سائنس کے چند اہم سوالات جو آج تک لاجواب ہیں

سائنس بڑا ہی زبردست مضمون ہے۔ کم از کم ہماری ناقص رائے تو یہی ہے ، آپ کواختلاف یا اتفاق کرنے کا پورا حق ہے۔ ہمارے نزدیک سائنس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ ہمیں سوال کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے…اور تحقیق وتفتیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اختلافِ رائے کوخندہ پیشانی سے برداشت کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔

(e)کیا قوانینِ طبیعات متحد کئے جاسکتے ہیں؟
’’اے ہئے! قوانینِ طبیعات نہ ہوئے، چارسوکنیں ہوگئیں نگوڑماریاں کہ ایک چھت تلے نہیں رہ سکتیں۔ ‘‘ ہمیں یقین ہے کہ اگر کسی سائنسداں کودلّی کی ’’زنانہ‘‘ کرخنداری زبان میں طبیعات کی موجود صورتِ حال پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا جائے تو وہ کچھ اسی طرح کا ہوگا جیسے کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ ابتداء سے لے کر آج تک ،طبیعات کے ذیل میں ہونے والی اہم ترین کوششوں کو مظاہر فطرت میں اتحادواتفاق حاصل کرنے پر مامور قرار دیا جاسکتا ہے۔

تاہم ،یہ الگ بات ہے کہ ان کاوشوں کو اب تک مکمل کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوسکا۔ ارسطو اور بطلیموس کے زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ آسمان اورزمین کے لئے قوانینِ فطرت (قوانینِ طبیعات)الگ الگ ہیں۔ لیکن پرنیکس ، گیلیلیو اور نیوٹن وغیرہ جیسے سائنسدانوں نے ،سترہویں صدی عیسوی تک، یہ بات پایۂ ثبوت کوپہنچادی کہ قوانینِ فطرت کی نوعیت آفاقی ہے۔ یعنی طبیعات کے جو قوانین زمین پرلاگو ہوتے ہیں، ٹھیک وہی قوانین اجرام فلکی (آسمانی اجسام)پر بھی عمل پیرا ہوتے ہیں۔

ان کے بعد جین کلارک میکسویل نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں برقی اور مقناطیسی مظاہر فطرت کوچار مساواتوں کے تحت بڑی خوبصورتی سے یکجا کیا اور بتایا کہ برق ومقناطیس ’’اصل میں دونوں ایک ہیں۔‘‘ اس اہم دریافت کی بدولت جہاں قوانینِ طبیعات میں اتحاد کوایک نمایاں کامیابی نصیب ہوئی تو دوسری طرف جدید صنعتی انقلاب کی راہیں بھی ہموار ہوئیں…جس کے ثمرات سے ہم آج تک فیضیاب ہورہے ہیں۔

پھر بیسویں صدی میں کوانٹم میکانیات اور جدید سے جدید ترآلات کے طفیل ،ہم پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ کائنات میں چارقوتوں کی حکمرانی ہے: برقی مقناطیسی قوت، کششِ ثقل کی قوت، کمزور نیوکلیائی قوت اور مضبوط نیوکلیائی قوت۔ بظاہر ایک دوسرے سے مختلف محسوس ہونے والی ان قوتوں (اور ان سے متعلق قوانینِ طبیعات )کے بارے میں ماہرین کوپورا یقین ہے کہ یہ بھی اصل میں ایک ہی ہیں ۔

متعلقہ

مطلب یہ کہ قوانین طبیعات کا کوئی ایک مجموعہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جوباہم مربوط ومنظم رہتے ہوئے، ان تمام قوتوں کی مکمل وضاحت کرسکے۔ باالفاظ دیگر، ماہرین کو کائنات کے مکمل ترین اور ’’متحد‘‘ نظرئیے کی تلاش ہے۔ جدید طبیعات میں یہی وہ محاذ ہے جس پر بہترین پیش رفت کے باوجود حتمی کامیابی کا دور دور تک پتا نہیں۔ غور فرمائیے کہ ہم نے ’’حتمی کامیابی‘‘ کہا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک قوانین طبیعات میں اتحاد کی جتنی کوششیں بھی ہوئی ہیں، ان میں جزوی یا نامکمل کامیابیوں ہی نے ہمارا استقبال کیا ہے ۔

