مدارس کے طلبہ اور شعبہ صحافت

یہ مضمون دینی مدارس کے طلبہ کو پیش نظر رکھ کر لکھا جارہا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ شعبہ صحافت سے وابستگی سے پہلے اس کے اجزائے ترکیبی، اصطلاحات اور کام کرنے کے طریقے کو اچھی طرح جانا جائے، اس پر غور کیا جائے اور پھر اس میں اپنے لئے مواقع تلاش کیے جائیں۔

تبسم ناز
صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ باقی تین ستون عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ ہیں۔ یہ چاروں ستون کسی بھی جمہوری ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ستون اگر کمزور پڑجائے تو جمہوریت کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی ہے۔ جمہوری اقدار کی برقراری میں صحافت کا اہم رول ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ افکار و خیالات، احساسات و جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کا کام لیا جاتا ہے۔

عوام کے سلگتے مسائل، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالہ اور اچھی اقدار کو پروان چڑھانے کے ساتھ جمہوریت کے استحکام کے لئے اس شعبہ میں ایماندار اور احساس ذمہ داری سے سرشار لوگوں کی ضرورت ہے، جو پوری دیانت داری سےقوم و ملت کی خدمت کرسکیں۔

یہ مضمون دینی مدارس کے طلبہ کو پیش نظر رکھ کر لکھا جارہا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ شعبہ صحافت سے وابستگی سے پہلے اس کے اجزائے ترکیبی، اصطلاحات اور کام کرنے کے طریقے کو اچھی طرح جانا جائے، اس پر غور کیا جائے اور پھر اس میں اپنے لئے مواقع تلاش کیے جائیں۔

صحافت (Journalism): کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق کے بعد اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔ شعبہ صحافت سے منسلک لوگوں کو صحافی (Journalist) کہتے ہیں۔ تکنیکی لحاظ سے صحافت کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔ حکومتی اداروں، عوامی اداروں اور تجارت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ صحافت کسی بھی معاشرے کے رسم و رواج اور کلچر کو بھی اجاگر کرتی ہے جس میں فنون لطیفہ، کھیل کود اور تفریخ کے اجزاء شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ (Media) سے مراد وہ تمام ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اردو میں ذرائع ابلاغ اور انگریزی میں اسے میڈیا کہتے ہیں۔ میڈیا کا میدان کافی وسیع ہے جس کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

(۱) پرنٹ میڈیا (Print Media): پرنٹ میڈیا کو مطبوعہ صحافت بھی کہہ سکتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا سے مراد طبع ہونے والے اخبار و رسائل ہیں، جیسے: روزنامہ، سہ روزہ اور ہفت روزہ اخبارات۔ اسی طرح پندرہ روزہ، ماہنامہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالنامہ رسائل و جرائد اور مجلات وغیرہ بھی پرنٹ میڈیا میں آتے ہیں، کیونکہ یہ سب طباعت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

(۲) الکٹرانک میڈیا (Electronic Media): الکٹرانک میڈیا کو برقی ذرائع ابلاغ کہہ سکتے ہیں۔ اس کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے مراد ہر وہ ذرائع ابلاغ و ترسیل ہیں جو الیکٹرانکس اور الیکٹرومیکانیکل قوت کے استعمال سے چلتے ہیں۔ اس میں ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن چینل وغیرہ شامل ہیں۔

(۳) ویب میڈیا؍ سائبر میڈیا (Web Media): اس زمرے میں انٹرنیٹ، ویب سائٹس، فورمز اور بلاگز وغیرہ آتے ہیں۔ سوشیل میڈیا یعنی عوامی رابطے کے ذرائع کو بھی اس میں شامل کیا جاسکتا ہے، جیسے: فیس بک، واٹس اپ، یوٹیوب، ٹوئٹر، انسٹاگرام، گوگل پلس وغیرہ۔
صحافت اور صحافی کیلئے ضابطہ اخلاق:

