رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نوجوانوں کے نام

نوجوانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی جن چار باتوں کے متعلق سوالات کرے گا ان میں سے ایک سوال جوانی کے متعلق بھی ہوگا۔

محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعی

عوام الناس میں یہ جملہ بہت ہی مشہور ہوگیا ہے کہ ’’ جوانی دیوانی ہوتی ہے‘‘ہر کس و ناکس نوجوانوں کی غلطیوں پر یہی جملہ کہتا نظر آتاہے،اسی لئے ہماری نوجوان نسل غلطیوں کا ارتکاب کرتی نظر آتی ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ’’ جوانی دیونی‘‘ ہوتی ہے، کسی کافر و مشرک کے لئے یہ جملہ درست ہوسکتا ہے لیکن کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جملہ انتہائی غلط اور باطل ہے ۔

دین اسلام نے جوانی کو خوبصورت اوراہمیت کی حامل بنایا ہے۔کسی بھی مسلمان نوجوان کو بے راہ روی اختیار کرنے کا موقع اسلام نے فراہم نہیں کیا ہے ۔ بلکہ انکی اہمیت بتائی گئی ہے۔چونکہ نوجوان کسی بھی سماج و معاشرہ، ملک و وطن خاندان و قبیلہ ونسل اور والدین و اعزہ اقربا ء کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر وہ سدھر کر رہیں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے گا اگر وہ بگڑ جائیں گے تو سب کچھ بگڑ جائیگا، اسی لئے اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا کہ :

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں میں خودی سیرت فولاد

متعلقہ

اور ایک شاعر نے کہا تھا:

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند

مناسب ہے کہ نوجوانوں کو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی و عہد شباب کے وہ واقعات بتائے جائیںجو مشعل راہ بن سکتے ہیں، نوجوانو! تم بھی ایک نوجوان ہو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک نوجوان رہے،اپنی زندگیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر گزارو تو دنیا میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی فلاح ملے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد شباب میںآپ نے مثالی زندگی پیش کی ہے بعض واقعات کا تذکرہ مناسب ہوگا ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کبھی بھی شراب کو منہ نہ لگایا، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا، اور بتوں کے لئے منائے جانے والے تہوار اور میلوں ٹھیلوںمیں کبھی شرکت نہ کی آپ کو شروع سے ان باطل معبودوں سے اتنی نفرت تھی کہ ان سے بڑھ کر آپ کی نظروں میں کوئی چیز مبغوض نہ تھی،حتی کہ لات و عزی کی قسم سننا بھی آپ کو گوارہ نہ تھا ۔( ابن ہشام/ الرحیق المختوم:ص:۹۶)

لیکن آج کا مسلم نوجوان جو شراب ومنشیات، چرس گانجہ و گھٹکے اور زردے کا عادی ہوچکا ہے، غیر اللہ اورغیر اقوام کی عیدوں اور تہواروں کا عادی بن چکا ہے حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رہی۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ بری عادتوں سے باز آکر اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔

عہد شباب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر مکہ کے عظیم خدمت گزاروں میں شمار کئے جاتے تھے ہمیشہ اہل مکہ کے غرباء و فقراء، مساکین، و ضرورت مندوں و حاجت مندوں اور مسافروں کی فکر کیا کرتے تھے اور لوگ آپ کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے اور آپ انکے ہمہ قسم کے مسائل حل فرماتے جس کی صداقت ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی اس شہادت سے ہوتاہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ عللیہ وسلم کو دلاسہ دیتے ہوئے فرماتی ہیںکہ:’’ آپ درماندوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، تہی دستوں کا بندوبست فرماتے تھے، مہمان کی میزبانی کرتے تھے، اور مصائب حق میں اعانت فرماتے تھے،اور حق کے لئے عَلم بلند کرتے ہیں‘‘( بخاری:/الرحیق المختوم: ص:97)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبہ خدمت خلق کا اظہار اس جدوجہد سے ہوتا ہے کہ اہل مکہ نے ایک انجمن بنائی جس کا نام ’’ حلف الفضول ‘‘ تھا،جوماہ ذی القعدہ میں زبیر بن عبد المطلب کی جدوجہد اور تحریک پر قائم کی گئی، مکہ کے عظیم قبائل سے تعلق رکھنے والے سرداران عبداللہ بن جدعان تیمی کے گھر پرجمع ہوئے جو کہ امن و شرف میں ممتاز تھے اور آپس میں عہد و پیمان کئے،اس معاہدے کی بڑی دفعات مندرجہ ذیل ہیں:

