سوشیل میڈیااوراسمارٹ فون کے فوائد و نقصانات

نئی ایجادات سے درست وصحیح دینی معلومات حاصل کرنے ،غیرمعلوم مفید علوم وفنون سے واقف ہونے اوراپنی فکرونظرکی اصلاح کے بجائے مقصدزندگی کو فراموش کرکے غیراخلاقی اورفحش ویب سائٹس میں گم ہوکر اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے اوراپنی دنیا وآخرت دونوں برباد کررہےہیں ۔سوشیل میڈیا سے زیادہ قربت نے انسانوں کو اپنے رشتہ داروں سے بیگانہ کردیاہے۔

مفتی حافظ سیدصادق محی الدین فہیمؔ
Cell No. 9848862786

اللہ سبحانہ وتعالی نے انسانوں کوعقل وشعورکی نعمت بخشی ہے جوان کو اورحیوانوں سے ممتازکرتی ہے،انسان اپنی صلاحیتوں کا بھرپوراستعمال کرکے خودبھی فائدےحاصل کرسکتے اور دنیا کوبھی بہت کچھ فوائدسے روشناس کرا سکتےہیں،موجودہ دورنئی نئی تیز رفتار ایجادات کا ہے ،ہرنئی چیزجب ایجادہوتی ہے توصرف اس کے فوائدہی پر نظرمرکوزرہتی ہے اسکے نقصانات اورمضرات کی طرف توجہ کم ہوتی ہے ،نت نئی ایجادات نے جہاں بہت سی سہولتیں بہم پہنچائی ہیں وہیں اس کے نقصانات سے انسانی معاشرہ متاثر ہے تاہم بہت سی ایجادات کے فوائدکاانکارممکن نہیں ان کا استعمال مثبت ومنفی ہردوطرح سےہوسکتا ہے۔

اس کے بہت سے مفیدنتائج بھی ہیں جن سے ساری دنیا مستفیدہورہی ہے،اس وقت سوشیل نیٹ ورک کی وجہ پوری دنیا سمٹ کرگویا ہتھیلی میں آگئی ہے،فاصلے گھٹ گئے ہیں ،دوریاں قربت میں بدل گئی ہیں،وہ مسائل جن کے حل کیلئے مل بیٹھنا اوربات چیت کرناضروری تھا اسکے لئے دوررہنے والوں کی آمدکا انتظاررہاکرتاتھا اب ان کی آمدکے بغیر بھی یہ ممکن ہوگیا ہے، ہزاروں میل دوررہنے کے باوجود ان سےگفت وشنیداورمعاملہ فہمی کی راہیںآسان ہوگئی ہیں۔ دوردراز مقامات پررہنے والوں سے پہلے کبھی رابطہ صرف خطوط کے ذریعہ ہواکرتاتھا،جس کونصف ملاقات سے تعبیر کیا جاتاتھا،ایک دوسرے کی خیرخیریت معلوم کرنا اوراحوال سے واقف ہوناصرف خطوط ہی کے ذریعہ ممکن تھا۔

ایسے اقرباء واحباب جوسمندرپارمقیم ہوگئے ہیں ان سے گفتگوکرنے اوران کودیکھنے کیلئے ان سے قلبی تعلق رکھنے والےترس جایا کرتے تھے ،اب انہیں دیکھتے ہوئے ان سے سیرحاصل گفتگوکی جاسکتی ہے، انسان کی زندگی میں مسرت وخوشی کے لمحات بھی آتے ہیں اوررنج وغم کے بھی ،ان سے واقفیت درازمدت کےبعد کہیں جاکرہواکرتی تھی، دور رہ کربھی ان سے واقفیت اورخوشی وغم میں بڑی حد تک شرکت کے مواقع ممکن ہوگئے ہیںاور اب آڈیوسے ہمکلامی اورویڈیوسے ہمکلامی کے ساتھ ایک دوسرے کودیکھنا ممکن ہوگیا ہے،مثبت رجحانات رکھنے والے اس کے فوائدسے استفادہ کررہے ہیں۔

