نیوکلیائی بیاٹری 7 سال تک 20 ہزار گھروں کو روشن رکھنے کی صلاحیت کی حامل

متبادل ذرائع توانائی کی جستجونے سائنسدانوں کو زمیں سے فلک تک دوڑادیا

شارک کا گوشت بطور حیاتی ایندھن

دنیا میں متبادل ذرائع توانائی کے لیے کئی طریقے اپنائے جارہے ہیں یا پھر ان پر تحقیق کی جارہی ہے ۔ لیکن گرین لینڈ کے مغرب میں واقع سسی میوت (Sisi muit)میں قائم آرکٹک ٹیکنالوجی سینٹر (ARTEK)کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ تجربات کے ذریعے ایسا طریقہ وضع کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔ جس کے ذریعے گرین لینڈ میں پائی جانے والی شارک کی سب سے بڑی نوع (گرین لینڈ شارک ) کے گوشت سے حیاتی انیدھن حاصل کیا جاسکے گا ۔

شارک کی یہ نوع گرین لینڈ میں بکثرت پائی جاتی ہے ۔ لیکن ماہی گیر اس سے دور رہنا پسند کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس کا گوشت زہر آلودہ ہوتا ہے اور اگر غلطی سے کوئی شخص مذکورہ شارک کا یہ زہر یلا گوشت استعمال کرلے تو اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال آرکٹک کے سرد پانی سے ہزاروں کی تعداد میں یہ شارک ماہی گیروں کے پھینکے گئے جال میں پھنس کر ہلاک ہوجاتی ہیں۔

گرین لینڈ شارک ، خونخوار اور مردم خور گریٹ وائٹ شارک جنتی بڑی ہوتی ہیں اور ان کا وزن لگ بھگ ایک ٹن تک ہوتا ہے ۔ جس حیاتی ایندھن کی ہم بات کررہے ہیں وہ دراصل حیاتی گیس (بایوگیس) کی شکل میں ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ ہم سمندر میں ہزاروں ٹن کی مقدار میں پائی جانے والی سمندری حیات بشمول شارک سے متبادل توانائی حاصل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ

یہ بات، اے آرٹی ای کے (ARTEK)کے شاخ واقع ڈنمارک کی ٹیکنیکل یونیورسٹی سے منسلک میریان ولیمزجورگنسن نے کہی ۔ وہ آج کل، گرین لینڈ کے شمال مغرب میں واقع اُومانک (Ummanaq)نامی قصبے میں جاری اس منصوبے میں سربراہ کی حیثیت سے کام کررہی ہیں، میریان کا کہنا ہے کہ شارک کے گوشت کو جب خردبینی کائی (Micro-Algae)اور گھروں میں استعمال شدہ پانی کو آپس میں ملاتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا ملاپ ، حیاتی انیدھن پیدا کرنے لگے۔

حیاتی ایندھن دراصل اس قسم کے تلف شدہ نامیاتی اجزاء کو ٹھکانے لگانے کا بہترین حل ہے ۔ اس طریقہ کار کی بدولت ،نہ صرف بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ کاربن کا بھی کم سے کم اخراج ہوتا ہے ۔ مریان نے کہا ۔ ایک اندازہ کے مطابق شارک اور دیگر سمندری حیات سے بنا حیاتی ایندھن فراہم کرنے پر اومانک قصبے کی 13فیصد توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

میریان اگلے سال، اسی قصبے میں ایک تلف شدہ نامیاتی اجزاء کو آمد بنانے والے پلانٹ میں جسے یورپی یونین رقم فراہم کرے گا تجربات انجام دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان تجربات کے ذریعے شارک کے گوشت کو تلف شدہ پانی اور خردبینی کائی کے ہمراہ ملا کر حیاتی گیس (بایوگیس) بنائی جاسکے گی۔

مجازی پاور پلانٹ
ہم سب یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ہوائی ٹربائین ، آبی بجلی گھر اور ہائیوگیس ہمیں انتہائی صاف اور ماحول دوست توانائی فراہم کرتی ہیں، جس میں کاربن کا اخراج نہیں ہوتا ۔ لیکن ابھی یہ تمام ٹیکنالوجی بالغ نہیں ہوئی اور انہیں رکاز یاتی یندھن کا متبادل بنانے کے لئے بہت کام کی ضرورت ہے ۔ ان ذرائع توانائی میں جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ان کی ڈیزائنگ اور انہیں قائم رکھنا ہے ۔