مثلاً یہ کہ ذراتی طبیعات میں ’’معیاری نمونے‘‘ (اسٹینڈرڈ ماڈل)تک ہماری رسائی ہوچکی ہے جس میں تین کائناتی قوتوں(برقی مقناطیسی،کمزور نیوکلیائی، اور مضبوط نیوکلیائی قوت)کو کسی حد تک یکجا کردیا گیا ہے ۔ تاہم ،اسٹینڈرڈ ماڈل کوایک طرح کا ضابطۂ کار(فریم ورک)ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن مذکورہ تینوں قوتوں کا ’’متحدہ‘‘ نظریہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔

یہاں یہ یاددلانا ضروری ہے کہ اسٹینڈرڈماول کا انحصار کوانٹم میکانیات پرہے جبکہ اس میں خصوصی نظریہ اضافیت کا ’’تڑکا‘‘ بھی لگا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ بھی بتاتے چلیں کہ اسٹینڈرڈماڈل میں شامل تینوں کائناتی قوتیں، ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے مختلف انداز میں برتاؤ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تینوں کی مساواتیں آپس میں جلتی ضرور ہیں لیکن مکمل طورپر یکساں ہرگزنہیں۔

البتہ،1960ء کے عشرے میں آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام ، اسٹیون وائن برگ اور شیلڈن لی گلا شونے آزادانہ حساب کتاب لگا کر یہ بتایا کہ نہایت بلند درجہ حرارت پربرتی مقناطیسی قوت اورکمزور نیوکلیائی قوت کو ایک ہوجانا چاہئے۔ اس دریافت پران تینوں صاحبان کو1979ء میں نوبل انعام برائے طبیعات کا مشترکہ حقدار قرار دیا گیا۔ پھر1984ء میں ذراتی طبیعات کی یورپی تجربہ گاہ(سرن)میں یہ بات عملاً ثابت بھی ہوگئی۔ اس کامیابی نے بہت سی امیدوں کومہمیز کردیا۔

برقی مقناطیسی اورکمزور نیوکلیائی قوتوں میں اتحاد کے پیش نظر، سائنسدانوں نے کہنا شروع کردیا کہ مضبوط نیوکلیائی قوت بھی ان دونوں کے ساتھ یکجا ہوجائے گی،اور اس کے کچھ قابل مشاہدہ ثبوت بھی ہوں گے۔ مثلاً یہ کہ ایک لمبے عرصے میں کوئی پروٹون خود بخود انحطاط پذیر ہوجائے گا۔ لیکن اب تک ایسا کوئی مشاہدہ نہیں کیا جاسکا، امیدیں ضرور قائم ہیں۔

تین کائناتی قوتوں میں باہمی اتحاد کا معاملہ ایک طرف، لیکن چوتھی قوت(یعنی قوتِ ثقل)اب سب سے زیادہ پریشان کن ثابت ہورہی ہے۔ سرِدست ہمارے پاس قوتِ ثقل کو بیان کرنے کیلئے عمومی نظریہ اضافیت ہی بہترین نظریہ ہے ،جو کلاسیکی نوعیت کا حامل ہے۔

یہ نظر یہ زماں ومکان (ٹائم اینڈاسپیس)کوہموار اورمسلسل قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس ،ذیلی ایٹمی ذرات اورقوتوں پر حکمرانی کرنے والی کوانٹم میکانیات کی رو سے کائنات کی ہر شے غیر مسلسل ہونی چاہئے۔ اگر ہمیں کائنات کی تمام قوتوں کو ،یعنی تمام قوانین طبیعات کو متحد کرنا مقصود ہے تو اس کیلئے لازماً کوئی ایسی راہ نکالنی ہوگی کہ کوانٹم میکانیات اورعمومی اضافیت بھی ایک ہی جھنڈے تلے اکٹھی ہوجائیں۔ افسوس کہ اب تک اس ضمن میں ’’امیدوار نظریات‘‘ تو بھاری تعداد میں پیش کئے جاچکے ہیں،مگران میں سے کوئی ایک بھی عملی تجربے کی کسوٹی پرپورا اترتادکھائی نہیں دیتا۔

سرِدست ان میں سب سے مضبوط اورامیدوار ’’سپراسٹرنگ تھیوری‘‘ ہے جس میں (نظری طورپر)چاروں کائناتی قوتوں کو یکجا کر دیاگیا ہے۔ لیکن اس کی پیش گوئیوں کوتصدیق یا تردید کے لئے جتنے طاقتور تجرباتی آلات کی ضرورت ہے ، وہ موجودہ ٹیکنالوجی کے لئے قطعاً ناممکن ہیں۔ پھر یہ کائنات کو10یا11جہتوں پرمشتمل بتاتی ہے، درجنوں نئے ذرات کی پیش گوئی کرتی ہے، اورایسی ایسی مغزسوزی تجویز کرتی ہے کہ شاید ہی کوئی انسانی دماغ اس کا احاطہ کرسکے۔ یہ حقائق دیکھ کر ایک تشویش اوربھی سراٹھارہی ہے: کہیں یہ تمام کوششیں،کارِلاحاصل تونہیں؟

