مکاتب کا قیام وقت کی ایک ناگزیر ضرورت!

یعنی بچپن میں علم حاصل کرنا پتھر کی لکیر کی طرح ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اسی وقت سے کوشش کرنا چاہیے کیوں کہ اگر اس دور میں بچے کا ذہن دینی مزاج بن گیا تو زندگی کے ہر موڑ پر وہ دین کا دامن تھامے رکھے گا، کسی بھی موقع پر اس کا رشتہ دین سے کٹا ہوا نہیں رہے گا،

محمد عمر نظام آبادی مدیر: التذکیر فاؤنڈیشن نظام آباد

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

ملک ہندوستان میں آئے دن حالات بدلتے جارہے ہیں، روزبروز مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچی جارہی ہیں، ہر چہار سو زہریلی ہوائیں چلائی جارہی ہیں، نئی نئی پالیسیاں وجود میں آرہی ہیں، خفیہ تحریکیں ہو رہی ہیں، حال ہی میں نئی تعلیمی پالیسی سے متعلق جو بل پاس کیا گیا وہ بھی مسلمانوں سے دشمنی اور عداوت ہی کا ایک واضح مظہر ہے، اگرچہ کہ دنیوی اعتبار سے اس کے فوائد و نتائج سے کسی کو انکار نہیں؛

لیکن دینی اعتبار سے وہ مسلمانوں کی نئی نسل کے حق میں انتہائی خسران کا باعث اور مہلک دین و ایمان ہے، جس کی بنیاد سراسر عقیدۂ توحید کے خلاف اور تعلیماتِ اسلامی کے بالکل برعکس ہے، اور اس کا بس واحد علاج مکاتب دینیہ کا قیام ہے جو بقائے اسلام اور تحفظ دین و ایمان کا ذریعہ ہے، جو کہ ایک دینی گہوارہ اور بنیادی درسگاہ ہے۔

مکاتب کی اہمیت : ہماری نئی نسل ہی مستقبل کے رجالِ کار اور ملت کے معمار ہوتے ہیں، اس لئے ان کی ذہنی و اخلاقی نشونما اسلامی تعلیمات پر ہونا از حد ضروری ہے، اور ایسے ماحول و فضا کا فراہم کرنا ان کے لئے لابدی ہے جس میں خالص اسلامی تہذیب کے چھاپ ہو، اور اجنبی ثقافت کے تمام ایمان سوز اثرات سے پاک ہو، یہ حقیقت بھی چشم کشا ہے کہ معاشرہ اور سوسائٹی میں مکاتب کا قیام بقائے اسلام کا ضامن اور تحفظ ایمان کا کفیل ہے،

ان مکاتب سے علم کی جو روشنی نکل رہی ہے اس سے پوری دنیا سیراب و فیضیاب ہورہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان مکاتب کی طرف متوجہ کریں جس سے ان کے اندر دینی ماحول پیدا ہو اور مکاتب کے نظام کی مضبوطی کی وجہ سے کفرستان میں بھی ایمان باقی رہ سکتا ہے؛ ورنہ مکاتب سے بے التفاتی و بے اعتنائی کی وجہ سے ایمانستان میں رہ کر بھی ایمان کی کوئی گیارنٹی نہیں دی جاسکتی، بہر حال بچے چونکہ خالی الذہن ہوتے ہیں، اسی لیے بچوں کے معصوم ذہن پر مکتب کی تعلیم کا بڑا اثر پڑتا ہے؛

یہی وجہ ہے کہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

التعلم في الصغر كالنقش في الحجر (فتح الباري: باب التعليم للصبيان: ٩/٨٣)

یعنی بچپن میں علم حاصل کرنا پتھر کی لکیر کی طرح ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اسی وقت سے کوشش کرنا چاہیے کیوں کہ اگر اس دور میں بچے کا ذہن دینی مزاج بن گیا تو زندگی کے ہر موڑ پر وہ دین کا دامن تھامے رکھے گا، کسی بھی موقع پر اس کا رشتہ دین سے کٹا ہوا نہیں رہے گا،