صحافت کا کام حالات و واقعات کی تازہ صورت حال سے عوام کو غیر جانب دارانہ، صداقت، امانت اور شجاعت کے ساتھ مطلع کرنا، خبروں توڑ مروڑ کر یا مسخ کر کے پیش کرنے سے کلی اجتناب کرنا، رائے عامہ کو ہموار کرنا، عوام میں غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرتے ہوئے سیاسی و سماجی شعور بیدار کرنا، ان کے احساسات کی صحیح ترجمانی اور نمائندگی کرنا، ان کی اچھائی و برائی سے مطلع کرنا، عوام کو عمدہ تفریح فراہم کرنا جس میں برائی، بے حیائی اور غیر شائستگی نہ پائی جائے۔ یہ صحافت کے چند بنیادی اصول ہیں،جنہیں صحافتی اداروں کو بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔ صحافتی اداروں کی جتنی ذمہ داری ہے اتنی ہی ذمہ داری ایک صحافی کی بھی ہے۔ ایک صحافی کو چاہیے کہ دیانت داری کے ساتھ سچی اور صحیح معلومات فراہم کرے، خبروں کو توڑ مروڑ کر مرچ مسالے کی رنگ آمیزی سے گریز کرے۔

کسی خاص نقطہ نظر کی تشہیر کے لئے اطلاعات کو مسخ کر کے سنسنی خیزی پیدا کرکے عوام کو گمراہ نہ کرے۔ ہاں ضرورت پڑنے پر برائی کی قباحت نہایت سادگی اور صاف گوئی سے بیان کرے۔ ایک صحافی کو چاہیے کہ وسیع تر قومی مفاد کو ہر حال میں ملحوظ رکھے، آزادی کے ساتھ کام کرے، اس میں کسی طرح کا خوف یا لالچ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی صحافی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کو چھپانے یا اس پر اصرار کرنے کے بجائے اس کا اعتراف کرے، غلطی کا ازالہ کرے اور جلد سے جلد مسئلہ کو رفع دفع کرے۔

ان چند بنیادی باتوں کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ شعبہ صحافت میں ایک مشن کی طرح کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، ہر وقت اپ ٹو ڈیٹ رہنے کے ساتھ حالات حاضرہ سے باخبررہنا پڑتا ہے، پل پل نئے چیلنجز سے سابقہ پڑتا ہے۔ ایک غلطی‘ آپ پر یا آپ کے ادارے پر سوالیہ نشان لگا سکتی ہے۔ بڑی احتیاط اور جلدی میں ہر کام کو نمٹانا ہوتا ہے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ خبریں بدلتی رہتی ہیں، اور اس کے فالو اَپ کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے۔ چونکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے، اس لئے اس میدان میں قدم رکھنے کے لئے ایک وژن، نصب العین اور مستقل مزاجی کا ہونا ضروری ہے کہ اس کے بغیر نہ تو کامیابی مل سکتی ہے اور نہ ہی کوئی مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔

مسلمانوں کا المیہ اور شعبہ صحافت

موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان صحافت کے میدان میں صفر ہیں۔ مسلمانوں کے پاس اپنا کوئی معقول ’’میڈیا ہاؤس‘‘ (Media House) نہیں ہے۔ یہ المیہ صرف کسی ایک مخصوص خطے، علاقے یا ملک تک ہی محدود نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی یہی صورت حال ہے۔ ہاں، چند ایک اخبار یا ٹی وی چینل ہیں، جسے ہم آٹے میں نمک کے برابر بھی تسلیم نہیں کرسکتے۔ اسی طرح مسلمانوں کے پاس قابل اور باشعور صحافیوں کی ایک ایسی ٹیم بھی نہیں ہے، جن کی آواز مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب تک مؤثر انداز میں سنی جائے۔ جو صاحب اس میدان میں ہیں، ان میں سے اکثر کے لیے یہ صحافت کوئی مشن اور خدمت نہیں؛ بلکہ محض روزی روٹی کا ایک ذریعہ ہے۔

