نئی نسل کی جناتی دوربینیں

ہماری کائنات کی ٹھیک ٹھیک وسعت، کمیت اور کثافت کتنی ہے؟ یہ کتنی تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کے پھیلائو کے پس پشت کونسی قوت کا رفرماہے؟ کیا تاریک مادہ(ڈارک میٹر) اور تاریک توانائی(ڈارک انرجی) واقعی کوئی وجود رکھتے ہیں؟ کہکشائوں میںستارے اورسیارے کس تناسب اور رفتار سے بنتے ہیں؟ کیا بلیک ہولز کی تصویر کشی ممکن ہے؟

اس وسیع وعریض کائنات کے مطالعے کاباقاعدہ آغاز سترھویں صدی عیسوی میںہوا، جب گیلیگیو گیلیلی نے پہلی فلکیات دوربین بنائی پھر ایڈون ہبل، آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے نابغہ روزگار سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد نے کائنات کے اسرار ورموز سے پردہ اٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک کے بعد ایک ، نت نئے گوشے اورمظاہر فطرت سامنے آتے جارہے ہیں جنہیں سمجھنے کیلئے ماہرین بھی اپنے سائنسی آلات کو زیادہ حساس اور وسیع تربناتے جارہے ہیں۔

ہم نے اب تک ماہرین فلکیات کو ایک نلکی نمادوربین کے ذریعے ہی فلکی اجسام کا مشاہدہ کرتے دیکھا ہے۔ سچ پوچھئے تو ہمیں صرف عیدالفطر کے موقعے پر ہی ماہرین فلکیات کی یاد آتی ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ سادہ دوربین صرف محلے میں تانک جھانک کرنے اور فلکی دوربین صرف پہلی کاچاند ڈھونڈنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

(ویسے محلے میں تانک جھانک کامقصد بھی کسی، چودھویں کے چاند، کی تلاش ہی ہوتاہے)لیکن اب پتاچلا ہے کہ اس بے پناہ وسیع کائنات کے دور دراز گوشوں کانظارہ کرنے اور کائناتی حقائق کھوجنے کیلئے تیار کی جانے والی دوربینوں کی جسامت میں بھی حیرت انگیز اضافہ کیا جارہا ہے اور ’’ ایکسٹریملی لارج ٹیلی اسکوپس‘‘ (ELTS) منصوبوں کے تحت بڑی جسامت کی متنوع فیہ دوربینیں تیار کی جارہی ہیں۔

ان دیوہیکل دوربینوں کی تیاری کا واحد مقصدان لاینحل عقدوں کی نقاب کشائی ہے جو کائنات کوسمجھنے میںحضرت انسان کیلئے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اپنے فطری تجسس کی تسکین کیلئے سائنسدان کہاں تک جاسکتے ہیں، آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں …لیکن پہلے میدان فلکیات کے ان دو بڑے اداروں کا ذکر ہوجائے جو دیوہیکل دوربینوں کی تیاری کے مقابلے میں پیش پیش ہیں۔

ایک اچھوتی مسابقت
پیساڈینا، کیلیفورنیا میںجارج ایلرے ہیلے نامی ایک صاحب نے 1904ء میں کارنیگی رصدگاہ کی بنیاد رکھی۔ یہ دراصل کارنیگی انسٹیٹیوشن اور کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلٹیک) کامشترکہ منصوبہ تھا جس کامقصد فلکیات کے میدان میں جدید تحقیق کرناتھا۔ اس اشتراک کی ایک اہم ایجاد 200 انچ5 میٹر قطر کے ہیلے دوربین تھی جسے کیلیفورنیا کی پالومر رصدگاہ میںنصب کیاگیا ۔ آنے والے چند عشروں تک یہ روئے زمین کی سب سے بڑی دوربین رہی جس کے ذریعے دور درازکہکشائوں میں واقع کوزاروں(ستارہ نما اجسام جن سے نہایت شدت کے ساتھ ریڈیائی لہریں خارج ہوتی ہیں) کی سرخ منتقلی دریافت کی گئی۔ لیکن1979ء میں یہ دونوں ادارے علیحدہ ہوگئے۔