(f)انسانی عمر کس حد تک بڑھائی جاسکے گی؟

ہماری بڑی بوڑھیاں بھی کس خوبی سے لمبی عمر کی دعائیں دیا کرتی ہیں: جُگ جُگ جیو،دُودھوں نہاؤ پُوتوں پھلو۔ یہ دعائیں عقل میں بھی آتی ہیں کہ ان کا پورا ہونا،قرینِ قیاس دکھائی دیتا ہے۔ لیکن مرزاغالب نے اپنے ممدوح کو ’’خدا کرے کہ تم جیو ہزار برس، ہر ایک برس کے دن ہوں پچاس ہزار‘‘ کی دعا دے کر انتہا کردی۔ حساب لگائیے کہ خدا نخواستہ اگر مرزا نوشہ کی یہ دعا قبول ہوجاتی، تو ان کے ممدوح کوایک لاکھ چھتیس ہزار نوسو چھیاسی سال اور چارمہینے زندہ رہنا پڑجاتا،اور بقول ابنِ انشاء مرحوم ’’اتنے عرصے کرتے تو کیا کرتے۔ بادشاہی تورہی نہیں، کہاں سے کماتے اور کیسے کھاتے؟‘‘ شکرہے کہ دعاقبول نہیں ہوئی۔

تفُن برطرف ،لیکن انسانی عمر میں اضافہ آج تک کی طب اور حیاتیات کو درپیش ،چند اہم چیلنکجوں میں سے ایک ہے۔ صنعتی دنیا نے اپنی ترقی اور عوام کے ’’بلند معیارزندگی‘‘ کا خراج ،ترقی پذیر ممالک سے خوب وصول کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف اوسط درجے کے غریب ملک کااوسط انسان، 45سے50سال زندہ رہنے کے بعدہی ’’راہی ملکِ عدم‘‘ ہوجاتا ہے تو دوسری جانب ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں70یا80سال کی عمر تک پہنچ جانا بھی کوئی غیر معمولی بات ہی نہیں۔

1997ء میں آنجہانی ہونے والے جینی کلیمنٹ نے122سال کی عمرپائی ، اور یوں وہ جدید تاریخ ریکارڈ کے مطابق سب سے عمررسیدہ انسان بھی قرار پائی۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کے ہردس ہزار میں سے کوئی ایک فرد 100سال یا اس سے زیادہ عرصے تک زندہ رہتا ہے۔

طب اور حیاتیات کے دوسرے شعبوں کی طرح ،عمررسیدگی کے میدان میں بھی سالماتی تحقیق سے ہمیں بہت کچھ جاننے کو ملا ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر کیچووں کی بعض اقسام میں انسولین جیسے ایک آخذے (ریسپڑ)کی سرگرمی کم کردی جائے تو ان کی عمر معمول سے دگنی ،یعنی 65ہفتے تک ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب چوہوں کی بعض اقسام کو نیم فاقہ زدہ حالت میں رکھتے ہوئے غذائیت سے بھرپورغذائیں کھلائی گئیں جومقدار میں ضرورت سے کم تھیں، تو ان کا عرصہ حیات بھی معمول سے50فیصد تک بڑھ گیا۔

اس سلسلے کی ایک اور مثال میں پھل مکھیوں (فروٹ فلائیز)کے جین میں ردّ وبدل کرکے ان میں زندگی کا دروانیہ دوگنا تک کرلیاگیا۔ لیکن یہ ساری مثالیں توان جانداروں کی ہیں جو انسای نقطۂ نگاہ سے )بہت ہی کم عمر ہوتے ہیں۔ کیاان تحقیقات سے حاصل شدہ نتائج سے انسانی طویل العمری کے ضمن میں کوئی کامیابی مل سکے گی۔اس سوال کا جواب آج تک مبہم ہے، یعنی ’’ہاں ‘‘ اور ’’نہیں‘‘ کے درمیان معلق ہے۔