سائنسدان ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت کام کر رہے ہیں ۔ ان ذرائع توانائی میں جو سب سے ہم مسئلہ درپیش ہے وہ ان کی ڈیزائنگ اور انہیں قائم رکھا ہے ۔ سائنسدان ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ور چول ریلیٹی سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان کے خیال سے (VR)انہیں بنانے اور آپریشن میں مدد گار ثابت ہوگی ۔ فرض کیجئے ، ایک آبی بجلی گھر بنایا جارہا ہے تو سب سے پہلے اس کا ڈریزائن بنایا جائے گا۔

جس کے لیے چند باتوں کا معلوم ہونا ضروری ہے ،جیسے دبائو ، درجہ حرارت اور پانی کا بہائو کتنا ہونا چاہئے ۔ لیکن ان تمام معلومات کا تجزیہ کمپیوٹر کی مد سے ایک گھنٹے میں کیا جاسکتا ہے ۔ اور سافٹ ویئر کی مدد سے پاور اسٹیشن کی نقل بنائی جاسکتی ہے۔ تاہم ، جو نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ وسیع اعداد و شمار پر مشتمل ہوتے ہیں یا ایک جہتی خاکہ پیش کرتے ہیں۔ میگدبرگ میں واقع فران ہو فرانسٹیٹیوٹ فار فیکٹری آپریشن اینڈ آٹومیشن آئی ایف ایف ، ایک خاص منصوبے پر کام کررہی ہے۔

جس سے متبادل ذرائع توانائی کی صنعت میں شامل لوگوں کا کام انتہائی آسان ہوجائے گا ۔ یہ ایک ایسی تیکنیک کی تکمیل میں مصروف ہیں، جو توانائی بنانے والے پلانٹ کے اندر ہونے والے عمل کا تصوراتی خاکہ پیش کرسکتی ہے ۔ انہوں نے سہہ جہتی پلانٹ کے تعمیری عمل اور سیمولیشن کے نتائج کو ورچول ریلیٹی پروگرام کے ساتھ مشترکہ کر دیا ہے ۔ جیسے (IFF) میں تیار کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر میتھیس گھولا ، جو پروسیس اینڈ پلانٹ انجینئرنگ بزنس یونٹ کے مینیجر ہیں، انہوں نے سافٹ ویئر کے کام کرنے کے طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خاص سافٹ ویئر ہمیں اس قابل بنائے گا کہ ہم ایسی تمام حرکات کا تسلسل میں مشاہدہ کرسکیں گے جنہیں پہلے دیکھا نہیں جاسکتا تھا اور وہ بھی صرف ایک بٹن دبانے پر۔ اس میں شامل ایرجسے وی آرما ڈل کے ذریعے حرکت دی جاسکتی ہے کسی بھی انجینئر کو پلانٹ میں پانی اور گیس کے بہائو کی سمت متعین کرنے میں مدد کرے گا اور ساتھ ہی پانی اور گیس کی رفتار بھی بتائے گا۔

ان ایروسے ایسے مقا مات، جہاں کارگردگی کم ہے یا درست نہیں کو کسی رنگ کے ذریعے واضح کیا جاسکتا ہے ، جیسے کسی مقام پر جہاں درجہ حرارت پر اندیشہ حالت میں ہو یا کم ہو تو اسے درست کیا جاسکے گا۔ علاوہ ازیں یہ سافٹ ویئر پلانٹ کے اندر موجودد پرزہ جات کے ہلنے پر ٹکرائو کے امکانات سے بھی خبر دار کر سکتا ہے ۔ مجازی آنکھیں انجینئر نگ میں مدد کریں گی اور شاید اسی وجہ سے پلانٹ کو قابل اعتماد بنائیں گی جس سے اس کی کار کردگی مزید اور توانائی کا اخراج کم ہوجائے گا۔

