تصوف اور علامہ اقبالؒ

حدیث شریف میں رسول مقبولؐ کا ارشاد ہے ’’طلب العلـم فـریضـۃ علـیٰ کل مسلـم‘ یعنی علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

مولانا سید مصطفی سعیدقادری

انسان نے عصری ترقی کی بدولت زندگی کے ہر میدان میں عجیب و غریب ایجادات کے ذریعہ زماں و مکاں کے تحدیدات اور وقت و فاصلہ کی رکاوٹوں کو محدود کر دیا ہے۔ سائنسی فروغ اور مادیات کی ترقی اب کمپیوٹر دور میں داخل ہو چکی ہے۔ نت نئے ایجادات کے ذریعہ انسان اپنی زندگی عیش وآرام سے گذارنے کی مزید کوئی ترکیب تلاش کر رہا ہے۔ لیکن ان ساری ترقیوں کے باوجود جس چیز کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے وہ ہے دلی سکون و اطمینان۔ کیوں کہ رات کی تاریکیوں کو دور کرنے ہم نے بجلی کی ایجاد کرلی لیکن قلب کی تاریکی دور کرنے ہمارے پاس کوئی سامان نہیں۔

ہاں اس دار فانی میں کوئی چیز جو دل کو سکون مہیا کر سکتی ہے تو وہ ہے صوفیہ کرام کی سیرت اور ان کی پاکیزہ تعلیمات جو سرچشمہ ہدایت بھی ہیں اور حقیقت میں انسانی اخلاق کا نمونہ بھی۔تعلیمات صوفیہ کا مرکز اور ان کی سرگرمیوں کا محور در اصل نفس یا روح کی پاکیزگی ہے جس کو اصطلاح میں ’’تزکیہ نفس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ دیگر مذاہب میں بھی راہبوں کی ریاضت ‘ جوگیوں اور سنیاسیوں کی تپسیا کا مقصد بھی تزکیہ نفس ہی بتایا جاتا ہے جس کے لئے ترک دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔جبکہ اسلام میں بھی تزکیہ نفس کی واضح تعلیم دی جاتی ہے جو فطرت کے عین مطابق صحت مند اور مفید اصولوں پر مبنی ہوتی ہے۔

اس تعلیم میںرب العزت کی عطا کردہ ہر قوت کا جائز استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے جس کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اسی اسلامی تزکیہ نفس کی تعلیمات کو تصوف کہتے ہیں۔اور ان پاکیزہ اصولوں پر عمل کرنے والے کو ’’صوفی‘‘ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے۔تصوف اسلام کو صوفی ازم یا صوفی تحریک کا نام دئے جانے سے عموما یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ یہ بھی حالیہ ایجاد کردہ نظریات یا کسی جدید فلسفئہ فکر سے عبارت ہے۔

متعلقہ

واضح باد کہ تصوف نہ کوئی نیا نظریہ ہے اور نہ اختراع کردہ فلسفہ اور نہ بحث ومباحثہ کا کوئی دلفریب موضوع ہے بلکہ تصوف حصول علم و تربیت کے بعد صرف عمل اور عمل ہی کا نام ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تصوف کسی جدید تحریک کا نام ہر گز نہیں بلکہ اسلام کا جز و لاینفک ہے۔ اسلام اور تصوف دونوں ساتھ ساتھ اور باہم لازم و ملزوم ہیں۔اسلام ظاہر ہے تو تصوف اسی اسلام کا باطن۔ اسلام جادہ ہے تو تصوف اسکی منزل۔ اسلام آفتاب ہے تو تصوف اسکی تابناک روشنی۔ بلکہ تصوف اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ اسلام۔ حضور ختم مرتبتؐ کی بعثت مبارک کے مقاصد میں سے اہم مقصد اورا ٓپ کے فرائض رسالت سے اولین فریضہ یہی تصوف یا پاکیزگی یعنی تصفیہ قلب و تز کیئہ نفس ہی ہے۔

