’’ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘

ہم نے زیر نظر مضمون کا آغازفلم ’’ بمبئی ٹو گوا‘‘ کے ذکر سے کیا تھا...غور کیا جائے تو کل کی بمبئی ٹو گوا اور آج کی ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ دو مختلف کہانیاں ہونے کے باوجود خاصی مماثلت رکھتی ہیں ۔فلم’’ بمبئی ٹو گوا‘‘ میںہیروئن مالا( ارونا ایرانی) ایک قتل کی چشم دیدگواہ ہوتی ہے اور قاتل سے بچنے کے لیے وہ گوا جانے والی بس میں سوارہوجاتی ہے،جب کہ ’’ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ کی بس میں جو اراکین اسمبلی سوار ہوئے ہیں وہ الزامات سے بچنے کے لیے سوار ہوئے ہیں ۔

حمید عادل

1972میں فلم ’’ بمبئی ٹو گوا‘‘ ریلیز ہوئی تھی اور زبردست ہٹ ہوئی تھی … 50سال بعد اب ایک سیاسی فلم ریلیز ہوئی ہے ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ ان پچاس سالوں میں بمبئی’’ ممبئی‘‘ بن چکا ہے جب کہ گوا ’’ گوہاٹی‘‘ کا روپ دھار چکا ہے ۔’’بمبئی ٹو گوا‘‘ میں ڈرائیور سے زیادہ اہم رول کنڈکٹر یعنی کنگ آف کامیڈی محمود کا تھا،اسی طرح ’’ممبئی ٹو گوہاٹی ‘‘ سفر میں بھی کنڈکٹر (ایکناتھ شنڈے )کا رول ڈرائیور ( بی جے پی) سے زیادہ پر اثرمعلوم ہورہا ہے…’’ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ بس کے کنڈکٹر ایکناتھ شنڈے کا کہنا ہے کہ آج شیو سینا وہ شیو سینا نہیں جو کبھی بال ٹھاکرے کی ہوا کرتی تھی، لہٰذا انہوں نے بغاوت کرڈالی …جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ہندوتوا سے پیار ہے اور نہ ہی بالا صاحب ٹھاکرے سے عقیدت ، وہ تو ایسے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ لے کر چلے ہیں جن پر کرپشن کے بے شمارالزامات عائد ہیں ۔کچھ دن قبل ایک خبر شائع ہوئی تھی کہ مہاراشٹرا کے 27وزرا اور 172ارکان اسمبلی کے خلاف سنگین الزامات عائد ہیں ،ان میں سے چھ شرفا ایسے بھی ہیں جن پر قتل ، اقدام قتل،اغوا اور دھمکانے کے الزامات ہیں ۔ایک خبر یہ بھی آئی تھی کہ288کے منجملہ 176ارکان اسمبلی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ان میں بلا لحاظ سیاسی حدبندی سبھی ملوث ہیں ۔شیو سینا کے 56 ارکان اسمبلی کے منجملہ 31پر کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ بی جے پی کے105ارکان اسمبلی کے منجملہ 65ارکان اسمبلی پر الزامات عائد ہیں ۔کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود بی جے پی ،محض پارٹی نہیں ایک ایسی بہتی گنگا ہے کہ جس میںہاتھ دھونے والا راتوں رات کروڑپتی اور ڈبکی لگانے والا پاپی ،اچانک سادھو بن جاتا ہے ۔ ایکناتھ شنڈے کے ساتھ جو اراکین اسمبلی ہیں، وہ سنگین الزامات کی زد میںہیں اور جنہیں کہنے والے ’’ چوروں کی بارات‘‘کہہ رہے ہیں جو اپنی صورت چھپا کر پہلے سورت پہنچے اور پھر رات کے اندھیرے میں گوہاٹی پہنچ گئے ۔کسی بی جے پی نیتا نے باغیوں سے متعلق کہا کہ گوہاٹی پہنچنے والے اراکین اسمبلی اغوا نہیں بھگوا ہوئے ہیں اورچمن بیگ کہتے ہیں ’’بھگوا نہیں بھگوڑے ہوئے ہیں ….‘‘
مہاراشٹرا ایک بڑی ریاست ہے، رقبے کے لحاظ سے تو ہے ہی ،معاشی اعتبار سے بھی مہاراشٹرا ملک کی سب سے طاقتور ریاست ہے ، اسی وجہ سے یہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے کیوںکہ ملک کا معاشی دارالحکومت ممبئی یہاں موجود ہے۔ فلم انڈسٹری بالی ووڈ کے علاوہ یہاں ملک کی کئی بڑی انڈسٹریز بھی موجود ہیں۔اس ریاست میں پیش آنے والے واقعات کا عام طور پر پورے ملک کی سیاست پر اثر پڑتا ہے۔چنانچہ بی جے پی کسی نہ کسی طرح مہاراشٹرا کو ہتھیانا چاہتی ہے۔’’