دوسری جانب ڈاکٹر مارٹن اینڈگ ، جو اس منصوبے کے منیجر ہیں انہوں نے (VR)کی خویبوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل ، پلانٹ میں ہونے والے روز مرہ کے معلامات میں بھی مدد کرے گا۔ اس کی مدد سے لمبی چوڑی دستاویزات کو یکجا کر کے ایک نظام کی شکل میں ڈھا لا جاسکتے گا جس سے انجینئر پلانٹ میں موجود کسی بھی پرزے کی معلومات ایک بنٹ دبانے پر حاصل کر سکے گا ۔ انٹر نیٹ پر خبریں کھنگالتے کھناگلتے ایک دلچسپ تحریر ہماری نظر سے گزری، جو بہت زیادہ نئی تو نہیں لیکن ہمارے حسب حال ضرور ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ سانتافی ، نیومیکسیکو(امریکہ ) کی ’’ ہائپریون پاور جنریشن ‘‘نامی کمپنی نے ایسا ایٹمی گھر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اپنی جسامت کے اعتبار سے اتنا مختصر ہے کہ اسے صرف 120مربع گز کے عام سے پلاٹ میں بہ آسانی نصب کیاجاسکتا ہے ۔ اتنے اختصار کے باوجود یہ 25میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے اور 20,000ہزار گھروں کو مسلسل سات سے دس سال تک بجلی فراہم سکتا ہے ۔ ایسے ہر بجلی گھر کی لاگت تقریباً ڈھائی کروڑ ڈالر (موجودہ شرحِ مبادلہ کے حساب سے تقریباً دو ارب روپئے)ہوگی۔

چونکہ یہ مکمل طور پر خود کار و خود مختار ہے، لہٰذا ایک بار تنصیب کے بعد اسے دیکھ بھال اور مرمت کی بھی کم و بیش کو ئی ضرورت نہیں پڑے گی ، اور ساتھ آٹھ سال میں صرف ایک مرتبہ اسے کھولنا پڑے گا تاکہ اس میں تازہ نیوکلیائی انیدھن بھرا جاسکے۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد ہم نے یونہی حساب لگایا کہ اگر ، بالفرضِ محال، ہمارے ملککے سیاستدان نیوکلیائی توانائی سے پرامن استفادے پر سنجیدگی سے توجہ دیں تو دو گھرب (200اَرب)روپئے کی سرمایہ کاری سے اس طرح کے 100ایٹمی بجلی گھر لگائے جاسکتے ہیں اور ان سے لگ بھگ 2,500میگاواٹ بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بہ الفاظ دیگر ، بیس لاکھ گھروں کو روشن رکھا جاسکے گا۔

اگر ایک گھر میں رہنے والوں کی اوسط تعداد صرف پانچ افراد تصور کرلی جائے، تو اس طرح ایک کروڑ افرد کے لیے 7 سال تک بجلی کا بندوبست کیا جاسکتا ہے ۔ مزید باریکی میں اتریں تو پتا چلے گا کہ ایسے کسی منصوبے پر عملدر آمد کے لیے ( جو فی الحال ایک خیالی بات سے بڑھ کر کچھ نہیں ) ، فی گھر کے حساب سے ڈھائی ہزار ڈالر (تقریباً دو لاکھ روپے) لاگت آئے گی ، جو تین ہزار روپے ماہانہ کی شرح سے سرکاری خزانے میں واپس لوٹائی جاسکتی ہے۔

مذکورہ بالا اعداد و شمار کا موازنہ کرائے کے روایتی بجلی گھروں سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر چہ ان پر بھی وہی لاگت آئے گی لیکن اوّل تو وہ صرف پانچ سال کے لیے ہوں گے ، اور دوم ان سے تقریباً 1,600میگاواٹ بجلی ہی بنائی جاسکے گی ، جس کی لاگت وطنِ عزیز کے غریب عوام پر یقینا بجلی بن کر ہی گرے گی ۔

لیکن ہم یہ سب کیوں لکھ رہے ہیں ؟ یقینا ، ہمارے دماغ کی چولیں ڈھیلی ہوگئی ہیں ورنہ سرکاری خزانے پر کم از کم ایک لاکھ روپئے یومیہ (فی وزیر) کاجوجھ بننے کے باوجود کچھ بھی نہ کرنے والے ایک ہزار کے لگ بھگ وفاقی وصوبائی سے خیر کی کوئی امید کیوں رکھتے ؟اگر یہ بات ہماری سرکار بے سرو کار کی سمجھ میں آبھی گئی ، تو سفارتی محاذ پر امریکہ کو یہ باور کرانا بلاشبہ انتہائی مشکل ہوگا کہ ان ایٹمی بجلی گھروں سے صرف بجلی پیدا کی جائے گی ، اور یہ کہ ان سے ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلائو نہیں ہوگا ۔ خیر! جانے دیجئے ہمارے لکھنے یا نہ لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لہٰذا خواہ مخواہ کے لیے دل جانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ آپ تو بس ہماری اس تحریر کو ایک دلچسپ خبر سمجھ کر پڑھئے اور اپنا’’ دل پشوری ‘‘ کیجئے …کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔

