قتل، اسلام میں ایک سنگین جرم

قتل کی جو وارداتیں انجام دی جا تی ہیں ان کا تعلق اکثر کسی بڑے واقعہ سے نہیں ہوتا،بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں ، گھریلوں جھگڑے ، دوستانہ مراسم ، رقمی لین دین اس کا بنیادی سبب ہیں ۔

محمد عبد الرحیم خرم عمری جامعیؔ

آئے دن شہر میں پے در پے قتل کی وارداتیں پیش آرہی ہیں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ وارداتیں مسلم سماج و معاشرے میں واقع ہو رہی ہیں ،اور ستم بالا ستم یہ کہ پرانے شہر کے حدود میں یہ واقعات پیش آرہے ہیںان وارداتوں کے سبب مسلم امت کی شبیہ بری طرح متأثر ہورہی ہے اور پرانا شہر بدنام کیا جارہا ہے، جو کسی بھی صورت ناقابل برداشت ہے، اس کا تدارک انتہائی ضروری ہے جس کے لئے علماء ، زعماء ، خطباء اور ہر ذی شعور انسان کو اٹھ کھڑے ہونااور اس جانب توجہ دینا ضروری ہے ۔ ورنہ نوجوانوں کے اخلاق و کردار پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ واقعہ اور حادثہ صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے سماج کو متأثر کرتا ہے ۔اور علاقائی ترقی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ۔

یہ بات ہم اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ کسی بھی قوم و تہذیب کو بدنام کرنے اور ان کی نیک نامی کو بری طرح متأثر کرنے،اور اس قوم کو معتوب کرنے کے لئے ایسے حوادث و واقعات کو اور بھی ہوا دی جاتی ہے، جس کو سمجھنے سے ہمارے نوجوان قاصر ہیں۔

قتل کی جو وارداتیں انجام دی جا تی ہیں ان کا تعلق اکثر کسی بڑے واقعہ سے نہیں ہوتا،بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں ، گھریلوں جھگڑے ، دوستانہ مراسم ، رقمی لین دین اس کا بنیادی سبب ہیں ، بسا اوقات بڑے بڑے معاملات بھی اس کا سبب جن جاتے ہیںاس کے علاوہ ہمارے نوجوانوں کا یہ وطیرہ بنتے جارہا ہے کہ ذرا سی بات پر قتل کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں،ابھی حال ہی میں ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی واقعہ کے لحاظ سے بہت ہی معمولی بات تھی جو درگزر کے قابل تھی لیکن قتل کا موجب بنی۔ ایک گاڑی سوارکو دوسرے گاڑی سوارکا تھوڑا سا دھکا لگا، ایک نے کہا : ’’ دیکھ کے چلانے نہیں آرا کیا‘‘ دوسرا اپنی گاڑی سے اترا اور چاقو گھونپ کر قتل کردیا۔اسی طرح دو آٹوڈررائیورس کی تکرار ہوئی سواری لینے کے لئے ،اور سواری کی قیمت صرف دس روپئے کی مسافت کی تھی ،لیکن دونوں میں تکرار ہوگئی ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔

اسی طرح کی ایک واردات پیش آئی کہ: ایک دعوت میں ایسا طفیلی دعوتی شریک ہوا اور اس نے چکن کے سالن کی جلد سربراہی پر بیرے سے بحث و تکرارکیا اور بیرے کا قتل کردیا۔ابھی حال میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ رقم دینے کے بہانے ایک شخص کو کسی مقام پر طلب کیا اور بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ عرصہ پہلے اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ پان کی دکان پر ایک روڈی شیٹر آیا اور اس نے کولڈرنگ بوتل نوش فرمایا اور جانے لگا، پان شاپ کے مالک نے پیسے طلب کئے، بس غصہ آگیا اور کہنے لگا ’’پہچانا نہیں میں کون ہوں‘‘ ہم سے پیسے کی طلب ! چاقو نکالا اور گھونپ دیا ، اور ایک کولڈرنک کے لئے پان شاپ کے مالک کا قتل ہوگیا۔ ان واقعات میں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے جو قتل کا سبب بن سکتا تھا،لیکن آئے دن قتل و غارتگری کا ایک ٹرینڈ بنتے جارہا ہے، نوجوان یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی بالا دستی کے لئے یہی اہم ہے، مسلمان ہونے کی حیثیت ان واقعات کا تدارک ضروری ہے ورنہ مسلم سماج کی بنیادیں ہل جائیں گی ۔اسلام نے اس کی سخت مذمت بیان کی ہے ۔

