ماہ صفر اور بد شگونی

حضرت سید نا محمد رسول اللہ ا کا یہ مبارک مختصر و جامع ارشاد ’’لاصفر‘‘ (ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں) نے اس طرح کی من گھڑت روایات اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ بد اعتقاد ی و بد شگونی کے جاہلانہ افکار پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔

جھلکیاں
  • اس ماہ مبارک کے تعلق سے دل و دماغ جو بد اعتقادی کے جراثیم نے جگہ پالی ہے انہیں کریدکرید کر نکال باہرنکالنے کیلئے اسلام نے مـزید عملی اقدامات کئے۔
  • ماہ صفر المظفرکو تیرہ تیزی کا مہینہ بھی کہاجاتا ہے، بعض ضعیف الاعتقاد اس ترقی یافتہ دور میں آج بھی اس مہینہ کو مصائب و آلام ، حوادث و آفات کے نزول کا مہینہ مانتے ہیں۔
  • دور جاہلیت میں بعض عربوں کا ماننا تھا کہ صفر سے مراد وہ سانپ ہے جو ہر ایک انسان کے بطن میں ہو تا ہے اور شدید بھوک کے وقت ڈستا ہے اور ایذاء پہونچاتا ہے۔

حضرت سیدنا محمد رسول اللہ اکی بعثت مبارکہ جس ماحول و معاشرہ میں ہوئی وہ با لکل کفر و شرک کی تاریکیوں میں ڈوبا ہو ا اور توہمات و باطل افکار و اعتقادات کی اسیری میں جکڑا ہو ا تھا، عقیدۂ توحید سے محرومی نے اس کو بد شگونی کے عمیق غاروں میں ڈھکیل دیا تھا، اپنے خالق ومالک کو بھولے ہوئے اس کے در سے ٹوٹے ہوئے انسان در در کی ٹھوکریں کھا رہے تھے، خوف خدا و خوف آخرت سے بے نیازی نے ان کو ہر چھوٹی بڑی حقیر سے حقیر ترین شی ءسے ڈر و خوف میں مبتلاء کر دیا تھا۔

اسی ڈر و خوف کے زیر اثر مشرکین عرب ماہ صفر اور ماہ شوال کو منحوس سمجھتے تھے اور ان مہینوں میں اسی بد اعتقادی کی وجہہ نکاح و شادی کر نے سے سخت احتراز کر تے ، کسی نئے کام کے آغاز یا کسی مہم کے سر انجام دینے سے باز رہتے تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان مہینوں کے نحس ہو نے کی وجہہ ان مہینوں میں کیا جانے والا کوئی کام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا، اس رسم بد کی بیخ کنی کیلئے اسلام نے ماہ شوال کو مکرم اور ماہ صفر کو مظفر کی صفت سے متصف کیا ۔

ماہ صفر المظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے ،تاریخ اسلام میں اس مہینہ کو ممتاز حیثیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اسی مہینہ کی ۲۷تاریخ کو آنحضرت ا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی جو غلبہ اسلام اور اسلامی ریاست کے قیام کا باعث بنی اور پوری دنیا میں جو اسلام پھیلا اس کا آغاز بھی مدینہ منورہ سے ہوا گویا پوری دنیا میں جو ظلمت چھائی ہوئی تھی اور ہرطرف خزاں تھی اس کا خاتمہ اسلام کی روشنی اور بہار کے ذریعہ مدینہ منورہ سے ہوا۔