اسی مکتب کی تعلیم کی اہمیت و ضرورت کے پیشِ نظر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: تین چیزیں لوگوں کے لئے ضروری ہیں: (۱) حاکم و امیر، ورنہ لوگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو جائیں گے (۲) مصحف یعنی قرآن کی خرید و فروخت؛ ورنہ کتاب اللہ کا پڑھنا پڑھانا بند ہوجائے گا (۳) عوام الناس کی اولاد کو تعلیم دینے کے لیے معلم ضروری ہے، جو اجرت لے، ورنہ لوگ جاہل رہ جائیں گے ( تربیۃ الاولاد فی الاسلام : ١/ ٢٩١) چنانچہ اسی وجہ سے سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ جب مکتب کے پاس سے گزرتے تو فرماتے یہی بچے ہماری قوم کے رہنما ہے (طبقات ابن سعد : ٥/ ١٤١)

نیز قیامِ مکاتب عیسائی مشنریزکے باطل نظریات وخیالات سے پاک کرنے کے لئے از بس ضروری ہے، اس لیے اس سلسلہ میں علماء و حفاظ کو نائبین رسول اور وارثین انبیاء ہونے کی حیثیت سے ہر ہر محلے کی ہر ہر مسجد میں منظم طور پر مکاتب کا قیام عمل لانا چاہیے، اور مستحکم انداز میں باتجوید قرآن کی تعلیم ہو، احادیث نبویہ اور ادعیہ یومیہ کا حفظ ہو، اور عقائد دینیہ (توحید، رسالت، بعث بعد الموت، وغیرہ) کی تفہیم ہو، تو تب کہیں جاکر ہماری نئی نسل ارتداد کی لہروں سے بچ سکتی ہے، اور دولت ایمان باقی رہ سکتی ہے۔

قرونِ اولیٰ میں مکاتب کا اہتمام: ان مکاتب کے قیام کا مقصد مسلمان بچوں کو پڑھنے لکھنے اور حفظ قرآن کی تعلیم دینا ہوتا ہے، خود نبی کریمؐ نے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا ہے، چنانچہ آپ نے بدر کے مشرک اسیروں کی رہائی دس مسلمان بچوں کو لکھنا سکھانے پر موقوف رکھی تھی، انہیں دنوں میں زید بن ثابت نے انصاری بچوں کی ایک جماعت کے ساتھ لکھنا سیکھا تھا ( تاریخ بغداد بشار: ١٠/٣٢٤ ) خیر القرون میں مکتبی تعلیم کا بہت زیادہ اہتمام ہوتا تھا،

چنانچہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں اولاً بچوں کی تعلیم کے لئے مکتب قائم کئے اور معلّمین کے لئے بقدرِ کفایت ایک رقم بطورِ وظیفہ کے مقرر کردی ( محلی ابن حزم: ٧/١٩٥ ) اس طرح سے ہر جگہ مکاتب کا نظام قائم ہوگیا تھا اور بہت سارے فقہاء اور علماء نے اپنی ابتدائی تعلیم انھیں مکاتب میں پائی تھی، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لڑکپن میں مکتب کی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: میں اپنی ماں کی گود میں یتیم تھا، مجھے میری ماں نے ایک مکتب کے حوالہ کردیا، جب میں نے قرآن ختم کیا، تو میں مسجد میں جاکر علماء کی مجالس اور حلقوں میں بیٹھنے لگا (جامع بیان العلم و فضلہ)

مکاتب کی اہمیت اکابر امت کی نظر میں: اسی مکتبی تعلیم کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے سلف صالحین اور علماءِ کاملین کے نہایت ہی پر اثر جملے موجود ہیں، چنانچہ حضرت مولانا منظور نعمانیؒ نے دینی تعلیم کونسل کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ دو باتوں میں سے کسی ایک کے لیے تیار ہو جائیں، یا تو اپنے بچوں کے دینی اور تہذیبی ارتداد پر راضی ہو جائیں یا اس راستہ میں ہمیں جو محنت کرنی ہے اس کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں ( مکاتب کی اہمیت اکابرکی نظر میں: ١)

