تعظیم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کامیابی کی کلید

یہ شانِ مصطفی ہے کہ اللہ اپنے حبیب کو نام لے کر خطاب نہیں کرتا بلکہ جب بھی خطاب کرتا ہے تو القاب اور اوصاف سے مخاطب کرتا ہے۔

مولانا حافظ و قاری سید صغیر احمد نقشبندی، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ

اسلام میں احکامِ شریعت کے ساتھ تعظیم و تکریم کی بڑی اہمیت و تاکید ہے۔ہر عظمت والی چیزوں کے آداب مقرر ہیں۔جیسے قرآن کریم کے آداب ہیں ان کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، بے وضو اس کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔خانہ کعبہ کے آداب ہیں ان کو پیش نظر رکھنا لازم ہے۔اس کی طرف چہرہ و پیٹھ کرکے قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرنا درست نہیں۔مسجد کے آداب ہیں ان کو ادا کرنا شرعی اصول میں ہے۔حالتِ جنابت میں مسجد میں داخل ہونا منع ہے، اسی طرح اہل بیت کرام، صحابہ عظام، والدین، اساتذہ، مرشدین، علماء، عبادات کے آداب ہیں ان سب کا ادب بجا لانا قانونِ شریعت ہے۔ان میں سے کسی کے ادب میں کمی رہ جائے تو اس کی قضاء، کفارہ معافی ہے لیکن تعظیمِ رسولؐ میں کمی رہ جائے تو اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر تعظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دیا۔ ارشاد ربانی ہے:

اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاہ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً (الفتح:۸۔۹)

(اے حبیب) بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا تا کہ (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور رسول کی مدد کرو اور دل سے ان کی تعظیم کرو اللہ کی صبح و شام پاکی بیان کرو۔

متعلقہ

اس آیت کریمہ میں یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اُن کی ہر طرح سے مدد کرو اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی تعظیم و تکریم کو ہمیشہ ملحوظ رکھو۔ اس میں تھوڑی سی بھی کوتاہی نہ ہونے پائے تعظیم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں پیش نظر رہنا ضروری ہے اس میں ذرا سی کوتاہی رب کریم کی بارگاہ میں ہرگز منظور نہیں۔ تعظیمِ نبیؐ ہی کامیابی و کامرانی کی ضامن ہے۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُواالنُّوْرَالَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَہ

(الاعراف: ۱۵۷)

پس جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور ان کی تعظیم بجا لائی اور ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا تو یقینا یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ تعظیمِ مصطفیٰؐ کے بغیر نجات و کامیابی ممکن ہی نہیں، اہل علم جانتے ہیں کہ اس جملہ کو کئی تاکیدی کلمات کے ساتھ ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ نجات و کامیابی و کامرانی صرف آپ کے ادب و احترام تعظیم و توقیر میں پوشیدہ ہے۔ آقا کریم کی تعظیم و تکریم اصلِ ایمان ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ تم کسی بھی معاملہ میں میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نہ بڑھو۔ ارشاد خداوندی ہے:

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (الحجرات:۱)

اے ایمان والوں اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔

اس آیت شریفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل میں آگے بڑھنے سے منع کیا گیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے تعمیل حکم خداوندی کے جذبہ اور اپنے مسلمان بھائیوں کی ضیافت کی نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل اپنی قربانی کردی فوراً اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمادی۔ میرے محبوب سے پہلے کوئی قربانی کردے تو وہ ہماری بارگاہ میں مقبول ہی نہیں۔ ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ نبی پہلے قربانی کرے پھر مسلمان اپنی قربانی کرلیں تو وہ قبول ہے۔ عبادتِ خداوندی میں بھی تعظیم و توقیر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ضروری ہے۔ اللہ رب العالمین امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آداب رسالت کی تعلیم دیتے ہوئے سورہ حجرات میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (الحجرات:۲)

اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کا ادب یہ ہے کہ آپ کی آواز سے کسی کی آواز بلند نہ ہو۔ نہایت ہی ادب کے ساتھ دبی ہوئی آوازمیں گفتگو ہو۔

ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
نَفَس گم گردہ می آید جنید و بایزید اینجا

کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطبت میں دائرۂ ادب سے تجاوز کر جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

وَلَا تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ (الحجرات:۲)

اور ان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس طرح زور سے نہ بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بولتے ہو۔
اونچی آواز میں بے تکلفی کے ساتھ آپ سے گفتگو کرنا منع ہے۔ لہجے میں سختی آواز میں بلندی بارگاہِ رسالت کے آداب کے خلاف ہے۔ ہماری تحریر، تقریر، گفتگو میں ایسے الفاظ ہی کا استعمال ہو کہ جو آپ کے شایانِ شان ہوں۔ آپ کے لئے جن ا۴لفاظ و القاب کا انتخاب کیا جاتا ہے انہیں سے متکلم کی فکر ظاہر ہوتی ہے او راس کے ایمان کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔

اللہ رب العزت جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے اپنے حبیب رسولؐ کریم کو انتہائی محبت و عظمت والے القاب سے مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: یَا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ (اے رسالت کے منصب پر فائز ہونے والے) یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ (اے نبوت کے مقام پر فائز)

یَا اَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ (اے چادر اوڑھنے والے) یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ

(اے چادر اوڑھنے والے) وغیرہ لیکن دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو ان کے ناموں سے مخاطب کیا۔ کہا