اسی ماہ مبارک میں حضرت عمروبن العاص ،حضرت خالد بن ولیداورحضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ كان إسلام عمرو بن العاص و خالد بن الوليد و عثمان بن طلحة عند النجاشي فقدموا إلى المدينة في صفر سنة ثمان من الهجرة (المعجم الکبیر۹؍۶۱)،اسی ماہ میںخبیر فتح ہوا، اسی ماہ میں ایران فتح ہوا اور اسلامی سلطنت کو وسعت ملی ، اسی مہینہ میں عمر ثانی حضرت عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ خلافت کے منصب عالی پر فائز ہوئے اور اپنے ڈھائی سالہ دور خلافت میں عدل حضرت عمررضی اللہ کی یاد تازہ فرما دی۔ اس کے باوجود بعض لوگ آج بھی اس مہینہ کو منحوس تصور کرتے ہیں۔
اس ماہ مبارک کے تعلق سے دل و دماغ جو بد اعتقادی کے جراثیم نے جگہ پالی ہے انہیں کریدکرید کر نکال باہرنکالنے کیلئے اسلام نے مـزید عملی اقدامات کئے۔چنانچہ حضرت سیدنا محمد رسول اللہ انے حضرت سیدہ خدیجۃ  الکبری رضی اللہ عنہا سے اس ماہ کی ۲۵؍صفر کو نکاح فرمایا۔

قال ابن اسحاق في شهر صفر كان زواج السيدة خديجة بنت خويلد رضي الله عنها من النبي محمد صلى الله عليه وسلم عقب خمسة وعشرين يوما من صفر سنة ست وعشرين

(سبل الہدی والرشاد۲؍۱۶۵)

ایک روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ عرب میں ماہ شوال میں نکاح کو پسند نہیں کیا جاتا تھا اور اس لفظ کے لغوی معنیٰ کے لحاظ سے بد فالی لی جاتی تھی(اس کے معنی میں ٹوٹ پھوٹ اورلڑائی کیلئے ہتھیار اُٹھانے کا مفہوم شامل ہے)۔اس خیال کی تردید میں اُم المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں رسول اﷲنے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا ، میری رخصتی بھی شوال میں ہوئی ، پھر رسول اﷲ اکی زوجات میں مجھ سے زیادہ خوش قسمت کون تھیں ؟

امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اہل عرب شوال میں نکاح کرنے کو یا شوال میں رخصتی کراکر دلہن گھر لانے کو برا سمجھتے تھے اور بدفالی لیتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقصد اسی غلط خیال کی تردید کرناہے آپ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہیں مجھ سے زیادہ اور کو ن خوش نصیب ہو سکتا ہے۔ یعنی کسی دن یا مہینہ میں کوئی نحوست ہو تی تو پھر مجھ کو یہ مقام بلندکس طرح مل سکتا تھا اور یہ مرتبت رفیعہ کس طرح میرے حصّہ میں آ سکتی تھی۔

تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي قَالَ

( صحیح مسلم ۷؍۲۴۹)اسی ماہ صفر میں ۲ہجری کو حضرت سیدنامحمد رسول اللہ ا نے اپنی نور نظر چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکا ح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ معاشرہ سے اس بد شگونی و بد اعتقادی کے آثار کابالکلیہ خاتمہ کرنے کیلئے اُم المومنین رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی لڑکیوں کے نکاح کیلئے ماہ شوال المکرم کا انتخاب فر ماتیں۔

وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ( صحیح مسلم ۷؍۲۴۹)

چونکہ دور جاہلیت کے بے بنیاد اعتقادات و توہمات میں سے ایک ’’ماہ صفر‘‘ کا نحس ہونا بھی تھا اس لئے ماہ صفر کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ مشرکین عرب ماہ صفر کو منحوس سمجھتے ہیں توآپ ا نے ایک مختصر اور بلیغ جملہ ’’لا صفر‘‘ یعنی ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں ارشاد فر ما کر اس فکر و فہم کو جلا بخشی ہے اور اس بد شگونی و بد اعتقادی کے جال میں محبوس معاشرہ کو چھٹکارا دلایا ہے،ایک اورحدیث پاک میں وارد ہے۔

لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَر

(صحیح بخاری۱۷؍۴۷۶)کوئی بیماری متعدی نہیں، بدشگونی اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں اور صفرکا مہینہ منحوس نہیں ،ہامہ عربوں کا اعتقادتھا کہ ہامہ ایک پرندہ ہے جو مقتول کا قصاص نہ لینے تک اس کے پیچھے صدالگاتارہتا ہے کہ مجھے سیراب کرو،صحیح مسلم میں حدیث پاک واردہےکہ جس نے ہمارے دین کے معاملہ میں نیا کام شروع کیا (جو آپ ا خلفائے اربعہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں )تو وہ مردود ہے۔