اب تک کے مطالعات سے اتنا ضرور واضح ہوچکا ہے کہ قدرے کمتردرجے والے جانداروں میں طبیعی عمر کے حوالے سے غیر معمولی لچک پائی جاتی ہے، جو شاید انسان میں موجود نہیں۔ اگر ساری دنیا کے انسانوں میں طبیعی عمر کا اوسط نکالا جائے تو وہ60سال کے لگ بھگ ہوگا۔ گزشتہ ایک صدی میں ہونے والی ترقی کے باوجود ،اس میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ اپنی تمام تر کوششوں ،بہترین طبی سہولیات اور وافر غذا کے باوجود، ترقی یافتہ ممالک میں انسانی طویل العمری کا یہ اوسط صرف دس سے بیس سال تک ہی بڑھ سکا ہے۔ جوتاریخ بین الاقوامی اوسط سے صرف33فیصد تک ہی زیادہ ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود، حالیہ تحقیقات سے کچھ ایسے عوامل بھی سامنے آچکے ہیں جوانسانی عمر کے معاملے میں اہم تصور کئے جارہے ہیں: حراروں کی محدود فراہمی(کیلوری ریسٹرکشن) ،’’انسولین لائک گروتھ فیکٹروں ‘‘ (IGF-1)نامی پروٹین کی سطح میں کمی ،اور تکسیدی عمل کے باعث انسانی بافتوں کو پہنچنے والے نقصان سے بچاؤ۔ یہ تینوں اسباب آپس میں مربوط بھی ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال اس بارے میں ہمارے پاس کوئی مصدقہ علم نہیں۔

علاوہ ازیں ،انسانی عمر میں اضافے پرتحقیق میں کئی اخلاقی اور تکنیکی قباحتیں بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس طرح کا کوئی مطالعہ ترتیب دینا بہت مشکل ہے جبکہ ،دیگر طبی آزمائشوں کے برعکس ،اس کے نتائج کا حصول اوروضاحت بھی دشوار ہیں۔ سردست بوزٹوں(بن مانسوں)میں عمررسیدگی پرحراروں کی محدود فراہمی کے اثرات کا مطالعہ جاری ہے۔

دوسری جانب ہیتھیسڈا، میری لینڈ میں واقع ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ ‘‘ کی مالی سرپرستی میں انسانوں پر بھی ایسا ہی ایک مطالعہ جاری ہے، جس کے تحت رضا کاروں کو ایک سال تک کم غذا پر رکھا جاتا ہے اور اس دوران ان کے استحالہ (میٹابولزم)اور عمررسیدگی پراثرانداز ہونے والے دیگر عوامل کا جائزہ لیاجاتا ہے۔

مذکورہ اسباب وعوامل کے علاوہ ،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ طویل العمری کی صلاحیت ہماری جینیاتی وراثت بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی ایسے ’’جین ‘‘(genes)بھی ہوسکتے ہیں جوایک انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں طویل العمر بناسکتے ہیں۔ لیکن اس پراتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے کہ اس ’’موروثی طویل العمری ‘‘ کی زیادہ سے زیادہ حد 85سال ہے، 100سال ہے یا150سال۔

عمررسیدگی کے شعبے میں ہمارے کروموسوم کے سروں پر چڑھے ہوئے ’’سالماتی ڈھکنوں ’’یعنی ‘‘ ٹیلومرز‘‘ کاکردار بھی واضح ہوچکا ہے۔بچپن میں ٹیلومرز کی لمبائی خاصی زیادہ ہوتی ہے جبکہ بڑھاپا آتے آتے وہ بہت مختصر رہ جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ انسانی عمررسیدگی اورطویل العمری کی ممکنہ انتہاؤں پر تحقیق میں بھی ہم کئی لاینحل سوالوں کو اپنا منتظر پاتے ہیں۔

اس سے قطع نظرکہ عمررسیدگی اور طویل العمری پر ہونے والی یہ تحقیقات مستقبل قریب یابعید میں بار آورثابت ہوتی ہیں یا نہیں، اتنا ضرورطے ہے کہ سنجیدہ ماہرین کے نزدیک ان کا مقصد انسان کو صدیوں تک زندہ رکھنا ہرگزنہیں…بلکہ وہ تو صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان امراض کا ازالہ کیا جائے جوعمر رسیدگی کے باعث انسان کولاحق ہوتے ہیں۔ یقینا ہمیں اس اصولی مؤقف سے پورا اتفاق ہے، بشرطیکہ اس کے پس پشت خود غرضانہ تجارتی مقاصد پوشیدہ نہ ہوں۔

