جڑواں بچے

قدرت کے اس کرشمہ کے راز کو پانے میں سائنس ہنوز ناکام

تقریباً دو صدی قبل ہم شکل جڑواں بھائیوں کے نام پر بسائے گئے کلیولینڈ کے جنوب مشرقی ٹاون، ٹوئنزبرگ اوہیو میں اگست کے پہلے ہفتہ میں ہر سال موسم گرما کی تعطیلات میں ہزاروں کی تعداد میں جڑواں بچوں کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ یہ جڑواں بچے دو، دو کی صورت میں ٹوئنز ڈے فیسٹیول میں شرک کے لیے آتے ہیں۔ بچوں کی اس تین روزہ پکنگ کے دوران ٹیلنٹ شوز اور دیگر کھیل کود کے مقابلے ہوتے ہیں۔ یوں یہ دنیا بھر میں جڑواں بچوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور اس فیسٹیول کی سرگرمیوں میں روز بروز اضافے ہوتے جارہے ہیں۔

فینٹون مشی گن کے ڈیو اور ڈون وولف برسوں اس فیسٹیول میں شریک ہوتے رہتے ہیں۔ اس سہ روزہ پکنگ میں شریک بیشتر جڑواں بچوں کی طرح یہ دونوں بھی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

درحقیقت گذشتہ 18 برسوں کے دوران 53 سالہ رولف برادرز جن کی ایک جیسی داڑھیاں ان کے سینوں تک آتی ہیں اور جو تین ملین میل سے زیادہ کی ڈرائیونگ ساتھ مل کر کرچکے ہیں اور جو سیٹل، واشنگٹن تاکیمڈین نیوجرسی تک ڈائپرز سے لے کر کینڈ سوپ تک کی باربرداری کرتے رہے ہیں ان میں سے ایک ٹرک کے ڈیزل فریٹ لائنر کے وہیل پر بیٹھتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے سونے کے لیے بنی ہوئی جگہ میں پڑا سوتا رہتا ہے۔

وی سیٹلائٹ ریڈیو پر ایسے ہی کنڑی گوسپیل اسٹیشنوں کی گپ شپ سنتے رہتے ہیں اور چائے پینے کے دوران تبادلہ خیالات کرتے ہیں ۔ یہ دونوں جڑواں بھائی عام دنوں میں اپنی تعطیل مل جل کر شکار کھیلتے یا مچھلیاں پکڑتے ہوئے گزارتے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی گزارنے کا یہی اسلوب بھاتا ہے۔ ڈون رولف کہتا ہے کہ ہر چیز کا جڑواں ہونا ضروری ہے۔ اسی شام فیسٹیول کے دوران ان دونوں جڑواں بھائیوں کو ایک ریسرچ ٹینٹ میں روک لیاگیا۔ جو ایف بی آئی، یونیورسٹی آف نوٹرڈیم اور ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کے زیر اہتمام قائم کیاگیاتھا۔

متعلقہ

اس بڑے ٹینٹ کے اندر ٹیکنیشنز ہائی ریزولوشن کیمروں کے ذریعے جڑواں بچوں کی فوٹوگرافی کررہے تھے۔ ان کے فنگر پرنٹ لے رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں قرنیے کے پیچھے گول رنگ دار جھلی کی اسکیٹنگ کر رہے تھے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ جدید ترین فیس ریکگنیشن سافٹ ویئر ان کو الگ الگ شناخت کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ کہ یہ بظاہر ہم شکل جڑواں بھائی مجھے اور آپ کو ایک جیسے ہی لگتے ہیں، لیکن ایک ڈیجیٹل امیجنگ سسٹم کے ذریعے جسم پر پڑنے والے بھورے داغوں میں بھی بہت لطیف سے فرق اورجلد کے مساموں اور پلکوں کی شکل میں باریک سے فرق کو بھی نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