متعلقہ

دور دراز علاقوں میں رہنے والے باکمال اصحاب سے ملاقات اوران سے استفادہ پہلے سفرکے بغیر ممکن نہیں تھا لیکن اب اس سہولت کی وجہ وہ آسان ہوگیا ہے ،علوم اسلامیہ کی تحصیل اوراسلام سے متعلق جواشکالات دشمنان اسلام نے کھڑے کئے ہیں اسکے اطمینان بخش جوابات کےحصول کی راہ آسان ہوگئی ہے،علوم وفنون میں کمال، اسکے وسیع ترمعلومات تک رسائی اسلامی جامعات میں شرکت کے بغیرممکن نہیں تھی اب ان کی وجہ اس کے ماہرین سے رابطہ واستفادہ کی سہولت میسرآگئی ہے، جس موضوع سے متعلق تفصیلات مطلوب ہوں انٹرنیٹ پرسرچ کرنے سے گوگل کے ذریعہ ساری معلومات اکٹھاہوکر آئینہ کی طرح سامنے آجاتی ہیں۔

اخبارات ورسائل بہت کچھ معلوماتی موادفراہم کرتے تھےاس کے لئے انتظارکی گھڑیاں بتانی پڑتی تھیں لیکن نئی نئی ایجادات جیسے ریڈیو،ٹیلی ویـژن،انٹرنیٹ وغیرہ نے آن کی آن میں دنیا بھرکی خبریںنشرکرکے انسانوں کوبڑی حدتک اخبارات ورسائل سے بے نیازکردیاہے،انٹرنیٹ کے بارے میں کہا جاتاہےکہ وہ دنیا کا سب سے بڑاکمپیوٹرنیٹ ورک ہے،فون جوکبھی بات چیت کیلئے کام آتاتھاایجادات کی ترقی نے اسکوانٹرنیٹ سے مربوط کردیا ہے اورایسے اسمارٹ فون بازاروں میں بکثرت موجود ہیں جن کی خریداری ہرایک کے دسترس میں ہے۔

ہر دورمیں اسلامیات پرلکھی گئی مختلف زبانوں میں اربوں کھربوں کتابیں ہیں ان میںبہت سی نایاب یا کمیاب ہیں ،ان کی تلاش آسان نہیں ہے وہ علمی ذخیرہ جوکبھی دنیا بھرکے کتب خانوں کی زینت بناہواتھا اب انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے بآسانی دستیاب ہے، فون کی ایک چھوٹی سی چپ میں دنیا بھرکے علمی ذخائرسمودئیے گئے ہیں۔ریسرچ وتحقیق کرنے والوں کومختلف کتب خانوں کے چکرکاٹنے پڑتے تھے جس میں کافی وقت صرف ہوتاتھا بسااوقات عمر عزیز کا ایک بڑاحصہ اسی میں گزرجاتاتھالیکن اب ہرموضوع سے متعلق تحقیقی موادکی فراہمی کوئی مشکل نہیں رہی،تجارت وکاروبار پہلے کبھی محدودپیمانہ پرہواکرتے تھے لیکن اب اس سلسلہ میں بھی بڑی سہولتیں پیداہوگئی ہیں اور تجارت کا دائرہ وسیع سے وسیع ترہوگیا ہے۔

اسلام پرکئے جانے والے متعصبانہ اعتراضات کم وبیش ہر دور میں رہے ہیں ،پہلے کبھی ایک مدت بعدان سے واقفیت ہواکرتی تھی اوران کے جوابات بھی ایک مدت بعد ان تک اوراس پروپگنڈہ سے متاثرین تک پہنچاکرتے تھےاب وہ بھی آناً فاناً ساری دنیا تک پہنچ رہے ہیں اور ان کے جوابات کی ترسیل بھی بآسانی ممکن ہوگئی ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ خاتم النبیین سیدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکاہے اورآسمانی آخری کتاب ہدایت قرآن مجید بھی خاتم الکتب ہے،اب کوئی نئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی،یہ امت خیر الامم ہےاس لئے اللہ سبحانہ نے اشاعت اسلام، اسلامی اعتقادات و اعمال ،اسلامی اخلاق واقداراوراسلام کے معاشی ،معاشرتی وسیاسی نظام اورطرزحکمرانی کا تعارف کرانے کی ذمہ داری اسی کو تفویض کی ہے۔