g) کٹے ہوئے اعضاء دوبارہ کیسے ’’اُگائے‘‘ جاسکتے ہیں؟

بجلی والے ہرسال برسات سے پہلے شہر بھرمیں درختوں کی شاخیں کاٹتے پھرتے ہیں، کہ کہیں تاروں میں الجھ کر ’’لوڈ شیڈنگ‘‘ کو ’’بریک ڈاؤن‘‘ نہ بنادیں۔ لیکن چند دن بعد ہی وہ شاخیں ایک بارپھر لہلہانے لگتی ہیں گویا بجلی والوں کا منہ چڑارہی ہو۔ اسی طرح چھپکلی کی دم کاٹ دیجئے تو کچھ ہی دن بعد وہ دوبارہ اُگ آئے گی۔ ستارہ مچھلی کے ’’وچوں دِچ دوٹوٹے‘‘ کردیجئے تو ان میں سے ہر ایک جلدہی مکمل ستارہ مچھلی میں بدل جائے گا ۔ مگر خدانخواستہ کسی انسان کا ہاتھ یا پیرکٹ جائے تو وہ دوبارہ نہیں اُگ سکتا، کسی کا گردہ نکال لیا جائے تو اس کی جگہ نیا گردہ نہیں اُگتا۔

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے! کم تردرجے کے جانداروں کا یہ حال کہ ہاتھ پیرکٹیں یا درمیان سے دو ٹکڑے کردیئے جائیں تب بھی وہ پورے پورے اعضاء نئے سرے سے ازخود بنالیں…اور ادھر اشرف المخلوقات کی بے بسی کا یہ عالم کا اُنگلی کی ایک پوربھی قطع ہوجائے تو خود سے ازسرِنو اُگنے نہ پائے۔

دنیائے حیات کی سیر کرنے کے بعد جب ہم انسان تک پہنچتے ہیں تو یہ سوال ہمیں بے چین کئے ڈالتا ہے کہ آخر ہم میں ایسی کونسی کمی ہے جو ہمارے اعضاء دوبارہ سے اُگنے نہیں پاتے؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان سمیت، بہت سے پیچیدہ اورترقی یافتہ جانداروں میں اپنے اعضاء دوبارہ سے اُگانے کی صلاحیت …جسے اصطلاحاً ’’بازافزائش ‘‘(regeneration)کہتے ہیں …کمتر اور قدر ے سادہ جانداروں کے مقابلے میں بہت کم ضرور ہے ،ناپیدہرگزنہیں۔

ہرہفتے ناخن تراشتے اورہر مہینے بال کٹواتے وقت ہمارا دھیان اس طرف کم ہی جاتا ہے کہ سال میں ایک بارہماری کھال مکمل طورپر تبدیل ہوجاتی ہے(تاہم ،یہ عمل اس قدر آہستہ ہوتا ہے کہ ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا)۔اسی طرح اگرہمارے جسم پر کوئی زخم لگ جائے یا کوئی جزوی طورپر کٹ جائے تو اکثر اوقات وہ بھی ’’اپنی مدد آپ ‘‘ کے تحت خود بخود جڑجاتی ہے اورزخم مندمل ہوجاتا ہے ۔ لیکن ہماری جستجو تومسلسل ’’کچھ اور‘‘ کی متقاضی ومتلاشی ہے۔

اگر سائنسداں باز افزائش کے راز کھوجنے میں کامیاب ہوگئے، اوراس منزل تک بھی ان کی رسائی ہوگئی کہ انسانی جسم کو ’’حسب ضرورت‘‘ متاثرہ/ناکارہ اعضاء خود ہی اُگانے کے قابل بنالیں، تو یہ اکیسویں صدی میں طب کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ مگریہ منزل جتنی امید افزاء ہے ، اس تک پہنچنے کے راستے بھی اسی قدردشوار ہیں۔ فی الحال اس ضمن میں سب سے بڑا سو ال یہ ہے کہ آخر وہ کون کون سے عوامل ہیں جو باز افزائش کی بنیاد بنتے ہیں۔

چھپکلیوں اورہائیڈرا(ایک قسم کے آبی پودے)پربازافزائشی تحقیقات کا سلسلہ کم وبیش ڈھائی سو سال پرانا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں تھامس ہنٹ مورگن نے یہ دریافت کرلیا تھا کہ ’’پلینیریا(Planaria)نامی کیچووں کو اگر 279ٹکڑوں میں بھی تقسیم کردیا جائے تو ہرٹکڑادوبارہ سے ایک مکمل پلینیریا میں تبدیل ہوجائے گا۔ لیکن اپنی اس اہم دریافت کوخود مورگن ہی نے نظرانداز کردیا اور دوسرے موضوعات پرتحقیق میں مصروف ہوگیا۔ مگریوں لگتا ہے جیسے اکیسویں صدی میں مورگن کی تحقیقات کا ایک نئے انداز سے احیاء ہورہا ہے۔