نوٹرڈیم کے ایک کمپیوٹر سائنس داں پیٹرک فلائن اس حوالہ سے مزید بتاتے ہیں کہ اب تک انتہائی جدید کمرشیل سسٹمز بھی لائٹنگ، چہرے کے تاثرات میں تبدیلی ور دوسری پیچیدگیوں کی وجہ سے دھوکہ کھاجاتے ہیں کہ آیا جن جڑواں بچوں کے امیج حاصل کئے گئے ہیں وہ بعینہ مماثلت رکھتے ہیں یا مختلف ہیں۔ چونکہ رولف برادرز کے چہروں کو ان کی داڑھیوں نے گھیر رکھا ہے اس لئے ان کی امیجنگ خاص طور پر چیلنج رکھتی ہے۔

اس صورت حال سے دونوں خاصے محظوظ ہوتے ہیں۔ ڈیورولف نے کہاکہ جب انہوں نے میری تصویر کھینچ لی تو میں نے ان سے اپنی اور ڈون کی تصویروں میں فرق کے بارے میں پوچھا۔ تو ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر تم باہر جاکر کوئی جرم کرلو اور پھر گھر جاکر شیوکرلوتو کون اس قابل ہوگا کہ وہ کہے کہ یہ جرم دونوں میں سے کس نے کیا ہے؟

فلائن اور اس کے ساتھی سائنسداں ہی اس فیسٹیول میں موجود نہ تھے بلکہ دیگر بہت سے سائنس دانوں نے بھی اپنے اپنے بوتھ بنارکھے تھ۔ ایف بی آئی پروجیکٹ کے سونیل، کیمیکل سینسر، سنٹر کے ریسرچرز تھے جو جڑواں بچوں کو الکحل کے چھوٹے چھوٹے کپ دے کر اس کی چسکی لینے کو کہہ رہے تھے تاکہ ان کا ردعمل معلوم کیا جاسکے۔ اس سے بھی آگے کلیولینڈ کے یونیورسٹی اسپتالوں کے ڈاکٹرز موجود تھے جو عورتوں کے ہیلتھ ایشوز کے حوالے سے جڑواں بہنوں سے استفسار کررہے تھے۔ ان کے علاوہ پروکٹر اینڈ گیمبل کے اسکن اسپیشلسٹ بھی تھے جو جلدی امراض اور ماحول یا فیچر (غذائیت کے ذریعے پروان چڑھنے کی کیفیت) کے اثرات کا مطالعہ اور ان کو سلجھانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔

اس لئے کہ ایسے ہم شکل جڑواں بچے ایک ہی زرخیزی پانے والے بیضے سے الگ الگ پیدا ہوتے ہیں اور دونوں کا جینیاتی کوڈ ایک ہی ہوتا ہے۔ متبادل طور پر ایک بیضے سے پیدا ہونے والے بچوں اور دو مختلف بیضوں سے پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کا ڈی این اے اوسطاً نصف مشترک ہوتاہے تاہم ایک بیضے سے پیدا ہونے والے جڑواں بچے جینیاتی طور پر یکساں ہوتے ہیں۔ جب کہ دو الگ الگ بیضوں سے پیدا ہونے والے جڑواں بچے بیماری کے حوالے سے کمزور ہوتے ہیں۔

جڑواں بچوں کے ذریعے موروثی اثرات کا پتہ چلانے کا آئیڈیا بہت پرانا ہے اور 1675 ء سے یہ کام جاری ہے، جب انگلش سائنس داں فرانسس گالٹین نے پہلی بار جڑواں بچوں پر تحقیق کا آغاز کیاتھا۔ تاہم 1980 ء میں جڑواں بچوں کی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے لگے اور یہ اسٹوری دو بھائیوں کی وجہ سے زیادہ تیزی سے پھیلی۔ دونوں بچوں کا نام جم تھا۔ یہ دونوں 1939 ء میں پکاؤ اوہیو میں پیدا ہوئے تھے۔ مختلف جوڑوں نے جم اسپرنگر اور جم لیوس کو شیرخواری میں ہی لے پالک کے طور پر پالاتھا۔

