رسولؐ اللہ کا درسِ مساوات اور موجودہ صورت حال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر واضح طور پر اعلان فرمایا کہ اے لوگو! بیشک تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ دیکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورےکو کسی کالےپر کوئی فضیلت و امتیاز نہیں، ہاں تقویٰ کے سبب فرق ہوسکتا ہے، تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے“۔

از: محمد فیاض عالم قاسمی دارالقضاء ناگپاڑہ۔ممبئی

لغت میں مساوات کا معنی یکساں اور برابری کے ہیں، بالخصوص حقوق، مراتب اور مواقع میں یکساں ہونا۔ مساوات (عدل وانصاف) یا منصفانہ تقسیم کا اصول، اسلام کا ایک اہم عنصر ہے، جس کی بنیاد انسانیت پر قائم ہے۔ آج ہم انسان مختلف مذاہب، فرقوں، ذاتوں اور حیثیتوں میں بٹے ہوئے ہیں، اوراس بناء پر ایک دوسرے پر فوقیت اور فضیلت کے قائل ہیں، اسی پر بس نہیں، بلکہ اس بناء پر جھگڑے اور لڑائی بھی کرتے ہیں، حتیٰ کہ قتل اور غارت گری کی نوبت آجاتی ہے۔

حالاں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےحضرت انسان کو ایک مرد اور ایک عورت سےیعنی حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا الصلوٰۃ والسلام سے پیدا کیا، اس لحاظ سے یہ دونوں بزرگ دنیاکے تمام انسانوں کے ماں باپ ہوئے۔ اور سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہوئے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے؛ تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا (اور) سب کی خبر رکھنے والا ہے۔ (حجرات: ۱۳)

اس آیت کریمہ سے واضح ہوگیا کہ پیدائشی طور پر سارے انسان ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہوئے ہیں، بحیثیت انسان سب برابر ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سارے کے سارے بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (ابوداؤد:۱۵۰۸)۔ جہاں تک رہی بات براداری اور خاندان کی ہے تووہ صرف اورصرف شناخت اور پہچان کے لیےہیں، اسی طرح رتبہ کے اعتبار سے افضل اور اعلیٰ ہونے کامعیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔

متعلقہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر واضح طور پر اعلان فرمایا کہ اے لوگو! بیشک تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ دیکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورےکو کسی کالےپر کوئی فضیلت و امتیاز نہیں، ہاں تقویٰ کے سبب فرق ہوسکتا ہے، تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے“۔ (البیہقی: ۷۳۱۵) گویا کہ جس کا تقویٰ اور پرہیزگاری، سوچ وفکر، علم وعمل، قول وفعل، اخلاق و کردار جتنا عمدہ اور اچھا ہوگا اتنا ہی وہ عنداللہ معزز اور مکرم ہوگا۔

پس کسی علاقہ کے رہنے والوں کو دوسرے علاقے کے لوگوں پر مثلاً کسی بنگالی کو بہاری پر، یا کسی گجراتی کو مراٹھی پر یا مراٹھی کو کشمیری پر کوئی فضیلت نہیں، اسی طرح کسی شیخ کو پٹھان پر، یا پٹھان کو خان پر یا خان کو میمن پر، یا کسی مارواڑی کو دلت پر، اس سے بھی آگے مجھے کہنے دیجئے کسی دلت کو برہمن پر یا برہمن کو دلت پر کوئی فضیلت یا فوقیت نہیں۔ ہاں اگر ایک کا تقویٰ دوسرے سے بڑھا ہوا ہے تو زیادہ تقویٰ والے کو کم تقویٰ والے پر یقیناً فضیلت حاصل ہے، اور اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا ہے، چاہے اس کا خاندان یا علاقہ کچھ بھی ہو۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ کا حق ادا کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے رہو، کسی قوم کی دشمنی تم کو ناانصافی پر آمادہ نہ کردے، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر (طریقہ) ہے، اور اﷲ سے ڈرتے رہو، یقیناً اﷲ تمہارے اعمال سے باخبر ہیں۔ (سورہ مائدہ: ۸)

