کرہ ارض کو ممکنہ شمسی طوفان کا خطرہ

رائٹرس کے مطابق امریکہ اور یورپ میں سائنسدانوں کی کئی ٹیمیں چوبیس گھنٹے سورج کا معائنہ کرتی ہیں اور مختلف ممالک، سیٹلائٹس، بجلی گھروں اور ایئر لائنز کو کسی بھی ممکنہ خطرے کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اگلے دو سالوں کے دوران اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کوئی شمسی طوفان دنیا بھر کے سیٹلائٹس، پاور گرڈز اور مواصلاتی نظاموں کو متاثر کرے یا پھر ناکارہ بنا دے۔ سورج ہر دس سال کے عرصے میں اپنی سرگرمی کا ایک مرحلہ مکمل کرتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اگلے دو برسوں کے دوران سورج اپنی اس سرگرمی کی چوٹی پر ہوگا اور یہی وجہ ہے کسی زبردست شمسی طوفان کے آنے کا امکان موجود ہے۔

اس بارے میں برطانیہ کی رادرفورڈ ایپلٹن لیبارٹری کے خلائی سائنسدان مائیک ہیپگوڈ کا کہنا ہے کہ ان دنوں مختلف ممالک کی حکومتیں اس ممکنہ مسئلے کو کافی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا، ’اس قسم کی چیزیں ویسے تو کافی کم ہی ہوتی ہیں لیکن جب ہوتی ہیں تو ان کے نتائج کافی تباہ کن ہو سکتے ہیں‘۔

وادرفورڈ ایپلٹن لیبارٹری کے اس سائنسدان نے بتایا ہے کہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر ایک دہائی میں ایک بڑی نوعیت کے شمسی طوفان کے آنے کے قریب بارہ فیصد امکانات موجود ہیں جس کے مطابق ہر ایک سو سال میں ایک شمسی طوفان متوقع ہے۔ ان کے مطابق آخری مرتبہ ایک سو پچاس سال قبل زمین پر ایک بڑی نوعیت کا شمسی طوفان آیا تھا۔ کورونل ماس ایجیکشن اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں سورج سے ایک بہت بڑی مقدار میں ’میگنیٹک فیلڈز‘ ہواؤں اور شعاعوں کا خلا میں اخراج ہوتا ہے۔

شمسی طوفان کی صورت میں اصل خطرہ انہیں شعاعوں کے اخراج سے ہوتا ہے جو کہ مقناطیسی طور پر چارج شدہ پلازما کو کئی ملین ٹن گیس کے ساتھ زمین کی جانب دھکیلتی ہیں۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جب ایسے چارجڈ مادے انتہائی تیز رفتار میں زمین کی جانب بڑھتے ہیں تو وہ اپنی راہ میں آنے والے سیٹلائٹس، بجلی گھروں اور دیگر مواصلاتی ڈھانچوں کو منفی انداز میں متاثر کرنے یا پھر مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برطانیہ میں بجلی کی ترسیل سے متعلق ادارے نیشنل گرڈ کے اینڈریو رچرڈز کا کہنا ہے کہ سیاسی اعتبار سے اس مسئلے کو پچھلے تین برسوں سے ہی سنجیدہ انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’ہم یہ تو جانتے ہیں کہ اس عمل کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں لیکن ہم ابھی انہیں مکمل طور پر سمجھنے سے کافی دور ہیں‘۔ رائٹرس کے مطابق امریکہ اور یورپ میں سائنسدانوں کی کئی ٹیمیں چوبیس گھنٹے سورج کا معائنہ کرتی ہیں اور مختلف ممالک، سیٹلائٹس، بجلی گھروں اور ایئر لائنز کو کسی بھی ممکنہ خطرے کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔

2003 میں ایسے ہی ایک مقناطیسی طوفان نے 47 سیٹلائٹس میں نقص پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ 640 ملین ڈالر مالیت کے ایک سیٹلائٹ کو مکمل طور پر ناکارہ بھی بنا دیا تھا۔ اس سے قبل 1989 میں کینیڈا کے صوبے کیوبک میں ایک اور شمسی طوفان نے بجلی کے نظام کو معطل کر کے رکھ دیا تھا جس کے نتیجے میں کئی ملین افراد کو قریب نو گھنٹے تک بجلی کی سپلائی معطل رہی تھی۔

اس سے پہلے بھی تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں شمسی طوفان نقصانات کا باعث بنے۔ سائنسدانوں کے مطابق کسی ممکنہ شمسی طوفان کے نقصانات کا درست تعین کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس سے دنیا کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں مالی نقصانات کا حجم بھی کافی زیادہ ہوگا۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.