(۱)ہم ملک سے بد امنی کا قلع قمع کریں گے (۲) ہم مسافروں کی حفاظت کریں گے (۳)ہم غریبوں کی امداد کریں گے (۴) ہم طاقتوروں کو کمزوروں کا استحصال کرنے سے روکیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ حلف الفضول‘‘ میں شمولیت فرمائی اس وقت آپ کی عمر ۲۰ سال کی تھی۔ اس معاہدہ کے متعلق آپ نے فرمایا کہ ’’ معاہدہ کے مقابلے میں اگرمجھے سرخ اونٹ بھی دئیے جاتے تو میں نہ بدلتا‘‘۔ اس انجمن کے قیام کا سبب قبیلہ زبیدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مظلوم شخص کا حادثہ ہے جو جبل ابی قیس پر چڑھ کر فریادرسی کر رہا تھا جس کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہ تھااس کی مظلومیت کو دیکھ کر زبیربن عبد المطلب نے تحریک چلائی۔ (نقوش سیرت: ص:۲۵: مؤلف: اسلم شاد عمری/ الرحیق المختوم)

انسانوں کو متاثر کرنے والی چیز اخلاق و عادات، و صداقت ہوتی ہے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صادق امین کے نام سے ملقب کئے گئے اہل مکہ اسی نام و لقب سے آپ کو پکارا کرتے اور اپنی امانتیں لاکر آپ کے پس محفوظ کیا کرتے،اپنے مقدمات میں آپ کو فیصل بنایا کرتے تھے، ایک وقت کی بات ہے کہ کہ قریش نے کسی سبب سے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کا عزم کیاتو اعلان کیا کہ تعمیر کعبہ میں صرف حلال رقم ہی استعمال کی جائے، تعمیر کا آغاز ہوا ہر قبیلے نے اپنی اپنی ذمہ دار بخوشی نبھائی کعبۃ اللہ کی تعمیر اختتام کو پہنچی اور حجر اسود کی تنصیب کی باری آئی تو ہر قبیلہ یہی چاہتا تھا کہ یہ شرف اسے حاصل ہو یہ جھگڑا چار پانچ دن تک چلتا رہا، یہاں تک کہ خون خرابے کی نوبت آئی، لیکن ابوامیہ مخزومی نامی ایک شخص نے اس اختلاف و جھگڑے کے حل کی یہ تدبیر نکالی کہ :

’’ مسجد حرام کے دروازے پر جو شخص پہلے داخل ہوگا اسے اپنے جھگڑے کا حکم مان لیا جائے ‘‘ لوگوں نے یہ تجویز منظور کر لی،اللہ کی مشیت کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لائے لوگوں نے آپ کو دیکھا تو چیخ اٹھے کہ:

’’ھَذَاالاَمِیْنُ رَضَیْنَاہُ، ھَذَامُحَمَّدٌ‘‘

’’یہ امین ہیں، ہم ان سے راضی ہیں یہ محمد ہیں‘‘

پھر جب آپ ان کے قریب پہنچے لوگوں سے سارا ماجرا سنایا تو آپ نے ایک چادر منگوائی اور اسے بچانے کا حکم دیا اور اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر حجر اسود چادر میں رکھا اور تمام قبائل کے سرداران سے کہا کہ اس کے کنارے پکڑیں مقام تنصیب تک لے جائیں، جب یہ پتھر اپنے مقام تک لے جایا گیا تو آپ نے حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اس مقام پر نصب کردیا،اور سارا اختلاف،جنگ و جدال ختم ہوگیا ۔اسوقت آپ کی ۳۵ برس کی تھی۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ اصحاب سیر نے یوں ذکر کیاہے کہ: ’’کسی شخص سے ابوجھل جو قوم کا سردار تھااورنٹ کا سودا کیا، اور اس کی رقم لوٹانے میں ٹال مٹول کر رہا تھا، کافی عرصہ بیت چکااور ابوجھل رقم ادا کرنے سے گریز کر تارہا، وہ بیچارہ تنگ آگیااور عاجز ہوگیا، ایک دن تمام سردار حرم مکہ میں جمع تھے یہ مجبورآدمی اپنے سردار کی شکایت لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہو ا،سرداروں نے اس مجبور کو ڈانٹا،اور اس کا استحصال کیا کہ سردار کے متعلق اتنی بری بات کہہ رہا ہے۔