اسلام میں قتل کی حیثیت:دین اسلام نے ناحق خون بہانا ،آپس میں قتل و غارت گری کو سخت ناپسند کیا ہے اور اس کے مرتکبین کو دنیا میں سخت سزاء مقرر کی ہے اور آخرت کی سزا اس سے زیادہ بڑی ہوگی ،قتل کی ناپسنددیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کے بعد سب سے قبیح عمل’’ قتل ‘‘ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی بھی نفس کو ناحق قتل کردینا ہے‘‘( مسلم)

کبیرہ گناہوں میں قتل کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’سب سے بڑے گناہوں میں اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ،یا کسی کو قتل کرنا ہے۔ ( تفسیر طبری)

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’بڑے گناہ سات قسم کے ہیں ایک تو اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا اور دوسرا کسی جان کو ناحق قتل کرنا …‘‘(الجامع الصغیر:۲۳۴۶)

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :’’ ہلاک و برباد کرنے والی سات چیزوں سے بچو، ایک تو اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا ہے پھر سحروجادوگری ہے۔ پھر ناحق کسی جان کا قتل کرنا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ‘‘( الجامع الصغیر:170 )

قتل انسانی فطرت میں: قتل وغارت گری انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ اہل کفر کا وطیرہ ہوسکتا ہے لیکن اہل ایمان کا طریقہ نہیں ہوسکتا ، انسان کی اس کمزور فطرت کا علم فرشتوں کو بھی تھا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسانی تخلیق سے آگاہ کیا تو فرشتوں نے اسی بری خصلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ :’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں توانہوں نے کہاکہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ( البقرۃ: ۳۰)

روئے زمین کا سب سے پہلا قتل ایک خوبصورت لڑکی کے عشق میں پیش آیا جوآدم کے دو بیٹوں ہابیل ؔاور قابیل ؔکے درمیان واقع ہوا ایک لڑکی کے لئے ہابیلؔ نے قابیل ؔکو قتل کردیا ،اب روئے زمین پر جتنے بھی قتل ہوں گے اس کے گناہ میں ہابیلؔ برابر کا شریک رہے گا کیونکہ اس نے قتل کا رواج عام کیا تھا۔قتل و غارت گری سے صرف نفرتیں پروان چڑھتی ہیں ، ایسے واقعات دور جاہلیت کی تاریخ میں بہت مشہور ہیں ،اسلام نے ان جاہلی عادتوں سے دنیا کو آزاد کیاہے۔

قتل کی قباحت:اللہ تعالیٰ نے قتل کو نا پسند کیا ہے اور اس سے منع کیاہے،اس بات سے انسان کو آگاہ کیا کہ کسی انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی لئے لوگوں کو زندگی دینے والے بن جاؤ ، ایک انسان کو زندگی دینا ساری انسانیت کو زندگی دینے کے برابر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو ،قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ،اور جو شخص کسی ایک کی جان بچائے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا‘‘( المائدہ:۳۲)
حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کو جن جن باتوں کی نصیحت کی ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ :’’ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنوںکو قتل کرتے ہوئے کافر نہیں بن جانا ‘‘ ( بخاری:7080 /نسائی: 4137 )

قیامت کے دن جن جن باتوں کا پہلے حساب وفیصلہ لیا جائے گا اس میں سے ایک قتل بھی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے پہلا فیصلہ لوگوں کے درمیان جو کیا جا’ئے گا وہ خون (قتل)کے متعلق ہوگا‘‘( مسلم:1678 /ابن حبان:7344 /مسند احمد/صحیح الجامع:2577 / نسائی:4005 )

دنیا کا برباد ہوجانا، معیشت کا تباہ ہوجاتا ، کاروبار کا تلف ہوجانا، کسی چیز کا کھوجانا یہ سب معمولی باتیں ہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن ایک جان کا ضائع ہوجاتا بہت ہی اہمیت کی بات ہے ، کیونکہ دنیا کسی بھی وقت سنور سکتی ہے ، کاروبار درست ہوسکتا ہے ،کھوئی ہوئی چیز کچھ دیر بعد مل سکتی ہے لیکن جان جانے کے بعد دوبارہ حاصل نہیں کی جاسکتی ہے اسی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سمجھایا ہے کہ: ’’یقینا دنیا کا برباد ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ آسان ہے‘‘۔ (صحیح الجامع: 5077/ترمذی:1395 /نسائی:3998 )