بفضل تعالی انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ یہ کام بڑی حدتک انجام پارہاہے لیکن اس کام میں مزید وسعت پیداکرنے کی ضرورت ہے۔دشمنان اسلام کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں سے بعض سادہ لوح انسان بھی متاثرہیں، انٹرنیٹ کے ذریعہ ان کےازالہ کی کوششوں سے ان کو سونچنے اورسمجھنے کا موقع مل رہاہےاوردشمنان اسلام کی یہ سازش بے نقاب ہورہی ہے ،اسی سازش سے ایک مثبت پہلو یہ سامنے آرہاہے کہ سادہ لوح انسان اسلام سے قریب ترہوتے جارہے ہیں۔ضروری نہیں کہ جن سے واقفیت ہوان تک ہی ہمارا پیغام پہنچے بلکہ عمومی حیثیت سے ہم سے ناواقف افرادتک ہمارا پیغام بآسانی پہنچ سکتا ہے،معلوم افرادہی سے نہیں غیر معلوم افراد سے بھی رابطہ قائم ہوسکتاہے،عصری علوم کی معلومات ہوں کہ نئی نئی سائنسی ایجادات کی ان سے واقفیت کی نئی نئی راہیں کھلتی جارہی ہیں۔

ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ جونوجوان علوم کی تحصیل میں سنجیدہ ہیں ان کی لیاقتوں اورصلاحیتوں میں نکھار پیدا ہورہا ہےاورایسے نوجوانوں کی شرح میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ الغرض اپنی طلب ذہنی استعداد کے بقدرہرکوئی اس سے مثبت استفادہ کرسکتاہے،حدیث پاک میں واردہے: الكلمة الحكمة ضالة المؤمن فحيث وجدها فهو أحق بها(سنن الترمذی: ۹؍۳۰۱) ’’حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے‘‘۔

حدیث پاک کی روسے مسلمانوں کو اسلامی علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ عصری علوم اور سائنسی تحقیقات وایجادات میں غیروں سے آگے رہناچاہیے ،پتہ نہیں یہ شوق کیوں گم ہوگیا ہے اورکیوںاغیار اس میں آگے ہیںجبکہ ہمارے اسلاف ہی اس کے بانی مبانی تھے،جابر بن حیان، الخوارزمی، الکندی، ابوبکر الرازی، الفارابی ان جیسے سیکڑوں نام ہیں جنہوں نے سائنسی ایجادات و تحقیقات کی دنیا میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں جو آج بھی موجدین کیلئے نشان راہ ہیں۔اس تناظرمیں نئی نئی ایجادات کے آج بھی مسلمان ہی موجدہوتے ،یہ نہیں ہوسکاہے تو کم ازکم ان سے منفی استفادہ کے بجائے ان کے مثبت فوائد سے مستفید ہوتے ۔

یہ توفوائدکی ایک تفصیل تھی لیکن سب جانتے ہیں کہ ہرایک شئے کے کچھ فوائدہیں توکچھ نقصانات بھی ،عام مشاہدہ یہ ہے کہ جہاں بکثرت نوجوان اس سے مثبت استفادہ کررہے ہیں وہیں بکثرت ایسے نوجوان بھی ہیں جواس کے منفی اثرات سے متاثرہیں ۔نئی ایجادات سے درست وصحیح دینی معلومات حاصل کرنے ،غیرمعلوم مفید علوم وفنون سے واقف ہونے اوراپنی فکرونظرکی اصلاح کے بجائے مقصدزندگی کو فراموش کرکے غیراخلاقی اورفحش ویب سائٹس میں گم ہوکر اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے اوراپنی دنیا وآخرت دونوں برباد کررہےہیں ۔

سوشیل میڈیا سے زیادہ قربت نے انسانوں کو اپنے رشتہ داروں سے بیگانہ کردیاہے،اوروہ تنہائی کاایسے شکارہوتے جارہے ہیں کہ ان کوآس پاس میں رہنے والوں کی کوئی خبرہی نہیں ہے،رشتہ داروں اوردوستوںسے ملاقات کبھی روحانی تسکین کا ذریعہ ہواکرتی تھی اس کی وجہ اب انسان اس سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ گھرکے سارے افرادباوجودیہ کہ وہ ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں لیکن رشتوں کی مناسبت سے ایک دوسرے سے تعلق ومحبت کا برتائورکھ رکھائو جھلکتاتھا اب وہ مفقودہےکیونکہ سب کے سب فون میں کھوئے رہنے کی وجہ ایک ساتھ رہنے کے باوجودہرکوئی تنہائی کا شکارہے۔

