نرگسیت : خبط ِعظمت میں گھرے ذہنی بیمار لوگ

جدید نفسیات کے علمی سرمایہ نے اس خود پسند ی اور اس کی تباہ کاریوں پر اتنا کچھ لکھا لیکن اصل مرض اور محرک کو تلاش میں ابھی ناکام ہے۔ قرآن نے انسانوں کوبہت سادہ طریقے سے سمجھایا ہے کہ ساری تعریفیں رب کائنات کے لیے ہیں۔ جو کل اختیار ات کا مالک ہے۔

انسان کی متوازن شخصیت احساس برتری کے رویے سے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے جب خود پسندی کے اس مقام پر پہنچتی ہے جہاں اس کو سماجی حقار ت پہلی ٹھوکر لگتی ہے۔ اس منزل پر اگر وہ توازن سنبھال نہ پائے تو خودستائی کے اس پر خطر راستے میں منہ کے بل گرا دیا جاتا ہے۔ ایسے کردار وں میں یکایک اپنی ذات کے منفرد ہونے کا احساس جاگتا ہے۔ خبط عظمت کی بدترین تمنا اسے ہوائوں میں اڑائے اڑائے پھرتی ہے۔ یہاں زمین پر اس کے پائوں نہیں ٹکتے۔ اکڑاکڑ کے جینے لگتا ہے۔ ابھر ابھر کر سب سے بات کرتا ہے۔ مبالغہ اوڑھ لیتا ہے۔ خود کو محترم گردانتا ہے۔ بلکہ کسی دیوی ،دیوتا کی طرح اپنے ماحول سے پرستش کی تمنا کرتا ہے۔بقول شخصے؎

نشہء ذات الٰہی توبہ
دن میں سو بار بہک جاتا ہوں

یونانی صنمیات کے روایتوں کے انبار میں نرگسیت کا ایک فسانہ یوں بھی ہے کہ ایک بانکا اور خوب رو شہزادہ Narcissus تھا جو اپنے قد و کاٹھ، روپ رنگ پر اتنا اتراتا تھا کہ وہ ساری زندگی کسی دوشیزہ سے متاثر نہ ہوسکا۔ وہ ایک دن شکار کرتا ہوا تالاب کے کنارے پانی پینے کے لیے جھکا ہی تھا کہ اپنے عکس کی دلکشی پر اپنا ہی دل ہار گیا۔ خود کو سراہنے لگا۔ وہ اسی خیال میں ایسے کھویا کہ وقت کی طوالت کو بھول کر وہ پانی میں اپنے عکس جمیل سے لطف اٹھاتا رہے۔ اسے بار ہا بتایا گیا کہ کھانا، پینا اور جینا تم سب کچھ چھوڑرہے ہو۔

تب اس نے پانی میں لہراتے ہوئے اپنے ترشے ہوئے بدن کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے ہوئے کہا کہ خبردار !پانی کو حرکت نہ دو کہ کہیں میرا عکس ٹوٹ کر ریزہ ریزہ نہ ہوجائے ۔اس کا اترانا اس وحشت کو جا پہنچا کہ وہ آخر بھوک پیاس سے مرگیا۔ عجیب شخص تھاجو اپنے عکس کے غیر حقیقی سائے کو بچانے کی دھن میں ، اپنا حقیقی وجود قربان کر بیٹھا۔ اس ماجرے کی خبر جب دیوتائوں تک پہنچی تو اس کی موت کے مقام پر نرگس کے پھول اُگادئیے۔ پھر یہ قصہ چلتے چلتے جب ہمارے ادب تک پہنچا تو نرگس کا پھول، آنکھوں کے حسن اور انتظار کا اشارہ بن کر شعری سفر میں رہا۔

جدید نفسیات کے علمی سرمایہ نے اس خود پسند ی اور اس کی تباہ کاریوں پر اتنا کچھ لکھا لیکن اصل مرض اور محرک کو تلاش میں ابھی ناکام ہے۔ قرآن نے انسانوں کوبہت سادہ طریقے سے سمجھایا ہے کہ ساری تعریفیں رب کائنات کے لیے ہیں۔ جو کل اختیار ات کا مالک ہے۔ ہر خیر اس کے کلمہ کن فکاں کے سرگوشی سے شروع اور وسعت پاتا ہے۔اگر تعریف جو رب کا منصب ہے ۔ بند ہ رب کے دستار پر ہاتھ ڈالے تو سوائے بربادیوں کے کچھ ہاتھ نہ لگے گا ۔ بقول اقبال ؎