کسی کو قتل کرنے کے بعد قاتل بلند حوصلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ بے بس و مجبور ہوجاتا ہے ، غیر مختتم مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے ، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیک اور صالح اعمال کرتا دکھائی دینے والا انسان بھی قتل جیسے قبیح و برے عمل سے آلودہ ہوجاتا ہے ان تمام باتوں کی صراحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی ہے: ’’مؤمن برابر نیکی کرتا رہتا ہے اور نیکی میں آگے بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ کوئی حرام خون نہ کرے جب وہ حرام خون کرلیتا ہے تو وہ بے بس ہوجاتا ہے ‘‘(ابوداؤد: 4270 )

ایک مسلمان بندہ سے مختلف قسم کے گناہ صادر ہوتے رہتے ہیں اس کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر و بھلائی کا معاملہ کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی وقت توبہ کرسکتا ہے اور سدھر سکتا ہے لیکن جب وہ قتل جیسا سنگین جرم اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں اور اس کی زندگی کو تنگ کردیتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :’’مؤمن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے(یعنی اسے مغفرت کی امید رہتی ہے) جب تک ناحق خون نہ کرے ،جہاں قتل ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہوجاتا ہے‘‘ (بخاری:6862 )

ناحق قتل وغار تگری ایک ایسا بھنور ہے جس سے نکل پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے، قاتل ذہنی پاگل پن کا شکار ہوجاتا ہے اور قتل کو وہ اپنا شوق و ذوق بنا لیتا ہے ،اوروہ برملا، ببانگ دہل کہتے ہیں کہ اب تک اس نے کئی کئی قتل کردئے ہیں، قتل کرنا اس کے لئے آسان کام ہے، چند پیسوں کے عوض وہ لوگوں کا قتل کردیتے ہیں ان کے بد ترین انجام کا انھیں اندازہ رہتا ہے اس کے باوجود بھی وہ اسے حوصلہ مندی سمجھتے ہیںاور پیشہ ور قاتل بن جاتے ہیںان کا انجام جانورووں سے بدتر ہوتا ہے۔ ہم نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایسے برے لوگوں کا انجام سڑکوں پر بے دردی کے ساتھ قتل کے ذریعہ ہوتا ہے لوگ تماشہ بین ہوتے ہیں منظر نگاری کرتے ہیں ویڈیو بناتے ہیں لیکن مدد کے لئے کوئی آگے نہیں آتا۔

ہم نے ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک پروگرام منعقدکیا تھا، جس میں پولیس کے اہل کار بھی شریک تھے،جس کا مقصد جرائم کے متعلق شعور بیدار کرنا تھا ،اس پروگرام میں ۶۳ روڈی شیٹرس شریک ہوئے ، ہم نے علماء کے بیانات رکھے ، اور انھیںقرآن مجید کا تحفہ بھی دیا اور ان سے وعدہ بھی لیا کہ وہ اس جرائم کی دنیا کو ترک کردیں، بہت سے روڈیوں نے عہد کیا کہ یقینا وہ اس جرائم کی دنیا کو ترک کردیں گے، اس زندگی سے وہ تنگ آچکے ہیں ، ایک شخص نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اب وہ اس دنیا کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھے گا ،لیکن آپ کو تعجب ہوگا کہ تین دن میں ہی اس کا ایک گروپ نے اسی کے گھر کے روبرو بہیمانہ قتل کردیا ‘‘ قتل وغارتگری کی دنیا انتہائی بے رحم ہوتی ہے ، انسان کو سدھر نے کا بھی موقع نہیں دیتی۔ قاتل سدھرنا چاہتا ہے لیکن انتقام سدھر نے نہیں دیتا ۔ جو بیج اس نے بویا تھا اسے تو کاٹنا ہی پڑے گا ۔ والدین پریشان ، بیوی بیوہ اور بچے یتیم اور خاندان بے سہارا ہوجاتا ہے، لیکن لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

