کارِ دعوت، وقت کی اہم ضرورت

آج اگر مسلم معاشرے کا جائزہ لیں تو ہر قسم کی برائیوں کی بھر مار ہے۔کوئی شرک کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں گھرا ہوا ہے تو کوئی بدعت کی ظلالت میں بھٹک رہا ہے۔ کوئی مایوسی کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے تو کوئی سود‘ رشوت ‘ بے ایمانی‘ بے غیرتی اور ناانصافی کی زر میں ہے ۔

یاسمین تہنیت، فاضلہ و ممبر جی آئی او حیدرآباد

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ(آل عمران: ۱۱۰)

ترجمہ:تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے۔

متعلقہ

آج اگر مسلم معاشرے کا جائزہ لیں تو ہر قسم کی برائیوں کی بھر مار ہے۔کوئی شرک کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں گھرا ہوا ہے تو کوئی بدعت کی ظلالت میں بھٹک رہا ہے۔ کوئی مایوسی کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے تو کوئی سود‘ رشوت ‘ بے ایمانی‘ بے غیرتی اور ناانصافی کی زر میں ہے ۔ ظالم کو کوئی ظلم سے روکنے والا نہیں ہے مظلوم کی فریاد رسی کرنے والا کوئی نہیں، قطع تعلق ، غیبت، چغلی ، حسد وعدہ خلافی ، چوری ڈکیتی ، عورتوں کی عصمت ریزی ، فحاشی، بے غیرتی، بے حیائی ایک عام سی بات ہے۔

ابھی جس معاشرے کا نقشہ کھینچا گیا ہے ذرا دل پر ہاتھ رکھیں اور خود سے سوال کریں کیا مسلم معاشرہ ایسا ہوا ہوتا ہے۔ کیا اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت ہمارے نبی نے ایسے ہی معاشرے کی تشکیل دی تھی۔

ہرگز نہیں !! سچ تو یہ ہے کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے بہترین معاشرے کی تشکیل دی تھی جس کی نظیر ناممکن سی بات ہے ۔اس تشکیل سے قبل بھی وہی کچھ بگاڑ تھا، وہی برائیاں تھیں جو آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔

اللہ کے نبی اور ان کے پیارے جانثاروں نے معاشرے سے برائیوں کو ختم کرنے کے لئے کمر کس لئے اور بہترین و پاکیزہ معاشرہ بناکر ہی دم لیا۔ان کی خواہش ، ان کی ساری توجہ کا مرکز ، امت کو سیدھی راہ بتاتا اور ان کے لئے جنت کے راستے ہموار کرنا تھا۔ اور اس مشن کے لئے اللہ کے نبی نے رات کو رات اور دن کو دن نہیں سمجھا۔ پتھرکھائے ، آپ کے نعلین مبارک خون سے بھر گئے، غلاظت ڈالی گئی، رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑا یہاں تک کہ اس دعوتی جدوجہد میں اپنے ملک، اپنے عزیز پیدائشی مقام سے دوری اختیار کی۔ مگر واہ رے تڑپ …!! راہِ استقامت سے ذرا بھی قدم نہ ڈگمگائے ۔

طائف میں مقدس خون ٹپکا، مکہ میں کبھی پتھر کھائے
بس ایک تڑپ تھی کیسی تڑپ، انسان ہدایت پاجائے

یہ میرے نبی آپ کے نبی ، ہم سب کے نبی … راتوں کو اٹھ کر رو رو کر دعائیں مانگ رہے ہیں، اللہ سے فریاد کررہے ہیں، تڑپ رہے ہیں، سسک رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ دنیا تو دنیا روز محشر میں بھی جب وحشت ناک منظر ہوگا، ہر نفس کو اپنی پڑی ہوگی، آدم نفسی نفسی کہہ رہے ہوں گے، نوح نفسی نفسی کہہ رہے ہوں گے ۔ابراہیم نفسی نفسی کہہ رہے ہوں گے موسیٰؑ و عیسیٰؑ نفسی نفسی کہہ رہے ہوں گے ۔ اس وقت میرے نبی ، آپ کے نبی ،ہم سب کے نبی، امتی ، امتی ، امتی کہہ رہے ہوں گے ۔

قلم میرا قاصر زباں میری عاجز
محمدؐ کی عظمت بتاؤں میں کیسے

یہ تڑپ ، یہ جذبہ ، یہ شوق، آج ہم میں ہونا چاہئے تھا ہائے افسوس ! ہم میں دعوت دین کی تڑپ باقی نہیں رہی اور نہ ہی اسلام کو غالب کرنے کا جذبہ قائم رہا، اسلاف کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے لگے اور دن رات معصوم نبی کی سنتوں کا جنازہ نکالنے لگے۔

مسلمان کیا ہوتا ہے، اور مسلمان کیا بن گیا ہے۔اسلام کی حقیقی تصویر دھندلا سی گئی ہے۔آج نو مسلم کا کہنا ہے کہ ہم اسلام کی دولت سے فیضیاب ہوئے ہیں تو اسکی وجہ مسلمانوں کی دعوت یا ان کا اخلاقی کردار نہیں بلکہ قرآن اور کتب اسلامی کا مطالعہ ہے۔

مسلمانو!تمہارے لئے اس سے زیادہ شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک ہندو پنڈت کے مطابق ، اسلام سا بہترین اور پاکیزہ مذہب اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اور مسلمان قوم سے زیادہ بد اخلاق اور بری قوم کوئی نہیں ہے۔

میں پوچھتی ہوں کہ وہ کونسی برائی ہے جو آج ہم مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی؟ کھانے ، پینے سے لے کر نکاح ، طلاق، میت کے مسائل تک ، شروع سے آخر کت بدعات خرافات سے لبریز ہیں مسلمان…!!

وہ مسلمان جنہیں سیرت مصطفی کا ترجمان ہونا چاہئے تھا بد اخلاقی ، برائی ، فحاشی و بے حیائی، حب الدنیا اور کراہیتہ الموت کے دلدل میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ سوالیہ نشان تو اس بات پر لگا ہوا ہے کہ یہ بگڑے ہوئے مسلمان ، جن کو خود اصلاح کی ضرورت ہے وہ کیسے غیر مسلمانوں تک دین اسلام کی دعوت پیش کریں گے۔

سچ کہوں تو وقت آج میرے پاس بھی ہے ، آپ کے پاس بھی ہے، طاقت مجھ میں بھی ہے اور آپ میں بھی ہے۔ علم میرے پاس بھی ہے اور آپ کے پاس بھی ہے ۔ بس ذرا عمل کو آواز دے لیں۔ جب وہ آجائے تو مل کر ساری دنیا میں اسلام کا ڈنکہ بجائیں گے۔ پھر وہ دن بھی دور نہیں جب ساری انسانیت اسلام کے نور سے منور ہوجائے گی۔ بس ذرا عزم حکم کی ضرورت ہے۔آگے خدا بہت مہربان ہے۔

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ ہم میں عمل کا جذبہ پیدا کردے اور دعوت دین کی تڑپ پیدا فرمادے۔ آمین۔
٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.