نمائشی نیکیاں

نیکیوں کی چھپانے کی عادت اتنی شدت اختیار کرگئی ہے کہ ماحول ہمارے لیے ساز گر نہیں ہورہا ہے۔ نیکیوں سے خود کو منسوب کرنے کا کلچر ختم ہوچکا ہے۔ چھپ چھپا کر قرآن پڑھا جاتا ہے۔ آج گھروں سے قرآن کی تلاوت کی بلند آوازیں نہیں آتیں۔ ہاں! قرات کے یوٹیوب، ٹی وی پروگرام چلتے رہتے ہیں۔

نعیم جاوید
ڈائریکٹر ادارئہ شخصیت سازی’’ ہدف ‘‘سعودی عرب

خد ا نے ہمیں دو آنکھیں اور دو کان دیئے لیکن نظریہ نبھانے میں ہم اکثر دنیا کو آنکھ مار کردیکھتے ہیں۔ اس سے مزاج کی شوخی، طبیعت کے الہڑپن کا تو پتہ چل سکتا ہے لیکن وسعتِ نظری کانی گردانی جاتی ہے۔بھینگا ز اویہ دراصل ایک بہکا ہوا آئینہ ہے جو ہر منظر کو بہکا دیتا ہے۔ جس طرح ایک ٹانگ پر چلنے سے نہ منزل ملتی ہےاور نہ ایک ہاتھ سے گتھم گتھا ہونے میں حریف پیٹھ تھپکتا ہے۔بلکہ رسوا کن دائو سے پچھاڑ دیتا ہے۔ اس سادہ سی سچائی کے باوجودایک متوازن طرز زندگی ہمارے شعور کی سرحد وں سے دور رہتی ہے۔ یہ بھی زندگی سے ایک طرح کا مشرکانہ بٹوارہ ہے کہ ہم نے بھی وجیٹیرین اور نان ویج کی طرح تعلیم بھی اندھے کی ریوڑیوں کی چھانٹ لی پھر بانٹ لی۔ جن لوگوں نے دینی تعلیم کو اپنا کر دنیاکو ٹھوکر ماردی تو نتیجتاً دنیا نے اس سے زیادہ حقارت سے ٹھوکر ماری ہے۔ ان کی نظر میں جیسے خدا صرف دوزخ کی رسوائیوں کا مالک ہے جنت کی رعنائیوں کا خالق نہیں جب کہ یہ دنیا جنت بھی اور دوزخ بھی ہے۔

’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کی بنیاد چاہے جتنی اہم ہو لیکن نیکی کر اور نیکی پر آمادہ کر بھی کم اہم نہیں ہے۔ جب کہ یہ تو صرف رب جانتا ہے کہ نیکیاں؛ نیتوں کی اساس پر اپنی وقعت رکھتی ہیں۔نیت صاف ہو تو پھول ہی پھول ورنہ مٹی دھول۔ اس لیے زمانے میں ہر اچھائی؛ چھاجاتی ہے اور اپنے نتائج کی سوغات نیکو کارکو دے جاتی ہے۔ یہ معاملہ بھی ایک اللہ اور ہر عبداللہ کے درمیان طئے ہوتا ہے ۔ وہ بھی اس کے اپنے قریہ جاں کی سرحدوں میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک اچھے معاشرے میں خیر فروغ رعنائیوں کا چلن، حسن و احسان کی اداوں کا خرام ناز۔ بھلائیوں کا سر اٹھا کر چلناکوئی جادوئی اور مقناطیسی اثر نہیں رکھتا ہے کہ نہیں جسے دیکھ کر ایک رکا ہو معاشرہ ترغیب و تحریک پاکر اس قافلہ خیر میں شامل ہوجائے۔ یقیناً رکھتا ہے۔اس کا نور پھیلتا ہے۔ اس کی خوش بو روح تک اترتی ہے۔ اس کا خوش آہنگ نغمہ روم روم میں اترتا ہے۔

دینی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کچھ نمازیں سرّی ہیں کچھ جہری ہیں۔اذان بلند ہے تو ذکر خاموش ہے۔قرآن میں اس کے جزوی اشارے بھی ملتے ہیں۔

متعلقہ

اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّهِـمْۚ ۔(سورہ بقرہ 274)

