پتنگ بازی اور اسلامی نقطہ نظر

اسلامی شریعت کھیل کود اور تفریح سے کلیہ منع نہیں کرتی ہے بلکہ کھیل کود اس انداز میں ہو جو شرعا مستحسن و مطلوب ہو تا کہ جسم و روح کا ملال ختم ہو اور طبیعت میں چستی ،حوصلہ وہمت ،امنگ اور تروتازگی کی وجہ سے انسان اپنے اعلی مقاصد حیات کی راہ پر گامزن ہو سکے اور جس میں کسی کے نقصان و دل آزاری کا شائبہ تک بھی نہ ہو، جبکہ پتنگ بازی میں خاص طور پر اغیار کی نقالی کی جاتی ہے۔

مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی
خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد

اسلام ایک کامل و مکمل ابدی و دائمی مذہب ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک اور منزہ و مبرا ہے، اسلام گوشہ نشینی اور ترک دنیا و مافیہا کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ انہیں فعال ،خودکفیل، بہادر و توانا دیکھنا چاہتا ہے، یہ مذہب اسلام کی نہ صرف خوبصورتی ہے بلکہ تمام مذاہب عالم میں اسے ایک امتیاز عطا کرتی ہے

لیکن مسئلہ اہل اسلام سے تعلق رکھنے والوں کا ہے، اگر وہ مذہب اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو اہمیت دیتے ہوئے اپنی عملی زندگی میں لائیں گے اور احکام قرآنی اور ہدایات نبوی علی صاحبھا الف الف تحیۃ و سلام کو حرز جان بنائیں گے تو اسلام اپنی فطرت کے مطابق علو مرتبت سے نہ صرف ہمکنار کرے گا بلکہ سعادت و کامرانی کی معراج تک پہنچا دے گا اور اگر اسکے برعکس اسلام کے نام لیوا شریعتِ اسلامیہ اور اسلامی تہذیب و تمدن کو بالائے طاق رکھ کر اغیار کی نقالی اور کفر و شرک بدعات و خرافات میں مبتلا ہوجائیں گے تو اسلام کی بلند شان میں کمی تو نہیں آئے گی وہ اپنی حقیقی تعلیمات کی وجہ سربلند ہی رہے گا البتہ مسلمان اپنی شناخت کھو کر بے روح جسم اور مردہ لاش کے مانند ہوجائیں گے یہ ایک مسلمہ اصول ہے تاریخ کے صفحات اس اصول کی سالمیت سے بھرے پڑے ہیں ۔

قارئین کرام : اگر آپ اس اصول کو سمجھ چکے ہیں تو اس دور میں پائے جانے والی ان چیزوں پر نظر ضروری ہے جو ہمیں مذہبی اور اسلامی طور کمزور کررہی ہیں بالخصوص ان دنوں ہمارے علاقے میں پتنگ بازی کا کافی رجحان دکھائی دے رہا ہے مالدار اپنی حیثیت سے اور غریب اپنی استطاعت کے بقدر ہی سہی کسی کسی نہ کسی طریقے سے اس ہندوانہ رسم کو انجام دے رہے ہیں نوجوانوں نے اپنی جوانی کو شوق پورا کرنے کا ذریعہ سمجھ کر غیر شرعی افعال کو انجام دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ، اسکے علاوہ جو والدین اور سنجیدہ و سمجھدار طبقہ ہے وہ پتنگ بازی نہ بھی کررہا ہو تو کم از کم اپنے بچوں کی ضد اور خواہش کو پورا کرنے کے لیے پتنگ خرید کر دیتے ہیں، جو نہ صرف اپنے مال کا ضیاع ہے بلکہ اپنی اولاد کی اسلامی تربیت کا جنازہ خود اپنے ہاتھوں اٹھانے کے مترادف ہے، حتی کہ بعض افراد سیکولرازم کے پرفریب جھانسے میں مبتلا ہوکر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا حامل ملک ہے یہاں ہندو بچوں کے ساتھ انکی دلجوئی کے خاطر مسلمان بھی پتنگ اڑالے تو کیا حرج کی بات ہے؟ اس میں کونسا دین ایمان کا خسارہ ہے؟ لوگوں نے اس ہندوانہ رسم کو جو آگے بڑھایا ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اس تفریح کا خوبصورت ذریعہ اور انجوائے کا بہترین طریقہ سمجھتے ہیں جو کہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

متعلقہ

پتنگ بازی اور شریعت اسلامیہ :