نیوکلیائی بیٹری سیل
ہائپر یون کے مطابق ، اس ایٹمی بجلی گھر کو ’’نیوکلیائی بیٹری سیل ‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ یہ مروجہ ایٹمی بجلی گھروں سے خاصا مختلف ہے ۔ سب سے پہلا فرق تو جسامت کا ہے ۔ عام ایٹمی بجلی گھروں کے برعکس ،یہ تقریباً دس فٹ چوڑا ہے جبکہ اس کی لمبائی بھی صرف پندرہ فٹ ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ اسے نصب کرنے کے لیے زمین کے اندر ، مناسب گہرائی میں دفن کیا جائے گا ۔ ساتھ سے دس سال کے دوران جب اس کا نیوکلیائی ایندھن ختم ہوجائے گا تو اسے زمین سے نکال کر ایک بار پھر واپس کمپنی بھجوادیا جائے گا جو ایک بار پھر اسے ’’ ری چارج‘‘ کر کے ( یعنی تازہ نیوکلیائی ایندھن سے لیس کر کے ) متعلقہ مقام پر واپس بھجوادے گی۔

ہائپریون کے مختصر قامت ایٹمی بجلی گھروں کے بارے میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر ، جان ڈیل کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کم سے کم خرچ پر (نیو کلیائی ذرائع سے ) بجلی بنانا چاہتے ہیں ، تاکہ دنیا کے غریب ممالک بھی اس اہم متبادل ذریعہ توانائی سے فیضیاب ہوسکیں ۔

البتہ ، اس ضمن میں ایک وضاحت ضروری ہے ۔ مختصر اور کم خرچ ایٹمی بجلی گھروں کے میدان میں ہائپریون سب سے پہلی یا واحد کمپنی ہرگز نہیں ، بلکہ دنیا بھر میں کئی اور تحقیقی و تجارتی ادارے بھی ایسے ہی ایٹمی بجلی گھر تیار کرنے کی جستجو میں ہیں ۔ سائنسی تحقیق سے ناواقف لوگ (یا وہ افراد جنہیں اس سے سطحی واقفیت ہے )اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سائنسی تحقیق پر سرمایہ کرکاری کرنا بے سود ہے کیونکہ اوّل تو اس سے کوئی خاطر خواہ مالی فوائد نہیں ملتے ، اور اگر ملتے بھی ہیں تو ان کے لیے ایک طویل عرصے تک صبر و تحمل سے انتظار کرنا پڑتا ہے ۔

معذرت کے ساتھ ، ہم اس دلیل کو آدھے سچ سے زیادہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، کیونکہ یہ بات درست ہے کہ تحقیق کے مالی فوائد سے مستفید ہونے میں طویل مدتی صبر تحمل ضروردرکار ہوتا ہے،لیکن ایک بار جب یہ فوائد ملنا شروع ہوتے ہیں اکثر اوقات ہماری توقعات سے بڑھ کر ثابت ہوتے ہیں ۔ ہائپر یون کے جس مختصر ایٹمی بجلی گھر کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں، وہ بھی دراصل تحقیقی ایٹمی ری ایکٹروں کی ایک قسم میں ترمیم کے بعد تیار گیا گیا ہے جسے ’’ ٹریگا‘‘ (TRIGA)کہا جاتا ہے ۔ یہ ایسے تحقیقی ایٹمی ری ایکٹر ہیں جنہیں بہت کم دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت پڑتی ہے۔

ان کے مختلف ڈیزائن کئی امریکی جامعات میں نصب ہیں جن سے وہاں کے طالب علم مستفید ہو رہے ہیں۔ ٹریگاری ایکٹر کم و بیش تمام اقسام میں ایک قدر مشترکہ ہوتی ہے ، ان میں اضافی حرارت کوری ایکٹر کے قلب (کور) سے نکال باہر کرنے ، اور زائد نیوٹرون جذب کر کے وہاں ہونے والے عملِ انشقاق( فشن ری ایکشن) کو قابو میں رکھنے کے لیے کسی دھات کو مائع حالت میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ یعنی ایک پنتھ، دوجاج ۔ ری ایکٹر کے قلب کو ضروری حد تک ٹھنڈا رکھنے والا مادہ ’’ سرد گر ‘‘ (Coolant)جبکہ زائد نیوٹرون جذب کرنے والا ومادہ ’’ اعتدال‘‘ (ماڈریٹر ) کہلاتا ہے ۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ روایتی قسم کے ایٹمی بجلی گھروں میں حرارت کے اخراج اور اضافی الیکڑون جذب کرنے کے لیے الگ الگ مادے استعمال کئے جاتے ہیں، جبکہ ٹریگا میں یہ جدا گانہ کام ایک ہی مادہ کرتا ہے مروجہ ایٹمی گھروں کے مقابلے میں کم تر جسامت اور استعمال میں سہولت کے باوجود ٹریگاری ایکٹر اتنے بڑے ضرور ہوتے ہیں کہ اب بھی ان کی تنصیب ہر کسی ادارے کے بس کی بات نہیں ۔