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن چھپا کر اور ظاہر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر ہے۔اور کہیں اجازت بھی دی گئی کہ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِىَ (سورہ بقرہ:271) ترجمہ: اگر تم خیرات ظاہر کرکے دو تو بھی اچھی بات ہے۔اس کے باوجود آج زمانے میں نہ افراد اورنہ گھرانے نیکیوں کی پہنچان بن سکے۔ ایسے کتنے فراد یا گھرانے اس بات پر مشہور ہیں کہ یہ لوگ ایک یتیم کو پال رہے ہیں۔ اس گھر کا بڑا لڑکا اپنے خون کا عطیہ دے کر اس کی قیمت بھی وصول کرتا ہے اور غیر مسلم لڑکی کو پڑھا رہا ہے۔ کسی رہائشی بلڈنگ والے سب مل کر ایک بڑھیا کا مشترک علاج کرواتے ہوں۔کوئی کتاب دوست گھر اقراء کی تمنائوں کی گونج والا مزاج رکھتا ہو۔ کتنےلوگ ہنر سکھانے والے ہیں۔ کوئی ایک گھنٹہ مفت ٹیوشن ڑھاتا ہو۔ کوئی مارشل آرٹس سکھاتا ہو۔اپنے گھرکی شادی میں کسی غریب کی شادی کا انتظام کرتا ہو۔ایک زمین یا فارم خریدکر کسی گھرانے یا ادارے کو اس کا ایک کونہ خیرات میں دے دے۔ دوڑ اور سیکل ریس کے میراتھان میں حصہ لیتا ہو۔جانے کیو ں مسلم ادارے ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس سے دوسرے کی تمناوں میں ہم شریک ہوسکیں ۔ ہماری وضع قطع ہی نہیں بلکہ سماجی غم بھی سب سےالگ ہوگئے ہیں۔

ہر بستی میں ایک دیوار پرایک بڑا بورڈ یا اشتہار آویزاں ہونا چاہیے کہ جہاں نیکیوں کو اعزاز ملتا رہے۔ ایثار کی سرخی بنے۔ قربانیں تحریک بنیں۔ اچھائیوں کو اعتبار آئے۔ چاہئے ایک ننھا سے بچہ بھی اپنی پاکٹ منی کا حصہ دے تو وہ اس دن کا ہیرو ہوگا۔ جب معاشرے میں اقدار کی سرخیاں اخبار کی زینت بنیں گی تو مکار سیاست دانوں کی مکروہ خبریں حاشیہ سے ابھر نہ سکیں گی۔ مجھے یاد ہے ایک مسلم ملک کی وزیر اعظم کی پریڈ میں گھوڑا بدک گیا تو شاہ سرخی بنی تھی اور اس دن اخبار میں ایثار و قربانیاں ، جدت و تحقیق کی ساری خبریں حکیموں کی طیش میں لانے والی دواوں کے حاشیہ میں تھیں۔

نیکیوں کی چھپانے کی عادت اتنی شدت اختیار کرگئی ہے کہ ماحول ہمارے لیے ساز گر نہیں ہورہا ہے۔ نیکیوں سے خود کو منسوب کرنے کا کلچر ختم ہوچکا ہے۔ چھپ چھپا کر قرآن پڑھا جاتا ہے۔ آج گھروں سے قرآن کی تلاوت کی بلند آوازیں نہیں آتیں۔ ہاں! قرات کے یوٹیوب، ٹی وی پروگرام چلتے رہتے ہیں۔ پہلے قرآن کی تلاو ت کو کسی کا فن کار یا قاری ہونا ضروری نہیں تھا۔بس اپنے اپنے ذوق سے رب کی کتاب کی محبت میں ایک سادہ سی مستی و لحن میں گھر ، گھرانے گونجے رہتے تھے۔ سادہ ذہنوں کی سچی آواز کا رس کانوں میں اترجاتا تھا۔ پھر اس گھر کی یہ نیکی ہی اس کی سماجی پہچان ہوجاتی تھی۔مالی مدد کے سلسلے میں ہم نے دیکھا کہ جب مستقل چھپا کے دینے سے گھرکے کئی افراد گمراہ ہوجاتے ہیں۔ جُل، فریب کے حربے اپنا تے ہیں۔ انھیں جب پتہ چلتا ہے کہ دینے والا کسی سے نہیں کہے گا تو وہ ہر ایک سے مدد لیتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ خاندان اور سماج میں ہوتے ہیں۔دینی منصبوں خاص طور سے مرشد کا بھی یہی حال ہےوہ خوش بخت کبھی کسی سے نہیں کہے گا کہ اس ماہ میرے پاس اتنے لاکھ کا چندہ ہوا اور میرے مرید نے مجھ پر اتنا کچھ لٹا یا۔ایسی چھپی، خفیہ نیکیاں گمراہیوں کو سرنگیں ہیں جس کی کمین گاہوں میں خوش پوش کمینہ لوگ دہائیاں دبکے رہتے ہیں۔ یہ ایک سماجی دیمک ہے انھیں پہلے ہی مرحلے میں روندنا اور آگ کی تپش بتا دینا ضروری ہے۔