اس وقت وہاں دو منصوبے زیر تکمیل تھے جن میں10 میٹر قطر کی دو کیک (Keck)دوربینوں کامنصوبہ قدرے زیادہ اہم تھاجبکہ دوسرا منصوبہ6.5 میٹر قطر کی مجیلن دوربین کاتھا۔اس وقت کے ڈائریکٹرمارٹن شمٹ نے کارنیگی انسٹیٹیوشن کو قدرے نکماسمجھتے ہوئے مجیلن دوربین کامنصوبہ اسے سونپا جبکہ کیک دور بینوں کامنصوبہ کیلٹیک کے حوالے کیاگیا۔ یہ علیحدگی دونوں اداروں کیلئے سود مند ثابت ہوئی اور دونوں نے مقابلے کی فضا میں ایک دوسرے سے بڑھ کرکام کرنے کی ٹھان لی۔

اس مقابلے کے ثمرات تاحال فلکیات کیلئے مفید ثابت ہورہے ہیں اور ایکسٹر یملی لارج ٹیلی اسکوپس منصوبے کیلئے اولین دیوہیکل دوربینیں تیار کرنے کا سہرا بھی انہی دونوں اداروں کے سربندھا ہے۔ یاد رہے کہ یہ دونوں ادارے ایک ہی ریاست(کیلیفورنیا) میں ایک دوسرے سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر کام کررہے ہیں۔

دیوہیکل مجیلن دوربین
امریکی ریاست کیلیفورنیار کے شپر پیساڈینا میں یونیورسٹی آف ایریزونا، یونیورسٹی آف مشی گن ،ا یم آئی ٹی اور کارنیگی آبزوریٹریز جیسے چوٹی کے دس تعلیمی وسائنسی اداروں کے الحاق سے ایک خصوصی ’’جی ایم ٹی کنسورشیم‘‘ تشکیل دیاگیا ہے جو25 میٹر قطر کی ’’جائنٹ مجیلن ٹیلی اسکوپ‘‘ نامی جناتی دوربین کی تیاری میں معاونت کررہا ہے۔25 میٹر قطر کی اس دیوہیکل دوربین کی تیار ی یقینا ایک بہت بڑی تکنیکی چھلانگ ہے۔ سات آئینوں پر مشتمل جی ایم ٹی کے مقابلے میں موجودہ دور کی دور بینیں نہایت حقیر معلوم ہوتی ہیں۔ تاحال ہوائی میں واقع کیک (Keck) کی دونوں دوربینیں جسامت میںسرفہرست ہیں، جن میں ہر ایک کاقطر10 میٹرہے۔ کارنیگی رصدگاہ میںجاری یہ منصوبہ اپنی نوعیت کااچھوتا منصوبہ ہے جس پر60 کروڑ ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔

توقع ہے کہ یہ دوربین2025ء کے اختتام تک عمل ہوجائے گی۔ اس میں8.4 میٹر27.6 فٹ قطر کے سات آئینے ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو اس طرح لگائے جائیں گے کہ ان کا مجموعی قطر24.5 میٹر80.4 فٹ ہوگا۔ اس اجرام فلکی سے آنے والی روشنی جمع کرنے والے آئینوں کا مجموعی رقبہ 368 مربع میٹر ہوگا جبکہ اس دور بین کاطول ماسکہ18میٹر ہوگا۔ اسے چلی میںلاس کمپاناس رصدگاہ میں نصب کیاجائے گا۔یہ جگہ اپنی صاف ستھری آب وہوا کی بدولت دوربینوں کی تنصیب کیلئے نہایت مناسب ہے۔ چلی نہ صرف یہ کہ فضائی اور ضیائی آلودگی سے بالکل پاک ہے بلکہ یہاں پورا سال موسم معتدل رہتاہے، اسی لئے فلکیات کے بڑے منصوبوں کو اس جگہ نصب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آئینوں کا کھیل …جاری ہے
موجودہ فلکیاتی دوربینوںکو اگرآئینوں کا کھیل کہاجائے تو غلط نہ ہوگا۔ ویسے انہیں ’’انعکاسی ودربینیں‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔ ایسی کسی بھی دوربین میںروشنی پہلے ایک مقعر آئینے (Concave mirror) تک پہنچتی ہے، جو اس دوربین کا ابتدائی یا ’’ پرائمری‘‘ آئینہ بھی کہلاتا ہے۔ (آسانی کیلئے یوں سمجھ لیجئے کہ مقعر آئینہ، کناروں سے موٹا ہوتاہے جبکہ درمیان کی طرف بڑھتے بڑھتے یہ پتلا ہوتا جاتاہے۔ اس طرح یہ ایک ہموار پیالے کی مانند بھی قرار دیاجاسکتا ہے۔)