بجلی بنائیں گے ہم
برسوں سے یہ کوششیں جاری ہیں کہ ان تحقیقی ری ایکٹروں کو مزید مختصر کر کے بجلی بنانے کی غرض سے استعمال کر لیا جائے …اور حالیہ برسوں میں کوششیں بار آور ثابت بھی نے لگی ہیں ۔اس کی ایک مثال ’’ ریپڈایل ‘‘ (Rapid-L)نامی مختصر ایٹمی بجلی گھر ہے جس پر ’’ توشیبا ‘‘ میں کام ہورہا ہے ۔ (جی ہاں ! یہ وہی توشیبا کمپنی ہے جس کے تیار کردہ ٹی وی اور دوسری برقی گھریلو مصنوعات ہمارے ہاں استعمال ہوتی ہیں ۔) ریپڈاَیل میں سردگر (کولنٹ) اور اعتدال گر (ماڈریٹر ) کے طور پر لیتھیم 6کا استعمال ہوتا ہے جو سب سے ہلکے دھاتی عنصر لیتھیم کے قیام پذیر ہم جائوں (Isotopes)میں سے ایک ہے۔

ریپڈایل ہی کی طرز پر امریکی محکمہ توانائی (DoE)کے تحت ’’اسٹار ‘‘ (SSTAR)یعنی ’’اسمال، سِلیڈ، ٹرانسپور ٹیبل آٹو نومس ری ایکٹر ‘‘ تیار کیا جاچکا ہے جو اصولی طور پر ویسا ہی ہے جیسا توشیبا کا ریپِڈرائیڈ (Lead Hydride) بطور سردگر اورا عتدال گر استعمال کیا گیا ہے ۔ ریپڈیل اور اسٹار، دونوں میں کم افزو دہ (Low-\Enriched)یورنیم پر مبنی نیوکلیائی ایندھن استعمال کیا جاتا ہے ۔ان دونوں کے مقابلے میں بہتر ڈیزائن وہ ہے جو 2002ء میں امریکہ محکمہ توانائی ہی کی ایک اور تجربہ گاہ ، لاس الاموس نیشنل لبیارٹری (LANL)کے سائنسداں ، اوٹِس پیٹرسن نے تیار کیا تھا ، اور جسے 2003ء میں دنیا کی بہترین اختراعات میں سے ایک شمار کیا گیا تھا۔

اگرچہ اس ری ایکٹر کا ڈیزائن بھی ’’ ٹریگا ‘‘ ہی سے ماخوذ ہے لیکن یہ ریپڈیال اور اسٹار ، دونوں سے ایک قدم آگے ہے ، اس میں لیڈ ہائیڈرائیڈ کی جگہ مائع یورینیم ہائیڈرائیڈ استعمال کیا گیا ہے جو بیگ وقت تین ذمہ داریاں انجام دیتا ے ،سرد گر اور اعتدال گر ہونے کے ساتھ ساتھ، یہ ری ایکٹر کے لیے ایندھن کام کام بھی کرتا ہے ۔پیٹر سن کے وضع کردہ اس ایٹمی بجلی گھر کا ایک اور اضافی فائدہ یہ ہے کہ اس میں کوئی متحرک پرزہ (Moving Part)نہیں ۔ لہٰذا استعمال کے دوران اسے مرمت اور دیکھ بھال کی بھی ضرورت نہیںپڑتی۔ علاوہ ازیں ، اس میں موجودیورینیم ہائیڈرائیڈ (UH3) کی شکل میں ہوتی ہے ، اتنے کم درجے کی افزودہ ہوتی ہے کہ اس سے ایٹمی ہتھیار بنانایا اسے عکسری مقصد میں استعمال کرنا اگر نا ممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے ۔

