ملکہ برطانیہ کی بڑھاپے میں نئی مصروفیت

کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کبھی ملکہ برطانیہ کے ہاتھ کی بنی کیچپ بھی کھانے کو ملے گی، اگر نہیں تو ہم بتادیتے ہیں۔ جی ہاں! آ ج کل برطانیہ میں ملکہ کے ہاتھ کی بنی کیچپ منظر عام پر آچکی ہے، جو کھائے وہی انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔

راحیلہ مغل :

ہم کچھ ڈشس کے ساتھ کیچپ کھانا پسند کرتے ہیں ، پھر چاہے فرنچ فرائز ہوں، برگرہو، گوشت کے پکوان یا چائینز کھانے ہمیں ہرڈش کا مزہ بڑھانے کیلئے کیچپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور اگر پھلوں کے ساتھ کیچپ کھانے کی کوئی بہترین ترکیب سامنے آجائے تو یقینا لوگ پھلوں کے ساتھ بھی کیچپ کا استعمال شروع کردیںگے۔ بہت کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کیچپ پسند نہ ہو۔

لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کبھی ملکہ برطانیہ کے ہاتھ کی بنی کیچپ بھی کھانے کو ملے گی، اگر نہیں تو ہم بتادیتے ہیں۔ جی ہاں! آ ج کل برطانیہ میں ملکہ کے ہاتھ کی بنی کیچپ منظر عام پر آچکی ہے، جو کھائے وہی انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔ آئیے اب ہم آپ کو کیچپ کے بارے میں معلومات بھی فراہم کردیتے ہیں۔ کیچپ ٹماٹر سے بنتا ہے اور ٹماٹر ہماری صحت کیلئے فائدے مند ہیں۔ کیچپ شامل کرنے کی وجہ سے بچے اپنا کھانا شوق سے کھالیتے ہیں ،ورنہ انہیںکھانا ختم کروانا کسی مشکل مرحلے سے کم نہیں۔

اس کا استعمال بھی نہایت آسان ہے، صرف فریج سے اس کی بوتل نکالیں اور استعمال کریں۔ یہ کافی مزیدار بھی ہوتا ہے ۔لیکن اب یہ کیچپ انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے کیونکہ اپنی صحت اورغذا کا نہایت خیال رکھنے والی95 سالہ ملکہ برطانیہ نے مارکیٹ میں اپنا تیار کردہ ٹماٹو کیچپ اور برائون سوس متعارف کرادیا ہے تاہم اس کی قیمت مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب برانڈز سے کہیں زیادہ ہے۔

کیچپ اور برائون سوس کی بوتل پر لکھا ہے کہ ایک شاندار گھرانے کا پسندیدہ ٹماٹر سے بھراہوا اور ہلکا مسالے دار یہ کیچپ لذت بخش ہے جبکہ برائون سوس کو کھجور،سیب کے رس اور مسالوں سے ذائقہ دار بنایاگیا ہے۔

ملکہ برطانیہ کی مخصوص ریسپی سے تیار کردہ ٹماٹو کیچپ اور سوس شاہی محل میںفروخت کیلئے دستیاب ہے۔ یہ وہ محل ہے جہاں ملکہ کرسمس کی تعطیلات گزارنا پسند کرتی ہیں۔ملکہ الزبتھ دوم کی تیار کردہ295 گرام کیچپ کی قیمت6.99 ہے جبکہ سب سے مقبول برانڈ کی قیمت460گرام کیلئے صرف60 ہے۔

قیمتوں میںکافی فرق کے باوجود شہری ملکہ برطانیہ بنائے گئے برانڈز کو خریدنے میںدلچسپی لے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کھانے کی میز یا کچن میں کیچپ اور سوس کی ایسی بوتل کی موجودگی ہی قابل فخر ہے جس پر شاہی خاندان کی مہر لگی ہو۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق95 سالہ ملکہ برطانیہ کے متعارف کروائے گئے ٹماٹو کیچپ اور برائون سوس کی قیمت دوسرے کیچپ کے مقابلے میںکہیں زیادہ ہے۔ ملکہ الزبتھ کے کیچپ کی بوتل پر ’’شاندار گھرانے کا ٹماٹر سے بھراہوا ہلکا مسالےسوس دار کیچپ لذت بخش ہے‘‘ لکھا ہوا ہے۔

ملکہ برطانیہ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیںجو عمر کے اس حصہ میں بھی چاق وچوبند ہیں۔ ہر بڑے چھوٹے تہوار پر شاہی محل کی تقریبات میںغیر ملکی سربراہان کو شرف ملاقات بخشتے ہوئے وہ ہشاش بشاش نظرآتی ہیں بناکسی ملازم کے چلتی پھرتی ہیں۔ اب ان کی ایک نئی خوبی بھی سامنے آئی ہے وہ ایک اچھی شیف بھی ہیں۔ امورخانہ داری کی بھی ماہر ہیں۔ کچن کے لوازمات اور کھانا بنانے کی بھی ماہر ہیں۔

جبھی تو انہوں نے اپنی ریسپی سے تیار کردہ ٹماٹو کیچپ اور برائون سوس مارکیٹ میںمتعارف کرائی ہیں جو گرچہ دیگر برانڈز کی نسبت زیادہ ہے۔ مگر یہ بھی دیکھیں یہ ٹماٹر کی چٹنی اور برائون سوس کسی عام باورچی کی نہیں ملکہ برطانیہ نے اپنے مخصوص طریقے سے بنائی ہے۔ قیمتوں میںکافی حد تک فرق ہونے کے باوجود شہری ملکہ برطانیہ کے بنائے گئے برانڈ کو خریدنے میںخاصی دلچسپی لے رہے ہیں اور کیچپ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہورہا ہے۔

اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ کھانے کی میز یاکچن میںکیچپ اورسوس کی ایسی بوتل کی موجودگی لوگوں کیلئے قابل فخر ہے جس پر شاہی خاندان کی مہر لگی ہو۔ برطانوی شاہی خاندان کے شیف ’’ڈرین میک گریڈی‘‘ جنہوں نے کئی سال سے شاہی خاندان کیلئے کھانا پکایا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ملکہ محل میں بننے والے کھانوں پر خصوصی توجہ دیتی ہیں کھانے میں کیا بنے گا اور کیا نہیں اس کا فیصلہ بھی وہی کرتی ہیں، انہیں کا فیصلہ ہے کہ محل میں پاستا اور کیکڑا نہیں بن سکتا یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں میگھن کو پاستا کھانے سے روک دیاگیا۔

اس کے علاوہ خصوصی مواقع اور خاص دعوتوں کے علاوہ نشاستہ دار کھانے شاہی محل میں نہیں بنتے اور اس بات کا فیصلہ بھی ملکہ الزبتھ نے کیا ہے۔ ڈرین میک گریڈی نے مزید بتایا کہ شاہی محل کی روزانہ کے کھانوں کی فہرست میں مختلف طریقوں سے بنائی گئی مچھلی، چکن اور دو طرح کی سبزیاں شامل ہیں جبکہ سلاد اور پھلوں کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ ملکہ کو اپنی صحت کی بہت فکر ہے اوروہ ایسی خوراک کھاتی ہیں جس سے ہمیشہ صحت مند رہ سکیں ۔ملکہ کو مختلف تقریبات میں جانا پڑتا ہے اوروہاں کچھ نا کچھ کھا نا بھی پڑتا ہے۔ ایسے میںوہ سینڈوچز کھانا پسند کرتی ہیں۔

ملکہ خاص طور پر پاستا اور آلو سے پرہیز کرتی ہیں۔ وہ تین وقت پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے چار بار تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانا کھاتی ہیں اور شام کی چائے کے وقت بھی ہلکے پھلکے اسنیکس کھاتی ہیں۔ ملکہ کا پسندیدہ ناشتہ سیریل کا ایک پیالہ، ایک ابلا انڈا اور گرما گرم چائے پر مشتمل ہوتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دن میں تین کے بجائے چار بار اعتدال میںکھانا وزن کم رکھتا ہے۔ ملکہ کی چائے کی پسند بھی کافی انوکھی ہے وہEarl Grey پینا پسند کرتی ہیں جو کولیسٹرول کم کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر، کینسر کے خدشات اوروزن کو بھی کم رکھنے میں مددگار ہے۔

ملکہ کے تمام عمر اسمارٹ رہنے کاایک راز یہ بھی ہے کہ وہ دن بھر میں ایک بار مچھلی ضرور کھاتی ہیں۔ مچھلی وہ شام کی چائے یا دن یا رات کے کھانے میںکسی بھی وقت لے لیتی ہیں۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہفتے میں دو بار مچھلی کھاناصحت کیلئے بے انتہا مفید ہے کیونکہ مچھلی میںاومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ڈی موجود ہوتاہے۔ اس کے علاوہ ملکہ چاکلیٹ کی بے حد شوقین ہیں۔ لیکن وہ اس معاملے میں بھی اعتدال کا دامن نہیں چھوڑتیں ۔ وہ چاکلیٹ بسکٹ کیک، چاکلیٹ پائی ہفتے میں ایک بار ضرور کھاتی ہیں۔ کم مقدار میں کھانے کے سبب یہ چیزیں ملکہ کو نقصان نہیںدیتیں اور ان کا موڈ بھی خوشگوار ہوجاتا ہے۔

پندرہ سال تک شاہی شیف رہنے والے ڈرین گراڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن برسوںمیں انہوں نے بکنگھم پیلیس میں کوکنگ کی ان میں ملکہ نے کبھی پیزا نہیںکھایا۔ ڈرین میک گراڈی15 سال تک شاہی خاندان کے خانساماں رہے ہیں جن میںسے چار سال وہ شہزادی ڈیانا اور شہزادوں ولیم اور ہیری کے بچپن کے دور میں رہے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان برسوں میں جب بکنگھم پیلیس میں کوکنگ کرتا تھا ملکہ نے کبھی پیزا نہیں کھایا تھا۔ ڈیرن میک گراڈی کا کہناتھاانہوں نے اس وقت تک پیزا بنانا شروع نہیں کیا جب تک وہ کین سنگٹن عمل نہیں منتقل ہوگئے جہاں یہ لگاتار مینو کا حصہ ہوتاتھا۔

58 سالہ میک گراڈی کہتے ہیں ’’ میں ولیم کیلئے روز پیزا بناتا تھا۔ ولیم کو ہندوستانی کھانا پسند تھا اور پیزاان دونوں کو اکٹھا کردیتا ہے۔ باوجود اس کے کہ ملکہ کو یہ اطالوی کھانا پسند نہیں تھا میک گراڈی کا کہنا ہے کہ ملکہ نے کبھی کھانا باورچی خانے واپس نہیں بھیجا۔ شیف ڈیرن نے انکشاف کیا کہ بجائے کھانوں کے بارے میں رائے دینے کے ملکہ اپنی پسند کا اظہار ایک نوٹ لکھ کر کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکہ کے میز پر ایک چھوٹی سے نوٹ بک تھی، جس میںوہ صر ف لکھ دیتی تھیں کہ مجھے یہ دوبارہ نہیں چاہیے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button