بعض ایسے بھی قاتل ہوتے ہیں جو اپنی اس بری حرکت پر سوچ سوچ کر ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہوجاتے ہیں اس بھنور سے نکلنے کی راہیں ان کے لئے مشکل بن جاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بھنور کی حقیقت کو یوں واضح کیا ہے: ’’بیشک ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے‘‘ (بخاری:6863 )

قتل کرنے والا کتنا ہی عابد و زاہد، خیر و بھلائی کے کام کرنے والا کیوں نہ ہو ،جب اس نے قتل کا ارتکاب کیا ہے تو اس کی کوئی بھی عبادت قبول نہیں کی جاتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’جو کسی مؤمن کو ناحق قتل کرے ، پھر اس پر خوش بھی ہو تو اللہ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض‘‘۔ (ابوداؤد:4270 )

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر گناہ کو اللہ بخش سکتا ہے سوائے اس کے جو مشرک ہوکر مرے ،یا مؤمن ہوکر کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کردے‘‘ (ابوداؤد: 4270)

٭ قتل کا اخروی انجام:قتل دنیا میں بھی سنگین جرم ہے اور آخرت میں بھی اس کی سزا انتہائی سنگین ہے، دنیا کی سزاء سے تو قاتل بچ سکتا ہے لیکن آخرت کی سزا سے کوئی بھی بچ نہیں بچ سکتا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:’’اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے ،اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔(النساء: ۹۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ قتل کرنے والا اورقتل ہونے والا دونوں جہنمی ہیں‘‘اس حدیث کی تشریح میں یہ بات ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو قتل کا ارادہ کرنے کیلئے نکلے تھے لہٰذا ایک غالب آگیا اور قاتل بن گیا اور دوسرا مغلوب ہوا جو مقتول ہوا، لیکن ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت رکھتے تھے اسی لئے دونوں جہنمی ہیں (بخاری7083 : )

اسی طرح ایک اور حدیث شریفہ میں ہے کہ:’’ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں باہمی فسادات کے دنوں میں ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہؔ سے راستے میں ملاقات ہوگئی ، انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ :’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی( جنگ صفین و جمل میں) مدد کرنا چاہتا ہوں ، انہوں نے کہا لوٹ جاؤکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ:’’ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلے پر آجائیں تو دونوں جہنمی ہیں ‘‘( بخاری:7083 )

٭ اللہ کی نظر میںمغضوب لوگ: بعض بد نصیب لوگ ایسے ہیںجن سے اللہ تبارک و تعالیٰ ناراض رہتے ہیں اور ان پر غصہ ہوتے ہیں کتنی بد نصیبی کی بات ہوگی کہ مسلمان ہوتا ہوا اللہ کے غصے اور ناراضگی کا موجب بن جائے ۔ان بدنصیب لوگوں میں تین قسم کے لوگ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک تین قسم کے لوگ زیادہ مبغوض ہیں (۱) حرم میں لادینی کرنے والا(۲) اسلام میں جاہلیت کے طریقہ کار کا متلاشی (۳) کسی کے ناحق خون کا مطالبہ کرنے والا تاکہ اس کا خون بہائے ‘‘۔ (صحیح بخاری:6882 )

٭ مسلمان کے خون کی اہمیت: مؤمن کی عزت و آبرو ، جان و مال کی قدر و قیمت اللہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے،اسی بات کو مسلمان جاننے کی کوشش کریں ، ایک مسلمان کی قدر دوسرے مسلمان کے نزدیک کم ہونے کی وجہ سے توہین کے واقعات پیش آتے ہیں،ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ دوسرے مسلمان کی قدر و قیمت کو پہچانے، صحابی رسول حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہماایک دن خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں کہ:’’اے خانہ کعبہ! تم کس قدر عظیم ہو اور تمہاری حرمت کس قدر عظیم ہے ، لیکن مؤمن کی حرمت اللہ کے نزدیک تم سے کہیں زیادہ ہے‘‘ (ترمذی:2032 /صحیح الترغیب:2339 )

اسی طرح ایک اور حدیث میں مسلمان کی عظمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا: ’’بیشک تمہارا خون ، تمہارے مال، اور تمہاری آبروتم پر حرام ہے قربانی کے اسی دن کی حرمت کی طرح ، تمہارے اس شہر (مکہ) کی حرمت کی طرح اور تمہارے ان حرام مہینوں کی حرمت کی طرح‘‘ (بخاری:105/الصحیح المسند:1166 )

