عصر حاضر میں ایمان کے تقاضے

ایما ن کے لغوی معنی: ایما ن کے معنی کسی بات یا عقیدہ کو سچے دل سے ماننا اور اس پر یقین کرنے کے ہیں۔ ایمان امن سے ہے۔ ایما ن کے اصل معنی امن دینے کے ہیں اس لفظ کی حقیقی روح یقین ، اعتماد اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔

جھلکیاں
  • اللہ پر ایمان لانے کا مطلب: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات اقدس ، صفات، حقوق اور اختیارات کو دل سے تسلیم کرنا۔محض ا سکے وجود کو ماننا ہی نہیں بلکہ اسے اس لحاظ سے ماننا کہ وہی ایک خدا ہے اس کی خدائی میں ذرہ برابر بھی کوئی شریک نہیں۔
  • اللہ کی صفات میں شرک: ساری اچھی صفات اللہ کے لئے ہیں۔ وہ رحیم ، رحمن ، علیم، حکیم ، سمیع ، بصیر، خبیراور عالم الغیب ہے۔ اس کا علم ماضی حال اور مستقبل پر محیط ہے۔ کائنا ت کے ذرہ ذرہ پر اس کی نظر ہے۔ وہ سب کی سنتا اور ان کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔
  • قرآن مجید نے ایمان والوں کو تاکید کی کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو رفیق نہ بنائیں ورنہ تمہارا شمار بھی ان ہی میں ہوگا۔ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردتیا ہے۔( سورہ المائدہ: ۵۱)

عصر ِحاضر میں خود کو اور اپنے اہل و عیال کو دجالی فتنوں اور جہنم سے بچاناضروری ہے۔نئی نسلوں کو دینی تعلیم ا ور تربیت کی اشد ضرورت ہے جو حالات کی رو میں بہتے جا رہے ہیں۔ انسان کی کامیابی کی پہلی صفت ایمان ہے۔قرآن مجیدکابندوں سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ایمان لائیں۔

انبیا ء علیہم والصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ایمان کی طرف دعوت دینا ہے۔ وہ لوگوں کو ربِ کائنات کی طرف بلاتے ہیں (آل عمران: ۲۰) قرآن کے نزدیک ایما ن ہی حق ، ہدیٰ اور نور ہے۔ اس کے برعکس کفر، ظلم، ظلالت اور ظلمت ہے۔ قرآن مجید نے دنیا کے تمام انسانوں کے درمیان ایک خط ِ فاصل کھینچ کر دو گروہوں میں تقسیم کردیا۔

(۱) ایمان ( یعنی ماننے ) والے۔ (۲) کفر (یعنی انکار کرنے) والے۔

اس چراغ کی روشنی اتنی صاف و شفاف ہے کہ اس کی موجودگی میں بھٹکنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ وہ دنیا کے ٹیڑ ھے ترچھے راستوں کو ممتاز وممیز کرکے دیکھ لے گا۔اور بخیر و عافیت منز ل ِ مقصود تک پہنچ جائے گا اور جو ایمان کی شمع اپنے پاس نہیں رکھتا اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس کے لئے سیدھے اور ٹیڑھے راستوں کا فرق معلوم کرنا مشکل ہے وہ اندھو ں کی طرح اندھیرے میں ٹٹول ٹٹول کر چلے گا۔

ممکن ہے اس کاکوئی قدم صحیح راستہ پر پڑ جائے مگر اس راستہ پر چلنے کا کوئی یقینی ذریعہ نہیں ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ وہ راہ راست سے بھٹک جاے گا۔علماء کرام نے ایمان کو بیج سے تشبیہ دی ہے جب تک زمین میں بیج نہ ہو کوئی درخت نہیں اُگ سکتا لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس زمین میں بیج بویا جاے وہ بھی زرخیز ہو۔ آب و ہوا بھی اچھی ہو اور پھرکسی کسان کی طرح اپنے کھیت کھلیان کی پوری طرح دیکھ بھال کرنے والا ہو۔