پرائمری آئینے سے معنکس ہونے والی روشنی، ایک اورآئینے پر مرکوز ہوتی ہے، جسے ثانوی(سیکنڈری)آئینہ بھی کہاجاتاہے۔ یہ آئینہ ، ابتدائی آئینے سے آنے والی روشنی کو مزید مرکوز کرکے (دوربین کے بالکل بیچوں بیچ موجود ایک سوراخ کے ذریعے) اس کے پچھلے حصے کی طرف منعکس کردیتا ہے جہاں مشاہداتی آلات اور افراد موجود ہوتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ سرآئزک نیوٹن نے اسی ڈیزائن کے مطابق، دنیا کی پہلی کامیاب انعکاسی دوربین1668ء میں تیار کی تھی۔ تاہم بعد ازاں اس میں چھوٹی بڑی تبدیلیاں کی جاتی رہیں اور اسے مزید بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔

اب تک عموماً صرف ایک مقعر آئینے پر مشتمل دوربینیں ہی تیار کی جاتی رہیں ۔ لیکن تیس سال قبل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، سانتا کروز کے جیری نیلسن نے پہلی بار قطعاتی آئینوں(Segmented mirrors)کا تصور پیش کیا۔ قطعاتی آئینوں سے مراد یہ ہے کہ ایک سے زائد آئینے ، ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو اس طرح لگائے جائیں کہ وہ آپس میں مل کر ایک بڑے مقعر آئینے کی مانند کام کریں۔یعنی ان پر پڑنے والی روشنی منعکس ہوکر ایک ہی مقام پر مرکوز ہو۔

نیلسن کاکہنا ہے کہ انہیں یہ خیال رومیوں کاکام دیکھ کر آیا جنہوں نے کاشی کاری(شیشے کے رنگین ٹکڑوں کوجوڑنے ) کیلئے چھوٹی چھوٹی ٹائلیں استعمال کیں۔

قطعاتی آئینوں والی دوربین کایہ ڈیزائن کسی مکھی کی آنکھ سے مشابہت رکھتا ہے ، لہٰذا بعض اوقات اسے ’’مکھی کی آنکھ والی دوربین‘‘ بھی کہاجاتاہے۔ یاد رہے کہ مکھی کی آنکھ کو ’’ مرکب آنکھ ‘‘(کمپائونڈآئی) بھی کہاجاتاہے کیونکہ، انسانی آنکھ کے برعکس ، اس میں کئی ہزار عد سے کی مانند کام کرتے ہیں اور مکھی کو دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

نیلسن کی تجویز کردہ، قطعاتی آئینے والی دوربین کاہر قطعہ اگرچہ انفرادی طور بالکل سیدھا ہوتا ہے(یعنی ہر آئینہ اپنی اپنی اوقات سینکڑوں …آئینے ایک خاص تکنیک کی مدد سے کچھ اس طرح ترتیب دئیے جاتے ہیں کہ وہ بطور مجموعی کسی ایک بڑے مقعر آئینے کی مانند کام کرتے ہیں۔ اور یوں وہ روشنی کو ایک مشترکہ مقام پر مرکوز کرتے ہیں۔

شہد کا ’’جناتی ‘‘ چھتا
جن دنوں نیلسن اپنی قطعاتی دوربین کے ڈیزائن پرابتدائی کام کررہے تھے، اسی زمانے میں یونیورسٹی آف ایریزونا، ٹوسان کے راجر اینجل بھی انعکاسی دوربین کے ایک اور اچھوتے ڈیزائن پرتحقیق میںمصروف تھے۔ اگرچہ اس میں بھی پرائمری آئینہ ایک سے زائد قطعاتی آئینوں کامجموعہ ہے، تاہم یہ ڈیزائن نیلسن کی مجوزہ ’’مکھی کی آنکھ‘‘والی دوربین سے تھوڑاسا مختلف ہے جس میں آئینے کاہر قطعہ بالکل سپاٹ یعنی مستوی Plane ہوتاہے۔ نیلسن کے برعکس اینجل کے وضع کردہ ڈیزائن میںہر قطعاتی آئینہ اپنی اپنی جگہ ایک مقعر آئینہ تو ہوتا ہے لیکن ادھورا۔