’’ مشہور صحابی اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ جہنیہؔ کے خاندان حرقہؔ سے لڑائی کے لئے روانہ کیا ہم نے شب خون مارکر انہیں شکست دی ، لڑائی کے دوران میں نے اور ایک انصاری صحابی نے خاندان حرقہؔ کے ایک شخص کو گھیر لیا اور اسی وقت اس نے زبان سے ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کی آواز نکالی ، انصاری صحابی تو آواز سنتے ہی پلٹ گئے ، لیکن میں نے نیزہ مار کر اسے قتل کردیا ۔

جب ہم مدینہ واپس لوٹے اور رسول اللہ اکو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی ، تو آپ نے مجھ سے کہا : اسامہ! تم نے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘کہنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا ؟

میں نے کہا یا رسول اللہ ! ’’ اس نے بچ نکلنے کے لئے لا الہ الا اللہ کہا تھا‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’اسامہ تم نے کیا کہا: ’’لا الہ الا اللہ ‘‘ کہنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا ؟ اسامہ کہتے ہیں کہ آپ برابر ایسے ہی کہتے رہے ،یہاں تک کہ میری خواہش ہوئی کہ میں آج ہی اسلام قبول کئے ہوئے ہوتا تو اتنا بڑا گناہ میرے سر نہ آتا۔ (بخاری: 4269 )

ایک اور روایت میں ہے کہ اسامہ نے کہا : اس نے بچ نکلنے کی غرض سے ’’ لا الہ الا اللہ‘‘ کہا تھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ کیوں نہیں تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا‘‘ کہ حقیقتاً اس نے یہ کہا ہے یا دوسری غرض سے ۔ آخر میں اسامہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کردیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : اسامہ! جب ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ قیامت کے روز آئے گا تو کیا کروگے ؟ ( یعنی جب وہ مسلم محشر میں حساب و کتاب کے وقت اپنے خون کا بدلہ لینے اللہ کے حضور تمہارے سامنے آئے گا تو کیا کرو گے ؟‘‘(بخاری ومسلم ، طبقات ابن سعد ، سیرت ابن ہشام ، البدایۃ و النہایۃ ، فتح الباری )

٭ مسلمان کی صفات: قرآن مجید کے مختلف مقامات پر مؤمن کی صفات بیان کی گئی ہیں اس میں سے ایک صفت یہ ہے کہ مؤمن قاتل نہیں ہوتاہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :’’اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا‘‘ (الفرقان: ۶۸، ۶۹)

لیکن افسوس صد افسوس! ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خون کو حلال کرلیا ہے، ہمارے خون کی اہمیت کو ہم نے گنوا دیا ہے، پہلے ہی اغیار کے نزدیک مسلمان کا خون کسی بھی اہمیت کا حامل نہیں رہا ملک کے ہر چاروں سمتوں میں جم کر مسلمان کا خون بہایا جارہا ہے جس پرکوئی افسوس کرنے والا نہیں لیکن دوسری طرف ہم خود آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔ قانون کے کمزور پہلو اورفلم بینی میں ماردھاڑکے نظاروں نے ہمارے نوجوانوں کو برباد کرکے رکھا ہے ، ہر کوئی ولن بننے کی کوشش کر رہا ہے جو ملک و ملت کے مستقبل کے لئے بہت ہی بری بات ہے۔

قیامت سے پہلے: قیامت سے پہلے بہت سے آثار نمایاں ہوں گے جن میں سے ایک مسلمانوں کے درمیان باہمی جنگ و جدال اور خونریزی بھی ہے اسی لئے آج ہم مسلم حکمرانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خون ریزی کا مشاہدہ کررہے ہیںجس کی مثال یمن و شام کے موجودہ حالات سے دی جاسکتی ہے ،اسی طرح باہمی خون خرابہ عام ہوتا جارہا ہے، قتل وغارتگری عام بات ہوکر رہ گئی ہے جو ہر روز ذرائع ابلاغ و نشر و اشاعت، اخبارات، و نیوز چینلوں کے ذریعہ ہمیں ملتی رہتی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان واقع ہونے والے کشت وخون کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی کردی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’زمانہ جلدی جلدی گزرے گا، اور دین کا علم دنیا میں کم ہوجائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور (حرج) خون خرابہ زیادہ ہوجائے گا، صحابہ اکرام نے فرمایا: ’’ہرج‘‘ کیا ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قتل خونریزی‘‘ (بخاری: 6037 )