اگر کوئی صحافی اپنے سماج اور قوم و ملت کے مفاد میں کوئی مسئلہ اٹھانا بھی چاہے، تو ان کو میڈیا ہاؤس کی پالیسیاں خاموش کردیتی ہیں۔ افسوس اور دکھ اس بات کا ہے کہ ہم مسلمانوں نے اس طر ف ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی، نہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے اور نہ ہی ایک ذمہ دار قاری کی حیثیت سے۔ ہمارے سرپرست اور رہنما ء اپنے بچوں کو صحافت کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کرتے، یہاں تک کہ ہمارے قومی وملی ادارے اور تنظیمیں بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔ ہمارے علماء کرام بھی اس قومی المیہ میں برابر کے شریک ہیں۔

علماء کرام کو اسلام کا دفاع کرنے کے لیے میڈیا کے سامنے اپنی بات رکھنے کا مؤثر انداز بھی نہیں معلوم ہوتا۔ ٹی وی پر بھی روایتی انداز میں تقریر کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیں جسے ہماری ملک کی اکثریت سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ این ڈی ٹی وی کی مشہور اینکر برکھادت سے جب کسی نے سوال کیاکہ آپ ہمارے علماء کو ٹی وی ڈبیٹ میں کیوں نہیں بلاتی ہیں؟ تو برکھادت نے افسوس کے ساتھ جواب دیا کہ ’’آپ کے علماء کو Art of dialogue نہیں آتا اور نہ ہی ان کی گفتگو ہمارے ناظرین کو سمجھ میں آتی ہے ‘‘۔

یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ علمائے کرام اور دینی مدارس کے طلبہ جو انبیاء کے وارث اور امین ہیں، جن کے کاندھوں پر انسانیت کی فلاح و بہبود اور خیرخواہی کی ذمہ داریاں ہیں، جن کے وجود کا بنیادی مقصد ہی انسانیت کو ظلم و جبر کے پنجے سے آزاد کرنا، عدل و انصاف قائم کرنا، معاشرے کو امن و توازن کا گہوارہ بنانا ہے، وہ علماء لسان قوم میں خطاب کرنے سے قاصر ہیں۔ دینی مدارس کے طلبہ کو سمجھنا چاہیے کہ اس دور کا سب سے بڑا چیلنج میڈیا ہے۔ انسانیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ میڈیا کا مؤثر ترین اور طاقتور ہتھیار ان لوگوں کے پاس ہے جن کے پاس نہ ہی انسانیت کے غم میں تڑپنے والا دل ہے، نہ انسانیت کی فلاح و بہبودی اور تعمیر وترقی کا کوئی منصوبہ۔ میڈیا کی یہ طاقت تعمیر کے بجائے تخریب ، کردارواخلاق سنوارنے کے بجائے بے حیائی وبد اخلاقی اورانسانوں کی رہنمائی کے بجائے انہیں راہ حق سے بھٹکانے کے لیے استعمال ہورہی ہے۔

ایسے میں دینی مدارس کے طلبہ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ قوم و ملت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر وہ میڈیا کو بطور پیشہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ پریشان حال انسانیت کو سچے اور دیانت دار افراد ملیں گے۔ دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دعوت و تبلیغ کا ایک وسیع میدان ہوگا جہاں لسان قوم میں دین کا پیغام پہنچانے کا بھرپور موقع ملے گا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ زہریلی میڈیا کے ذریعہ برادران وطن اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا کی گئی ہےاس کو پاٹا جاسکتا ہے۔ تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ دینی مدارس کے فارغین کا جو سب سے بڑا مسئلہ معاش کا ہوتا ہے، وہ ان کی صلاحیت کے حساب سے اکتساب کا موقع ملے گا۔ سچے جذبے اور خلوص کے ساتھ اس پیشے کو اختیار کیا جائے تو انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوگی اور رزق میں کشادگی کے بھی ذرائع کھلیں گے۔