اس میں خوب پھل پھول آنے کی اللہ سے دعاکرنے والا ہو۔ تب کہیں جاکر اس کے باغ میں بہار آتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایما ن کا ہے جب ایما ن کا بیج دل میں ہوگا تو عمل کا درخت ضرور اُگے گا اور پھر بہار بھی آئے گی۔ جب ایمان کی اتنی اہمیت ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کی کماحقہ، تفصیلا ت سے آگہی حاصل کریں اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کریں۔

ایما ن کے لغوی معنی: ایما ن کے معنی کسی بات یا عقیدہ کو سچے دل سے ماننا اور اس پر یقین کرنے کے ہیں۔ ایمان امن سے ہے۔ ایما ن کے اصل معنی امن دینے کے ہیں اس لفظ کی حقیقی روح یقین ، اعتماد اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔

عربی لغت میں اٰمَنَ لہ، کے معنی صدّقہ ، و اعتمدَ علیہ (ا س کی تصدیق کی اور اس پر اعتما دکیا ) اور یہ لفظ قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ سورہ حجرات میں فرمایا گیا: مومن تو حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ اور ا س کے رسول پر ایمان لائیں اور پھر شک میں نہ پڑیں (آیت: ۱۵) جب سوچ سمجھ کر اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لائے تو پھر کسی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ ہر حال میں اس پر جمے اور ڈٹے رہے جیسا کہ سورہ حم السجدہ میں ارشاد باری تعالی ہے :

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔ (سورہ حم السجدہ: ۳۰) حالات کیسے ہی ناموافق ہوں اپنا اور اپنے عزیز و اقارب کا کتنا ہی نقصان ہوتا ہو۔ اس کی پرواہ نہ کریں۔ ہر حال میں کہیں کہ ہم تو مسلم ہیں۔اللہ کے بندے تو اس سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے بھی ہیں اور بات بھی اصولی ہے کہ جس سے محبت کرتے ہیں اس کی ناراضگی سے خوف بھی آتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہ مومن تو حقیقت میں وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ا ن کے دل لرز جاتے ہیں۔ ( سورہ انفال: ۲)

قرآن مجیدمیں بات بڑے لطیف پیر ا ئے میں کہی جاتی ہے لیکن مخاطب کے دل میں پیوست ہوجاتی ہے۔ چنانچہ (سورہ النساء: ۱۳۶ ) میں فرما یا گیا : ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ایما ن لائو اللہ اور اس کے رسول پر‘‘۔ قا بل ِغور پہلو یہ ہے کہ جولا چکے ہیں ان سے کہا جارہا ہے۔ ایمان لائو۔ تو یہاں ایمان لانے سے کیا مرا دہے اور کن چیزوں پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

۱۔ بنیادی طور پر ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہوجائے۔

۲۔اس کا دوسرا مطلب یہ کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اور اپنی فکر، پسند و ناپسند کو ، اپنی دوستی اور دشمنی کو ، اپنے دینے اور رکنے کو ، بالکل اسی عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ اس لیے پہلے خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو ماننے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور انہی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنوں کے لحاظ سے ایمان لائیں۔

ایمان لانے سے کیا مراد ہے ؟

۱۔ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات اقدس ، صفات، حقوق اور اختیارات کو دل سے تسلیم کرنا۔محض ا سکے وجود کو ماننا ہی نہیں بلکہ اسے اس لحاظ سے ماننا کہ وہی ایک خدا ہے اس کی خدائی میں ذرہ برابر بھی کوئی شریک نہیں۔

اللہ کی ذات میں شرک:اللہ ایک ہے۔ احد و صمد ہے، لم یلد ولم یولد ہے۔ ساری کائنات پر اسی کی حکومت ہے۔ وہ جو چاہے وہ کرنے والا ہے، اس کی جوہر الوہیت میں کسی کو حصہ دار قرار دینا۔ جیسے عیسائیوں کا عقیدۂ تثلیث یعنی Faith of Trinitiy جب کہ قرآن میں حضرت مسیح ؑ کے الفاظ یوں دہرائے گئے ہیں: ’’بے شک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو یہی سیدھا راستہ ہے‘‘۔

مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قراردینا۔ ان کا خیال تھا کہ بلا واسطہ خدا تک رسائی ناممکن ہے اس لئے فرشتوں کو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ بناتے تھے۔ وہ کہتے تھے: ہم نہیں پوجتے مگر اس لئے کہ وہ ہم کو خدا سے قریب کردیںگے۔ دنیا کی فارغ البالی اور خوش حالی ان فرشتوں کی بندگی میں سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں اولاد ان کی عنایت سے ملتی تھی۔(سورہ اعراف: ۱۹۰)

۲۔اس کا دوسرا مطلب یہ کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اور اپنی فکر، پسند و ناپسند کو ، اپنی دوستی اور دشمنی کو ، اپنے دینے اور رکنے کو ، بالکل اسی عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ اس لیے پہلے خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو ماننے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اور انہی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنوں کے لحاظ سے ایمان لائیں۔

ایمان لانے سے کیا مراد ہے ؟

۱۔ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب: اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات اقدس ، صفات، حقوق اور اختیارات کو دل سے تسلیم کرنا۔محض ا سکے وجود کو ماننا ہی نہیں بلکہ اسے اس لحاظ سے ماننا کہ وہی ایک خدا ہے اس کی خدائی میں ذرہ برابر بھی کوئی شریک نہیں۔

اللہ کی ذات میں شرک:اللہ ایک ہے۔ احد و صمد ہے لم یلد ولم یولد ہے۔ ساری کائنات پر اسی کی حکومت ہے۔ وہ جو چاہے وہ کرنے والا ہے۔ اس کی جوہر الوہیت میں کسی کو حصہ دار قرار دینا۔ جیسے عیسائیوں کا عقیدۂ تثلیث یعنی Faith of Trinitiy جب کہ قرآن میں حضرت مسیح ؑ کے الفاظ یوں دہرائے گئے ہیں: بے شک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی بندگی کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قراردینا۔ ان کا خیال تھا کہ بلا واسطہ خدا تک رسائی ناممکن ہے اس لئے فرشتوں کو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ بناتے تھے۔

وہ کہتے تھے: ہم نہیں پوجتے مگر اس لئے کہ وہ ہم کو خدا سے قریب کردیںگے۔ دنیا کی فارغ البالی اور خوش حالی ان فرشتوں کی بندگی میں سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں اولاد ان کی عنایت سے ملتی تھی۔ (سورہ اعراف: ۱۹۰) اسی طرح روزی بھی انکی مہربانی سے ملتی ہے ( سورہ عنکبوت: ۲۹؍۱۷) اور اہل عرب آخرت کو ناممکن سمجھتے تھے اور اگر قیامت ہوئی بھی تو ان کا خیال تھا کہ یہ فرشتے ان کی سفارش کریں گے۔ سورہ نجم میں تین بتوں کا ذکر ہے لات ، منات اور عزیٰ ، یہ تینو ں فرشتوں کے بت تھے اور تینوں کے نام عورتوں کے نام ہیں۔

اللہ کی صفات میں شرک: ساری اچھی صفات اللہ کے لئے ہیں۔ وہ رحیم ، رحمن ، علیم، حکیم ، سمیع ، بصیر، خبیراور عالم الغیب ہے۔ اس کا علم ماضی حال اور مستقبل پر محیط ہے۔ کائنا ت کے ذرہ ذرہ پر اس کی نظر ہے۔ وہ سب کی سنتا اور ان کی حاجتیں پوری کرتا ہے۔ کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس پر غیب کی ساری حقیقتیں روشن ہیں۔ یا وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے یا وہ تمام نقائص اور تمام کمزوریوں سے منزہ اور بالکل بے خطا ہے۔گویا خدائی صفات میں کسی صفت کو دوسرے کیلئے قرار دینا شرک فی الصفات ہے۔

اللہ کے اختیارات میں شرک: خدا ہونے کی حیثیت سے جو اختیارات صرف اللہ کے لئے ہیں ان کو یا ان میں سے کسی کو اللہ کے سوائے کسی اور کے لئے تسلیم کرنا شرک ہے۔ ہدایت اس کے اختیار میں ہے۔ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا نا اللہ کے اختیار میں ہے۔ پوری دنیا مل کر بھی کسی کو نقصان نہیںپہنچا سکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ نہ چاہے۔ اسی طرح پوری دنیا مل کربھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چاہے۔ دعائیں سننا ان کی دستگیری کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اپنی مخلوق کی حفاظت کرنا خطرات سے بچاتے ہوے پروان چڑھانا۔