یہ ری ایکٹر بطور خاص بیرون ملک تعینات ، امریکی افواج کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ وجہ یہ تھی کہ عراق اور افغانستان جیسے محاذوں کا موسم بہت شدید ہے ، جس سے محفوظ رہنے کے لیے وہاں تعینات امریکی فوجیوں کو خصوصی ایئر کنڈیشنڈ /سینٹر لی ہینڈفیموں کی ہمہ وقت ضرورت رہتی ہے ، جسے پورا کرنے کے لیے روایتی ایندھن کی مسلسل فراہمی بھی ایک کل وقتی درد سری ہے ۔ اپنی مختصر جسامت اور زیر زمین گہرائی میں دفن ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو ایسے کسی ایٹمی ری ایکٹر کی تنصیب خاصی آسان ہوگی، تو دوسری جانب یہ ’’دہشت گردوں ‘‘ کے حملوں سے محفوظ رہتے ہوئے سال ہا سال تک بجلی بناتار ہے گا۔

لیکن ٹیکنالوجی کی بیشتر ایجادات کی طرح ، اس ایٹمی بجلی گھر سے بھی صرف عکسری مقاصد ہی پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ پرامن مقاصد کا حصول بھی ممکن نظر آتا ہے ۔ ارے بھئی ظاہر ہے کہ بجلی صرف کسی خاص ملک کے فوجیوں ہی کی ضرورت تو نہیں ، بلکہ آج یہ ہر ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائپریون پاور جنریشن کا قیام عمل میں لایا گیا، جس نے اس ری یکٹری کی ٹیکنالوجی، ایل اے این ایل سے لائسنس پر حاصل کرلی۔ دریں اثناء ایل اے این ایل میں اوٹِس پیٹر سن کی مدت ملازمت بھی پوری ہوگئی ۔ اور انہوں نے ہائپر یون میں چیف سائنٹسٹ کا عہدہ سنبھال لیا۔

ہائپریون میں رہتے ہوئے انہوں نے اس ری ایکٹر کے ڈیزائن کو مزید بہتر بناتے ہوئے اس قابل کیا کہ یہ تجارتی پیمانے پر تیار کیا جاسکے اور ہر طرح کے حالات میں اسے بہترین تحفظ بھی حاصل رہے۔ مثلا یہ کہ اس کا بیرونی خول نہایت مضبوط بنایا گیا ہے جسے آسانی سے توڑا یا کھولا نہیں جاسکتا ، تیاری کے بعد اسے سر بند (Sealed)حالت میں مطلوبہ مقام تک پہنچایا جائے گا اور انیدھن ختم ہوجانے کے بعد اسی حالت میں واپس ادراے کے مرکز میں (ری چارج کرنے کے لیے ) پہنچادیا جائے گا۔

اس کا یورینیم ہائیڈرائیڈ ایندھن (جو بیک وقت سرد گرد اور اعتدال گر بھی ہے ) ری ایکٹر کے قلب کا درجہ حرارت ایک مخصوص حد سے زیادہ ہونے نہیں دے گا ، اور اگر خدانخواستہ ایسا کبھی ہونے بھی لگا تو ۔ہائپریون کے دعوے کے مطابق ۔ ہائیڈروجن کے ایٹم کیمیائی طور پر یورینیم سے الگ ہوجائیں گے اور نیوکلیائی تعامل روک کر اس کا درجہ حرارت بھی بڑھنے نہیں دیں گے۔

اول تو اس میں موجود، کم افرمودہ یورینیم کسی بھی طرح سے دہشت گردو ں کے کام کی نہیں، حرارت اتنا زیادہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے میں شدید ترین دشورای کا سامنا ہوگا ۔ سردست امریکی محکمہ توانائی میں اس ری ایکٹر کی قدر پیمائی (Evaluation)جاری اور، اگر سب کچھ صحیح وقت پر مکمل ہوگیا تو، یہ نیوکلیائی بیٹری سیل 2013ء تک تجارتی پیمانے پر فروخت کیلئے دنیا بھر میں دستیاب ہوگا ۔ آخر میں ہم صرف اتنا مزید کہنا چاہیں گے کہ سائنس اپنا کام کر دیا ہے ۔ اب یہ اہل سیاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقت کا تقاضا سمجھیں اور توانائی کے پائید ار حل پر سنجیدہ غور رکریں ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.