اس آیت کریمہ کی تشریح میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں: انسان کو انصاف کی راہ سے ہٹانے والی دو چیزیں ہوتی ہیں، کسی سے محبت و تعلق، یا کسی سے نفرت و عداوت، سوہ نساء کی آیت نمبر: ۱۳۵میں محبت و تعلق کی بنا پر ناانصافی کو منع فرمایا گیا، اور یہاں عداوت و نفرت کی بنا پر ناانصافی کو، اسلام کا نظام عدل کس قدر صاف ستھرا ہے کہ اس میں نیک و بد، فرماں بردار و نافرمان، مسلمان و غیر مسلم اپنے اور بیگانے کا کوئی فرق نہیں، انصاف ہر ایک کے ساتھ ضروری ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم اگر میری بیٹی نے بھی کسی کا کچھ چرایا ہوتا تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا۔ (صحیح مسلم:۱۶۸۸)

کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب قوم، سوسائٹی یا ملک کے لیے ان کے باشندوں کے لئے عدل وانصاف اور مساوات ایک بہترین اصول ہے۔ اس کو نظر انداز کر کے کوئی ملک نہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ اس ملک میں انصاف اور امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔ آج دنیا کے جن ممالک میں اپنے شہریوں کو انصاف اور حقوق دلاتے وقت ان کی ایمانداری اور حب الوطنی کے بجائے ان کی ذات، پات اور نسل کو ترجیح دی جاتی ہے، وہاں حقوق پامال ہوتے ہیں اور انصاف اور مساوات ایک خواب بن کر رہ جاتا ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارا ملک بھی بری طرح سے اس مرض میں مبتلاء ہے۔ روزانہ کئی لوگوں پر صرف اس لئے ظلم کیا جاتا ہے کہ وہ دلت یا اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ظالموں کو صرف اس لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق اکثریتی طبقہ سے ہے یا وہ برہمن ہے۔ حالانکہ ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، اور جمہوریت کابنیادی عنصر عدل ومساوات ہے۔ جمہوریت کو برقرار رکھنے میں تین اہم ستونوں کا کردار ہوتا ہے۔

مقننہ (Legislative)، جو لوگوں کی بھلائی کے لئے قانون بناتا ہے، انتظامیہ (Administration) جو قانون کو نافذ کرتا ہے، اور عدلیہ (Court) جو کسی قسم کے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے، خواہ وہ اختلاف عوام کے درمیان ہو، یا مقننہ اورانتظامیہ کے درمیان ، تاہم ایک ہر ایک ادارہ کے اصول وضوابط مقررہیں جن کو اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے خدمت کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ (Media) کو بھی جمہوری ملک کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ لوگوں کی باتوں کو انتظامیہ تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

ان چاروں اداروں کاقیام ہی عدل وانصاف اور مساوات کے تصور کو فروغ دینے اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے عمل میں آیا ہے؛ لیکن صورت حال یہ ہے کہ یہ چاروں ادارے ایک خاص طبقہ کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں، نہ کہ جمہوریت کی۔ اگر ظالم کا تعلق اس خاص طبقہ سے ہو تو اس کو ظالم ہی تصور نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ اس کو دیش بھکت کا نام دیا جاتا ہے، اس کے ظلم پر تالیاں بجائی جاتی ہیں، اور اگر اس کا تعلق اقلیتی فرقے سے ہو تو اس کو سب سے بڑا ظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال پر جتنابھی افسوس کیا جائے کم ہے۔

حالاں کہ کسی بھی قوم یا ملک کے باشندوں میں جب تک آپسی بھائی چارہ اور محبت پیدا نہیں ہوگی، تب تک وہ ملک ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتااوریہ اسی وقت ممکن ہے جب ملک کے سربراہان اور باشندوں کے درمیان گہراربط ہو، یعنی پیارومحبت اور ہمدردی کاتعلق ہو، ہر کوئی ہر کسی کو اہمیت دیتا ہو، عزت و احترام کرتا ہو، ہر کوئی دوسرے کے حقوق کو ادا کرتا ہو، اونچ نیچ کا فرق نہ ہو، خاندان یاحسب ونسب کا کوئی امتیاز نہ ہو، قانون کی نظر میں سب برابر ہوں تب ہی کوئی قوم ترقی کرسکتی ہے، ملک میں امن و امان قائم ہوسکتا ہے؛ ورنہ پھر ہلاکت وبربادی اس کامقدربن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ہم کو اور ہمارے ملک کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطافرمائے اور ہرقسم کی آفت ومصیبت سے بچائے۔ آمین۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.