ملک میں 1903ء میں 5 تا 10 سال عمر کی 34 ہزار ہندو بیوائیں تھیں

بی جے پی کی معطل شدہ ترجمان نپور شرما نے 1400 سال پہلے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کم عمری میں شادی پر تنقید کے دوران ہندوستان اور ہندوستان کی حقیقت کو فراموش کردیا۔

نئی دہلی: بی جے پی کی معطل شدہ ترجمان نپور شرما نے 1400 سال پہلے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کم عمری میں شادی پر تنقید کے دوران ہندوستان اور ہندوستان کی حقیقت کو فراموش کردیا۔

اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بچپن کی شادیوں کی اجازت دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ حالیہ عرصہ تک دنیا کے کئی حصوں میں بچپن کی شادی کا رواج رہا ہے۔ خود ہندوستان میں ”رضامندی / سن بلوغ کی عمر“ سے متعلق قانون بمشکل 120 سال پہلے 1891ء میں وضع کیا گیا۔

1889ء میں ایک 10 سالہ بنگالی لڑکی’فلمونی داسی‘ کی اس کے 35 سالہ شوہر ہری موہن مائتی کی جانب سے جبری مباشرت کے سبب موت کے بعد انگریز حکومت نے اس معاملہ میں مداخلت کی تھی۔ ایک بنگالی اخبار بونگو باشی نے جس کے مدیر جوگیندر چندر بوس تھے، اسی سال ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں ’رضامندی / سن بلوغ کی عمر‘ قانون کی مخالفت کی گئی تھی۔

اس مضمون سے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی قانون کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔ حالات اتنے ابتر ہوگئے تھے کہ انگریز حکومت کو بوس کے خلاف غداری کے الزامات عائد کرنے پڑے کیوں کہ اس نے تاجِ برطانیہ سے غداری کی تھی۔ دراصل یہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 124A کے تحت غداری کے الزام میں درج کیا گیا پہلا کیس تھا بعد ِ ازاں اس نے معافی مانگ لی تھی اور اسے ضمانت مل گئی تھی۔

رضامندی / سن بلوغ کی عمر قانون کی منظوری کے 10 سال بعد ایک اور بنگالی میگزین ”پروباشی“ نے 1903ء میں بنگالی ہندو بیواؤں کی عمر سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں یہ چونکا دینے والی معلومات دی گئی تھیں کہ شادی کے ایک سال کے اندر بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 433، ایک تا دو سال کے اندر بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 576، دو تا تین سال کے اندر بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 651، تین تا چار سال کے اندر بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 1756، چار تا پانچ سال کے دوران بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 38,615، دس سال کے اندر بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 34,705، 11 تا 15 سال کے دوران بیوہ ہونے والیوں کی تعداد 75,590، 16 تا 20 سال کے دوران بیوہ ہونے والی خواتین کی تعداد 142871 تھی۔

اُدھ بہو ٹٹ وودھریتا سمرتی نے خواتین کے لیے شادی کی بہترین عمر 7 سال قرار دی ہے۔ اودھ بہوٹٹ وودھریتا یاما بچنا نے 12 سال سے زیادہ عمر کی غیرشادی شدہ لڑکیوں کے والد کے خلاف احکامجاری کیے تھے اور انہیں گنہگار اور مستوجب سزا قرار دیا تھا۔ کشیپ کامنٹری میں بھی کہا گیا ہے کہ کوئی برہمن 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا۔ جیموتا بہانہ نے اپنی ”دیا بھاگا“ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکیوں میں عنفوان شباب کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ان کی شادی کردینی چاہیے۔

یاما سمہیتا اور ویاس سمہیتا نے اس بات کو دہرایا کہ لڑکیوں کو بالغ ہونے سے پہلے بیاہ دینا چاہئے بصورتِ دیگر ان کے خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ جدید ہندوستانی مذہبی کتب کے مطابق لڑکیوں کے لیے 8، 9 اور 10 سال کی عمر شادی کے لیے بہترین عمر ہے۔ آٹھ سالہ لڑکیوں کو ”گوری“ اور نو سالہ لڑکیوں کو ’روہنی‘ کہا جاتا ہے۔ رامائن کے چند نسخوں میں کہا گیا ہے کہ رام نے جب سیتا سے شادی کی تھی تو ان کی عمر 13 سال جبکہ سیتا کی عمر 6 سال تھی۔

دنیا بھر میں بچپن کی شادی کو ایک لعنت سمجھا جاتا ہے اور ہندوستان میں اس کا وجود ہنوز باقی ہے06-2005 میں یونیسف نے تخمینہ کیا تھا کہ ہندوستانی خواتین کی نصف آبادی (47 فیصد) کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کردی گئی تھی۔ 16-2015 میں چوتھے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس۔ 4) میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ زائد از 25 فیصد خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کردی گئی، اسی لیے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو 1400 سال بعد ایک ایسی دلہن کا انتخاب کرنے پر نشانہ تنقید بنانا غلط ہے جو اکیسویں صدی کے معیار کے مطابق کم عمر تھیں۔

مذہبی کتب سے اکثر اس وقت کے سماجی و سیاسی حالات کی عکاسی ہوتی ہے اور اسی لیے قدیم مذہبی طریقوں پر تبصرہ دورِ حاضر کے سیاسی و سماجی بیانیوں پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ یہ امر انتہائی بدبختانہ ہے کہ نپور شرما کا معلومات سے عاری تبصرہ مہنگائی، روزگار کی پیداوار، آفاقی صحت و تعلیم، لاقانونیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی، جنگ اور امن کے خطرہ جیسے مسائل پر غالب آگیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button