سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال اسلام لائے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ حضرت عمر کا اسلام لانا فتح تھا، ان کی ہجرت نصرت تھی اور ان کی امارت (حکومت) رحمت تھی، ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب ہم بیت اللہ میں علانیہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، حتی کہ حضرت عمر اسلام لے آئے، پھر حضرت عمر نے مشرکوں سے جنگ کی حتی کہ انھوں نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم نے بیت اللہ میں علانیہ نماز ادا کی۔

مولانا حافظ و قاری سید صغیر احمد نقشبندی
شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
خلفاء راشدین میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی ہیں، آپ کے قبول اسلام کے لئے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء مانگی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے حبیب کی دعا قبول فرمالی۔ حدیث شریف میں ہے :
عن ابن عمر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اللھم اعز الاسلام باحب ھذین الرجلین الیک بابی جھل أو بعمر بن الخطاب قال و کان احبھما الیہ عمر۔ (ترمذی) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی کہ اے اللہ اسلام کو عزت بخش ابوجہل یا عمر کے ذریعہ دونوں میں جو تیری بارگاہ میں زیادہ محبوب ہیں ان کو (ایمان کی توفیق عطا کرکے)، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان دونوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رب رحیم کے پاس محبوب ہیں (اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا)
امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے: قال فاصبح فغدا عمر علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاسلم۔ (ترمذی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو دوسرے دن صبح حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ایمان لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انتالیس (۳۹) مرد اور ایک عورت کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور چالیس مردوں کا عدد پورا ہوا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: یاَیُّھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (انفال:۶۴) اے نبی! آپ کے لئے اللہ کافی ہے اور مومنین جو آپ کے پیروکار ہیں (کافی ہیں)
حضرت اسامہ بن زید اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب نے ہم سے کہاکہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں نے کس طرح اسلام قبول کیا تھا؟ ہم نے کہا: ہاں! انھوں نے کہا: میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا، ایک دن دوپہر کے وقت سخت گرمی پڑ رہی تھی، مجھے مکہ کے ایک راستہ میں قریش کا ایک شخص ملا اس نے کہا اے ابن الخطاب! کہاں جا رہے ہو؟ تم کس خیال میں ہو، یہ دین تو تمہارے بھی گھر میں داخل ہوچکاہے، حضرت عمر نے کہا وہ کیسے؟ اس نے کہا: تمہاری بہن اپنا دین بدل چکی ہے، حضرت عمر نے کہا: میں غضبناک ہوکر گھر لوٹا، ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ جب ایک دو آدمی مسلمان ہوتے تو ان کو یکجا کر دیتے تاکہ ان کو قوت حاصل ہو، وہ ایک ساتھ رہتے، کھاتے، پیتے اور نمازیں پڑھتے، میرے بہنوئی کے ساتھ بھی دو مردوں کو شامل کر دیا گیا تھا، میں نے گھر جاکر دروازہ کھٹکھٹایا، پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا: ابن الخطاب! اس وقت وہ لوگ بیٹھے ہوئے ایک صحیفہ میں دیکھ کر قرآن مجید پڑھ رہے تھے، جب انھوں نے میری آواز سنی تو جلدی سے چھپ گئے اور اس صحیفہ کو چھپانا بھول گئے، میری بہن نے دروازہ کھولا، میں نے اس سے کہا: اے اپنی جان کی دشمن تو اپنا آبائی دین بدل چکی ہے، پھر میں نے مارنا شروع کردیا حتی کہ اس کا خون بہنے لگا، جب میری بہن نے خون دیکھا تو وہ رونے لگی، پھر میری بہن نے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تم جو کچھ کرسکتے ہو وہ کر گذرو، میں مسلمان ہوچکی ہوں! عمر نے کہا: میں انتہائی غصہ کی حالت میں گھر کے اندر داخل ہوا اور چار پائی پر بیٹھ گیا اچانک میری نظر گھر کے ایک کونے میں رکھی ہوئی ایک کتاب پر پڑی، میں نے کہا: یہ کیسی کتاب ہے؟ مجھے دو، میری بہن نے کہا: نہیں تم اس کتاب کو چھونے کے اہل نہیں ہو، تم غسل جنابت نہیں کرتے، تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، حضرت عمر نے کہا میں نے غسل کیا، پھر وہ مقدس صحفیہ لے کر دیکھا تو اس میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ لکھی ہوئی تھی، جب میں نے رحمن اور رحیم کو پڑھا تو مجھ پر ہیبت طاری ہوگئی، میں نے پھر آگے پڑھنا شروع کیا تو اس میں لکھا ہوا تھا، سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ میں جب اللہ عزوجل کے اسماء میں سے کوئی اسم پڑھتا ہوں تو مجھ پر ہیبت طاری ہوجاتی اور میں اس پر غور و فکر کرتا، حتی کہ میں اس آیت پر پہنچا:
اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیہِ (الحدید:۷)اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس مال میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، جس میں اللہ نے تمہیں پہلے لوگوں کا قائم مقام کردیا ہے۔
تلاوت کرتے ہوئے جب اِنْ کُنْتُم مُؤْمِنِیْنَ پر پہنچا تو میں نے کہا: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ جو لوگ میرے خوف سے چھپ گئے تھے وہ بلند آواز سے اللہ اکبر کہتے ہوئے نکل آئے، اور انھوں نے مجھ سے جو کلمہ شہادت سنا اس پر خوشی کا اظہار کیا اور مجھے مبارک باد دی، اور اللہ عزوجل کی حمد کی اور مجھ سے کہا: اے ابن الخطاب مبارک ہو، ہم کو امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی۔ جب ان کو میرے قبولِ اسلام کی صداقت کا یقین ہوگیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ وہ صفا کے نیچے ایک مکان میں ہیں، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھول دو، اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا ہے تو ان کو ہدایت عطا فرمائے گا، پھر دروازہ کھولا اور دو شخص میرے بازو پکڑ کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، آپ نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو، میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا: اسلام قبول کرلو، میں نے کہا: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ یہ سن کر تمام مسلمانوں نے اس زور سے نعرہ لگایا کہ مکہ کے در و دیوار گونج اٹھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال اسلام لائے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ حضرت عمر کا اسلام لانا فتح تھا، ان کی ہجرت نصرت تھی اور ان کی امارت (حکومت) رحمت تھی، ہم نے وہ وقت بھی دیکھا جب ہم بیت اللہ میں علانیہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، حتی کہ حضرت عمر اسلام لے آئے، پھر حضرت عمر نے مشرکوں سے جنگ کی حتی کہ انھوں نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم نے بیت اللہ میں علانیہ نماز ادا کی۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کمالِ دین و ایمان کی کیفیت اللہ کے رسول نے اس طرح بیان فرمائی:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بینا انا نائم رأیت الناس یعرضون و علیھم قمص۔الی آخرہ (مسلم:۶۰۶۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت میں سو رہا تھا میں نے دیکھا کہ لوگ (مجھ پر) پیش کئے جا رہے ہیں ان کے جسموں پر قمیص ہے بعضوں کی قمیص سینہ تک ہے اور بعض لوگوں کی قمیص اس سے کم ہے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو ان کی قمیص (اتنی لمبی تھی کہ زمین تک) پہنچ رہی تھی، ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دین اسلام (مسلم شریف) رب کریم نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کمالِ دین و ایمان کو اس طرح بتلایا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قوتِ ایمانی و جلال کا یہ حال تھا کہ شیطان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر راستہ بدل دیتا۔ مسلم شریف میں ہے: قال استأذن عمرؓ إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و عندہ نسائٌ ۔۔۔ إلی آخرہ (مسلم:۶۰۸۰)
(بقیہ صفحہ ۲پر)

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.