اسے سمجھنے کیلئے ہم جی ایم ٹی کی مثال لیتے ہیںجس میںسات آئینے نصب ہوں گے۔ ان سات قطعاتی آئینوں میں سے ایک محورaxis پر ہوگا جبکہ باقی کے چھ آئینے اس کے گرد گھیرا ڈالے ہوں گے یعنی وہ محور سے ہٹے ہوئےoff-axis ہوںگے۔ یہ ترتیب ، شہد کے چھتے میںموجود خانوں سے مشابہت رکھتی ہے ، اور اسی بناء پر یہ ڈیزائن ’’شہد کا چھتا‘‘honeycomb بھی کہلاتا ہے۔ مذکورہ بالا نوعیت کے قطعاتی آئینوں کو ٹھیک ٹھیک انداز سے آپس میں مربوط کرنا، عصرحاضر کی عملی فلکیات کے مشکل ترین چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اینجل پہلے ہی اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے دوانقلابی حل تجویز کرچکے ہیں، اورانہیں چھوٹے پیمانے پر آزما بھی چکے ہیں۔


ان میں سے ایک حل تو یہ ہے کہ ساتوں آئینوں کو ایک کھوکھلے، لیکن مضبوط شش پہلو hexagonal فریم پر نصب کیاجائے۔ اسی سے جڑا ہوا، دوسرا حل یہ ہے کہ ہر آئینے کو سادہ طریقے پر تیار نہ کیاجائے بلکہ جب آئینے کا پگھلا ہوا شیشہ سرد ہوکر منجمد ہورہا ہو، تو اسے ایک مخصوص رفتار سے گھمایا بھی جاتا رہے۔ اس طرح تیار ہونے والا شیشہ اپنی ابتداء ہی سے مقعرConcave ساخت کاحامل ہوگا، اور ماہرین کیلئے اسے مطلوبہ شکل میں لانا زیادہ آسان ہوجائے گا۔

اس مناسبت سے دیکھا جائے تو جی ایم ٹی واقعی ایک تکنیکی جست ہے، کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر اس نوعیت کی کوئی دوربین بنائی نہیں گئی ہے۔ جی ایم ٹی میںتنصیب کیلئے آئینوں کی تیاری یونیورسٹی آف ایریزونا میں واقع اسٹیورڈآبزرویٹری میںانجام دی جائے گی۔ تاہم ،ا چھی خبریہ ہے کہ ان مین سے پہلا آئینہ2005ء میںتیار بھی کیاجاچکاہے۔

اس کا وزن1000 کلوگرام(ایک میٹرک ٹن) سے زائد ہے8.4 میٹر قطر کے اس آئینے کی سطح کو20 نینو میٹر کی درستگی تک ہموار کیاگیا ہے۔ یہ ایساہی ہے کہ جیسے پورے برازیل کو محض ایک سینٹی میٹر کے پیمانے پر ہموار کردیاجائے۔ یہ دوربین مشہور زمانہ ہبل خلائی دوربین کے مقابلے میںاجرام فلکی کی10 گنا مفصل تصاویر حاصل کرسکے گی۔2019ء آئینے مکمل کرلئیے گئے ہیں۔

فنڈز کا سوال ہے بابا…
60 کروڑ ڈالر کاجی ایم ٹی منصوبہ یقینا ایک مہنگا سودا ہے، جس کے اخراجات برداشت کرنا کسی ایک ادارے کے بس میں نہیںتھا۔ قبل ازیں آٹھ امریکی ادارے اس منصوبے میں شریک تھے، لیکن گزشتہ سال آسٹریلین یونیورسٹی نے بھی اس منصوبے میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔ نیز جنوبی کوریا نے بھی اس منصوبے کادسواں شریک بننے کی خواہش ظاہر کی ہے اور وہاں کے ماہرین اپنی حکومت سے اس منصوبے کیلئے بجٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کارنیگی آبزوریٹری کی ڈائریکٹر،وینڈی فریڈ مین کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ چند ماہ میں دیگر نجی اداروں سے بھی فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم اس کا پہلا ہدف ، امریکہ کی نیشنل سائنس فائونڈیشن سے رقم کاحصول ہوگا۔
یہ دوربین تاریک مادے، تاریک توانائی ،بلیک ہولز، کہکشائوں کی پیدائش اور ہماری ملکی وے کہکشائوں میں ستاروں اور سیاروی نظاموں کی پیدائش جیسے اہم سوالات کے جوابات تک رسائی میں ہماری مدد کرے گی۔