زندگی اورموت اس کے اختیار میں ہے۔ وہ صحت مند کو بیماراور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ یہاں ہر آدمی فقیر اور محتاج ہے غنی اور اَن داتا صرف اللہ ہے۔ رزق میں کشادگی اور تنگی اس کے اختیار میں ہے۔ اولاد دینے والا وہ ہے کسی کو بیٹے ،کسی کو بیٹیاں اورکسی کو بیٹے اور بیٹیاں دیتا ہے۔ یوں تو بلائیں اور مصیبتیں انسان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں ان بلاوںاور مشکلات کو ٹالنے کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ قسمتوں کو بنانا اور بگاڑنا ، حلال و حرام اور جائز وناجائز کی حدود مقرر کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اگر یہ اختیار کسی اور کے لئے تسلیم کیاجائے تو اس نے شرک کیا۔ انسانی زندگی کے لئے قانون و شرع تجویز کرنا اللہ کے اختیار میں ہے کسی غیر اللہ کو یہ اختیار دینا شرک فی الاختیار ہے۔

اللہ کے حقوق میں شرک: خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر خدا کے جو حقوق ہیں وہ یا ان میں سے کوئی حق خدا کے سوا کسی اور کے لئے ماننا شرک ہے۔ مثلاً رکوع و سجود ،یہ اللہ کا حق ہے کہ بندے اسی کا سجدہ کریں۔ اپنے سر صرف اسی کی بارگاہ میں جھکائیں۔ بندگی و پرستش اس کا حق ہے۔ انسان مانے یا نہ مانے اس کو جو بھی نعمتیں ملی ہیں وہ اللہ کے رحم کرم سے ملی ہیں لہٰذا شکر اسی کاادا کرئے۔ قربانی اسی کے نام کی ہو۔ نذر و نیاز صر ف اس کے لئے ہو۔ قضائے حاجات اور رفع مشکلات کے لئے منت اسی سے مانی جائے۔

چھوٹی بڑی ہر مشکل اور مصیبت کے وقت اسی کو پکارا جائے۔اس طرح انسان کی تما م محبتوں کا محور اور مرکز صر ف اور صرف اللہ ہی ہو۔اس کی محبت پر دوسری تمام محبتیں قربان کی جائیں۔ خوف اسی کاہو محبت ا سی سے ہو۔ خشیت اسی سے ہو اور تقویٰ اسی سے ہو۔ اور اس کی ہدایت کو صحیح اور غلط کا معیار (Criteria) تسلیم کیا جائے۔ اور ایسی کسی اطاعت کا حلقہ اپنی گردن میں نہ ڈالا جائے جو اللہ کی اطاعت سے آزاد ہو۔ یہ اللہ کے حقوق ہیں ان میں سے کوئی بھی حق غیر اللہ کو دیا جائے وہ شرک ہوگا۔ زبان سے کہے یانہ کہے۔

رسول پر ایمان لانے کا مطلب: رسول کو اللہ کا پیغمبر ،ہادی اور رہنما تسلیم کرنا۔ اللہ کا بندہ تسلیم کرنا۔ او ر جس چیز کی بھی وہ تعلیم دے وہ اللہ کی طرف سے برحق اور واجب التسلیم مانے۔ اس کی عزت و احترام کرنا۔ اس کے حکم کو ماننا۔ کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال (۲۰) میں ارشاد فرمایا ’’اے ایمان والوں، اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرواور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے ‘‘…اللہ کے رسول نے جس چیز سے منع کیا ہے ا س سے رک جانا۔

ہر معاملہ میں اس کے فیصلے کو بلا چوں و چرا تسلیم کرنا۔ اس سے پست آواز میں گفتگو کرنا۔ اور رسول کو اپنے ماں باپ ، اولاد اور خوداپنی جان سے زیادہ محبوب رکھنا۔ رسول کے احکام کی من و عن اطاعت کرنا۔ وہ اس لئے کہ رسول کی اطاعت دراصل خدا کی اطاعت اور اس کی نافرمانی خدا کی نافرمانی کے مماثل ہے۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں انہیں خوش خبری دی گئی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو ں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیقین ، اور شہدا، اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔( سورہ النساء: ۶۹)