عربی جیسی فصیح و بلیغ زبان میںتصوف ہی کا ہم معنی متبادل ومترادف لفظ تزکیہ ہے اور سورئہ جمعہ کی آیت ۲ شاہد ہے ’’یـزکیھـم ویعلمھـم الکتـاب والحکـمـۃ‘‘ یعنی انسان کو پاک کرنا ‘ پاکی کا سلیقہ سکھانا اور اس کے ساتھ علم و حکمت کی نعمت تقسیم فرمانا اسی کا دوسرا نام بھی تصوف ہے۔ سورئہ شمس آیت (۹) کے ذریعہ بھی اسی پاکیزگی نفس وباطن کو دارین کی ساری کامیابیوں اور کامرانیوں کا راز سر بستہ قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بارگاہ نبویؐ میں تربیت یافتہ صحابہ اور صحابیات ہی خیر امت کے سب سے پہلے صوفیہ ہیں۔ چنانچہ شیخ ابوطالب مکی ؒ نے اپنی کتاب ’’قوت القلوب‘‘ میں صحابہ تابعین اور تبع تابعین کے تینوں مقدس ادوار کے صوفیوں کی علیٰحدہ علیٰحدہ فہرست دی ہے اور نام واری نشاندہی بھی کی ہے جن میں حضرت ابوبکر صدیق ‘ حضرت عمر فاروق ‘ حضرت علی ‘ حضرت حارثہ ‘ حضرت حذیفہ ‘ حضرت سلمان فارسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قابل ذکر ہیں۔

حدیث شریف میں رسول مقبولؐ کا ارشاد ہے ’’طلب العلـم فـریضـۃ علـیٰ کل مسلـم‘ یعنی علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لحاظ سے مذہب اسلام میں علم کو کافی اہمیت دی گئی ہے اور اس علم کو علماء کرام نے دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے علم ظاہر اور علم باطن۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ زمانہ قدیم میں علم کے حصول کا باقاعدہ کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی کسی مدرسہ ‘ جامعہ یا دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا تھا۔

مسجدوں کے صحن ‘ خانقاہوں کے حجرے اور علماء کرام کے مکانات ہی اس وقت کے مدرسے یا دارالعلوم تھے دور دراز سے لوگ آکر خانقاہوں (خانقاہ دراصل معرب یعنی عربی زبان میں درآمد کردہ ایک لفظ ہے جو فارسی میں خانہ اور گاہ تھا بمعني سکونت کی جگہ۔ چونکہ عربی زبان میں حرف ’گ‘ واقع نہیں ہوتا اس لئے ’’گ‘‘ کو ’’ق‘‘ سے بدل کر عربی میں خانقاہ بنا دیا گیا۔ اصطلاح میں خانقاہ درویشوں صوفیو ں اور مشائخ طریقت کے رہنے کی جگہ اور ان کے اذکار واشغال کے مقدس مقام کو کہتے ہیں) میں جہاں علم ظاہر شریعت کے ذریعہ جسم کی پاکیزگی کی تربیت حاصل کرتے وہیں علم باطن طریقت کے ذریعہ روح و دل کی پاکیزگی کے عملی انتظا م سے بھی مستفید ہوا کرتے ہیں۔

اتنے سارے حقائق وشواہد کی موجودگی کے باوجود بعض حضرات تصوف کو شریعت کی سرزمین پر اجنبی پودے کا نام دیکر حقائق کو جھٹلانے کی نامحمود کوشش کرتے ہیں۔ بعض حضرات اپنی تائید کے لئے علامہ اقبال کے چند اشعار کو بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں جن میں سے ذیل کے دو اشعار کافی زیادہ عام ہیں۔

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی

مذکورہ بالا شعر میں علامہ اقبال نے فقیہ اور صوفی کے ساتھ ساتھ شاعر کو بھی ناخوش اندیش کہا ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں لیا جا سکتا کہ علامہ تصوف یا صوفی کے ساتھ ساتھ فقہ یا فقیہ یعنی شریعت کی ہی نعوذباللہ مخالفت کی ہے بلکہ خود شاعر ہوتے ہوئے بھی شاعر کو ناخوش اندیش بتایا ہے ۔ اس سے یہ مطلب ہر گز نہیں لیا جاسکتا کہ علامہ خود شاعر ہوتے ہوئے شاعری کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ علامہ اقبال نے خود ساختہ ‘ موقع پرست افراد کی اپنے اشعار میں جا بجا خوب خبر لی ہے۔ مذکورئہ باالا شعر میں بھی شاعر مشرق نے ایسے ہی موقعہ پرست ‘ سستی شہرت کے متمنی نام نہاد فقہا ‘ صوفیہ اور شعراء کی موقعہ پرستی سے ملت کاجو نقصان واقع ہوتا ہے اس جانب توجہ دلائی ہے۔

چونکہ اس مضمون کاتعلق تصوف سے ہے اسی لئے صرف لفظ صوفی کو لیتے ہوئے عرض ہے کہ آجکل ایسے سستی شہرت کے متمنی ‘ خود نمائی اور خود ستائی کے پجاری صوفیوں کے خوب طوطی بول رہے ہیں جن کی عمر کا بڑا حصہ صرف پیسہ کمانے میں گذر گیا اور جیسے ہی ضعیفی دامن گیرہوئی توفورا کسی خانقاہ یا صوفی باصفا کے آستانے کی تلاش وحصول کی کوشش میں لگ گئے اور اس خانقاہ یا آستانہ پر ناجائز قبضہ کرکے وہاںکا اپنے آپ کو سجادہ یا جانشین ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی۔

