حلیہ شریف و سراپائے مبارک

آپؐ کا چہرۂ مبارک ماہ بدر کی طرح چمکتا تھا، اور آپؐ کے چہرۂ مبارک کا نور آفتاب کی طرح تھا مگر آفتاب کے نور میں تمازت کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے۔

محمد الیاس احمد نقشبندی قادری

مومنوں کے دل پہ فرحت ہے نمود
قدسیاں پڑھتے ہیں الحمد اور درود
جو مسلمان آپ کے ہیں امتی
ان پہ واجب ہے تولد کی خوشی

حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے سراپا کو لکھنا چاہتا ہوں لیکن حضورِ اقدس کے جمال ِمبارک کو جیسا چاہیے ویسا دکھانا بشری طاقت سے باہر ہے، نورِ مجسم کی تصویر کھینچنا ہم جیسے ناقص انسانوں سے کیسے ہوسکتا ہے لیکن بالکل سراپائے مبارک کا ذکر نہ کرنا یہ بھی مناسب نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم و معارف جس طرح ظاہر کئے ہیں اسی طرح حضور کے جمالِ مبارک کو بھی اپنی طاقت کے موافق ظاہر کردئیے ہیں تا کہ امّت حضور کے سراپائے مبارک کو پیشِ نظر رکھے اور درودِ شریف پڑھتے وقت سراپائے مبارک کا تصور کرکے اپنے مایوس دل کو تسلی دیا کرے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اپنی ذات والا صفات کے اعتبار سے بھی شاندار تھے اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے مرتبہ والے تھے، آپؐ کا چہرئہ مبارک ماہ بدر کی طرح چمکتا تھا، اور آپؐ کے چہرئہ مبارک کا نور آفتاب کی طرح تھا مگر آفتاب کے نور میں تمازت کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کے نورِ مبارک میں راحت وآرام تھا اور آپ کا چہرئہ مبارک صرف سفید ہی نہیں تھا بلکہ اس میں ملاحت ہونے کی وجہ سے بے حدحسین معلوم ہوتا تھا۔

متعلقہ

آپؐ کا قد مبارک متوسط قد والے آدمی سے کسی قدر طویل تھا لیکن زیادہ لانبے قد والے سے پست تھا، جب کوئی لانبے قد والے آپ کے ساتھ چلتے تو آپ کا معجزہ تھا کہ ان لانبے قد والوں سے آپ کا قد دراز معلوم ہوتا تھا، سرِ مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ بال مبارک کسی قدر بل کھائے ہوئے تھے، سر کے بال مبارک کان کے لو تک رہتے اور کبھی نصف گردن تک پہنچتے تھے اور کبھی اس سے تجاوز کرتے تو آخر گردن تک پہنچتے، اس سے زیادہ کبھی آگے نہیں بڑھے، آپ کا رنگ نہایت چمک دار اور پیشانی کشادہ، آپ کے ابرو خمدار باریک و گنجان تھے دونوں ابرو جدا جدا تھے ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے، ان دونوں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصّہ کے وقت اُبھر جاتی تھی، آپ کی ناک بلندی مائل تھی اور اس پر ایک چمک اور نور تھا۔

ابتداءً دیکھنے والا آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا کہ حُسن وچمک کی وجہ سے بلند معلوم ہوتی ہے ورنہ فی نفسیہ زیادہ بلند نہیں ہے۔ آپ کی داڑھی مبارک بھر پور اور گنجان بالوں کی تھی، آنکھ کی پتلی نہایت سیاہ تھی، آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے جب آپ کی طرف نظر کروں تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ سرمہ لگا ہوا نہ ہوتا۔ آپ جیسے سامنے سے دیکھتے تھے ویسے ہی پیچھے سے بھی نظر فرماتے تھے، رخسار ِ مبارک ہموار تھے نہ اُبھرے ہوئے تھے نہ لٹکے ہوئے تھے، آپ کا دہن مبارک اعتدال کے ساتھ کشادہ تھا، یعنی نہ تنگ منہ تھا نہ بہت فراخ، آپ کے دندانِ مبارک باریک آب دار تھے اور ان میں سے سامنے کے دانتوں میں ذرا ذرا فصل بھی تھا۔

تبسم کے وقت تمام درودیوار نور کے عکس سے روشن ہوجاتے تھے، آپ کلام فرماتے تو سامنے کے دانتوں کے بیچ میں سے ایک نور سا نکلتا معلوم ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر کو آپ سے زیادہ فصیح اور خوش آواز پیدا نہ کیا، سینہ سے ناف تک بالوں کی ایک لکیر تھی، آپ کی گردن مبارک خوبصورت تھی اور اس کا رنگ چاندی جیسا سفید اور صاف تھا، آپ کے سب اعضاء نہایت معتدل اور پرگوشت تھے اور بدن گٹھا ہوا تھا، پیٹ اور سینہ مبارک ہموار تھا، لیکن سینہ مبارک فراخ اور چوڑا تھا، آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان قدرے فصل تھا۔ آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور یہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کی علامت تھی، جوڑوں کی ہڈیاں قوی اور بڑی تھیں جو قوت کی دلیل ہوتی ہے۔

ناف اور سینہ مبارک کے درمیان بالوں کی ایک لکیر تھی۔ دونوں چھاتیاں اور پیٹ بالوں سے خالی تھے، البتہ دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینہ کے بالائی حصہ پر بال تھے، آپ کی کلائیاں دراز تھیں اور ہتھیلیاں فراخ، نیز ہتھیلیاں اور دونوں قدم گداز اور پُر گوشت تھے ہاتھ اور پاؤں کے انگلیاں تناسب کے ساتھ لانبی تھیں، آپ کے تلوے، قدرے گہرے تھے اور قدم ہموار تھے، جب آپ چلتے تو قوت سے قدم اُٹھاتے اور آگے کو جھک کر تشریف لے جاتے، قدمِ مبارک زمین پر آہستہ پڑتا اور زور سے نہیں پڑتا تھا۔

آپؐ تیز رفتار تھے اور ذرا کشادہ قدم رکھتے، چھوٹے چھوٹے قدم نہیں رکھتے تھے، جب آپ چلتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا بلندی سے پستی میں اتر رہے ہیں جب کسی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن سے پھر کر توجہ فرماتے، آپؐ کی نظر نیچی رہتی تھی، عادتِ شریفہ شرم و حیا کے وجہ سے زمین ہی کی طرف نگاہ رکھنے کی تھی، لیکن چوں کہ وحی کا بھی انتظار رہتا تھا اس لئے اس کے انتظار میں گاہ بگاہ آسمان کی طرف بھی ملاحظہ فرماتے تھے آپ کی عادت شریفہ عموماً گوشہ چشم سے دیکھنے کی تھی، یعنی غایتِ شرم و حیاء کی وجہ سے پوری آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے، چلنے میں صحابہ کو آگے رکھتے تھے جس سے ملتے سلام کرنے میں خود ابتداء فرماتے تھے۔

قاعدہ ہے کہ بادشاہوں کی سالگرہ یعنی ان کی پیدائش کے دن قیدی چھوڑے جاتے ہیں، آئیے دعا کیجئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے حالاتِ مبارک کے صلہ میں ہم کو بھی دوزخ سے چھوڑ دیا جائے۔ آمین!(ماخذ: ’میلاد نامہ ‘ حضرت ابو الحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادریؒ)

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.