یَا آدَم، یَا نُوْح، یَا اِبْرَاھِیْم، یَا مُوْسٰی، یَا دَاوٗد، یَا زَکَرِیَّا، یَا یَحْیٰی

یہ شانِ مصطفی ہے کہ اللہ اپنے حبیب کو نام لے کر خطاب نہیں کرتا بلکہ جب بھی خطاب کرتا ہے تو القاب اور اوصاف سے مخاطب کرتا ہے، اس سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ درس دینا مقصود ہے کہ اپنے نبی کے لئے تحریر و تقریر میں عظمت والے الفاظ ہی کا انتخاب ہو،کوئی بھی لفظ ایسا نہ ہو جس کے دو معنی آتے ہیں، ایک پہلو سے عظمت ظاہر ہو، دوسرے سے تنقیص شان، اس سے بھی سختی سے منع کیا گیا۔ سورہ بقرہ میں ارشاد رحمن ہے:

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (البقرۃ: ۱۰۴) اے ایمان والو تم ’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہو بلکہ ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہا کرو اور (ان کی باتوں) کو غور سے سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اس آیت سے یہ بات بالکل روشن ہے کہ کوئی ذو معنی لفظ یعنی جس میں عظمت کا پہلو بھی ہو اور تنقیص شان کا بھی پہلو ہو تو ایسے لفظ کے ذریعہ آپ سے مخاطبت بالکل جائز نہیں۔ یہ حکم رب العالمین ہے یہ دستور خداوندی ہے اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ منافقین آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپ کی گفتگو سننے بیٹھتے اور آپ کی توجہ کو اپنی طرف کرنے کی غرض سے لفظ ’’رَاعِنَا‘‘ (آپ ہماری رعایت کیجئے) کہتے جب کہ یہ لفظ یہود کی زبان میں توہین کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور وہ بھی توہین کے ارادہ سے یہی لفظ استعمال کرنے لگے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قانون بنا دیا کہ صرف آپ کے لئے ایسے ہی کلمات جائز ہیں جن سے آپ کی عظمت ظاہر ہوتی ہو۔ یہاں تک کہ اللہ کے دستور میں ہے کہ نام ’’محمد‘‘ ذکر ہو تو ان پر درود شریف پڑھنا ضروری ہے۔ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ ان تمام آیات مبارکہ سے ادب مصطفیٰ، تعظیم مجتبیٰ، توقیر مرتضیٰ کا حکم سارے مسلمانوں کے لئے ثابت ہوتا ہے اس میں اگر کمی ہوجائے تو ہماری ساری زندگی کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَہ (الحجرات:۲)

(اے مومنوں نبی کی بے ادبی و گستاخی کی وجہ سے) تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر ہی نہ ہو۔
ان کلمات میںانتہائی سخت وعید ہے ہمارے سارے نیک عمل اگر برباد ہوجائیں تو نہ ہماری دنیا اچھی رہے گی، نہ قبر بہتر رہے گی، نہ محشر بہتر ہوگی۔ اللہ بے ادبی سے حفاظت فرمائے۔ جب ہم صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اعمال میں تعظیم و تکریم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوے نظر آئیں گے اور یہی چیز ان کی فتح، نصرت، کامیابی، کامرانی کی ضامن رہی۔

چنانچہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے:

جب عروہ بن مسعود نے مقام حدیبیہ میں صحابہ کی تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنے کافر ساتھیوں سے کہا تم لوگ مسلمانوں سے ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ میں نے بادشاہ روم، ایران اور بادشاہ حبشہ کا ادب و احترام کرتے ہوئے ان کے درباریوں کو دیکھا ہے خدا کی قسم میں نے آج تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کی عزت و تعظیم اس قدر کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس قدر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم آپ کے صحابہ کرام کو کرتے ہوئے دیکھا۔ تعظیم و احترام کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

وَ اِذا توضأ کادوا یقتتلون علی وضوئہ۔ (بخاری)

جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہیں تو قریب ہوتا کہ وہ آپ کے وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لئے لڑ پڑتے۔ خدا کی قسم وہ تھوکتے تو صحابہ اسے اپنے ہاتھوں میں لیتے اور برکت حاصل کرنے کی غرض سے اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتے۔

اس لئے عروہ بن مسعود نے کہا جو قوم اپنے سردار کی ایسی عزت کرتی ہے تو اس قوم سے مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اللہ کریم نے صحابہ کرام کے قلوب میں عظمتِ مصطفیٰ ایسی ڈال دی جس کی نظیر سابق میں کہیں نہیں ملتی۔ اسی طرح حیوان بھی حضور نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت بجا لاتے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اونٹ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آکر سجدہ کیا صحابہ کرام نے جب یہ منظر دیکھا تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے ’’یا رسول اللہ‘‘ ہم ان حیوانوں سے زیادہ حقدار ہیں آپ کی تعظیم بجا لانے اور سجدہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا کسی انسان کو سزاوار نہیں کہ کسی بشر کو سجدہ کرے۔ (دارمی، بیہقی، بزار، انوارِ احمدی بانی جامعہ نظامیہ)

اللہ تعالیٰ نے حیوانات کے دلوں میں آپ کی تعظیم و تکریم ڈال دی، ہم تو غلامانِ مصطفیٰ ہیں آپ کے بغیر نہ دنیا میں نہ قبر میں نہ حشر میں کہیں بھی ہمیں نجات و کامیابی نہیں مل سکتی۔

اللہ ہمارے قلوب کو تعظیم رسول و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلمسے سرشار فرمائے۔ (آمین) بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.