تیس مار خان دوربین
1979ء میں کارنیگی آبزوریٹری سے علیحدگی کے وقت کیلٹیک کے پاس10 میٹر قطر کی دو عدد کیکKeckدوربینوں کا منصوبہ تھا ، جسے30 سال تک دنیا کی سب سے بڑی دوربین کا اعزاز حاصل رہا۔ لیکن جی ایم ٹی کی25 میٹرقطر کے آئینوں والی مجوزہ دوربین نے گویا کیلٹیک کی غیرت کاللکاردیا، اور انہوں نے بھی ایک بڑے منصوبے کا اعلان کردیا۔ کیلٹیک نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اورایسوسی ایشن آف یونیورسٹیز فار ریسرچ ایسٹرونومیAURA کے اشتراک سے تیس میٹر قطر کی دوربین (تھرٹی میٹر ٹیلی اسکوپ ۔ٹی ایم ٹی) کے منصوبے کا اعلان کیاہے۔ کارنیگی آبزرویٹری سے صرف چندمیل فاصلے پر یہ منصوبہ اپنے ابتدائی مراحل میںداخل بھی ہوچکا ہے۔

ٹی ایم ٹی کا ڈیزائن ، نیلسن کے قطعاتی آئینوں والے تصور پر مشتمل ہے جس میں 1.44 میٹر قطر کے 492 شش پہلو آئینے استعمال کرتے ہوئے30 میٹر قطر کی دوربین تیار کی جائے گی۔ یہ ڈیزائن کیک دور بینوں جیسا ہی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ان میں سے ہر ایک میں1.8 میٹر قطر کے 36 آئینے استعمال کئے گئے تھے۔ ایک مکمل آئینے کی بجائے آئینے کے کئی قطعات استعمال کرنا، تکنیکی اعتبار سے واقعتاً بہت مشکل کام ہے۔ البتہ، ٹی ایم ٹی کو جی ایم ٹی پر یہ سبقت ضرور حاصل ہے کہ مکھی کی آنکھ جیسے ڈیزائن والی دو ’’کیکKeck دوربینیں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ ٹی ایم ٹی میں اسی ڈیزائن کو مزید وسعت دینا ہوگی۔

ٹی ایم ٹی اپنی بڑی جسامت اور پیچیدہ ساخت کی بدولت کئی حیرت انگیز کام سرانجام دے سکے گی۔ یہ الٹراوائلٹ یعنی بالائے بنفشی (0.31 مائیکرومیٹر) سے لے کر اانفراریڈیعنی زیریں سرخ(28 مائیکرو میٹر) شعاعوں تک کو دیکھ سکے گی۔ اس کاخصوصی بصری نظام حاصل شدہ عکس کو فضا دھندلاہٹ سے پاک کرسکے گا۔0.8 مائیکرو میٹر سے زائد طول موج پر یہ ہبل خلائی دوربین سے دس گنا بہتر عکس لے سکے گی، جبکہ زمین پر نصب موجود فلکیاتی دوربینوں کے مقابلے میں10 تا100 گنا زیادہ حساس ہوگی۔ اس دوربین کا وزن200 میٹرک ٹن تک ہوسکتا ہے اور، جی ایم ٹی کی طرح، اس کے بھی2022ء تک مکمل ہوجانے کی توقع ہے۔

اپنی دیوہیکل جسامت اور نسبتاً پیچیدہ ساخت کی بدولت ٹی ایم ٹی پر75 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ لاگت آئے گی۔ انٹیل کارپوریشن کے شریک بانی، گورڈن مور نے( جو بذات خود کیلٹیک ہی کے ایک پرانے گریجویٹ ہیں) ٹی ایم ٹی کیلئے بیس کروڑ ڈالر کا عطیہ دیاتاکہ یہ منصوبہ دیگر منصوبوں پر سبقت حاصل کرسکے۔

ہم کو بھی پوچھتے رہو تو…
اوراAURA ،امریکہ کا ایک سرکاری ادارہ ہے جس کا مقصد امریکی جامعات میں فلکیات پر ہونے والی تحقیق کی معاونت کرناہے۔ ظاہر ہے کہ نئی فلکی دوربینوں کی تیاری بھی انہی مقاصد کے ذیل میںآتی ہے۔ لیکن ابتداء میں اورصرف ٹی ایم ٹی کا مددگار تھا۔ جب جی ایم ٹی کو اورا سے کوئی مدد نہ ملی تو اس نے وابستگان اورا کے صدر، ولیم اسمتھ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے جی ایم ٹی کے ساتھ اورا کے ناوراسلوک کاتذکرہ کرتے ہوئے یہ شکایت بھی کی کہ اس ادارے کی جانب سے صرف ٹی ایم ٹی کو مالی امداد دی جارہی ہے جبکہ جی ایم ٹی کو مسلسل نظرانداز کیاجارہا ہے۔

