کامیاب ہے وہ جو آخرت کو دنیا پر ترجیح دے

دنیاوی دلفریبی ہمیشہ سے اپنی طرف اشرف المخلوقات کو متوجہ کرتی رہتی ہے مگر جن کو آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے وہ کسی بے راہ روی کے راہوں کے شکار ہونے کے بجائے منشائے رب کریم والے راہ کا منتخب کرتے ہوئے اسی پر چلتے رہتے ہیںجن کو صراط مستقیم کہا جاتا ہے۔

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی
بانی وناظم ادارہ مبین العلوم قاسمیہ

جب سے دنیا بنی ہے اور اولاد آدم دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ہیں اس میں خاص کر امت مسلمہ‘ کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی اور اصولی زندگی گزارنے کیلئے ہمیشہ نبی ورسول کو مبعوث کرتے رہیں۔ کبھی آدم علیہ السلام کے شکل میں تو کبھی ابراہیم ؑ ودیگر انبیاء رسول کے شکل میں۔ آخر میں اور آخری نبی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قیامت تک کیلئے رہنما بھیج کر ساری انسانیت کو صراط مستقیم پر گامزن رہنے کیلئے آخری کتاب قرآن مجید کو نازل کرکے تاوقوع قیامت قائم ودائم رہنے والی کتاب نازل کرکے اس کے اندر جو احکام دئے ہیں اس پر عمل کرکے فانی دنیاوی زندگی گزارنے کی ہدایت دی ہے۔

جس نے اس کو کتاب الٰہی سمجھا اور اس کے تقاضے کو پورا کیا یقیناً وہ شخص دنیا ہی میں نہیں بلکہ قیامت میں کامیاب زندگی ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا۔ تقاضائے مذہب اسلام پر چلنے میں انسان کو جتنا بھی دشواریوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ اس کو پھول سمجھ کر عمل کرکے اپنے آپ کو کامیاب وکامران بنالیا ہے۔ راہیں کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہوں اگر طالب کے اندر اس کو پانے کا جستجوہوتو مشکل راہیں طے کرہی لیتا ہے۔ ان کے اس راہوں میں کتنے بھی دنیاوی دلفریب منظر اپنی طرف کشش کے ذریعہ متوجہ کیا مگر وہ اس پر ذرابرابر بھی توجہ نہ دے کے اصل منزل کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا رہا تاکہ بہتر اور کامیاب زندگی حاصل ہوجائے۔

دنیاوی دلفریبی ہمیشہ سے اپنی طرف اشرف المخلوقات کو متوجہ کرتی رہتی ہے مگر جن کو آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے وہ کسی بے راہ روی کے راہوں کے شکار ہونے کے بجائے منشائے رب کریم والے راہ کا منتخب کرتے ہوئے اسی پر چلتے رہتے ہیںجن کو صراط مستقیم کہا جاتا ہے۔ جو انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے۔ اولاد آدم جب کلمہ پڑھ کر دین اسلام کو اپناتا ہے تو ان کی زندگی کو صحیح و درست راہ پر قائم رکھنے کے لئے ضروری ہوجاتی ہے کہ ان کو زندگی کی حقیقت اور مقصد زندگی بتائی جائے اور مابعد موت ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، اللہ رب العزت ان سے کیا کیا سوالات کرنے والے ہیں اور ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھنے والے ہیں ‘ان سے باخبر رکھنے کیلئے قرآن وحدیث اور موقع بموقع ان کا دنیاوی حالات کے تناظر میں بھی سمجھایا جائے اور آگاہ رکھا جائے، تاکہ دنیوی زندگی میں وہی کام کرتے ہوئے اپنی قیمتی زندگی کو کامیاب و کامران بنانے کی تادم حیات سعی وجستجو کرتا رہے اور خوش و خرم اس مقام کے طرف منتقل ہو جہاں کی زندگی دائمی اور ہمیشہ ہمیش رہنا ہے۔