ضعیف ماں باپ بھی اب بوجھ لگنے لگے ہیں ، ضعیفی جوکبھی چاہتوں اورمحبتوں کے سہارے بتائی جاتی تھی وہ بھی عنقاء ہوتی دکھائی دے رہی ہے،انٹرنیٹ کی دنیا میںکھوئے رہنے کی وجہ گھرمیں چونکہ کوئی وقت دے نہیں پارہاہے اس لئے ان کواولڈ ایج ہوم کے حوالہ کردیا گیا ہے،مادیت کی فراوانی نے انسانوں کو ایسا خودغرض بنادیاہے کہ اورتواوروہ ماں باپ کوبھی بھول بیٹھے ہیں ،ان کی خدمت اورتیمارداری کیلئے ان کے ہاں وقت نہیں ہے ۔

ایسے واقعات بھی انٹرنیٹ ہی کے ذریعہ منظرعام پرآئے ہیں کہ ضعیف ماں باپ گھرپربیمارہیں یا دواخانہ میں شریک ہیں اولاد کو اتنی فرصت میسر نہیں ہے کہ ان کی تیمارداری کرکے اللہ سبحانہ کی خوشنودی حاصل کرے،اولاداپنی مصروفیات کا بہانہ بناکراس سے بھی گریزاں ہے، انٹرنیٹ کی دنیا میں سیرکرنے کیلئے تووقت ہے لیکن اپنے بیمارضعیف ماں باپ کیلئے نہیں ۔ظاہرداریوں سے اسکی تلافی کرنے کی راہیں تلاش لی گئی ہیں’’مدرس ڈے،فادرس ڈے‘‘منانے کی ریت چل پڑی ہے،دھوم دھام سے ان کو منایا جاتاہے اورتعلقات کے حوالہ سے زمین وآسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں لیکن عملی دنیا اس کے برعکس ہے،اللہ سبحانہ نے اپنے حق کے بعدوالدین کے حقوق کی تفصیل قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئی ہے۔

اسلامی،اخلاقی اورانسانی اعتبارسے بیماروں کی عیادت ایک اہم ترین فریضہ ہے، پہلے شخصی طورپرمزاج پرسی وعیادت اور تیمارداری کے فرائض نبھائے جاتے تھے اب ان میں بڑی کمی دیکھی جارہی ہے،ضروری سمجھا گیا توفون یا انٹرنیٹ ہی کے ذریعہ خیرخیریت دریافت کرلی جارہی ہے،اسمارٹ فونس کی دنیا میں کھوئے رہنے سے انسان نہ صرف صحت مندتندرست وتوانارشتہ داروں ہی کو فراموش کربیٹھے ہیں بلکہ بیمار،قریبی اعزہ واحباب بھی فراموش کردئیے گئے ہیں ،انسان کی سماجی زندگی ایک دوسرے سے چاہت ومحبت ،دلجوئی ودلداری ،ہمدردی وغمگساری ہی سے عبارت ہے ،الغرض پیدائش سے موت تک قدم قدم پردوسروں کی مدد اور سہارے درکارہوتے ہیں،انسانی تمدن یہ چاہتاہے کہ سماج میں رہنے والے سب اپنی خوشیاں اورغم دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔

حقیقی محبتوں کی جگہ مصنوعی محبتوں نے لے لی ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاںحقیقی محبتوں کے سوتے خشک ہوجاتے ہیں وہاںظاہرداریاں جنم لیتی ہیں ،وہ زمانے جونئی نئی ایجادات سے عاری تھے توانسان اپنے خاندان وقبیلہ اوراحباب سے مربوط تھے،ایک کا غم دوسرے کا غم،ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی تھی ،رنج وغم کے مواقع ہوں توتسلی دینے والی کئی زبانیں زخمی دلوں پرمرہم رکھاکرتی تھیں اوراپنائیت کا ایسا اظہارہوتاکہ غمزدہ افرادکواس غم کا سہارناآسان ہوجاتا۔خوشی ومسرت کی گھڑیوں میں خلوص دل سے ہرکوئی شریک ہوتا جس سے خوشیاں دوبالاہوجایا کرتی تھیں آئے دن اس میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے ۔