امریکہ کی ’’نیشنل سائنس فائونڈیشن‘‘ این ایس ایف نے اس شکایت کانوٹس لیتے ہوئے اور ا کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں منصوبوں کی مالی معاونت سے بازر ہے۔ اور یوںا ین ایس ایف نے ٹی ایم ٹی اور جی ایم ٹی دونوں کی مالی معاونت کی ذمہ داری خود ہی سنبھال لی۔ تب سے لے کر اب تک جی ایم ٹی منصوبے کے ذمہ دار ان، این ایس ایف کوقائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ چاہے کتنی ہی رقم عطیہ کرے، لیکن دونوں منصوبوں میں ’’ منصفانہ ‘‘ تقسیم کرے۔

جہاں تک ٹی ایم ٹی کی تنصیب کیلئے مقام کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں ابھی مشاورت جاری ہے۔ فی الحال پانچ مقامات زیر بحث ہیں جن میں سے ایک جزیرہ ہوائی کا مقام مائونا کی Mounakea بھی ہے، تاکہ جاپان کو بھی ٹی ایم ٹی منصوبے میں شمولیت کیلئے آمادہ کیاجاسکے۔ دیگر مقامات میں میکسیکو اور چلی شامل ہیں۔

یورپ کی بہت بڑی دوربین
ادھر یورپین سددرن آبزویٹری(ای ایس او) جس کاصدر دفترگار چنگ ، جرمنی میں ہے، ایک بہت ہی بڑی فلکیاتی دوربین کامنصوبہ بنارہی ہے۔ ہم اسے جی ایم ٹی اور ٹی ایم ٹی کا ’’یورپی ملغوبہ‘‘ کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ اس میںا یک طرف تو ’’ مکھی کی آنکھ‘‘ والی تکنیک سے استفادہ کیا جائے گا(جو ٹی ایم ٹی کی بنیاد ہے) تو دوسری جانب اس میںمفصل اور واضح عکس کو یقینی بنانے کیلئے ’’مطابقت پذیر بصری آلات‘‘ adaptive optics سے مدد لی جائے گی(جو جی ایم ٹی کاطرئہ امتیاز ہیں)

42میٹر قطر کی دوربین کے اس منصوبے کو ’’ یورپین ایکسٹریملی لارج ٹیلی اسکو‘‘E-ELT کانام دیاگیا ہے…یعنی یورپ کی بہت ہی بڑی دوربین ۔ اس کی شکل وشباہت اور بنیادی ڈیزائن کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ای ای ایل ٹی واقعتاً ایک بہت بڑی ٹی ایم ٹی ہوگی۔ مثلاً اس میں ایک ہزار کے لگ بھگ آئینے نصب کئے جائیںگے جن میں سے ہر ایک کا قطر1.45 میٹر ہوگا۔ ٹی ایم ٹی میں آئینوں کی تعداد اس سے تقریباً آدھی یعنی492ہوگی۔

علاوہ ازیں ، جی ایم ٹی کی طرز پر استعمال ہونے والے مطابقت پذیر بصری آلات کی بدولت، ای ای ایل ٹٰی کی مدد سے اجرام فلکی کی عکاسی اول الذکر دونوں دوربینوں (یعنی ٹی ایم ٹی اور جی ایم ٹی) سے نہ صرف زیادہ واضح اور شفاف ہوگی ،بلکہ یہ ان کے مقابلے میں آسمان کے زیادہ وسیع رقبے کی عکس بندی بھی کرسکے گی۔

اب تک کے تخمینہ جات کے مطابق ، ای ای ایل ٹی پر90کروڑ یورو(ایک ارب37 کروڑ ڈالر) کی لاگت آئے گی۔ یعنی یہ یورپ میںفلکیاتی دوربینوں کاسب سے مہنگا منصوبہ بھی ہوگا۔قبل ازیں ای ایس او نے ’’ویری لارج ٹیلی اسکوپ‘‘ (وی ایل ٹی) کے عنوان سے ،فلکیاتی دوربینوں کا ایک اور بہت مہنگا منصوبہ2000 ء میں مکمل کیاتھا، جس کے تحت چلی میں چار دیوقامت دوربینیں نصب کی گئی ہیں اور جس کی تکمیل میں دس سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا۔ ای ای ایل ٹی کی متوقع لاگت اس سے بھی دوگنی ہے۔