1979 ء میں 39 سال کی عمر کے جم اسپرنگر کی ملاقات اپنے بھائی جم لیوس سے ہوئی اور انہیں باہمی یکسانیت اور مطابقت کا پتہ چلا۔ دونوں کا قد 6 فٹ اور وزن 180 پونڈ تھا۔ دونوں کے پاس کتے تھے، جن کے نام بھی ٹوائے تھے۔ دونوں نے فلوریڈا میں سینٹ پیٹ بیچ کی فیمیلز میں پرورش پائی تھی۔ جو ان ہوکر دونوں نے لنڈا نامی عورتوں سے شادیاں کی تھیں اور پھر دونوں نے ہی انہیں طلاق بھی دی تھی۔ ان دونوں کی دوسری بیویوں کے نام بھی ہیٹی تھے۔ ان کے بچوں کے نام جیمز الن اور جیمز الان تھے۔ دونوں نے جزوقتی طور پر شیرف کا کام بھی کیا تھا۔ گھروںمیں دونوں کارپینٹری پروجیکٹس سے شغف رکھتے تھے۔

دونوں کو شدید قسم کا سردرد ہوتا تھا۔ دونوں ایک ہی قسم کے سگریٹ پیا کرتے تھے۔ دونوں ہی ملر لائٹ بیئر پیا کرتے تھے، تاہم ان کے بال مختلف اسٹائل کے تھے۔ جم اسپرنگر کے بال جھالر کی طرح لٹکتے تھے، جب کہ جم لیوس اپنے بالوں کی سیدھی کنگھی کیا کرتا تھا۔ دونوں کی ہنسی بھی ایک جیسی تھی اور آواز میں بھی کوئی فرق نہیں تھا۔ جب یونیورسٹی آف منی سوٹا کے ماہر نفسیات تھامس بوچرڈ نے جم برادرز جڑواں بھائیوں کے بارے میں سناتو فوری طور پر ان دونوں کو مینی پولیس میں واقع اپنی لیباریٹری میں مدعو کیا، جہاں اس کی ٹیم نے دونوں کے کئی ٹیسٹ کئے اور ان کی مماثلت کی تصدیق کردی۔ شک و شبہ ظاہر کرنے والوں نے بعد میں دعویٰ کیا کہ ان کی تفصیلات میں زیادتی کی گئی ہے۔

لیکن کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی سائیکلوجی کی پروفیسر نینسی سیگل نے جم برادرز کی مماثلت کی مکمل تصدیق کردی اور اس کے بعد کے 20 برسوں میں رچرڈ کی لیباریٹری نے 137 جڑواں بچوں پر تجربات مکمل کرلئے، جس میں ان کی ذہنی صلاحیت، لہجہ، حافظہ، ریاضی کی صلاحیت کے علاوہ پھیپھڑوں اور دل کی فعالیت اور دماغی کارکردگی کو جانچا گیا۔ ذاتی ٹیسٹ اورآ ئی کیوٹسٹ بھی کئے گئے اوران کی جنسی ہسٹری کی بھی چھان پھٹک کی گئی اور جڑواں بچوں سے بہت سے سوالات پوچھے گئے، جس کے بعد بوچرڈ، سیگل اور ان کے ساتھیوں نے انسانی فطرت کے رازوں کو جاننے کی کوشش کی، تاہم کچھ لوگ ان کے کام سے خوش ہوئے اور کچھ کو ان کے یہ کام اچھے نہ لگے۔

2000 میں ختم ہونے والے مینی سوٹا پروجیکٹ کے علاوہ دیگر تجزیوں اور تحقیقات میں جڑواں بچوں کے ہر نوعیت کے رویوں اور طرز عمل پر غور وخوض کیا گیا۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق میں پایا گیا کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل بچے دیگر جڑواں بچوں کی بہ نسبت ڈیڑھ گنا سے زائد قانون توڑنے کا رحجان رکھتے ہیں اور بعینہ یہی صورت حال دو الگ الگ بیضوں کے ذریعے جڑواں پیدا ہونے والے بچوں کی ہوتی ہے۔