ماہرین کی بعض تحقیقی ٹیمیں سالماتی حیاتیات اورجینیات کے راستے بازافزائش کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں۔ اور اس مقصدکے لئے وہ بعض مخصوص اقسام کے چوہوں اورزبیرا مچھلی(زبیرافش)سے استفادہ کررہے ہیں۔ اگر چہ بازافزائش کامعماابھی حل تونہیں ہوا ہے، لیکن سائنسدانوں کو اس بارے میں کچھ سراغ ضرور مل گئے ہیں۔

اب وہ جان چکے ہیں کہ جانوراپنے اعضاء نئے سرے سے اُگانے کے لئے تین اہم تدابیر اختیار کرتے ہیں ۔ اوّل یہ کہ کسی عضو کے زخمی یامتاثر ہوجانے پروہ خلیات بھی تقسیم ہونے لگتے ہیں جو عام حالات میں ایسا نہیں کرتے…تاکہ متاثرہ عضو کو صحت مند حالت میں واپس لایا جائے۔ دوم یہ کہ خصوصی اطلاق اورذمہ داریوں کے حامل خلیات اپنی حالت بدل کر قدرے ناپختہ کیفیت میں پلٹ جاتے ہیں۔

یہ عمل ’’تفریق ربائی‘‘(dedifferentiation)کہلاتا ہے ۔ ناپختہ حالت میں ’’ریوائنڈ ‘‘ ہونے کے بعد، یہ خلیات ایک بارپھر تقسیم درتقسیم ہوتے ہیں اورمتاثرہ عضو کے ضائع شدہ حصوں کی مطابقت میں خود کو نئے سرے سے پختہ شکل میں ڈھالتے ہیں۔ اگر متاثر ہونے کی کیفیت اس سے بھی سنگین ہوتو پھر تیسری صورت میں خلیات ساق(Stem Cells) درمیان میں کود پڑتے ہیں اورعضو کی ’’تعمیر نو‘‘ کرتے ہیں۔

انسانی جسم بھی ان تینوں تدابیر سے استفادہ کرتا ہے ، لیکن بہت محدود پیمانے پر۔ مثلاً یہ کہ اگر کسی شخص کے جگر کا کچھ حصہ آپریشن کرکے نکال دیاجائے ،تواندرونی طورپر خودبخود کچھ ایسے سگنل پیدا ہونے لگتے ہیں کہ باقی ماندہ جگر کے خلیات تقسیم درتقسیم ہوکر ادھورے جگر کی تکمیل کرلیتے ہیں۔

بازافزائش کے راز افشا کرنے کی کوششوں میں مصروف سائنسدانوں کے لئے یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ آخرانسانوں اور جانوروں کے بازافزائشی نظام میں کیا فرق ہے کہ وہ تو پورا پورا عضو دوبارہ سے بنالیتے ہیں اور ہم معذور ہوکر رہ جاتے ہیں۔ بعض مطالعات سے اندازہ ہوا ہے کہ شاید انسانوں اورجانوروں کے درمیان بازافزائشی نظام کا فرق بہت ہی معمولی ہو۔ مگرفی الحال یہ بھی ایک امید ہی ہے۔ جہاں تک نفع نقصان کا تعلق ہے توبازافزائشی تحقیق میں کامیابی کا سب سے بڑا فائدہ انسانیت کا ہوگا…اور سب سے بڑا نقصان ادویہ ساز کمپنیوں کو
بازافزائش کومکمل طورپر سمجھ کراور اس کے اطلاق پرعبور حاصل کرکے یہ ممکن ہوجائے گا کہ اعضاء کے عطیے اورپیوندکاری کی ضرورت ہی ختم ہوجائے۔

دورکی کوڑی ہی سہی، لیکن انسانی جسم میں بازافزائشی صلاحیتوں کومہمیز کرکے اس قابل بنایا جاسکے گا کہ (ہڈیوںاور گوشت سمیت)پورا عضو خود بخود پھرسے بن جائے۔ یہ بھی نہ سہی تو کم از کم اتنا ضرور ممکن ہوگا کہ متاثرہ شخص کے جسمانی خلیات لے کر، تجربہ گاہ کے خاص ماحول میں ، اس شخص کا پورا عضو نئے سرے سے ’’مینوفیکچر ‘‘ کرلیا جائے اور واپس اسی کے جسم میں پیوندکردیا جائے۔