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ

(صحیح مسلم ۹؍۱۱۶)

سیدنا محمد رسول اللہ انے اپنی امت کو بڑی پیاری دعا سکھائی ہے آپ افرمان ِ ذیشان ہے جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو جو تمہیں ناگوار گزرے تو تم یہ دعا پڑھ لیا کرو۔اے اللہ! اچھائیاں لانے والے بھی آپ ہی ہیں اور برائیاں دور کرنے والے بھی آپ ہی ہیں۔ نیک کام کرنے کی توفیق بھی آپ ہی دیتے ہیں اور برے کاموں سے بچانے کی قوت بھی آپ ہی دیتے ہیں۔

فَإِذَا رَاَى اَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُلْ اَللّٰهُمَّ لَا يَاْتِي بِالْحَسَنَاتِ اِلَّآ اَنْتَ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ اِلَّآ اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِكَ

(سنن ابی دائود۱۰؍۴۲۶)

ماہ صفر المظفرکو تیرہ تیزی کا مہینہ بھی کہاجاتا ہے، بعض ضعیف الاعتقاد اس ترقی یافتہ دور میں آج بھی اس مہینہ کو مصائب و آلام ، حوادث و آفات کے نزول کا مہینہ مانتے ہیں اور اس ماہ کے نحس ہو نے کا اعتقاد رکھتے ہیں، بعضوں نے من گھڑت روایات کے حوالہ سے جو بعض غیرمستند کتب میں منقول ہیں اس بد عقیدگی کو مضبوط و مستحکم کر نے کی کوشش کی ہے۔ فکر صحیح و صحت اعتقاد سے محروم افراد ایک مو ضوع روایت یہ بھی بیا ن کرتے ہیں کہ ’’سال تمام میں جتنی بلائیں نازل ہو تی ہیں اُتنی ماہ صفر میں نازل ہو تی ہیں اور ماہ صفر میں نازل ہو نے والی ساری بلائیں صرف تیرہ تیزی یعنی تیرہ صفرالمظفر کے دن نازل ہو تی ہیں‘‘۔

دور جاہلیت میں بعض عربوں کا ماننا تھا کہ صفر سے مراد وہ سانپ ہے جو ہر ایک انسان کے بطن میں ہو تا ہے اور شدید بھوک کے وقت ڈستا ہے اور ایذاء پہونچاتا ہے، بعضوں کا خیا ل تھا کہ صفر سے مراد بطن کے وہ جراثیم ہیں جو بھوک کی حالت میں کاٹتے ہیں، اس کی وجہہ آدمی کا رنگ زرد ہو سکتا ہے اس سے ہلاکت بھی ہو سکتی ہے، اور اس کے اثرات بد دوسروں میں سرایت کر سکتے ہیں، اس فکرسقیم کی وجہ وہ’’صفر‘‘ کو منحوس جانتے تھے۔

حضرت سید نا محمد رسول اللہ ا کا یہ مبارک مختصر و جامع ارشاد ’’لاصفر‘‘ (ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں) نے اس طرح کی من گھڑت روایات اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ بد اعتقاد ی و بد شگونی کے جاہلانہ افکار پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔

پیغمبر انسانیت رحمۃ للعالمین سیدنا محمد رسول ا نے حجۃ الودع کے موقع پر جو خصوصی پیغام قیامت تک آنے والی ساری انسانیت کیلئے دیا ہے وہ ایک عظیم منشور ہے جس کی عظمت کو غیر مسلم مفکرین نے بھی تسلیم کیا اور مستشرقین نے بھی اس سے روشنی حاصل کی ہے، اقوام متحدہ کے دستور میں بھی اس سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔اس خطبہ بلیغ میں بد شگونی و بد اعتقادی کی جاہلانہ رسوم و عادات کے بارے میں ارشاد فرما یا کہ’’اے لو گو جہالت کے جتنے رسوم تھے ان سب کو میں اپنے قدموں تلے روندتا ہوں، تمہارے درمیان دو چیزیں ایک قرآن پاک دوسری میری سنت چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو تھامے رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے تم سب ایک اللہ کے بندے اور ایک باپ یعنی آدم علیہ السلام کی اولا د ہو۔