اسی طرح مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ نے فرمایا: بالکل صاف کہتا ہوں بچوں کے عید کے کپڑے بنانے سے ہزار بار زیادہ، اور بچہ بیمار ہوجائے تو اس کا بہتر سے بہتر علاج کرنے سے سیکڑوں بار زیادہ، اور اپنے بچوں کو نوکری کے قابل بنانے سے لاکھ بار زیادہ، یہ ضروری ہے کہ اس کو سچا پکا مسلمان بنایا جائے ( مکاتب کی اہمیت، اکابر کی نظر میں:٦) یہی وجہ ہے کہ ترجمان اہل سنت حضرت مولانا محمد عبد القوی صاحب مدظلہ العالی نے ایک مرتبہ نئی تعلیمی پالیسی اور مکاتب کی اہمیت کے حوالے سے فرمایا تھا: موجودہ دور میں مدارس کی تعلیم فرضِ کفایہ ہے اور مکاتب کی تعلیم فرضِ عین ہے۔

لہٰذا میں اپنی علماء برادری سے بھی ایک درد مندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ہم اپنی تنخواہ کے کم ہونے کی وجہ سے معصوم بچوں کو کفر و ارتداد کے طوفانوں کے حوالے نہ کریں، کم از کم ایک دین کا خادم اور نبی کا وارث ہونے کی حیثیت سے نونہالانِ امت کے عقائد کی اصلاح اور قرآن کی درستگی کے لئے تیار ہوجائیں، جو کچھ بھی مل جائے ٹھیک ہے اور ہم اپنی معمولی تنخواہ کی وجہ سے پڑھانے سے پیچھے نہ ہٹیں،

ورنہ کل میدانِ محشر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے، اور یہ حقیقت بھی بدیہی ہے کہ دنیا تنخواہ ملنے کی جگہ ہے (یعنی تن جتنا چاہتا ہے) مَن خواہ ملنے کی جگہ نہیں ہے، پیسوں کے ترازو میں علم کو تولنے والا استاد اپنے علم کی تذلیل کر رہا ہے، اور مکاتب کے اساتذہ اپنے آپ کو ہرگز کمتر اور حقیر نہ سمجھیں، آپ تو معزز اور افضل لوگ ہیں جیسا کہ حدیث عثمان بن عفان میں ہے۔ خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ (الصحیح البخاری: ٥٠٢٧ )

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

ترستی ہے نگاہِ نارسا جس کے نظارے کو وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں

خلاصۂ تحریر یہ ہے کہ ہم وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عزم کریں کہ جن مساجد میں مکاتب کی تعلیم کا نظم نہ ہو تو فی الفور وہاں ابتدا کردیں، اور جہاں پہلے سے مکاتب کا نظام ہو وہاں اس کو مستحکم بنائیں، تعلیمی معیار میں تبدیلی لائیں، اکابر امت کی رہنمائی اور مفکرین کے مشوروں کے ساتھ اس کا نظام قائم کریں، اس کے علاوہ نونہالانِ امت کے ایمان کے بقاء کا کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں، اور اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں! ہمیں ہی اس فریضہ کا بوجھ اٹھانا ہے، ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں، بس ہمیں آگے بڑھانا ہے اس لیے کہ کام تو بس کام سے ہوگا، نہ کہ حسنِ کلام سے، ذکر کے التزام سے، فکر کے اہتمام سے۔

حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے امت کے نونہالوں کے ایمان کی حفاظت فرمائیں اور ہر دجالی فتنے سے اپنی پناہ میں رکھیں۔ نیز ہم دشمنوں کی سازشوں سے نہ گھبرائیں اور اپنی محنت اور توفیق ایزدی سے دشمنانِ اسلام کو بتادیں۔

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے

آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے

عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.