اسی طرح اختلافات کے موقع پر رسول ؐکے فیصلے کو بلا کسی پس و پیش کے تسلیم کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’ نہیں اے محمدؐ ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں اور پھر جو کوئی تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں‘‘ ۔ (سورہ النساء: ۶۵)

فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب: ملائکہ کو اللہ کے بندے تسلیم کرنا ، ان کے وجود کو ماننا۔ خدا کے فرمابردار بندے اللہ کاحکم بجالانے والے تسلیم کرنا۔ ان میں چار فرشتے بڑے ہیں۔ حضرت جبرئل علیہ والصلوٰۃ والسلام۔ حضرت عزرائل ، حضرت میکائل اور حضرت اسرافیلؑ۔ تما م فرشتوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ وہ اللہ کاحکم فوراًبجالاتے ہیں۔ان کی جنس کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔

مشرکین مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیا ں قرار دے رکھا تھا۔جو سراسر غلط اور کھلا شرک ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی قوت دی رکھی ہے۔ یہ ایک دو تین وغیرہ پَر سے آراستہ ہیں۔ حضرت جبریل ؑ کے ایک پَر مارنے سے یہ دنیا اتھل پتھل ہوسکتی ہے۔

انبیاء پر ایمان لانے کا مطلب: یو ں تو مسلمان تما م انبیاء پر ایما ن لاتے ہیں لیکن خاص کر حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخاتم النبین تسلیم کرتے ہیں۔ ان میںکوئی تفریق نہیں کرتے۔ حضرت آدم ؑ ، نوحؑ ، ابراہیم ؑ ، لوط ؑ ، اسماعیل ؑ یعقوب ؑ ، صالح ؑ یوسفؑ ، موسی ٰ، عیسیؑ ان کے علاوہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔

آخرت پر ایما ن لانے کا مطلب: بندہ پورے یقین کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرے کہ انسان کی موجودہ زندگی پہلی اور آخری زندگی نہیں ہے۔ بلکہ مرنے کے بعد انسان کو دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا ہے۔ ان اعمال کا حساب دینا ہے جو اس نے زندگی میں انجام دئیے ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایاگیا‘اچھے برے ، آگے پیچھے جو بھی اعمال کئے ہوںگے یا ان سے بچے ہوں وہاں دیکھ لے گا۔ اور جو گناہ گا ر ثابت ہوں گے ان کو سزا ملے گی۔

اور وہاں چھوٹی سے چھوٹی نیکی یابدی کو بندہ دیکھ لے گا۔ تمام اعمال کی جانچ پڑتا ل کی جائیگی، گواہ بھی لائے جائیں گے۔ انسان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضائے بدن گواہی دیںگے۔ فرشتے ساری زندگی کا دفتر(اعمال نامہ) اللہ کے روبرو پیش کردیں گے اور اس محاسبہ میں جو نیک قرار پائیں گے انہیں جزا ملے گی اور وہی کامیاب لو گ ہوںگے۔ ایمان کی دولت ہی بندے کو اخلاق وکردار اور پاکیزہ سیرت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

جس پر دنیا و آخرت کی کامیابی کی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ ورنہ جہاں سرے سے ایمان ہی نہ ہو وہاں انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو۔ اس کا حال ایک بے لنگر کے جہاز کا سا ہوتا ہے۔جو موجوں کے تھپڑیوں کے ساتھ بہتا تو چلاجاتا ہے لیکن کہیں قرار نہیں پکڑتا۔

جب ایما ن کی اتنی بڑی اہمیت ہے تو اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں:

۱۔ ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم خدا ترسی اختیار کریں۔ چنانچہ سورہ انفال آیت۹۲، میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اے ایمان والو! اگر خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کرے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘۔گویا اگر ہم دنیامیں اللہ سے ڈرتے ہوے زندگی بسرکریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے نیکی و بدی کے درمیان فرق کرنے کے لئے ایک کسوٹی فراہم کردیں گے جو زندگی کے ہرمیدان میں ہمارے کام آئے گی۔