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی، باقی بُتانِ آزری

یہ مسئلہ چاہئے اپنی ذات کی تباہ کن ستائش کی وجہ سے ہو ، خبط ِ عظمت کے سبب ہو یا خواہش نفس کی بے قابو آرزو کا آفریدہ ہو، خود نمائی کی چاہت اس سے یہ تماشا کرواتی ہو کہ رہی سہی عزت بھی لٹ جاتی ہے۔ ایسے میں نخوت ، تکبر اور برتری کی کوئی بات ہوتو، ایسے میں ہمیں ایک نگاہ قرآن حکیم کے بصیر ت افروز نکتہ پر ڈالنی چاہئے۔

وَلَا تَتَّبِــعِ الْـهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ (سورہ: 88)

اور نفس کی خواہش کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی۔ اسی لیے خواہش نفس کی خدائی سے بچنے کی دعائیں ہمیں رحمت دوعالم انے سکھائی ہیں کہ اے اللہ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے پناہ مانگتے ہیں۔

ایسے نرگسی مزاج کو انگریزی میں Narcissist یا Narc کہتے ہیں۔ نارک کا مزاج گرگٹ کی طرح رنگ بدل بدل کر اپنی برتری جتلاتا ہے ۔ کبھی انکسار کے چولا اوڑھے ، کبھی اپنی کارچوبی کو کارنامہ جتلاکر، کبھی خودنمائی کی دھونس میں کسرت (ورزش) کا شوق کا پال کر اپنے بدن کو اتنا تیار کرلیتا ہے کہ وہ چلتا پھرتا اشتہار لگنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ دماغی خلل دراصل کسی ایک کمتری کے سبب برتری جتلانے پر آمادہ ہوتا ہے۔

اس کی تلون مزاجی کی زد میں پورا سماج آجاتا ہے۔ یہ کسی اور کی نصیحت سن نہیں سکتا کیوں کہ خود کو برتر گردانتا ہے۔ کبھی یہ اپنے خاندان، حسب نسب کی خونی لکیر کو حالہ نور تک لے جاتا ہے جہاں اس کے سب مردہ لوگ نیک، بے خطا اور بے عیب تھے۔ ایسی باتیں کرکے وہ بے اعتماد لوگوں کی بھیڑ اپنے اطراف اکھٹی کرتا ہے۔ کمزور دل، کمزور یقین، سادہ لوگ اس کے تراشے ہوئے واہموں پر جیتے ہیں۔ یہ کردار چاہے فقیروں کے روپ میں ہو یا اعلیٰ عہدیداروں کے سوانگ میں ہو اپنے ہیجان کو اوروں کا ایمان بنا کر دم لیتا ہے۔

اگر اس کو ہم قبول نہ کریں تو اس کا نرگسی طیش اپنے مخالف کو برباد کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایسے غیر سماجی عناصر ہمیں جگہ جگہ ملتے ہیں۔ تجارت کی منڈیوں میں، خاندان کی صفوں میں اور مذہبی اداروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کی اکثر سرگرمیاں بنام خیر ہی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی دولت مند طبقہ سماج کے فعال لوگوں کو پیسے دے کر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ لوگوں کا تعاقب کرے اور انھیں بدنام کرے۔

ان کی شہرت اور وقار سے کھلواڑ کرے۔یہ سرگرمیاں خود پسندی کی پھیلے ہوئے مہمات ہیں۔ ان کے جینے کا ڈھنگ یہ ہے کہ یہ اپنی شرطوں پر آپ سے محبت کرتے ہیں۔ جب کہ محبت تو غیر مشروط ہوتی ہے۔ محبت خطر پسند عشق کا معیار رکھتی ہے۔ لیکن ہر اختیار اپنے پاس رکھنے پر یہ اصرار کرتے ہیں۔ روٹھنے کا حق، غصہ کرنے کا حق اور الزام لگا نے کا حق اور اپنی رائے کو حتمی جتلانے کاحق سب کچھ یہ اپنے لیے محفوظ کرلیتے ہیں۔

