قرآن حکیم کی روشنی میں سائنس کا بیان

اس سے پہلے کہ ہم اس نکتے کی وضاحت میں آگے بڑھیں، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ پوری طرح متوجہ ہوکر ایک ایک سطر کو بغور پڑھیں کیونکہ زیرِ بحث موضوع کا براہِ راست تعلق انسانوں کے سوچنے کے طریقہ کار سے ہے۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا یہ عقیدہ ہے (اور لازماً ہونا بھی چاہئے)کہ اﷲ ایک ہے، وہی سب کا خالق ومالک ہے، اوریہ کہ اﷲ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔مختصر یہ کہ عقیدہ توحیدکے مذکورہ بالا نکات ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہیں۔ بچپن ہی سے ہر مسلمان اپنے بزرگوں سے یہی سنتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ’’ہمیشہ‘‘ سے ہے اور ’’ہمیشہ ‘‘ رہے گا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی یہ غور کیا کہ ’’ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟

اس سے پہلے کہ ہم اس نکتے کی وضاحت میں آگے بڑھیں، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ پوری طرح متوجہ ہوکر ایک ایک سطر کو بغور پڑھیں کیونکہ زیرِ بحث موضوع کا براہِ راست تعلق انسانوں کے سوچنے کے طریقہ کار سے ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہر شے کو اپنے نقطۂ نگا ہ سے دیکھنے اورسمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے ، ’’میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں‘‘ یا میں ہمیشہ صبح نو بجے دفتر پہنچتا ہوں ‘‘ تو اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر اس شخص کی عمر ساٹھ سال ہے توظاہر ہے کہ اس نے تین چار سال کی عمر میں ہوش سنبھالا ہوگا اور ممکن ہے کہ بیس سال کی عمر میں دفتر آنا شروع ہوا ہو۔ ایسی صورت میں اس کے سچ بولنے کا عرصہ 56یا57سال ہوگا اور دفتر آنے کی مدت چالیس سال رہی ہوگی۔ یعنی اس کے ’’ہمیشہ ‘‘ کی مدت چالیس سال سے 57سال تک ہے۔

اسی طرح اگر کوئی یہ کہے ، ’’ میں فلاں صاحب سے اکثر ملتا رہتا ہوں ’’یا‘‘ فلاں صاحب سے کبھی کبھار میری ملاقات ہوتی ہے ’’یا ‘‘ ان صاحب کا دیدار تو شاذونادرہی نصیب ہوتا ہے ‘‘ تو ان تینوں کیفیات میں ’’اکثر‘‘ ،’’کبھی کبھار‘‘ اور ’’شاذو نادر‘‘ جیسے الفاظ کا تعلق ’’وقت ‘‘ کے اس تصورسے ہے جو ہمارے لاشعور میں بسا ہوا ہے۔ عین یہی معاملہ ہمارے روزمرہ مکالمے میں ’’ہمیشہ‘‘ کا بھی ہے۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان ’’اشرف المخلوقات‘‘ ہے…لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایک مخلوق کی حیثیت سے ہم قوانین قدرت سے آزاد نہیں۔

ہرانسان ’’وقت ‘‘ کے کسی نہ کسی لمحے پر پیدا ہوتا ہے، گزرتے ’’وقت‘‘ کے ساتھ ساتھ پلتا بڑھتا ہے اور’’وقت ‘‘ ہی کے کسی ثانئے پرموت سے ہم آغوش ہوجاتا ہے۔ انسان لاکھ کوشش کرلے مگر وقت سے چھٹکارا پانا اس کے بس میں نہیں۔ قارئین کویہ جان کرشاید حیرت ہوکہ وقت کا شمار، کائنات کے پراسرار ترین مظاہر میں ہوتا ہے۔ وقت کے حوالے سے سائنس کے بہت سے نظریات پیش کئے جاچکے ہیں۔

آج سائنس دان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وقت کے بغیر کائنات کا تصور بھی ممکن نہیں، کیونکہ کائنات کی ابتداء (بگ بینگ)سے لے کرآج تک ہونے والے ایک ایک مظہر کائنات میں ’’وقت‘ ‘ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ مطلب یہ کہ وقت کائنات کا جزولاینفک ہے۔وقت کی ماہیئت سمجھنے کے لئے عموماً ایک بہتے دریا کی مثال دی جاتی ہے: یہ دریا جس سمت سے بہتا ہوا آرہا ہے، وہ مستقبل ہے،جس سمت یہ بہتا ہوا جارہا ہے، وہ ماضی ہے، جبکہ حال کی حیثیت اس بہتے دریا میں لٹکتے ہوئے ایک ایسے جال کی سی ہے جوحد سے زیادہ (Infinitesimally)باریک ہے۔

وقت کے بارے میں سائنس دان ایک اور دلچسپ بات یہ بھی بتاتے ہیں کہ مستقبل سے ماضی کی طرف وقت کا بہاؤ اس وجہ سے ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے ۔ اگر کائنات میں اتنا مادہ ہے کہ وہ کائناتی پھیلاؤ کا عمل روک دے اور کائنات واپس سکڑنا شروع ہوجائے، تووقت کی سمت بھی الٹ جائے گی۔ گویا وقت کا دھارا، ماضی سے مستقبل کی طرف بہنے لگے گا۔ تاہم اس مفرضے کی تصدیق (یاتردید)میں اب تک ہمارے پاس کوئی حتمی شہادت موجود نہیں ۔ سرِ دست ہم وقت کی پراسراریت اوراس سے وابستہ دوسرے مباحث کو کسی اورموقع کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں ، اور اپنے ذہنوں کو تھوڑی سی اور سعت دیتے ہیں۔

ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے ’’ہمیشہ ‘‘ کا براہ راست تعلق ،وقت کے بارے میں ہمارے تصور سے ہے۔ آپ کب پیدا ہوئے؟ آج سے بیس، تیس، چالیس ،ساٹھ سال پہلے وقت کے کسی لمحے پر۔زمین کب وجود میں آئی؟ سائنس دانوں کے مطابق،آج سے ساڑھے چار،ارب سال پہلے۔ سورج کب پیدا ہوا؟ لگ بھگ پانچ ارب سال پہلے۔ ہماری کہکشاں (جس میں سورج جیسے کھربوں ستارے ہیں)کب وجود میں آئی؟ سورج سے بھی پانچ ارب سال پہلے۔ کائنات میں ہماری کہکشاں جیسی ان گنت کہکشائیں ہیں۔ یہ کائنات کب پیدا ہوئی؟ جدید ترین سائنسی نظریات کہتے ہیں کہ کائنات آج سے کوئی پندرہ ارب سال قبل وجود میں آئی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے کیا تھا؟ اس کا سائنسی جواب کچھ یوں دیا جاتا ہے: حتمی طورپر کچھ بھی نہیں جانتے کہ ابتدائے کائنات (بگ بینگ)سے پہلے کیا تھا۔ اس بارے میں ماہرین کونیات کے بہترین نظریات بھی ’’معتول مفروضات ‘‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے زیادہ مقبول تصوریہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے ’’کچھ بھی نہیں‘‘ تھا۔ مشہور مصنف ،جان گریبن اپنی تصنیف ’’جنیسس ‘‘(Genesis: The begining of everything) میں لکھتے ہیں کہ یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ کائنات کی ابتداء سے پہلے کچھ نہیں تھا، کیونکہ ’کچھ نہیں ‘ سے وابستہ ہماری سوچ میں ’کچھ نہ کچھ ‘ضرور ہوتا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے مادّہ تھا، نہ توانائی ،کہکشائیں تھیں نہ ستارے ،زمین تھی نہ آسمان نہ خلائ…غرض کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ’’وقت ‘‘ بھی نہیں ۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات کا تمام مادّہ اور توانائی (خواہ ہم ان سے و اقف ہوں یا نہ ہوں )تو بگ بینگ کیس کے ساتھ وجود میں آیا ہی تھا، لیکن بذاتِ خود وقت بھی بگ بینگ ہی کی پیداوار ہے۔

علاوہ ازیں ، بگ بینگ کے ساتھ ’’وقت‘‘ کی ابتداء بھی ہنوز ایک تسلیم شدہ سائنسی حقیقت ہے۔ اور یہ کہ انسان کے نزدیک ’’ہمیشہ ‘‘ کا جو بھی تصورہے،وہ سائنسی نقطۂ نگاہ سے بھی صرف ابتدائے کائنات تک ہی جاسکتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے ۔ ’’ہمیشہ‘‘ کا مکمل انحصار ’’وقت‘‘ پر ہے اورکائنات کے وجود میں آنے سے پہلے ’’وقت‘‘ کا اپنا کوئی وجود نہیں تھا۔ یہاں آکر ہم پریہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وقت کوئی ’’مطلق‘‘ (Absolute)شئے نہیں بلکہ یہ کائنات کے ساتھ، اس کے ایک لازمی جزو کی حیثیت سے وجود میں آیا۔

اﷲ تعالیٰ نے کائنات کو اس کے تمام اجزاء سمیت تخلیق کیا ہے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ نے وقت بھی تخلیق کیا ہے۔ اب ہمارا قارئین سے ایک بہت اہم سوال ہے،وہ ہستی جس نے وقت تخلیق کیا…کیا وہ ہستی وقت کی محتاج ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ہم کہ جن کا وجود کلیتاً وقت پر منحصر ہے، ہم کہ جن کے لئے وقت سے آزادی حاصل کرنا ممکن ہی نہیں…کیا ہم محدود سا وجود رکھتے ہوئے بھی اپنے خالق کی ہستی، اس کی ذات وصفات کامکمل بیان کرسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ جب ہم ’’اﷲ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘ کہتے ہیں ،تو دراصل ہم اپنی سوچ، اپنی فکر اوراپنے تخلیل کی انتہائی حدود تک جاکر وجود باری تعالیٰ پر قیاس کررہے ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے وقت کوکائنات کے ایک اہم جزو کی حیثیت میں پیدا فرمایا ہے۔ وہ رب جلیل اتنی عظیم اور زبردست ہستی ہے کہ ہمارا ’’ہمیشہ‘‘ اس کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ کائنات ، اور اس میں موجود ہرشے(بشمول وقت)کی تخلیق ،اﷲ تعالیٰ کے حکم ’’کن‘‘ (ہوجا)سے چشم زون میں ہوگئی۔ یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وقت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

مختصر کہ اﷲ تعالیٰ کا وجود،اتنا عظیم ہے، اس کی قدرت اتنی لاانتہاء ہے کہ انسانی سوچ ،ذہانت ، تفکر،تدبر،مشاہدے اور مطالعے کے بہترین وسائل مل کربھی اس ذاتِ باری کی ایک صفت کامکمل وجامع انداز میں احاطہ نہیں کرسکتے۔ ’’اﷲ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘…یہ ایک طرف اپنے رب کے سامنے ہماری عقیدت کا اظہار ہے تو دوسری طرف ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری زبان ،ہمارا مکالمہ، ہماری سوچ ،ہماری فکر، ہماری قوت ِ تخلیل وایجاد اس اظہار عقیدت کی تکمیل سے عاجز ہیں۔ گویا حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.