پہلے کبھی ماں باپ اورخاندان کے بزرگ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے رشتے طے کیا کرتے تھے لیکن سوشیل میڈیا کی وجہ آپس میں دوستیاں قائم کی جارہی ہیں ،ہردواپنی حقیقی زندگی کومصنوعی روپ میں پیش کررہے ہیں،یہ دوستیاں بڑھتے بڑھتے بسااوقات ناجائزتعلقات کی راہیں ہموارکررہی ہیں،مصنوعی محبتوں کے اظہارکیلئے ایسے الفاظ کے سہارے لئے جاتے ہیں جوحقیقت سے کوسوں دورہوتے ہیں ،جیسے کوئی شکاری جال بچھا کر پرندوں کا شکارکرتے ہیں ویسے ہی سوشیل میڈیا کی دوستیاں چالاک شکاری کے جال میں پھنسنے کے مترادف ہوتی ہیں۔

خاص طور پر لڑکیاں اس کو سنہرہ جال سمجھ کربہت جلداس میں گرفتارہوجاتی ہیں، جب سب کچھ لٹ جاتاہے تب کہیں جاکرہوش آتاہے، بسا اوقات کچھ لڑکیاں ارتدادکی دہلیزپرقدم رکھتے ہوئےناجائزوحرام رشتے بنالیتی ہیںاورکبھی یہ دوستیاں جائزرشتۂ نکاح کے قیام کا ذریعہ بن جاتی ہیں لیکن جب حقیقی زندگی میں مصنوعی روپ کی جھلک نہیں ملتی تو رشتے اختلاف کا شکارہوجاتے ہیں ،بسااوقات طلاق وخلع کی نوبت آجاتی ہے۔انٹرنیٹ کی دنیا میں گم رہنے کی وجہ بہت سے نوجوان جوڑے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پارے ہیں ، روز اول ہی سے ایسے شکوے سنے جارہے ہیں۔سوشیل میڈیا کا بیجا استعمال جہاں صحت کے مسائل پیداکررہاہے وہیں اخلاقیات دم توڑ رہی ہیںاورسماجی اقدارموت کی نیندسورہے ہیں۔

سوشیل میڈیا بھی گویا ایک نشہ ہے جیسے شرابی اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ایسے ہی اس کی دیوانگی بھی انسان کو اس کے بغیربے چین رکھتی ہے۔ اللہ سبحانہ نے رات سونے کیلئے اوردن جائزوحلال رزق وروزی کی تحصیل کیلئے محنت وتگ ودوکیلئے بنائی ہے(مفہوم آیات ۹تا۱۱،النبا)لیکن انٹرنیٹ کے سحرنے نیندکی مٹھاس اورآسودگی چھین لی ہے،خلاف فطرت راتوں کو جاگنے سے دن کی مصروفیات کے ساتھ انصاف ممکن نہیں رہاہے،اس کی وجہ انسان نکمے اورناکارہ ہوتے جارہے ہیں،کئی افراداس دیوانگی کی وجہ نفسیاتی امراض کا شکارہیں ،اکثروہ تصورات کی دنیا میں کھوئے رہنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں ، ظاہرہے عملی زندگی دوسروں سے روابط وتعلقات کواستواررکھنے اور جہدمسلسل کا تقاضہ کرتی ہے ،اس لعنت میں گرفتاررہنے کی وجہ وقت میں برکت نہیں رہی ہے ،سونے جاگنے اورکام کاج کےاوقات متعین تھے اورجووقت بچتاوہ اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں حضوری وسجدہ ریزی اورذکرواذکار میں گزرتاجس سے روحانی تسکین کا سامان ہوتاہے اورزندگی راحت وآرام سے گزرتی ہے ،تلاوت قرآن کا التزام بھی رہاکرتا تھا لیکن اس مصروفیت نے اسکی حلاوت بھی چھین لی ہے۔