متعلقہ

وہ مقام، مقام آخرت ہے۔ آخرت کی ہولناکی اور وہاں کے حالات ایسے ہوں گے کہ تمام رشتہ دار راہ فرار اختیار کریں گے حتی کہ جس کے لئے دنیا میں رہتے ہوئے صبح وشام تگ و دو کرتے ہوئے ان کی زندگی کیلئے ہمہ اقسام کی سہولیات مہیا کرتے رہتے ہیں اس میں بیوی، بچے اور ماتحتین سب ہی شامل ہیں۔ آخرت میں روز میدان حشر میں وہ بھی راہ فرار اختیار کریں گے کیونکہ وہاں کے منظر اور حالات ہی کچھ اس طرح کا ہوگا۔ بھائی بھائی سے، ماں باپ اولادسے، دوست دوست سے بھاگے گا۔ کیونکہ وہاں نفسی نفسی کا عالم ہوگا۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم ایسی روش اختیار کریں کہ میدان حشر کے سوالات کا صحیح جواب دیتے ہوئے ہمارا جو مقام جنت ہے اس کو پالینے والے بن جائیں جس میں اولاد آدم کو قیام کرنا ہے۔ جنت میں ٹھکانہ دنیاوی اعمال کے اعتبار سے متعین کیا جائے گا۔ جس طریقہ کا عمل دنیا میں اختیار کریں گے اسی اعتبار سے جنت یا جہنم میں رہنے کا مقام ملے گا۔ اس لئے ہم کو ہمیشہ ہر لمحہ اس لگن کے اعمال خیر اختیار کرتے ہوئے دنیاوی زندگی کا اختتام کرنا ہے۔

ایمان کے بعد انسان کی زندگی کو سنوارنے اور فلاح کے مقام تک پہنچانے میں چونکہ سب سے بڑا دخل اللہ تعالیٰ کے خوف و خشیت اور آخرت کی فکر سے ہے۔ جس نے اس کو اپنے اندر پیدا کرلیا یقیناً وہ شخص کامیابی کے طرف گامزن ہے ، اس لئے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت میں ان دوچیزوں کے پیدا کرنے کی خاص کو شش فرمائی۔ کبھی اس خوف و فکر کے فوائد اور فضائل بیان فرمائے اور کبھی اللہ تعالیٰ کے قہر و جلال اور آخرت کے ان سخت احوال کو یاد دلائے، جن کی یاد سے دلوں میں یہ دونوں کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں۔

اگر انسان اس بات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے غور کرے کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی اور اس کے قہر و جلال اور قیامت و آخرت کے ہولناک، لرزہ خیزمنظر میں ہمارا کیا حشر ہونے والا ہے، تو خود بخود بدی سے اجتناب اور نیکی کے طرف راغب ہوجائے گا۔ رحمت للعالمین شفیع المذنبین نبی رحمتؐ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ’’قسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تمہیں وہ سب معلوم ہوجائے جو مجھے معلوم ہے، تو تمہارا ہنسنا بہت کم ہوجائے اور رونا بہت بڑھ جائے‘‘۔ (بخاری) انسان دنیاوی چمک ودمک میں الجھ کر بے فکری کی زندگی گذارنے لگتاہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیشہ ہمیش یہاں ہی قیام کرنا ہے مگر یہ دنیا تو دھوکہ کا گھر ہے اور جو اس کے دھوکہ میں آگیا وہ ایسا الجھ کر رہ جاتاہے کہ آخرت کوتباہ کر رہاہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود رب کی بشارت کے کہ آپ بخشے بخشائے ہیں پھر بھی ہر وقت خوف خدا سے لرزہ براندام رہتے تھے۔ ہم کو تو نیک اعمال کرنے پر بشارت ملی ہے کہ دین پر مکمل چلوگے تو کامیابی ممکن ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ارشاد فرمایا آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص ڈرتا ہے وہ شروع رات میں چل دیتا ہے اور جوشروع رات میں چل دیتا ہے وہ عافیت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے، یاد رکھو اللہ کا سودا سستا نہیں بہت مہنگا اور بہت قیمتی ہے، یاد رکھو اللہ کا سودا جنت ہے‘‘۔ (ترمذی)