کبھی کچھ پیسہ لگا کر آستانہ کی تعمیر و مرمت کردی۔الغرض اسلام کے نام پر اسلام کا اور تصوف کے نام پر تصوف کا استحصال کرنے والے ایسے ہی ناپسندیدہ عناصر ہر دور میں جنم لیتے رہے ہیں اور عوام کو اپنے شعبدوں کے ذریعہ گمراہ کرتے رہے ہیں ۔ ان لوگوں کو اسلامی تصوف یا شریعت و طریقت سے دور کا بھی تعلق نہیں صرف ایسے ہی نام نہاد صوفیوں کے تعلق سے علامہ اقبال ایک اور جگہ یوں کہنے پرمجبور ہوگئے ؎

نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری
رہا صوفی گئی روشن ضمیری

اس کے برعکس اہل اللہ صوفیہ کرام کی شان اور ان کا نشان یہ ہے کہ ان کی ہر ادا شریعت سے عبارت ‘ ان کا ہر قدم سنت رسول پر گامزن ‘ ان کی ہر سانس میں اللہ کا ذکر او ر ان کی ہرآرزو حق الیقین سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ ان تعلیمات کو اپنائے ہوئے صوفیہ آج کے اس پر آشوب دور میں بھی موجود ہیں جو اپنے علمی و روحانی فیضان کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح میں رات دن لگے ہوئے ہیں کبھی اپنے قلم کو استعمال میں لاکر تحقیقی کتب کی اشاعت کے ذریعہ اور کبھی تو اپنی زبان کو استعمال میں لاکر عالمانہ تقاریر کے ذریعہ قوم و ملت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ان کے خدا داد تصرفات وکمالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی علامہ اقبال نے یوں کہا ؎

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہے تو دیکھ ان کو
ید بیضاء لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
جلاسکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی
الٰہی کیا چھپا رکھا ہے اہل دل کے سینوں میں

علامہ اقبال ایک قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کا تعلق خود ایک صوفی گھرانے سے تھا ان کے والد نور محمدمرحوم ایک صوفی منش آدمی تھے جن پرتصوف کا رنگ بہت زیادہ غالب تھا چنانچہ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال اپنے فرزند جاوید سے یوں مخاطب ہیں ؎

جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ

خود کو فقیر وقلندر کہنے پر علامہ اقبال کو فخر و ناز ہے ۔ اقبال نامہ میں تو انھوں نے برملا اس حقیقت کا اظہار کیاہے کہ اقبال خود صوفیوں ہی کے سلسلہ’’قادریہ‘‘ میں بیعت کا شرف رکھتے ہیں۔

کبھی مجھ پر کیا ہے مرشد کامل نے راز فاش کا اعتراف کہیںعطا کن شورِ رومی سوزِ خسروکی آرزو کہیںدل جنید ونگاہ غزالی ورازی کی تمنا اور کبھی حاضر ہوا ہوں شیخ مجدد کی لہد پر کا نغمہ سناتے ہیںحتیٰ کہ مولانا جلال الدین رومی ؒ جیسے عظیم صوفی کو اپنا روحانی پیر ومرشد اور اپنے آپ کو ان کا مرید ہندی قرار دیتے ہیں اور اپنی نظم ’’پیر ومرید‘‘ میںعرض رساں ہیں ؎

سرآدم سے مجھے آگاہ کر
خاک کے ذرہ کو مہر و ماہ کر

انگلستان کو روانگی سے قبل اور واپسی کے بعد علامہ اقبال نے حضرت نظام الدین محبوب لٰہی جیسے صوفی کے آستانے پر حاضر ہوکر سرعقیدت خم کیا تو اپنی نظم ’’التجائے مسافر‘‘ میں یوں خراج پیش کیا ؎

تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا

المختصر علامہ اقبال نے جگہ جگہ تصوف اور خانقاہی نظام سے اپنی اٹوٹ عقیدت و وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود ان کے کلام میں اگر کہیں تصوف یا صوفی کی مخالفت مل جاتی ہے تو وہ غیر اسلامی تصوف اور نمائشی صوفی کے خلاف انتباہ ہے۔

آخر میں اس غلط فہمی کو بھی دور کرتا چلوں کہ یہ خانقاہی نظام بر صغیر ہند پاک تک محدود ہر گز نہیں بلکہ شام ‘ عراق ‘ مصر ‘ لیبیا ‘ مراقش اور سعودی عرب میں آج تک بھی جاری ہے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.