ما ہ و سا ل یا دنو ں میں نحو ست کو ما ننا گو یا زما نے کو بر ا کہناہے زما نے کو بر ا کہنا اللہ سبحا نہ کو بر ا کہنے اور اسکی قدرت و سلطنت میںنقص ثا بت کرنے کے مترا دف ہے۔ کیو نکہ زما نہ کو ئی اور شیء نہیں بلکہ وہ تو اللہ سبحا نہ کا بنا یا ہو ا ہے ، حدیث قدسی میں ار شا د ہے:

لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ

(صحیح مسلم ۱۱؍۳۱۳)

ایما ن کی نعمت سے مشرف ایسے خو ش نصیب بندوں کی کثیرتعدادہےجنہوں نے کلمہ اسلام سے اپنےاندر اللہ سبحا نہ کی وحدا نیت‘ اسکی ربو بیت اور اسکے حا کم مطلق ہو نے کا عقیدہ را سخ کر لیا ہے۔ اس کلمہ کازبان سے اقرار اور دل کی گہرا ئیوں سے اس تصدیق کے بعد وہ کسی اور میں نفع و نقصا ن کی طا قت کو ہر گز تسلیم نہیںکرتے قر آ ن پا ک کے اس ار شا د پر وہ کا مل یقین رکھتے ہیں ’’ اور اگر اللہ تم کو کو ئی تکلیف پہو نچا ئے اور مصیبت میں مبتلا ء کر دے تو بجز اس کے اسکو رد کرنے والاکوئی نہیں ہے اور اگروہ تم کوئی خیرپہونچاناچاہے تو اس کے فضل سے کوئی محروم کرنےوالا نہیں ،وہ اپنے بندوںمیں سے جس پر چا ہے اپنافضل نچھا ور کردے اور وہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت و ا لا ہے( یو نس؍۱۰۷)

اللہ کے نبی سیدنا محمدرسو ل اللہ ا کی کئی ایک جا مع دعا ئیں ایسی ہیں ایمان و ا لوں کو انہیں حرز جاں بنا لیناچاہئے جو عبدیت و بندگی کے پاکیزہ جذبات اور اسکی عظمت وہ قدرت کے اعتراف و اظہا رسے لبریز ہیںان میں سے ایک دعا ء کے کلما ت یہ ہیں۔

اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَٓا اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ مَا شَٓاءَاللہُ کَا نَ وَمَالَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِّیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ءٍعِلْمًا،اَللّٰہُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّکُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌم بِنَاصِیَتِہَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔

اے اللہ!آپ میرے رب ہیں ،آپ کے سواکوئی معبود نہیں ہے،میں نے آپ ہی پر بھروسہ کیا اورآپ عرش کریم کے مالک ہیں،آپ جوچاہتے ہیں وہی ہوتا ہے اورجونہیں چاہتے وہ نہیں ہوتا، نہیں ہے کوئی طاقت ،نہیں ہے کوئی قوت سوائے اللہ کے جوبلنداورعظمت والا ہے ،جان لوکہ اللہ تعالی ہرچیزپرقادرہے اوراللہ تعالی ہرشیء کا علم رکھتا ہے،اے اللہ!میں آپ سے اپنے نفس کے شرسے پناہ مانگتاہوں اورہرذی روح سے جوآپ کے دست قدرت میں ہے ،بے شک میرا رب سیدہے راستہ پرہے۔حضرت طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اورکہا کہ آپ کے گھرکوآگ لگ گئی ہے ۔

آپ نے فرمایا میرے گھرکوآگ نہیں لگ سکتی میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالی ایسا ہرگزنہیں کرے گا ،ان کلمات کا وردکرنے والے کے لئے جن کومیں نے نبی کریم اسے سنا ہے ، جو کوئی ان کلمات کودن کے آغازمیں وردکرلے شام ہونے تک اس کوکوئی مصیبت نہیں پہنچے گی اورجودن کے آخرمیں اس کو ورد کرلے تو صبح تک اسے کوئی مصیبت وپریشانی لاحق نہیں ہوگی۔