قتل کا جنون: جب کسی پر قتل وغارتگری کا جنون سوار ہوجاتا ہے تو عقل ماؤف ہوکر رہ جاتی ہے قاتل یہ نہیں سوچتا کہ اس کا شکار کون بن رہا ہے؟ نہ ماں باپ کا خیال، نہ بھائی بہن کا خیال ، نہ ماموں ،خالہ چاچا، وپھوی کا خیال، نہ سسرالی رشتے داروں کا خیال، نہ بیوی بچوں کا خیال، نہ کسی رشتے ناطوں کا خیال، اگر ہم تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ باہمی قتل کے جنون نے صحابہ اکرام کی گردنوں کو تک نہیں چھوڑا ،خوارج کے فتنوں نے بہت سے صحابہ کرام کی گردنوں کو ذبح کیا ان ظالموں و قاتلوں کی تلواروں سے خلفائے راشدین عمر فاروق، ذوالنورین عثمان غنی، ابو التراب علی مرتضی، اہل بیت الاطہار کے محترم نفوس حسن و حسین رضی اللہ عنہم محفوظ نہ رہ سکے۔ قتل کا جنون سوار ہوتا ہے تو عزتیں و حرمتیں پامال ہوجاتی ہیں۔

اس ضمن میں ایک واقعہ کا تذکرہ مناسب ہوگا: ’’حجاج ابن یوسف عہد بنو امیہ کا ایک گورنرتھاجو علمی اعتبار سے انتہائی قابل تھا، لیکن کردار کے اعتبار سے ا نتہائی ظالم و سفاک تھا، اس کے ظلم سے عام رعایہ تو درکنا جلیل القدرصحابہ، اور تابعین بھی محفوظ نہ رہ سکے، اس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کو قتل کرکے حرم مکہ میں تین دن تک سولی پر لٹکا ئے رکھا، اسی طرح اس نے مشہور تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو بھی قتل کردیا ،یہ مشہور تابعی جلیل القدر صحابہ ابوسعید خدری،عدی بن حاتم الطائی،ابوموسی اشعری، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر،عبد اللہ بن عباس ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم کے شاگرد تھے ،جن کے بارے میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :’’ سعید بن جبیر رحمہ اللہ اس وقت شھید کردئے گئے جبکہ روئے زمین پر ہر کوئی ان کے علم کا محتاج تھا‘‘ ۔

اس ظالم حجاج بن یوسف کا یہ حال ہوا کہ جب وہ شدید بخار میں مبتلاء ہوگیا تو کبھی بیہوش ہوجاتا ،اور کبھی ہوش میں آتا ، جب آنکھ لگتی تو چیخ مار کر اٹھتا اور کہتا کہ سعید بن جبیر نے میرا گلا پکڑ رکھا ہے ، وہ مجھ سے پوچھتا ہے بتاؤتو نے مجھے قتل کیوں کیا ، پھر حجاج بچوں کی طرح رونے لگتا اور کہتا بھلا سعید بن جبیر سے میرا کیا واسطہ، مجھے کیا ہوگیا ہے۔ دنیا والو! سعید کو مجھ سے پیچھے ہٹا دو ، سعید سے مجھے بچالو، میں مارا گیا ، میں لوٹا گیا ، میں تباہ و برباد ہوگیا ‘‘۔

جب حجاج بن یوسف مرگیا اور اسے دفنا دیا گیا تو ایک شخص نے اسے خواب میں دیکھااور اس سے پوچھا :’’اے حجاج ! جن کو تو نے قتل کیا تھا ان کا بدلہ تجھ سے کیسے لیا جارہا ہے‘‘ اس نے کہا : ہر قتل کے بدلے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بار قتل کیا لیکن سعید بن جبیر کے بدلے مجھے ستر بار مجھے قتل کیا گیا‘‘۔( حیات تابعین/272 )

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے، قتل جیسے گناہ سے ہمارے ہاتھوں کو روکے رکھے ، ہم سب کو آپس میں بھائی بھائی بن کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ،امت مسلمہ کو شعور نصیب فرمائے ، ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے (آمین)

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.