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ‘‘ کے مصداق چھپ چھپ کر وہ ایکناتھ شنڈے کی پیٹھ تھپتھپارہی ہے ، خود ایکناتھ شنڈے نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ بہت بڑی سیاسی طاقت ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ شنڈے بی جے پی کا نام چھپا رہے ہیں یا چھپا کر بتا رہے ہیں ۔ہمیں تووہ انتہا درجے کے مورکھ معلوم ہوتے ہیں۔اس سارے معاملے میں بی جے پی کا کردار بڑا دلچسپ ہے ،وہ بڑی معصومیت سے کہتی ہے کہ مہاراشٹرا کا سیاسی بحران شیو سینا کا اندرونی معاملہ ہے ۔جبکہ آسام کے وزیراعلیٰ سے جب باغی اراکین اسمبلی سے متعلق پوچھاگیا تو ان کا جواب تھا ’’ مجھے کچھ پتانہیں کون آیا ہے!‘‘ جب کہ باغیوں کو جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے، وہاں ان کے آنے سے ایک گھنٹہ قبل وہ خودپہنچتے ہیں ، ہوٹل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں تاکہ اپنے خاص مہمانوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسا دورہ تو انہوں نے ان اضلاع کا بھی نہیں کیا ہوگا جو سیلاب کی زد میں ہیں اور سو سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی کے صدر چندراکانت پٹیل جو ہر ہفتے حکومت گر جانے کی پیشن گوئی کیاکرتے تھے، اس معاملے پر بالکل خاموش ہوگئے۔یہ سارے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی ‘‘ بغاوت کا ریموٹ کنٹرول بی جے پی کے ہاتھ میں ہے…اس کے باوجودبی جے پی بطور خاص آسام کے وزیراعلیٰ ایسا جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ سفید جھوٹ بھی شرما جائے،بے شرمی کی بھی حد ہوتی ہے صاحب …تن من دھن سے باغیوں کی آو بھگت آپ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ مجھے کچھ پتا نہیں !
ادھر ادھو ٹھاکرے سے سوال کیا جارہا ہے کہ آپ کیسے پارٹی صدر ہیں،آپ کی ناک کے نیچے بغاوت کی تیاریاں ہوتی رہیں اور آپ اس سے لاعلم رہے … بیچارے ادھو ٹھاکرے یہ کہتے نظر آئے کہ’’ شرد پوار مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن میری ہی پارٹی کے لوگ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے…‘‘حالانکہ بغاوت کی بو قانون ساز کونسل الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد آنا شروع ہوگئی تھی جب شیو سینا کے باغیوں نے بی جے پی کا ساتھ دیا تھا۔یعنی ’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ‘‘ تھے …وقت کی مناسبت سے وہ چاہیں تو اس فلمی نغمے سے اپنا غم ہلکا کرسکتے ہیں :
دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے
ابتدا میں ادھوٹھاکرے استعفیٰ کے لیے تک تیار ہوگئے تھے کہ کوئی رکن اسمبلی ان کے پاس آئے اور کہے کہ میں(ادھو ٹھاکرے) وزیراعلیٰ یاپارٹی صدر بنے رہنے کے لائق نہیں تو میں دونوں عہدوں سے سبکدوش ہوجاوں گا…لیکن اب ان کا سر تال دونوں بدل رہے ہیں، وہ اپنے طورپر بتارہے ہیں کہ ’’ ہم کسی سے کم نہیں ‘‘ چنانچہ جب ادھو سرکاری رہائش گاہ سے اپنے گھر جانے کے لیے روانہ ہوئے تو شیو سینا کے سینکڑوں کارکن بارش کے باوجود ان کو حمایت کا یقین دلانے کے لیے موجود تھے۔ ان میں سے چند سسکیاں لے لے کر رو رہے تھے جب کہ باخبر ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے کا سرکاری رہائش گاہ سے نکلنے کا مقصد سفر کے دوران اپنی سیاسی طاقت دکھانا تھا۔
ایکناتھ شنڈے جو کبھی آٹو چلایا کرتے تھے آج وہ شیو سینا چلا رہے ہیں ،کہتے ہیں کہ ان کی کروڑوں روپیوں کی جائیدادیں ہیں۔آخر یہ سب کہاں سے آیا؟ ایکناتھ شنڈے کا بی جے پی والی ریاست گجرات پہنچنا اور پھر وہاں سے ایک اور بی جے پی والی ریاست آسام پہنچنا ،کس سیاسی جماعت کی طرف جھکاو کااشارہ کر رہا ہے ، یہ صاف طورپر واضح ہے ۔اب سنا یہ جارہاہے ایکناتھ شنڈے اینڈ پارٹی گوہاٹی سے گوا پہنچے گی … گوا بھی توبی جے پی کی ریاست ہے ۔ممبئی سے ہزاروں میل دور باغیوں کو رکھنے کی یہی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ آسانی سے شیو سینا میں واپسی نہ کرسکیں ۔یاد رہے کہ ان میں سے دو ارکان اسمبلی مہاراشٹرا واپس بھی لوٹے جہاں ایک نے الزام عائد کیا کہ ان کوزبردستی سورت لے جایا گیا اور احتجاج پر ان کو ایک ہسپتال میں داخل کر دیا گیا جبکہ دوسرے رکن اسمبلی نے کہا کہ ان کو ایکناتھ شنڈے کے حامیوں نے گمراہ کر دیا تھا اور بہانے سے ان کو گجرات لے جایا گیا ،جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔
باغی ارکان کہہ رہے ہیں کہ شیو سیناہندو توا سے منحرف ہوگئی ،چنانچہ ان کا ضمیر جاگا اور انہوں نے بغاوت کر ڈالی …نام نہاد سیاست دان بے ضمیر ہوتے ہیں لیکن حال ہی میں ہمیں پتا چلا کہ ان کا بھی ضمیر ہوتا ہے اور یہ اس وقت جاگتا ہے جب ان کا اپنا کوئی مفاد ہوتا ہے ۔بال ٹھاکرے والی شیو سینا کا باغی ارکان جو حوالہ دے رہے ہیں ، کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ خود بال ٹھاکرے نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمن نہیںہیں…انہوں نے کہا تھا ’’ جب میں ایک اخبار میں کارٹون بنایا کرتا تھا تومیرے قریب ترین دوست مسلمان تھے اور میں بقر عید کے دن ان کے ہاں جا کر بھنی ہوئی رانیں کھایا کرتا تھا۔‘‘ … جاوید میاں داد کے ساتھ بال ٹھاکرے کی دوستی کے قصے بھی بڑے مشہور ہیں۔اگرشیو سینا کے ابتدائی دنوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتا چلتا ہے وہ پہلے ممبئی کے مراٹھی بولنے والوں کی جماعت بن کر ابھری لیکن جیسے جیسے اس کا مقامی ووٹ بینک کم ہوتا گیا، شیو سینا نے اپنی شناخت ایک ایسی جماعت کے طور پر ڈھال لی جو ہندو مفادات کا تحفظ کرتی ہے…
ہم نے زیر نظر مضمون کا آغازفلم ’’ بمبئی ٹو گوا‘‘ کے ذکر سے کیا تھا…غور کیا جائے تو کل کی بمبئی ٹو گوا اور آج کی ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ دو مختلف کہانیاں ہونے کے باوجود خاصی مماثلت رکھتی ہیں ۔فلم’’ بمبئی ٹو گوا‘‘ میںہیروئن مالا( ارونا ایرانی) ایک قتل کی چشم دیدگواہ ہوتی ہے اور قاتل سے بچنے کے لیے وہ گوا جانے والی بس میں سوارہوجاتی ہے،جب کہ ’’ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ کی بس میں جو اراکین اسمبلی سوار ہوئے ہیں وہ الزامات سے بچنے کے لیے سوار ہوئے ہیں ۔ بس میںروی کمار (ہیرو امیتابھ بچن) مالا(ہیروئن ارونا ایرانی) کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ،اسی طرح سنجے راوت باغیوں کو واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں ، گویا وہ آج کے ’’امتیابھ بچن ‘‘ٹھہرے …سنجے راوت اسی وقت اپنی کوششوں میں کامیاب ہوں گے جب 35یا 40 ’’ارونا ایرانیاں‘‘( ارکان اسمبلی) جو خودکو بچانے ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ بس میں سوار ہوگئی ہیں، سنجے راوت پر بھروسہ کریں ،ورنہ سنجے راوت نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ ، جس نے بھی بغاوت کی وہ دوبارہ اسمبلی میں نظر نہیں آیا، چھگن بھوجبل نارائین رانے اس کی مثالیں ہیں …
بمبئی ٹو گوا ایک مکمل تفریحی فلم تھی، جس کے مختلف اور منفردکردار تھے جو اپنی حرکتوں سے شائقین فلم کو لوٹ پوٹ کردیتے ہیں لیکن ’’ممبئی ٹو گوہاٹی ‘‘میں ایسے کردار سوار ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اب جمہوری اقدار کی پامالی طے ہے ۔ ’’ ممبئی ٹو گوہاٹی‘‘ کے مسافرین کے تعلق سے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بڑا زبردست شگوفہ چھوڑا کہ اراکین اسمبلی کو سیلاب زدہ آسام کیوں بھیجا گیا؟انہیں بنگال بھیجیں۔ ہم ان کی اچھی مہمان نوازی کریں گے۔ ممتا بنرجی نے مزیدکہا: ’’بی جے پی حکومت کی طرف سے جمہوریت کو مکمل طور پر بلڈوز کیا جا رہا ہے۔‘‘
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button