت کم سن بچی تھیں، انہوں نے وہ جھلی اٹھا کر دور پھینک دی، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں انہیں سخت سست کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ نے ان کے خلاف بآوا زبلند بددعا کی، آپ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مانگتے تو تین مرتبہ مانگتے، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا:

اللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِقُرَیْش

’’اے اللہ! قریش پر گرفت فرما‘‘۔ جب قریش نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپ کی بددعا سے خوف زدہ ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میںبد دعا فرمائی:

اللّٰہُمَّ عَلَیْکَ بِاَبِیْ جَھْلِ بْنِ ھِشَامٍ،وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ، وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ،وَالوَلِیْدُ بْنِ عُقْبَۃَ، وَاُمَیَّۃَ بْنِ خَلْفٍ وَعُقْبَۃَ بْنِ اَبِیْ مُعِیْطٍ

’’اے اللہ! ابو جہل بن ہشام پر گرفت فرما، اور عتبہ بن ربیعہ، اور شیبہ بن ربیعہ، اورولید بن عقبہ اور امیہ بن خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما۔ ساتویں شخص کا نام بھی لیا تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں۔ (سات آدمیوں پر بد دعا کی ساتواں آدمی عمارہ بن ولید تھا) ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ: ’’اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق و صداقت کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا جن کا نام آپ نے لیاتھا میں نے بدر کے دن ان کو مقتول پڑے دیکھا، پھر ان سب کو گھسیٹ کر بدر کے کنویں کی طرف لے جایا گیا اور انھیں اس میں ڈال دیا گیا۔ (بخاری:240 مسلم/1494 /نسائی:307 /مسند احمد:3962 )

ان شاء اللہ وہی رب العالمین انھیں انجام تک پہنچائے گا۔

٭سراقہ بن مالک پر بددعا: یہ ہجرت مدینہ کا واقعہ ہے اہل مکہ نے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گرفتاری پر انعام رکھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم ان دونوں کا پیچھا کیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا لیکن اسکے گھوڑے کے پیر تین مرتبہ زمین میں دھنس گئے اور اور وہ گر گیا اور سمجھا کہ محمد غالب آکر رہیں گے۔

(یہ ایک طویل واقعہ ہے یہاں تفصیل کی ضرورت نہیں) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا، وہ بولا آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤںگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاکی تو اسے نجات ملی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوںکے چرواہے کے قریب سے گزرے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہوا۔(مسلم: 5239)

٭قبیلہ مضر کے حق بددعا: قبیلہ مضر کفار کا ایک ایسا قبیلہ تھا، جس کا ظلم و ستم و خونریزی مشہور عام تھی، مسافرین پر ہمیشہ اس کا خوف طاری رہتا جس کی شکایت قبیلہ عبد القیس کے خاندان ربیعہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی۔ سوائے حرمت والے مہینوں کے تمام مہینوں میں قبیلہ مضر کی لوٹ مار عام بات تھی اسی لئے مدینہ کی راہ میں سفر کرنے والے لوگ قبیلہ مضر کے خوف سے حرمت والے مہینے ہی میں سفر کرتے تھے ان کے ظلم و ستم اور سخت دلی کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے ان الفاظ میں فجر کی نماز میں بددعا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک آخری رکعت کے رکوع سے اٹھاتے تو یوں فرماتے:

اَللّٰہُمَّ اَنْجِ الوَلِیْدَ بْنَ الوَلِیْدِ، وَلُمَّۃَ بْنَ ھِشَامٍ، وَعَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ، وَالمُسْتَضْعَفِیْنَ بِمَکَّۃَ، اللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطْأتَک عَلَی مُضَرَ، اللّٰہُمَّ اْجَعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوْسُفَ

’’اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے دے لمہ بن ھشام کو نجات دے دے سلمہ بن ہشام کو نجات دے دے، اے اللہ مکہ کے بے بس وناتواں مسلمانوں کو نجات دے دے، یا اللہ مضر کے کافروں کو سخت پکڑ۔ یا اللہ ! ان کے سال یوسف علیہ السلام کے سال کردے‘‘ بخاری:1006.804. 3386مسلم ابوداؤد/ نسائی جامع الاصول فی احادیث الرسول: ج:۵۔ص:۳۸۷۔ ح: ۳۵۳۵/)

٭واقعہ:(۵) قبیلہ رعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا: ابو مجلز نے حضرت أنس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت کیا، آپ رعل ؔاور ذکوانؔ کے خلاف بد دعا فرماتے تھے اور کہتے تھے: عصیہؔ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ‘‘ (مسلم: 1547 /1548 /1554)

٭ جنگ احزاب (خندق)میں رسول اللہا کی بد دعا: غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے ۵ھ میں پیش آئی، بنو نضیر نے سارے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرلیا، قبیلہ غطفان، بنی اسد اور ان کے حلیفوں کا ایک لشکر جرار جمع کر لیا جن کی تعداد دس ہزار تھی اور مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے نکلے، جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے تین ہزار صحابہ کو لیکر خندق کھودنے کاآغاز کیا۔

اپنی مدتِ مقررہ پر خندق کھود لی گئی، مشرکین چاروں جانب سے مسلمانوں کو گھیر نے کی کوشش کئے جنگ کا آغاز ہوا، دو بدو حملہ خندق کے سبب نہ ہوسکا لیکن تیر اندازی کا سلسلہ جاری رہا اسی جنگ کی جدو جہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز چھوٹ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل پر بددعا کی، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے( مشرکین کو) یہ بددعا دی کہ:

ملَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَاراً شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الوُسْطَی حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ

’’اے اللہ !ان کے گھروں اور قبروںکو آگ سے بھر دے، کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب سورج غروب ہو چکا تھا اور عصر کی نماز قضاء ہو چکی تھی‘‘ (بخاری:2931)

اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ ایک دن ایسی آندھی چلی کہ دشمنوں کے خیموں کی رسیاں اکھڑ گئیں، کھانے کی ہانڈیاں چولہوں پر الٹ جاتی تھیں، سردی میں ہوا کی اس تیز باڑھ نے بھی کفارکے دل کپکپا دئیے، قبائل کفار کے قدم لرزا گئے اور وہ سب منتشر ہوگئے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کا اثر تھا۔ کیا ابھی بھی ہم اس شک میں رہیں گے کہ ہندوستان کے موجودہ حالات میں قنوت نازلہ پڑھا جائے یا نہیں؟ مسلمانوں کے پاس اب سوائے رب تعالیٰ کی مدد کے کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی نصرت و مدد کے سامنے تمام تدابیر ہیچ ہیں۔

٭ پنج وقتہ نمازوں میں بددعا: عوام الناس کو چاہئے کہ ابتلاء و آزمائش اور عدم تحفظ کے موقع پر پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔ عموماً لوگ فجر اور عشاء ہی میں قنوت کا اہتمام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض لوگ صرف جہری نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے ہیں، اور بعض اہل علم کو دیکھا گیا ہے کہ وہ تسلسل سے قنوت نازلہ پڑھنے کو ناپسند کرتے ہیں، انھیں ایسی باتوں سے باز رہنا چاہئے جس چیز کا جواز ہے اس کو تسلسل ہی سے اپنانا چاہئے چونکہ دعا ہماری ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے بھی مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ:

قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ شَھْراً مُتَتَابِعاً فِیْ الظُّھْرِ وَالعَصْرِ وَالمَغْرِبِ وَالعِشَائِ وَصَلَاۃِ الصُّبْحِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ، اِذَاقَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الآخِرَۃِ، یَدْعُوْ عَلَی اَحْیَائٍ مِنْ بَنِیْ سُلَیْمٍ عَلَی رَعْلٍ وَذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَیُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَہُ

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء، اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل، رعل ؔ، ذکوانؔ اور عصیہؔ کے حق میں بددعا کرتے اور جولوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے‘‘۔ (ابو داؤد: 1443 )

٭ ظالموں و جابروں کا نام لیکر بد دعا و لعنت کرنا: سابقہ احادیث میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض قبائل اور بعض افراد کا نام لیکر ان پر بددعا کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی دعاؤں میں اور اپنی گفتگو میں ظالموں و جابروں کا نام لیکر بددعا و لعنت کی جا سکتی ہے یہاں ہم ایک اور حدیث بیان کردینا مناسب سمجھتے ہیں کہ: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابو بکر اور بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہوگئے، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ بخار میں مبتلا ہوئے تو یہ شعر پڑھتے تھے:

کُلُّ اِمْرَیٍ مُصَبَّحٌ فِیْ أَھْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ

’’ہر آدمی اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے، حالانکہ اس کی موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی قریب ہے ‘‘ اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اتر تا تو آپ بلند آواز سے یہ اشعار پڑھتے:

أَلالَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ أَبِیْتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَحَوْلِیْ اَذْخِرٌ وَ جَلِیْلُ وَھَلْ أَرِدْنَ یَوْماً مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ وَھَلْ یَبْدُوْنَ لِیْ شَامَۃٌ وَ طُفَیْلُ

’’کاش میں ایک رات مکہ کی وادی میں گزار سکتا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل (گھاس) ہوتیں۔ کاش! ایک دن میں مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش! میں شامہ اور طفیل (پہاڑوں) کو دیکھ سکتا۔ کہا کہ:

اللّٰہُمَّ الْعَنْ شَیْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ، وَعُتْبَۃَ بْنَ رَبِیْعَۃَ، وَاُمَیَّۃَ بْنَ خَلْفٍ کَمَا أَخْرَجُوْنَا مِنْ اَرْضِنَاا ِلَی اَرْضِ الوَبَائِ

‘’اے میرے اللہ ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف مردودوں پر لعنت کر۔ انہوں نے اپنے وطن سے اس وباء کی زمین میں نکالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ’’اے اللہ ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما،اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لئے صحت خیز کردے، یہاں کے بخار کو جحیفہ میں بھیج دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ وباء والی زمین تھی، انہوں نے کہا کہ مدینہ میں بطحان نامی ایک نالے سے ذرا ذرا بدمزہ اور بدبو دار پانی بہاکرتا تھا۔ (بخاری:1889 )

٭ منافقین پر بددعا: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: ’’ربنا و لک الحمد‘‘یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اللّٰہُمَّ الْعِنْ فُلَاناً… ’’اے اللہ !تو فلاں پر لعنت کر…‘‘ منافق لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:

لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیٌٔ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْیُعَذِّ بَھُمْ فَاِ نَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ

’’اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیںاللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں‘‘ (مسند احمد: 1760 /6349 )

٭٭٭

فون نمبر:9642699901

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.