آدمی مجبور ہوا، کبیدہ خاطر ہوا۔اسی وقت اس کی نظرمسجد حرام کے ایک کونے پر پڑی جہاں آفتاب عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز تھے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنامدعا رکھا، رسول اللہ نے اس کی بات مکمل طور پر سنی اور اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ لیکر ابوجھل کے گھر پہنچے، دروازہ پر دستک دی،ابوجھل نے دروازہ کھولا، کیا دیکھتا ہے کہ رسول اللہ اس کے دروازے پر کھڑے ہیں، بے ساختہ اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ ’’محمد تم!!!اندرآجاؤ‘‘ رسول اللہ نے فرمایا کہ :’’ باتیں سب بعد میں،پہلے اس آدمی کا مسئلہ حل کرو۔ فوراً ابوجہل رقم لے آیا اور اس آدمی کے حوالے کردیا ‘‘( ابن ہشام)

یہ چند مثالیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدشباب کی ہیں ۔امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اس کا آئینہ دار ہونا چاہئے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ بنایا گیا ہے۔جب ہمارے نوجوان اپنے آپ کو اپنے نبی کے طریقے پر ڈھال لیں گے تو وہ دنیا والوں کے لئے مثال بن جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح نوجوانوں کی تربیت کی ہے اس کی چند مثالیں اور واقعات احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو اس بات کی تعلیم و تربیت دیا کہ وہ رات مساجد میں گزاریں جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہہ وہ اپنی جوانی کے دنوں میں جبکہ ان کی بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے‘‘ (بخاری:440 ) اس واقعہ سے نوجوانوں کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ مساجد سے وابستہ رہیں، اگر نوجوان مساجد میں سوجائیں گے تو مساجد کا تحفظ بھی ہوگا، نوجوانوں میں تقویٰ پیدا ہوگا، تہجد کا اہتمام ہوگا، دین سیکھنے کا شوق پیدا ہوگا، ہر قسم کی فروعات،فحش و منکرات سے دور رہیں گے۔اس بات کو عملی طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت اختیار کیا تھا، کیونکہ مدینہ کو ہر طرف سے خطرات لاحق ہوچکے تھے آبادی کے تحفظ کے لئے آپ نے قانون مدون کیا کہ: ’’نوجوان مساجد میں آرام کریں‘‘۔

نوجوان صحابہ اکرام اس حکم کے بعد مساجد میں آرام کرنے لگے لیکن ہمارے نوجوان مسجد سے دور بھاگ رہے ہیں،اسی لئے ان میں تقویٰ اور علم کا فقدان ہے اور وہ ہوٹل، چائے خانے اور پارکوں کو آباد کئے ہوئے ہیں ۔اسی لئے ہماری بعض آبادیوں میں مساجد کے حادثات رنما ہوتے ہیں، کہیں مسجد کی جانمازوں اور کتابوں کو، اور کہیں مساجد کے باب الداخلہ کو آگ لگادی جاتی ہے، اور کہیں مسجد میں گند گی اورخنزیر کاٹ کر پھینکنے اور کہیں مسجد کے امام و مؤذن پر قاتلانہ حملے جیسے واقعات پیش آجاتے ہیں۔ اسی لئے ہمارے نوجوانوں کو مساجد میں قیام کرنے اور صحابہ کی طرح مساجد کے تحفظ کی فکر کرنی چاہئے۔ مساجد کی ویرانی کا سبب نوجوان نسل کی مساجد سے غفلت بھی ہے۔ ہم اپنی اولاد کو مساجد سے وابستہ کریں۔ تاکہ ان میں غیرت و شعور بیدار ہو۔

نوجوانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اللہ کی نظر میں ان کی بہت بڑی فضیلت و اہمیت ہے جس کا انداز اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سات طرح کے آدمی ہوں گے جن کو اللہ تعالی اس دن اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا ء کوئی سایہ نہ ہوگا ۔( یعنی قیامت والے دن)( ان خوش نصیبوں میں)ایک وہ نوجوان بھی ہوگا بھی ہوگا جو رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا … ( بخاری:660، 1423، 6806 )

یہاں ہم نے حدیث کا اتنا ہی فقرہ بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت والے دن کے خوش نصیبوں میں ایسا نوجوان بھی ہوگا جس پر اللہ کا رحم و کرم نازل ہوگا۔ لیکن افسوس امت کے نوجوانوں پر جنہوں سے اللہ کی عبادتوں سے انحراف و روگردانی کرکے سڑکوں، ہوٹلوں اور مجلسوں، میکدوں کو سجائے رکھا ہے۔