جذبوں کے تبادلے سے نیکی کا فروغ ہوتا ہے۔ نیکیاں فن و ہنر کے پیکر میں بھی ڈھلتی ہیں تو حسن کی تجسیم ہوتی ہے۔تب کہیں تاج محل سی ایک ایسی حسین یاد گار زمین پر دائمی نقش چھوڑ جاتی ہے۔ یہ بھی ایک سماجی خیر کی جلوہ سامانی تھی تب پورے برصغیر میں قحط و بھوک سے نمٹنے کے لیے بادشاہ وقت نے اپنے تمناوں کی صورت گری کے لیے اپنی دنیا کے تما م ہنرمندوں، مزدورں اور محتاجوں کے مسائل کو وسائل سے جوڑ دیا۔ پھر بھوک بھی مٹی اور تاج محل کو دوام بھی ملا۔ معیاری فکر ہمیشہ تجربات و محسوسات کی ایک الگ دنیا ساتھ رکھتی ہے۔ نیکیوں کی شہرت کا اجالا برائیوں کے اندھیرے مٹا کر اس روپ رنگ بدل دیتا ہے۔ اس کا طرزتپاک ، اس کی شہرت، اس کاشرف؛ مثال بنتا ہے جیسے کہ غزوہ تبوک کے مالی اپیل پرصحابہ رضی اللہ عنہم کی انجمن میں ایثار کی ایسی فضا چلی کی۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بستی میں نیکی کرنے والوں میں مسابقت کا رنگ اترا۔باہر کی دنیا کی پاکی اندر کی دنیا بھی بدل سکتی ہے۔ ورنہ دنیا صرف صوفیوں کے کدو میں ’’حق ھو‘‘ کے ضربوں پرمطمئن ہوجاتی ہے ۔ اہل نظر نئی بستیاں آباد نہیں کرتے۔ نیکیوں کی شہرت ، تدابیر کی شہرت ہے،یہ ہماری منفرد شناخت پر اصرار کرتی ہے۔اسی طرح اگر شادیوں کی سادگی کی شہرت ہوجائے تو سادگی ہی معیارِمسرت ہوگا۔ معیاری شادی کا روپ رنگ سب اسی سے لیں گے۔ لوگوں کے طعنوں کی فکر سے بےنیازہر امداد میں محبت دیتا ہوا پیام عام ہوگا۔

میں سوشیل میڈیا کو امکانات سے روشن دیکھتا ہے۔ جب کہ ہماری سوشیل میڈیا پر سرگرمی عالمی استعاروں میں نہیں ڈھلی ۔ ہماری باتیں گھریلو ٹوٹکوں اور نیم حکیموں کے کشتوں کی زبان میں ہوتی ہیں۔ اس لیے عالمی توجہ ہماری نیکیوں پر کم کم توجہ دیتی ہے۔ ہم یہ جان لیں کہ ہم صرف کام نہیں کرتے بلکہ ہر کام سے تہذیبی توسیع کی ایک تدبیر تراشتے ہیں۔ ہمارے اقدامات کی وسعت اتنی ہی ملتی ہے جتنی ہماری تدبیروں کی وسعت ہے۔ اس لیے آگے بڑھ کر اپنی نیکیوں کی عظمت دنیا کو بتائیں۔ کیوں کہ بلندی کے جہاز صرف نمائش کے لیے نہیں ہوتے ۔ یہ منزلوں کےلیے اڑان بھرتے ہیں۔ ان بلندیوں پر نظریہ ساز لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ۔ہاں مگر توازن کی شرط کو ہر لمحہ ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔

اگر نمائش میں ریا کی راہیں سرنگ بناکرآتی ہیں ۔تو چھپی ہوئی اچھائیاں شناخت کو ترستی ہیں۔ یہ متاع گم گشتہ کو سماج کی روشن سطح تک لانا بھی ضروری ہے۔ اس لیے زندہ قومیں نیکی کے فروغ میں حکمتِ عملی برتے ہوئےعصر شناسی سے کام لیتے ہوئے اپنے نظریات کے اہداف پر نشانے باندھتی ہے۔

٭٭٭

nayeemjaved@gmail.com

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.