یہاں مثال سے سمجھایا کہ جس طرح رہزنوں کے حملہ سے ڈرنے والے مسافر اپنے آرام اور نیند کو قربان کرکے چل دیتے ہیں اسی طرح انجام کا فکر رکھنے والے اور دوزخ سے ڈرنے مسافر ِآخرت کو چاہئے کہ اپنی منزل یعنی جنت تک پہنچنے کے لئے اپنی راحتوں، لذتوں اور خواہشوں کو قربان کرے اور اپنی حقیقی منزل کو پانے کے لئے تیزگامی کے ساتھ ہمیشہ تگ و دو میں لگا رہے، کیونکہ بندہ رب تعالیٰ سے جنت جو حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یونہی جنت حاصل ہونے والی نہیں ہے، ان کے لئے نہایت گرانقدر اور بیش قیمتی چیز جو جان و مال، خواہشات ِ نفس کی قربانی سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ان کے جان و مال جنت کے عوض خرید لئے ہیں، وہ اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کردیں تو جنت کے مستحق ہوں گے، گویا جنت وہ سودا ہے جس کی قیمت بندوں کی جان و مال ہے۔

موت کو حاضر تصور کرو اور چلنے کی مکمل تیاری میں لگے رہو کہ کب اپنی چلنے کی گھڑی آجائے معلوم نہیں، موت اور آخرت کی تیاری کرنے والے ہی ہوشیار، دانشمند اور دور اندیش ہیں، غافل شخص مصیبت کے لمحات اپنے لئے مقدر بنا رہے ہیں۔ چونکہ اصل زندگی یہ چند روزہ زندگی نہیں ہے بلکہ نہ ختم ہونے والی آخرت کی زندگی ہے اور وہاں نجات و کامیابی انہی کے لئے ہے جو فانی دنیا میں رہتے ہوئے رب کی اطاعت اور بندگی والی زندگی گذاریں۔ دراصل دانشمند اور کامیاب وہ بندے ہیں جو آخرت کو سدھارنے میں جٹ گئے ہیں، جو دنیا کی چمک دمک اور کشش میں الجھ کر نفس کا غلام بنا ہوا ہے وہ احمق ہے، اللہ کے احکام اور اوامر کی پابندی کے بجائے نفسانی خواہشات پر چلتے رہنے کے باوجود رب سے اچھے انجام کی امیدیں باندھتے ہیں وہ لازماً بڑے نادان اور ہر پل نامراد رہنے والے ہیں، گرچہ دنیا جمع کرنے میں کتنے ہی چست و چالاک اور پھرتیلے نظر آتے ہوں۔

’’اللہ سے رحم اور کرم کی امید وہی پسندیدہ ہے جو عمل کے ساتھ ہو اور جو امید بے عمل اور بد عمل اور آخرت سے بے فکری کے ساتھ ہو وہ رجاء محمود نہیں ہے بلکہ نفس و شیطان کا فریب ہے اور جو اس کا غلام بن گیا وہ نہ موت کو یاد کرتا اور نہ فکر آخرت کرتا ان کا انجام خوفناک اور بدترین ہوتا ہے، جن کے واقع ہونے کے بعد افسوس لاحاصل ہے۔ کیونکہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’ہوشیار اور توانا وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لئے یعنی آخرت کی نجات و کامیابی کے لئے عمل کرے اور نادان و ناتوان وہ ہے جو اپنے کو اپنی خواہشات ِ نفس کا تابع کردے اور بجائے احکام خداوندی کے اپنے نفس کے تقاضوں پر چلے اور اللہ سے امیدیں باندھے‘‘۔ (ترمذی)

ہوشیار ہے وہ شخص جو وقت آنے سے پہلے اس کی تیاری کرتاہے اور نادان ہے وہ شخص جو وقت آنے کا انتظار کرتاہے اور ندامت کا سامنا کرتا ہے‘ خاص کر دنیوی زندگی کہ کب کہاں خیرباد کردے خود کا پتہ نہیں ہے اس لئے جو لمحات سامنے ہیں اس میں ہی یہاں وہاں کی تیاری کے بجائے آخرت کی تیاری میں لگادیں اور جنت جو اولاد آدم کا اصل مقام ہے اس کو پانے والے بن جائیں۔ اللہ نے عقل سلیم عطا کیا ہے اس کو صحیح استعمال کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

٭٭٭

Mobile No. 9030825540

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.