نوجوانوں کی عبادات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور ایسے ہی نوجوانوں کی تعریف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے نوجوانوں کی اصلاح کے لئے یہ واقعہ مفید ثابت ہوگا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا اور آپ سے بیان کرتا( آپ اس کی تعبیر دیتے) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی ابھی میں نوجوان تھا اور آپ کے زمانے میں مسجد میں سوتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دوفرشتے مجھے پکڑکر دوزخ کیطرف لے گئے میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کیطرح بندش ہے( یعنی اس پر کنویں کی سی مینڈ دونوں جانب بنی ہوئی ہے) دوزخ میں میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا، میں کہنے لگا ’’ دوزخ سے اللہ کی پناہ ‘‘ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا:’’ ڈرو نہیں ! ‘‘یہ خواب میں نے اپنی بہن( ام المؤمنین حضرت) حفصہ کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا :تعبیر میں آپ نے فرمایا:

’’نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰہِ لَوْکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فَکَانَ بَعْدُ لَایَنَامُ مِنَ اللَّیْلِ‘‘

’’عبد اللہ بہت خوب لڑکا ہے کاش رات میں نماز پڑھتا‘‘راوی کہتے ہیں کہ اس فرمان کے بعد عبد اللہ عمر بھر رات کوبہت کم سوتے‘‘ (بخاری:1121،7030 )

اس حدیث میں نوجوانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ رات کو عبادت کریں، رات کی عبادت انھیں جہنم سے بچائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلقین کے بعد عبد اللہ رضائے الہی اور جہنم سے بچنے کے لئے رات کا سونا کم کردیا اورعبادات میں مصروف ہوئے ۔ یہی وہ عمل ہے جو نوجوانوں کو باہمت و باحوصلہ اور پاکدامن بناتا ہے۔ اے کاش کہ مسلم نوجوان اس بات کو جان لیتا ۔

اسی طرح گھروں اور معاشرے کی اصلاح اوراقامت دین اوراقامۃ الصلوٰۃ کی ذمہ داری نوجوانون کے کندھوں پر ڈالی گئی بلکہ جیسا کہ حدیث شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے۔حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم سب ہم عمر اور نوجوان ہی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ مبارکہ میں بیس دن و رات قیام رہا، آپ بڑے ہی رحمدل اور ملنسار تھے، جب آپ نے دیکھا کہ ہمیں اپنے وطن جانے کا شوق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ: ’’تم لوگ اپنے گھر کسے چھوڑ کر آئے ہو ؟ ۔ ہم نے بتادیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اِرْجِعُوْااِلَی اَھْلِیْکُمْ، فَأَقِیْمُوْافِیْہِمْ،وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ‘‘

’’اچھا اب تم اپنے گھر جاؤاورگھروالوں کے ساتھ رہو، اور انھیں بھی دین سکھاؤ اور دین کی باتوں پر عمل کرنے کا حکم دو ۔ پھر فرمایا۔

’’وَصَلُّوْاکَمَارَأَیْتُمُوْنِی اُصَلِّیْ، فَاِذَاحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَؤُّمُکُمْ اَکْبَرَکُمْ‘‘

’’اسی طرح تم نماز پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور جب نماز کا وقت آجائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے‘‘ (بخاری:31،685، 6008 )

نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس حدیث کا مصداق بنائیں انھیں چاہئے کہ وہ مساجد میں رہیں، علم سیکھیں، امامت سیکھیں، اذان دینا سیکھیں اور اپنی بیوی بچوں کو دین کی تعلیم و تربیت دیں تو گھر سدھرے گا، مکانوں میں دینداری باقی رہے گی، محلوں میں امن و امان باقی رہے گا۔ یہ تعلیم و تربیت دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے نوجوانوں کو، لیکن افسوس صد افسوس آج کا مسلم نوجوان ان تعلیمات سے نابلد ہوچکا ہے اسی لئے جہالت اس کا مقدد بنی ہوئی ہے۔

یوں تو نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادث موجود ہیں جس کا پڑھنا نوجوانوں کے لئے ضروری ہے اور جس سے واقف کروانا اہل علم، اہل قلم،علماء،خطباء، مدرسین و مشائخین کے لئے ضروری ہے۔ ملت اسلامیہ کے عروج میں جہاں نوجوانوں نے سب سے عظیم کردار ادا کیا ہے اس کا سرسری جائزہ ضروری ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری لشکر جہاد جو مرتدین کے خاتمہ اور مانعین زکوۃ جیسے مفسدین کے خلاف تھا اس لشکر کی ترتیب بذات خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی جس میںکبار صحابہ شامل تھے،ابو بکر و عمر، عثمان و علی کے علاوہ بقیہ عشرہ مبشرہ اور دیگر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل تھے لیکن اس کی کمان ایک سترہ سالہ نواجوان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دی تھی حیات النبیؐ میں کسی کو اس پر تردد تک نہ ہوا ۔