ہمارے اند ر وہ قوت ِ تمیز پیدا ہوجائے گی جس سے قدم قدم پرہمیں یہ معلوم ہوتا رہے گا کہ کون سا رویہ صحیح اور غلط ہے۔ کس چیز میں اللہ کی رضا پنہاں ہے اور کس طریقہ کار سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ زندگی کے ہر موڑپر ، ہر نشیب و فراز پر تمہاری اندرونی بصیرت تمہیں بتائے گی کہ کدھر کو قدم اٹھانا ہے اور کدھر سے گھٹانا ہے۔ کونسی راہ حق کی طرف جاتی ہے اور کونسی راہ باطل ہے اور شیطان سے ملاتی ہے۔

۲۔ ایمان کا تقاضہ ہے کہ آدمی اللہ کی رضا کو دوسرے کی رضا پر مقد م رکھے اور کسی چیز کی محبت بھی انسان کے دل میں یہ مقام حاصل نہ کرلے گہ وہ اللہ کی محبت پر اسے قربان نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ آ ج کل بعض مسلم لڑکیاں بلا سوچے سمجھے غیر مذہب کے لڑکوں سے شادی کررہی ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ ایمان سے بڑھ کو کوئی چیز نہیں ہے۔اسی سے دنیا اور آخرت میں کامیابی ہے۔

۳۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مال و متاع ہمیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہواورنہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش چلے گی۔ (البقرہ: ۲۵۴) لیکن اس کا ذکر کرنے کے بعد اس بات کی بھی وضاحت فرمادی کہ اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتاہے۔

اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ آخرت پر۔ (البقرہ: ۲۶۴) آج کے پر آشوب ماحو ل میں ایمان والوں سے قرآن کا تقاضہ ہے کہ ’’ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائیں بلکہ آپس کی رضا مندی سے لین دین ہونا چاہیے‘‘۔ (سورہ النساء: ۲۹)۔ شادی بیاہ میں لڑکی والوں سے لین دین اور جہیز مانگنا گناہ کے مترادف ہے۔

۴۔ ایما ن کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ وہ خالص اللہ کی بندگی کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کریں۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن ِسلوک سے پیش آئیں۔ پڑوسی ، رشتہ دار ، اجنبی ہمسایہ ، پہلو کے ساتھی ( یعنی جو سفر میں یا دکانداری میں ساتھ ہوں) مسافر اور نوکر چاکر کے ساتھ احسان کا معاملہ رکھیں۔

۵۔ ایمان کاتقاضہ یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور تم میں سے جو صاحب امر ہوں ان کی اطاعت کریں۔ پھر اگر تمہارے درمیاں کسی معاملہ میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسولؐکی طرف پھیر دیں۔

۶۔ ایمان والوں سے قرآن کا تقاضہ ہے کہ انصاف کے علم بردار بنیں۔ اور خدا واسطے کے گواہ بنیں اگرچہ کہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ (سورہ النساء: ۱۳۵)

۷۔ قرآن مجید نے ایمان والوں کو تاکید کی کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو رفیق نہ بنائیں ورنہ تمہارا شمار بھی ان ہی میں ہوگا۔ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردتیا ہے۔( سورہ المائدہ: ۵۱)

۸۔ تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کے رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنالیں اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے (المائدہ: ۵۶)

۹۔ ایما ن کا تقاضہ ہے ’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایما ن پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوںگے۔

اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں …تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کے اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔ اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔(سورہ التوبہ:۲۴)

۱۰۔’’ ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔ یقیناً اللہ سب پرغالب اور حکیم و دانا ہے‘‘ (التوبہ: ۷۱)

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آج ضرورت ا س بات کی ہے ہم اپنی زندگی کا خود جائزہ لیں اور اگر کہیں رخنہ نظر آئے تو خود اپنا احتساب کریں قبل اس کے کہ ہمارا حساب لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ایما ن کی دولت سے مالامال کرے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭٭٭

ڈاکٹر محبوب فرید

mehboobfarid@gmail.com

فون نمبر:9885398282

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.