ایک دوسرے تجزیے میں تحقیق کی گئی کہ ہر فرد کا مذہبی رحجان نمایاں طور پر موروثی اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔ دو جوڑوں کے لیے رویے پر اثر انداز ہونے کے لیے ڈی این اے کی قوت فطری لحاظ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ 2000 سے کینیڈا کے دو جوڑے مماثل جڑواں بہنوں کی پرورش کررہے ہیں۔ یہ دونوں بہنیں ایک دوسرے سے 45 میل دور الگ الگ رکھی گئی ہیں۔ ان میں ایک بہن شامرس برگ اونٹاریو میں رہتی ہے، جبکہ دوسری میک لیوڈس ٹورنٹو کے قریب مسن میں رہائش پذیر ہے۔

فروری 2000 ء میں دونوں نے چین کے ہونان صوبے میں شینز ہوتک ایک ساتھ سفر کیا۔ وہ ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ گئی تھیں، جب یہ لڑکیاں برقی زینے (Elevation) کے پاس پہنچیں تو دونوں چیخنے لگیں۔ ان کی ہنسی بھی ایک جیسی تھی اور دونوں میں ہر لحاظ سے مماثلت تھی۔ ان دونوں کا رویہ اور طرز عمل بھی یکساں تھا حالانکہ یہ دونوں جڑواں بہنیں ایک طویل عرصے سے علٰحدہ علٰحدہ مقامات پر علٰحدہ علٰحدہ لے پالک کی حیثیت سے والدین کے پاس رہتی تھیں۔ یوں تجزیہ کیاگیاکہ پیدائش کے فوری بعد جڑواں مماثل بچوں کو الگ الگ پرورش کرنے کے باوجود ان کا رویہ اور طرز عمل یکساں ہی رہتا ہے۔

ایک اور تجزیے کے مطابق للی اور جیلیا کا معاملہ بھی یہی ہے، جن کو الگ الگ خاندانوں نے گود لے لیاتھا اور یہ مختلف ماحول میں پلی تھیں۔ ان کا جینیاتی ورثہ ایک جیسا اور بالکل یکساں تھا۔ اگر انسانوں کے (DNA) کو ایک بڑے پیانو کی بورڈ اور انسانی جینز (Geanes) کو اس پیانو کی ’’کی‘‘ تصور کیا جائے تو ہر’’کی‘‘ کو DNA کا ایک جزو سمجھا جائے گا، جو کسی امتیازی خصوصیت کی حامل ہو گی اور تمام ’’کیز‘‘ سے مل کر جس طرح پیانو بنتا ہے اسی طرح ہمارا وجود بنتا ہے اور مختلف اعضا مختلف کام انجام دیتے ہیں۔

تین برس کی اسٹڈی خاص طور پر Epigeneties پروسس کے گرد گھومتی ہے جو جینز کے کمزور یا طاقتور ہونے کے بارے میں بتاتی ہے ۔ نین برگ اور اس کی ٹیم اس کے لیے اسکینر اور کمپیوٹرز کو اپنی ریسرچ میں استعمال کرتی ہے اور DNA کے نمونوں سے ان کے جینز کے پیٹرن میں تبدیلیوں کا سراغ لگایا جاتا ہے۔ Epigeneties لیباریٹریز ٹورنٹو سنٹر فار ایڈکشن اینڈ مینٹل ہیلتھ کے سربراہ آرٹورس پیٹرونس کا کہنا ہے کہ یہ نئی اپروچ نہایت امید افزا ہے اور اپنے آپ میں گم رہنے اور بیرونی دنیا سے ہم آہنگ نہ ہونے کی ذہنی کیفیت جو موروثی طور پر ملتی ہے اس کی پیچیدگیوں کو سمجھا جاسکتا ہے۔

30 سال تک مالیکیولر جینیٹک تحقیقات کرنے کے بعد بھی سائنسدانوں کو ا ب تک صرف نفسیاتی بیماریوں کے حوالے سے جو موروثی طور پر ملتی ہیں صرف دو یا تین فیصد تک کامیابی ملی ہے اور آج بھی 40 سے زائد Epigenties میں ریسرچ کیلئے 2008 کے اوڈسیپ Epigenties پروگرام کے تحت ملنے والے 128 ملین ڈالرز کے ذریعے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ اس حوالے سے تحقیقات میں مصروف ہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.