اسی طرح جنگ بدر میں ابوجہل جیسے عظیم دشمن اسلام کا خاتمہ دو نوخیز جوانوں معاذ ؔو معوذؔ نے انجام دیا، اسی طرح بدر میں شامل ہونے کے لئے نوجوانوں نے اپنی اپنی مقابلہ آرائی کی انگوٹھوں پر کھڑے ہوئے کر اور اپنی صلاحیت کے جواہر دکھا کر نوخیز نوجوان صاحبہ لشکر کا حصہ بنے جن میں ایک عمیر بن ابی وقاص بھی تھے، اسی طرح ایک مسلمان خاتون کی صدائے آبرو سن کر اٹھارہ سالہ نوجوان محمد بن قاسم سندھ پر حملہ آور ہوئے، سلطنت رومانیہ میں ایک مسلم خاتون کی آبرور ریزی کے خلاف ایک نوجوان معتصم باللہ نے سلطنت رومانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ یہ تاریخ ساز کارنامے ہیں نوجوانوں کے ۔

لیکن کیا ہوا ہمارے نوجوان کو جس کی زندگی چبوترے سجانے میں نکل رہی ہے، شب کی تاریکیوں کی بیداری، راتوں کی مےکشی، سگار نوشی، حقہ بازی، گاڑیوں کی ریس، اور فضول کاموں میں بیت رہی ہے اسے اس بات کا احساس تک نہیں کہ امت مسلمہ ہند کیا کھو رہی ہے اور کیا پارہی ہے ۔ اسے مستقبل کے تاریک حالات کی نہ فکر ہے نہ شعور نہ پرواہ، اسی لئے تو ملت اسلامیہ ہند روبہ زوال ہے۔ ہمارے نوجوان چند سیاسی بازیگروں اور چند جذبانی پیشواؤں کے ہاتھوں بازیچہ اطفال بنے ہوئے ہیں۔

نوجوانوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی جن چار باتوں کے متعلق سوالات کرے گا ان میں سے ایک سوال جوانی کے متعلق بھی ہوگا عبد اللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’نہ ہٹیں گے ابن آدم کے دونوں قدم قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے یہاں تک کہ چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کئے جائیں:

وَعَنْ عُمرِہِ فِیْمَ اَفْنَاہُ،وَعَنْ شَبَابِہِ فِیْمَا اَبْلاَہُ، وَعَنْ مَالِہِ مِنْ اَیْنَ اِکْتَسَبَہُ وَ فِیْمَ نَفَقَہُ، وَعَنْ عَمَلِہِ مَاذَا عَمِلَ فِیْہِ

’’ عمر کے بارے میں کہ عمر کہاں صرف کی جوانی کے متعلق سوال ہوگا کہ کہ کیسے گزاری، مال و دولت کے بارے میں کہ کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا، علم کے بارے میں کہ سیکھا تھا کتنا عمل کیا ‘‘( ترمذی:2417 )

اسی طرح نوجوانوں کو تعلیم و تربیت دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانوں، جوانوں کو پڈھاپے سے پہلے،صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے، تونگری و بے نیازی کو فقر و فاقہ کشی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے‘‘( مستدرک حاکم :7846 )

ملت اسلامیہ کی ترقی و عروج سے میں جہاں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم ہے، قوم وملت کی تباہی و تاراجی میں بھی نوجوانوں ہی کا عمل داخل رہا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے فرماتے ہوئے سنا:

ھَلاَکُ اُمَّتِیْ عَلَی یَدَیْ غِلْمَۃٍ مِّنْ قُرَیْشٍ

’’میری امت کی بربادی قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں پر ہوگی، مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں پر؟ اس پر ابو ہریرہ نے کہا کہ: ’’اگر تم چاہو تو میں تمہیں ان کے نام بھی بتاودو کہ بنی فلاں اور بنی فلاں رہیں گے‘‘ (بخاری:3605 )

اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آخری زمانے میں نوجوانوں اور کم عقلوں کی ایک قوم پیدا ہوگی، یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہتر خلق(پیغمبر) کا ہے، ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے، لیکن وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرکے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نہیں اترے گا، تم انھیں جہاں بھی پاؤ قتل کردو، کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لئے باعث اجر ہوگا جو انھیں قتل کردے‘‘ ( بخاری:5057 )

ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کو شعور مٰن آنا چاہئے اور اپنے نبی کی تعلیمات پر عمل کے کے صالح سماج کی تشکیل کرنا چاہئے۔ جب تک جوان بیدار نہیں ہوں گے ملت کی نیا ترقی و عروج کا کنارہ نہیں پکڑ سکتی ۔اللہ تعالی ہماری نوجوان نسل کی اصلاح فرمائے، انہیں شعور عطا فرمائے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی جانب روٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین)

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.