اس سے انکار نہیں کہ ای ای ایل ٹی کا منصوبہ سب سے مہنگا ہے،لیکن ای ایس او سے وابستہ ماہرین کو لاگت کی جانب سے کوئی پریشانی نہیں۔ اس ضمن میں ای ای ایل ٹی کے ڈائریکٹر، جیسن اسپائر ومیلیو کو یقین ہے کہ انہیں اس منصوبے کی تکمیل میںمالیاتی امور کے خارج ہونے کاکوئی خدشہ نہیں ۔ لہٰذا ، وہ یہ ضروری نہیںسمجھتے کہ کشکول لے کر نجی اداروں یا افراد کو تلاش کرتے پھریں۔ کچھ ایسے ہی خیالات اس منصوبے کے مرکزی تحقیق کار(پرنسپل انوسٹی گیٹر) ،رابرٹوگلموزی کے بھی ہیں ’’ یہ دوربین سازی کے فن سے متعلق اب تک کے تمام تصورات سے کہیں آگے ہے۔ فی الحال ہم نے اپنی پریشانیوں کو صرف تکنیکی معاملات تک محدود رکھا ہوا ہے۔ اور جہاں تک رقم کی دستیابی کا تعلق ہے ، تویہ کام ہم (بہ آسانی ) کرسکتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

بعض ناقدین کاکہنا ہے کہ اسپائرومیلیو اور گلموزی کے یہ خیالات حد سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔تاہم ، اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیںکرنا چاہئے کہ ای ایس او کو بیک وقت تیرہ یورپی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے، اور یہ کارنیگی اور کیلٹیک کے برعکس ، اس ادارے کو مالی مسائل درپیش نہیں۔

اس کے باوجود جی ایم ٹی اور ٹی ایم ٹی سے وابستہ ماہرین کو خدشہ ہے کہ عظیم الشان یورپی خلائی دوربین کامنصوبہ کہیں ان کے متوقع بین الاقوامی عطیہ کنندگان، بالخصوص جاپان کو اپنی طرف نہ کھینچ لے ۔پھر یہ بھی ہے کہ این ایس ایف بین الاقوامی سطح پر سائنسی وتکنیکی تعاون کے منصوبوں میںشریک رہتی ہے۔لہٰذا نہیں یہ خطرہ بھی ہے کہ کارنیگی اور کیلٹیک کی کھینچا تانی سے بچنے کیلئے وہ ای ای ایل ٹی میں رقم لگانے کو اپنے لئے زیادہ مناسب خیال کرے۔

فی الحال ای ای ایل ٹی کی تنصیب کیلئے چار مقامات زیر غور ہیں، کینا ری جزائر ، مراکش ، ارجنٹائن اور چلی ۔

فاتح کون؟
مذکورہ تینوں منصوبوں پر مجموعی طور پر تین ارب ڈالر سے زائد کی لاگت آئے گی۔ ان دوربینوں کی جناتی جسامت کی بدولت فلکیات اور کونیات میں کئی نئی دریافتیں متوقع ہیں۔ کسی دوربین کے پرائمری آئینے کے رقبے میں تین گنا اضافے سے اس کی طاقت میں10 گنا تک اضافہ ہوجاتاہے لہٰذا وہ نہایت مدھم اور دور دراز ستاروں کی روشنی بھی دیکھ لیتی ہے۔ ان دوربینوں کے ذریعے ماورائے نظام شمسی سیاروں کی روشنی کی براہ راست عکاسی بھی ممکن ہوسکے گی جبکہ اس پراسرار قوت کی پیمائش بھی ممکن ہوسکے گی جو کائنات پھیلائو کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

’’ یہ نئی دوربینیں ہم پر ایسے حقائق آشکار کریں گی جن تک تاحال ہماری رسائی نہیںہوسکی ہے۔ یہ دیوہیکل دوربینیں خلاء میں بھیجی گئی دوربینوں کے ہم پلہ ثابت ہوں گی جن میں سے ایک جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپJWST ہے۔ 2013ء تک خلاء میں پہنچنے والی یہ خلائی رصدگاہ ، 6.5 میٹر والے آئینے پر مشتمل ہوگی اور یہ ہبل دوربین کی جگہ لے گی،‘‘ بالٹیمو ر، میری لینڈمیں واقع ’’ اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے ڈائریکٹر،میٹ مائونٹین نے کہا۔