لیکن ٹھہرئیے! اپنے تخیل کولگام دیجئے، کیونکہ جن توقعات کی ہم بات کررہے ہیں، ان کے پورے ہونے میں ’’اگر ‘‘ کے بہت سے مگر مچھ منہ پھاڑے کھڑے ہیں ۔ ان سے بخیروخوبی گزرکرہی یہ طلسم فتح ہوسکے گا۔

h)کھال کا خلیہ کس طرح ایک اعصابی خلیہ بن سکتا ہے؟

کیمیا کے چاہنے والے شاید اس کا برا منائیں،لیکن تاریخی حقیقت یہی ہے کہ زمانہ قدیم میں کیمیا کا آغاز اس ’’نیت‘‘ سے ہوا تھا کہ لوہے، تانبے اوردوسری کم قیمت دھاتوں کوسونے میں تبدیل کرلیا جائے۔ ان کی کوششیں توبارآورثابت نہ ہوسکیں لیکن سائنس کی ایک ایسی اہم شاخ ہمارے ہاتھ ضرور آگئی جو اپنی ذات میں سونے اور چاندی سے بھی کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ یہ بات ہمیں اس لئے یاد آگئی کہ آج ماہرینِ حیاتیات وافزائش ِ نسل ،اس تگ ودو میں مصروف ہیں کہ کسی طرح سے ایک عام خلئے (مثلا کھال کے خلئے)کوہر فن مولا قسم کے ’’خلیاتِ ساق‘‘(stem Cells)میں تبدیل کرلیں۔ ان کی کوششیں ’’کلوننگ‘‘ کے عنوان سے نہ صرف بڑی حد تک کامیاب ہوچکی ہیں، بلکہ گزشتہ دس سال کے دوران خاصی بہتربھی بنائی جاچکی ہیں۔

کلوننگ کے سب سے مشہور طریقے میں، جسے ’’نیوکلیائی منتقلی کی تکنیک ‘‘(nuclear transfer technique)بھی کہا جاتا ہے، سب سے پہلے کسی مادہ جانور کا بیضہ خلیہ(Ocyte)لے کر اس کا مرکزہ ’’نکال باہر‘‘ کردیا جاتا ہے۔ پھر اس بیضہ خلئے میں اس جانور کی کھال یا تھن کا خلیہ داخل کیا جاتا ہے۔

خاص طرح کے طبیعی وکیمیائی ماحول میں کچھ دیر (چندگھنٹے یا چند دن)تک رکھنے کے بعد، وہ بیضہ خلیہ اپنی شکل بدل لیتا ہے اور باروربیضے(fertilized egg)کا روپ دھارلیتا ہے۔ پھر یہ بارور بیضہ بھی تقسیم درتقسیم کے مرحلے سے گزرتا ہے اور کچھ دیر بعد ناپختہ جنین (embryo)کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اب یہ جنین اسی نوع کے کسی مادہ جانور کے رحم میںمنتقل کردیا جاتا ہے جہاں یہ عام حمل کی مانند پروان چڑھتا ہے اور آخر کار ایک ’’کلون شدہ‘‘ (cloned)جانور کی حیثیت سے جنم لیتا ہے۔

لیکن ٹھہرئیے! ہم نے کلوننگ کا یہ سارا عمل جس آسانی اور اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، حقیقتاً یہ اتنا ہی پیچیدہ اورمشکل ہے۔ مثلاً مشہورِ زمانہ کلون شدہ بھیڑ ’’مرحومہ ڈولی‘‘ ان 278کوششوں میں سے صرف ایک تھی کہ جن میں سے277ناکام ہوگئی تھیں۔ آج کلوننگ کے ذریعے گایوں، بھیڑوں ، بکروں ،بلیوں، چوہوں اورگھوڑوں وغیرہ کی پیدائش کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہی…مگر سائنسدان اب بھی یہ نہیں جانتے کہ ’’جسمانی خلیہ بردار ‘‘ بیضہ خلئے کے اندر ایسا کیا کچھ وقوع پذیر ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصل کوفراموش کرکے بارور بیضے میں تبدیل ہوجاتا ہے ،اور آخرکار ایک جیتے جاگتے وجود میں ڈھل جاتا ہے؟