صحافت میں دینی مدارس کے طلبہ کے لئے مواقع

دینی مدارس کے طلبہ اپنے شوق، دلچسپی اور قابلیت کے حساب سے صحافت کے مختلف میدانوں میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ اگر کسی طالب علم میں لکھنے کی صلاحیت ہے اور وہ اچھے مضامین، شعر و شاعری اور کہانیاں لکھ سکتا ہے تو اس کے لئے پرنٹ میڈیا کی دنیا بہت وسیع ہے۔ اخبارات میں مختلف کالم ہوتے ہیں، جیسے سیاسی، مذہبی، ادبی، تجارتی، سائنسی، فنون لطیفہ، فیشن، کھیل کود وغیرہ، ان میں سے کسی میں بھی اپنی قسمت آزمائی کرسکتا ہے۔ مذہبی رجحان کے اخبارات و رسائل بہت ہیں،ان میں مذہبی و ثقافتی مضامین،اسلامی تاریخ، دینی مسائل،بچوںکے ادب میں اسلامی کہانیاں، خواتین سے متعلق مضامین، مستند اور دلکش طرز تحریر میں پیش کرسکتا ہے۔ اسی طرح عربی صحافت سے استفادہ کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے مضامین مختلف زبانوں میں ترجمے کرکے اپنی انفرادیت قائم کرسکتا ہے۔

اگر کسی طالب علم کی آواز اچھی ہے، کچھ گنگنانے کا شوق ہے، تو اس شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے ریڈیو اسٹیشن میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح آواز اچھی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش شکل ہے تو ٹیلی ویژن میں بہترین مواقع مل سکتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی میں تقریباً وہی موضوعات ہوتے ہیں جو پرنٹ میڈیا میں۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں مطبوعہ شکل میں مواد پیش کیا جاتا ہے، جبکہ ریڈیو اور ٹی وی میں صوتی یا برقی لہروں کے ذریعہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔الکٹرانک میڈیا میں بھی دینی مدارس کے طلبہ کے لئے بے شمار مواقع ہیں۔ مسلم مینجمنٹ کے تحت بہت سارے مذہبی ٹی چینل شروع ہوچکے ہیں۔ ان میں تفسیر قرآن، تشریح حدیث، فقہی مسائل کی افہمام و تفہیم، مذہبی و سیاسی انٹرویوز، تاریخ اسلام پر سیرئیل، اخلاق و کردار سنوارنے والے بچوں کے پروگرام، خواتین سے متعلق پروگرام، طنز و مزاح، اسکرپٹ رائٹنگ، ڈرامہ نگاری وغیرہ میں بے شمار مواقع ہیں۔

اگر کسی طالب میں کوئی تکنیکی مہارت یا صلاحیت ہے، جیسے فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، آڈیو ریکارڈنگ، کمپیوٹر آپریٹنگ، ویب ڈیزائنر، ہارڈ ویئر اور نیٹ ورکنگ وغیرہ تو اس کے لئے میڈیا کے ہر شعبہ میں جگہ ہے، چاہے پرنٹ میڈیا ہو، الکٹرانک میڈیا ہو یا ویب میڈیا، وہ کہیں بھی اپنی صلاحیت کا لوہا منوا سکتا ہے۔ وہ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ویب میڈیا میں قدم رکھ سکتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کی دنیا ہے، اس میں وہ پروفیشنل ویب ڈیزائنر کی طرح کمرشیل ویب سائٹس بنا سکتا ہے۔ مذہبی ویب سائٹ، نیوز پورٹل، بلاگز، یوٹیوب چینل یا سوشیل میڈیا کی ویب سائٹس کے ذریعہ انٹرنیٹ صارفین کے درمیان مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال اور اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرسکتا ہے، اپنے افکار و نظریات پیش کرسکتا ہے، دوسرے میڈیا ذرائع کو خبریں، آڈیوز، ویڈیوز، فوٹوز یا کسی بھی طرح کا مواد فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح کے آزاد نیوز پورٹل میں ویب صحافی بن کر بھی دینی مدارس کے طلبہ اپنا کیرئیر بنا سکتے ہیں۔