عصر حاضر کی تمام زمینی اورخلائی دوربینوں کا ایک اہم مقصد اس اولین روشنی کی تلاش بھی ہے جو بگ بینگ کے چالیس کروڑ سال بعد اس وقت خارج ہوئی ہوگی جب کائنات کے اولین ستاروں میں گداخت(فیوژن) کا عمل شروع ہواتھا۔ اس روشنی کی خصوصیات معلوم کرکے ہم ابتدائے کائنات کے متعلق بہت کچھ جان سکتے ہیں ، اور مروجہ کونیاتی نظریات کے درست یاغلط ہونے کے بارے میںکوئی مناسب رائے قائم کرسکتے ہیں۔

اگرچہ فی الحال دیوقامت فلکیاتی دوربینوں کی اس دوڑ میں ٹی ایم ٹی کو معمولی سی برتری حاصل ہے ۔لیکن جب تک کوئی دوربین پوری طرح سے مکمل ہوکر میدان عمل میں اتر نہیں آتی، تب تک اس دوڑ کے فاتح کافیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔

لہٰذا ، موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہنا زیادہ معقول رہے گاکہ جو منصوبہ دوسروں سے پہلے اورزیادہ عطیات وصول کرنے میںکامیاب ہوگا، وہی بروقت تکمیل کی منزل بھی پاسکے گی۔ باقی سب باتیں اس کے بعد آتی ہیں۔ ٹی ایم ٹی اور جی ایم ٹی دونوں منصوبے ہی این ایس ایف سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔

لیکن این ایس ایف کی جانب سے امداد کافیصلہ ممکن دکھائی نہیںدیتا، کیونکہ یہ ادارہ ’’اٹاکامالارج ملی میٹر ایرے‘‘ALMA نامی ریڈیودوربین کو پہلے ہی پچاس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم مہیا کررہاہے، جسے مکمل ہونے میں ابھی پانچ سال باقی ہیں۔ ایلماALMA منصوبہ مکمل ہوجانے کے بعد ہی یہ طے کیاجائے گا کہ ٹی ایم ٹی اور جی ایم ٹی میں سے کس کو کتنی رقم دی جائے…آخر عوامی ٹیکس کامعاملہ ہے بھئی!
ان تینوں منصوبوں کے ساتھ ایک اور سنجیدہ لیکن غیر سائنسی ،مسئلہ بھی درپیش ہے ۔ اور وہ یہ کہ مذکورہ تینوں دوربینوں پر کام کرنے والے گروپ ایک دوسرے سے مسابقت ہی نہیں بلکہ مخاصمت (دشمنی) پر بھی کمر بستہ ہیں۔

جی ایم ٹی اور ٹی ایم ٹی کی ٹیموں کے معاملے میں یہ عداوت تو نہایت شدید ہے۔ ’’ مشکل ترین کام یہ ہوگا کہ کسی طرح ان تینوں گروپوں کو ایک کمرے میں جمع کردیا جائے اور کہا جائے کہ وہ آپس میں مل جل کر کام کریں اور معلومات کے باہمی تبادلے کو ممکن بنائیں،‘‘مائونٹین نے تبصرہ کیا۔

مجھے فکر جہاں کیوں ہو!
ابل علم کے عزائم ہمارے سامنے ہیں۔ وہ نئے سے نئے جہانوں پر کمندیں ڈالنے کیلئے پر تول رہے ہیں، جبکہ ہمیں ایک بار پھر امت مسلمہ کی زبوں حالی پر رونا آرہا ہے کہ
چاند کو ہاتھ لگاآئے ہیں ابل جنوں
ان کو اب دھن ہے کہ جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ذرا
اسی کشمکش میں ہیں کہ عید پڑھیں نہ پڑھیں

بہرحال دوستو! زیادہ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں،کیونکہ ہمارا مسئلہ بلیک ہولز، ستاروں کی پیدائش ، انفراریڈ اور الٹراوائلٹ شعاعیں ،ماورائے ارضی حیات کی تلاش اور ماورائے شمسی زمین نماسیاروں کی دریافت نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ آٹا، چاول ،گھی ،بجلی ہے اوریہ چیزیں دور دور تک نظر نہیں آرہیں ، چاہئے کتنی ہی بڑی دوربین لگاکر کیوں نہ دیکھ لیں۔ ہماری حالت توغریب کے اس بھوکے بچے جیسی ہے جسے چاند بھی روٹی نظرآتاہے
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.