اسلامی شریعت کھیل کود اور تفریح سے کلیہ منع نہیں کرتی ہے بلکہ کھیل کود اس انداز میں ہو جو شرعا مستحسن و مطلوب ہو تا کہ جسم و روح کا ملال ختم ہو اور طبیعت میں چستی ،حوصلہ وہمت ،امنگ اور تروتازگی کی وجہ سے انسان اپنے اعلی مقاصد حیات کی راہ پر گامزن ہو سکے اور جس میں کسی کے نقصان و دل آزاری کا شائبہ تک بھی نہ ہو، جبکہ پتنگ بازی میں خاص طور پر اغیار کی نقالی کی جاتی ہے فضول خرچی، ضیاع وقت، آلہٴ علم (کاغذ) کی بے حرمتی ہوتی ہے عمارت اسلام کے قوی ترین ستون نماز کا انہدام اوربے پردگی کر کے قرآن و سنت کے واضح احکامات کا ترک کرنا لازم آتاہے جس کی بنا شریعت اسلامیہ پتنگ بازی کو بہت سے مفاسد اور گناہوں کا ذریعہ قرار دے کر اپنے ماننے والوں کو اس سے روکتی ہے نیز پتنگ بازی کرتے وقت چھت سے گرنے کے احتمالات بکثرت پائے جاتے ہیں بلکہ ہر سال ہر شہرمیں کئی جانیں لقمہ اجل بنتی ہیں جبکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر منڈیر کے چھت پر بھی سونے سے منع فرمایا ہے کہ سونے والا اچانک اٹھ کر چلنے لگے اور منڈیر نہ ہونے کی وجہ سے گر نہ جائے۔ان سب کے ساتھ پتنگ بازی میں کثیر رقم بے دریغ ضائع کر دی جاتی ہے جو کہ اسراف ہے جبکہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید بین الفاظ کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ : ان اللہ لا یحب المسرفین (بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) جبکہ اسی رقم سے کئی ایسے کام کیے جا سکتے ہیں جن سے مسلم معاشرتی بہبود کا کوئی پہلو نکلتا ہو ۔( تفصیل کے لیے دیکھیں اصلاح الرسوم از حضرت تھانوی علیہ الرحمہ)

آج ہماری قوم تعلیمی و تمدنی تہذیبی و ثقافتی ہر میدان میں زوال کا شکار ہے کاش کہ ان فضول خرچیوں کو ہمارا معاشرہ ترک کرے غفلت و لاپرواہی کے خواب سے بیدار ہوجائے اور اپنے اسلامی و تہذیبی ورثہ کی حفاظت اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کچھ فکریں اپنے ذہنوں پر سوار کرے تو یقیناً اس ملک میں امت مسلمہ کا مستقبل سنور سکتا ہے ۔

پتنگ کی تجارت اور اسکا شرعی حکم :

آج کل بہت سے مسلمان بھی پتنگوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں، اپنی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے پتنگ کی تجارت کرتے ہیں، یا مکر سنکرانتی کے موقع پر خاص پتنگوں کا اسٹال لگاتے ہیں، پتنگ اڑانا اور اسے بنا کر بیچنا اور اس کی تجارت کرنا ایک مسلمان کے لئے کیا حکم رکھتا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟

الجواب: حامداً و مصلیاً و مسلماً..جس کھیل میں دین یا دنیا کا کوئی بھی فائدہ ہو اور شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی بھی نہ ہوتی ہو تو ایسا کھیل کھیلنا جائز ہے، پتنگ اڑانے میں نہ تو دین کا کوئی فائدہ ہے اور نہ دنیوی کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کی مشغولیت کی وجہ سے نمازیں قضا ہو جاتی ہیں اور جان و مال کی ہلاکت اور فضول خرچی اور بے پردگی جیسے گناہ ہوتے ہیں ، اس لئے پتنگ اڑانا یا کٹی ہوئی پتنگ کا لوٹنا سب ناجائز ہے، لہٰذا پتنگ بنانا اور اس کی تجارت کرنا سب گناہ کے کام میں مدد ہے اور ناجائز ہے۔ (فتاویٰ دار العلوم: ۲۸۴، جواہر الفقہ: ۳۴۴)

اللہ تعالٰی ہم سب کو شریعت اسلامیہ کے مطابق اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر طرح کے بدعات و خرافات سے ہماری حفاظت فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

ایک تبصرہ

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.