یادش بخیر، نیوکلیائی منتقلی کی تکنیک سے اوّلین کلوننگ کے کامیاب تجربات 1957ء میں مینڈکوں پر کئے گئے تھے۔ آج اس واقعے کوگزرے ہوئے 70 سال ہوچکے ہیں ، لیکن بیضہ خلیہ اب بھی ہم پراپنے اسرار کھولنے کے لئے تیار نہیں۔ البتہ،اب تک کی گئی تمام کوششوں سے اتنا اندازہ ضرور ہوچکا کہ کلوننگ اورمعمول کی افزائش نسل سے وابستہ حیاتیات کوسمجھنے کے لئے ہمیں خلئے کی گہرائیوں تک نہایت تفصیل سے دیکھنا پڑے گا ، اور اس سارے عمل کی سالماتی جزئیات تک کی باریکیوں کوسمجھنا ہوگا۔ قصہ مختصر یہ کہ تولید وتخلیق کی حیاتیات سے واقف ہونا، اور پھر اسے اپنے اختیار میں لانا، کوئی آسان کام نہیں۔

فی الحال ہم اتنا توجان چکے ہیں کہ ہماری ظاہری شکل وصورت سے لے کر ہمارے مزاج وغیرہ تک، کم وبیش ہرچیز کا انحصار ہماری جینیاتی ترکیب وترتیب پر ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ جاننا ہی کافی ہے؟ ہرگز نہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیوکلیائی منتقلی کی تکنیک ہو(جس میں بیضہ خلئے کے اندرکوئی دوسرا جسمانی خلیہ رکھا جاتا ہے)یا قدرتی نوعیت کی افزائش نسل(کہ جونراور مادہ کروموسوم کے آپس میں ملاپ کا نتیجہ ہوتی ہے)،دونوں کے ابتدائی مراحل میں تمام جین سرگرم ہوتے ہیں۔ لیکن حمل کا یہ سلسلہ جوں جوں آگے بڑھتا ہے ،اور جنین رحم مادرمیں پروان چڑھتا ہے، تو جہاں خلیات میں تقسیم درتقسیم ہوتی ہے وہیں صرف ایک باروربیضے سے سینکڑوں اقسام کے خلیات بھی وجود میں آتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دماغ کا خلیہ بنتا ہے توکوئی اعصابی نظام کا، کوئی سخت ہڈی میں شامل خلئے کا روپ دھارتا ہے توکوئی لچک دار کھال کا خلیہ بن جاتا ہے۔

تفریق پذیری (differentiation)کہلانے والے اس عمل کی بہت سی باتیں ابھی ہمارے علم میں نہیں۔ ہم اس نظام کی مبادیات ہی سے واقف ہوپائے ہیں جو اس پورے عمل کے دوران چند ضروری جین کوچھوڑکرباقی تمام جین کو’’آف‘‘ کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یوں سمجھئے کہ کھال کے ایک خلئے میں وہ تمام جین موجود ہوتے ہیں جو کسی دماغی خلئے میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن صرف وہی جین سرگرم ہوتے ہیں جوکھال سے متعلقہ امور سرانجام دینے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

اسی طرح کلوننگ کے تجربات میں انکشاف ہوا ہے کہ جب نیوکلیائی منتقلی کے بعدکوئی عام بیضہ خلیہ، خود کو بارور بیضے میں تبدیل کرتا ہے تو ان تمام جین (genes)کوبھی سرگرم کردیتا ہے جوقبل از موجود تو تھے، لیکن خاموش تھے۔ وہ کیسا نظام ہے جوایک باروربیضے کو سینکڑوں اقسام کے کھربوں خلیات پرمشتمل وجود میں تبدیل کرتا ہے؟ اس بارے میں گزشتہ پچاس سال کی انتھک تحقیقی کاوشیں بھی تھوڑا بہت ہی بتاسکی ہیں۔ آنے والے برسوں اور عشروں میں، بلکہ شاید پوری صدی تک، ہمیں اس نظام کوبالتفصیل سمجھنا ہوگا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے دنیا بھر کے سنجیدہ سائنسی ماہرین ،مذہبی طبقے کے سامنے دستِ سوال دراز کئے ہوئے ہیں کہ انہیں انسانیت کی فلاح وبہبود کے نام پر انسانی جینیاتی خلیات ساق استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

عیسائیت اس عمل کے سخت خلاف ہے، اسلام میں اس حوالے سے علماء کی کوئی متفقہ رائے موجود ہی نہیں جبکہ یہودیت کے مطابق ایسا کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ان تمام حقائق کے باوجود کچھ مغربی ممالک نے سخت شرائط کے ساتھ انسانی جنینی خلیاتِ ساق استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ادھر ایشیا کے بیشتر سیکولر ملکوں میں اس پر پابندی نہیں۔ تاہم پابندیاں ختم کربھی دی جائیں تویہ سوال شاید برسوں تک حل طلب ہی رہے ۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.