نرگسیت کا رویہ جب فرد سے نکل کر اداروں، نظریوں، قوموں، مسلکوں اور تہذیبوں میں اترتا ہے تو معاشرہ ان کو سخت ترین سزا دیتا ہے۔ معروضی ذہن رکھنے والا ان کو کراہیت سے دیکھتا ہے۔ یہ خود حق شناس اور حق پسند جتلاتے رہتے ہیں۔ کہیں یہ خود سے جنتی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ کہیں یہ خدا کے منتخب ، مکرم گروہ ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اگر کل اختیار انھیں ملے تو یہ انا ربکم الاعلیٰ کہہ جاتے ہیں۔

اس فکری خناس کو نہ جمہوریت کا طرز انتخاب بچاتا ہے نا ملوکیت کا محفوظ تقدس۔ یہ گروہ ظلم کرنے والوں کا ایک ٹولہ اپنے اطراف بنا لیتا ہے۔ جہاں ان کی فکر سے الگ سوچنے والوں کی کھال کھینچی جاتی ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ تعذیب خانوں کی تمام داستانیں انہی کے سبب ہے۔

یہ رویہ سب سے پہلے اوروں کی اچھائیوں سے اور اپنی کوتاہیوں سے انسانوں کو غافل کردیتا ہے۔ دفاع ذات کی آڑ میں اوروں کو برباد کردیتا ہے۔ بلکہ ایسے لوگ حسب ضرورت دینی حوالوں کو اپنے حق میں استعمال کرلیتے ہیں۔ اگر وہ سیاست سے لوگوں کی گھات میں رہیں تو کہیں کہ جدا ہودیں سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ اس لیے مخاطب کو ہمیشہ یہ الجھن رہتی ہے کہ شرپسندی کے باوجود جواز در جواز ان کے پاس موجود رہتا ہے۔

یہ ہمیشہ خود مرکزیت کی پر ذہن سازی کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کی آرتی اتاریں۔ دردمندی سے محروم یہ ٹولہ تعلق توڑتا رہتا ہے۔ رشتوں کے ریشے ریشے بکھیرتا رہتا ہے۔ اپنے ادھورے پن کو چھپانے کی دھن میں اپنے مکمل ہونے کا ذکر کرتا ہے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی اختیار کی جنگ نہیں اعتبار کی امنگ پر پھلتی پھولتی ہے۔ باہمی اعتماد پر پروان چڑھتی ہے۔

نرگسی ذہن جب اپنے رویے پر جم کر ڈھٹائی پر اتر آتا ہے تب بے ضمیری، جنس پرستی اور خود غرضی کی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کے ظاہر و باطن کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص قیمتی کار میں، خوش رنگ لباس میں، خوشبو لگائے ہوئے، بہترین انداز گفتگو کرتا ہوا سماج میں پایا جائے اور اس کی کار میں اقدار کی بدبودار لاشیں ہوں۔ اخلاقی معیارات کا بربادتعفن ہو۔ اس کے قریب جو جائے گا اس کو سوائے نقصان کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔ ایسے میں ایک سادہ انسان یہ سوچتا ہے۔ بقول اقبال:

خداوندہ یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

اس شرپسند کردار سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان سے فاصلے کے ساتھ رہیں۔ ان کی مصنوعی شخصیت کو جلد سے جلد پہچان کراقدامات کریں۔ اپنی ذات کو اعتماد بڑھائیں۔ یقین کی دولت اگر آپ کے دل و ذہن میں رہے گی تو ایسے لوگ آپ کو نقصان نہیں کرسکیں گے۔ یہ آپ کی تعریف کریں تو بہہ نہ جائیں۔ یہ آپ سے جذباتی قربت چاہیں توآپ اپنی حصار ذات میں رہیں۔ یہ فخر کریں تو آپ چپ رہیں۔

یہ انکسار کا حربہ اپنائیں تو قبول نہ کریں۔ سرسری سا رابطہ ان سے رکھ کر اپنی شخصیت کی تعمیر ، اپنے رب سے تعلق اور سماج کے بہتر ذہنوں سے جڑ کر چلیں تو یہ اپنی نرگسی بصیرت سے، ترستی آنکھوں سے آپ کو دیکھتے رہیں گے اور آپ بڑی آسانی سے ان سے ٹکرائے بغیر گزرجائیں گے۔ ہمارے لیے یہ قرآن کی بشارت کافی ہے۔

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى (40) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰى (41) (سورۃ النازعات)

اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے خوف کیا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا ، جنت اس کا ٹھکانا ہوگی۔

٭٭٭

نعیم جاوید
ڈائریکٹر ادارئہ شخصیت سازی’’ ہدف ‘‘سعودی عرب
nayeemjaved@gmail.com

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.