صحافت کے لئے تعلیمی و تربیتی ادارے

دینی مدارس کے طلبہ فراغت کے بعد بہت سی یونیورسٹیوں کا رخ کرسکتے ہیں جہاں شعبہ صحافت سے متعلق باضابطہ کورسز موجود ہیں، وہاں سے تعلیم و تربیت مکمل کرنے کے بعد شعبہ صحافت میں پروفیشنل انداز میں قدم جما سکتے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد میں مدارس کےطلبہ کے لئے بہترین مواقع ہیں۔ یہ اردو میڈیم یونیورسٹی ہے، بہت سے مدارس کا اس یونیورسٹی سے الحاق ہے، عالمیت یا فضیلت کی ڈگری رکھنے والے طلبہ بہ آسانی یہاں شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

اس شعبہ کا اصل مقصد ایسے پیشہ ور افراد تیار کرنا ہے جو الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور تحقیق کے میدان میں عمدہ تعلیم وتربیت سے لیس ہوں۔ اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، اندراگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی دہلی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، انڈین انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن دہلی، انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ میڈیا، سمباسس انسٹیٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن پونے، مدرا انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشنز احمد آباد وغیرہ شعبہ صحافت کے لئے بہترین ادارے ہیں۔ ان اداروں میں باقاعدہ تعلیم حاصل کر کے چند سالوں میں صحافت کی ڈگری حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہاں میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ آج کے مسابقتی دور میں صرف ڈگری لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔

ڈگری کے ساتھ کسی تربیتی ادارے سے جڑنا بھی بہت ضروری ہے، تاکہ کام کرنے کا تجربہ اور سلیقہ آئے۔اکثر بڑے اداروں کے اپنے اپنے میڈیا ہائوس ہوتے ہیں جہاں سے تربیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیسے این ڈی ٹی وی، آج تک، ٹائمس آف انڈیا اور دی ہندو کے اپنے میڈیا ہائوس ہیں، یہاں سے ٹریننگ لی جاسکتی ہے۔ کسی صحافی کی صحبت میں رہ کر بھی تجربہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لئے اخبارات و رسائل کا مطالعہ، ٹی وی چینلوں کا دیکھنا، ریڈیو پروگرام سننا اور انٹرنیٹ پر سرفنگ اور برائوزنگ بہت اہم ہے۔ یہاں کسی بھی موضوع پر بے شمار مواد آسانی سے مل سکتے ہیں۔ ایک اچھا صحافی بننے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے۔ حالات و ماحول کا مطالعہ، سماج اور معاشرے کا جائزہ، زبان و ادب کا مطالعہ اور اخبارات، رسائل و جرائد کا تنقیدی مطالعہ بہت اہم، اسے اپنی زندگی کا جزء لاینفک سمجھیں، پھر قلم اٹھائیں، تو انشاء اللہ آپ کی تحریر میں وہ تاثیر ہوگی، جو ہوائوں یا دریائوں کا رخ موڑ دے گی۔

آخری گزارش کے طور پر دینی مدارس کے طلبہ سے عرض ہے کہ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں جائیں، احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، اپنے علم، وقار اور داعیانہ کردار کو ملحوظ رکھیں، ہمت، حوصلے اور جذبے کے ساتھ قوم و ملت کے سچے خادم کے طور پر پیش کریں۔ جیسا دیس ویسا بھیس، یا دنیا کی چمک دمک میں کھو کر اپنی انفرادیت ختم نہ کریں۔
٭٭٭ۭۘ

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.