قال جاء رجل إلى أبي الدرداء فقال ياأبا الدرداء احترق بيتك فقال ما احترق بيتي ثم جاء آخر فقال يا أبا الدرداء احترق بيتك فقال ما احترق بيتي ثم جاء آخر فقال يا أبا الدرداء أتبعت النار فلما انتهت إلى بيتك طفيت فقال قد علمت أن الله عز و جل لم يكن ليفعل فقال رجل يا أبا الدرداء ما ندري أي كلامك أعجب قولك ما احترق او قولك قد علمت أن الله عز و جل لم يكن ليفعل قال ذاك لكلمات سمعتهن من رسول الله من قالهن حين يصبح لم تصبه حتى يمسي ومن قالهن حين يمسي لم تصبه مصيبة حتى يصبح

(الدعاءللطبرانی۱؍۱۲۸)

کما ل ایمان سے متصف اللہ کے نیک بندے ہر آن ان جیسے کلمات دعائیہ سے پورے استحضارکے ساتھ اللہ کے حضور رجو ع رہتے ہیں ،راحت وآرام ،خوشحالی اورفارغ البالی نصیب ہو یا حو ادث و آلا م ،ضرر و نقصا ن ہر حا ل میں اسی سے لو لگا ئے رہتے ہیں ،حق کے سو ا کسی اور کی طرف انکی نظر اٹھنے نہیں پا تی‘ اللہ پر تو کل و اعتما د انکو را ہ حق سے بھٹکنے نہیں دیتا‘ نعمتوں پر شکر گزا ری مصیبت و پریشا نی میں صبر و بند گی انکی زند گی کی پہچا ن ہوتی ہے ۔

البتہ وہ مسلمان جو مومن و مسلم ہو نے کے باوجود کتاب و سنت سے دوری ،علم صحیح و تربیت اسلامی سے محرومی کی وجہہ جاہلانہ اوہام و خرافات کاشکا ر ہیں ماہ صفر کے حوالہ سے جن جاہلانہ تصورات و اعمال اور فرسودہ افکار و اعتقادات و توہمات کے اسیر ہیں ان کیلئے قرآن کا پیغام یہ ہے’’اے ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘ (البقرہ / ۲۰۸)

موجودہ مسلم سماج اگر اس آیت پاک کو سرمۂ بصیرت بنالے توجاہلانہ افکار کی اسیری سے رہائی پا سکتا ہےاور سماج سے فر سودہ رواجات، بدعات و خرافات دور ہو سکتے ہیں۔

ایمان والوں کا فرض ہے کہ وہ اسلامی اعتقادات و اعمال کا عملی پیکر بنیں، اور فر سودہ رسوم و رواجات، بیجا اوہام و خرافات ، خلاف اسلام بدعات ورسومات کے شکنجہ میں جکڑی ہو ئی انسانیت کواسلام کے پاکیزہ فطری تعلیمات سے واقف کرواکرحقیقی اسلام کی راہ دکھائیں اورانسانیت کوبدعات وخرافات کے شکنجوں سے رہائی دلائیں۔الغرض قرآن پاک ،احادیث کریمہ اور نہ ہی اقوال فقہا ء سے ثابت ہے کہ یہ مہینہ نحوست والا ہے یا اس میں آفتوں اور مصیبتوں کا نزول ہوتا ہے۔بلکہ اس کے منحوس ہونے کے بارے میں گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ اس مہینہ کا نام ہی ہے ’’صفر المظفر‘‘ہے جس کا معنی ہے کامیابی کا مہینہ۔جس کے اندر خیر وبرکت پوشیدہ ہو بھلا وہ آفتوں اور مصیبتوں کا مہینہ کیسے ہوسکتا ہے؟اللہ رب العزت ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین وصلی اللہ تعالی علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین ۔

٭٭٭

مفتی حافظ سید صادق محی الدین فہیمؔ

موبائل نمبر: 9848862786

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.