بزرگوں کی صحبت میں وقت گزارنے اوران کی مجالس میں شرکت کے مواقع میسرآتے تھے لیکن اب اس کی وجہ بڑے بزرگوں کی رفاقت بھی چھن گئی ہے،انسانی دل ودماغ جو کبھی محبتوں کا مرکزہواکرتے تھے ، کائنات میں غوروفکراللہ سبحانہ کی صناعی کے جوفطری مناظرہیں ان سے حظ اندوزہواکرتے جس سے روحانی راحت کے ساتھ اچھی سوچ وفکرکوجلا ملتی تھی لیکن اب وہ ناگوارونا پسندیدہ جذبات واحساسات کی افزائش گاہ بن گئے ہیں ۔ اس بیجا مشغولیت نے انسان کواپنی اور دوسروں کی فکرسے غافل کردیا ہے ، ایک واقعہ حدیث پاک میں ملتاہے کہ سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اسے پہنا اورپھرفرمایا اس نے میری توجہ تمہاری طرف سے ہٹادی ایک نظراسے دیکھتا ہوں اورایک نظرتمہیں پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اتاردی۔

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما فلبسه قال شغلني هذا عنكم منذ اليوم إليه نظرة وإليكم نظرة ثم ألقاه(سنن النسائی ۱۶؍ ۷۳)سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرآن ہرگھڑی رجوع الی اللہ رہاکرتے اورخلق خداکی نجات کی فکرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے چین رکھاکرتی ،ظاہرہے غفلت کا یہاں کیا تصوردراصل اس حدیث پاک سےیہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ہر ایسی مشغولیت جوانسان کواللہ سبحانہ کی یاد،اس کے ذکروفکراورخلق خداکے حقوق سے غافل کردے اس لائق ہے کہ اس سے جلد ازجلدنجات پالی جائے۔

آداب معاشرت یہ ہیں کہ انسان سماج میں رہتے بستے دوسروں کا خیال رکھے ،کسی محفل میں شرکت ہویا مہمان گھرآگئے ہوں توان کی پوری رعایت رکھی جانی چاہیے ،ان سے بے اعتنائی برت کرموبائیل فون اورسوشیل میڈیا میں مشغولیت غیراخلاقی اوراسلامی آداب معاشرت کے منافی ہے،اسلام اس کوپسندنہیں کرتا اورجن سے بے اعتنائی برتی گئی ہے ان کو بھی اس طرح کا استغناء کسی طور پسند نہیں آسکتا،ان کے جذبات واحساسات کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے جو اللہ سبحانہ کوسخت ناپسندہے،انسانی قلوب کی مثال نازک آبگینوں سی ہے اس میں بال آجائے توفوری اسکی اصلاح ممکن نہیں رہتی ۔علامہ اقبالؔ رحمہ اللہ کی مناجات کا ایک شعراس قابل ہے کہ اس کودل پرکندہ کرلیا جائے اورہمیشہ اس کووردزباں رکھاجائے۔

مری زبانِ قلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی سے شکوہ نہ ہوزیرآسماں مجھ کو

خلاصہ کلام یہ کہ اسمارٹ فون وغیرہ سے جائزومباح استفادہ اوراس میں موجود مخرب اخلاق اورمضرت رساں ویب سائٹس سے اجتناب کی آسان صورت یہ ہے کہ ہمیشہ اس بات کا استحضار رہے کہ میراخالق ومالک اورپالنہارمجھے دیکھ رہاہے،یہی استحضار انسان کو خلوت وجلوت میں فواحش ومنکرات اوراس پرمبنی ویب سائٹس میں کھونے سے بچاسکتاہے،اس کو حدیث پاک میں مقام احسان سے تعبیرکیا گیاہے،اس استحضارکے ساتھ اس دعاء کا اہتمام بھی ہوناچاہیے

اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أَخْشَاكَ كَأَنِّي أَرَاكَ أَبَدًا حَتّٰى أَلْقَاكَ ، وَأَسْعِدْنِي بِتَقْوَاكَ ، وَلَا تُشْقِنِي بِمَعْصِيَتِكَ (المعجم الاوسط للطبرانی۱؍۴۲۱)’’اے اللہ !

مجھے ایسا بندہ بنادیجئے کہ میں آپ سے اس طرح ڈروں گویا میں ہمیشہ آپ کو دیکھ رہاہوں اورمجھ کو تقوی کی سعادت نصیب فرمائیے اوراپنی نافرمانی کی وجہ مجھ کو بدبخت وشقی نہ بنائیے‘‘۔معصیت ونافرمانی سے بچنے کیلئے اللہ سبحانہ ہم کومجاہدہ کے ساتھ دعائوں کی توفیق عطافرمائے اورخاص طورپراس دعاءکی توفیق بخشے۔آمین
٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.