منشیات‘ مہلک مرض

انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا گیا ہے ، ان میں ایک عقل و دانائی بھی ہے ، یہی عقل ہے جس نے اس کے کمزور ہاتھوں میں پوری کائنات کو مسخر کر رکھا ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے اللہ نے اس کو دنیا میں خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے ,منشیات کی عادت اور نوجوان نسل منشیات کا مسئلہ دنیا کو درپیش چیلنجز میں سے اہم ترین ہے ۔

ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد

انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا گیا ہے ، ان میں ایک عقل و دانائی بھی ہے ، یہی عقل ہے جس نے اس کے کمزور ہاتھوں میں پوری کائنات کو مسخر کر رکھا ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے اللہ نے اس کو دنیا میں خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے ,منشیات کی عادت اور نوجوان نسل منشیات کا مسئلہ دنیا کو درپیش چیلنجز میں سے اہم ترین ہے ۔

یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو در پیش ہے اور اس کے سد باب کیلئے ہمہ جہت کاوشوں کی ضرورت رہے گی ، منشیات کی عادت نہ صرف عادی افراد کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے معاشرے کا تانا بانا بھی بکھر جاتا ہے ۔ منشیات کے عادی افراد کے دماغ ، جسم اور روح پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ پریشان کن صورت حال یہ ہے کہ منشیات کی عادت پوری میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ منشیات اور نشہ آور ادویات کے عادی ہورہے ہیں ۔

منشیات بہت مہنگی بھی ہیں ۔اس عادت کے سادہ سے اثرات میں جسمانی خارش اور قبل از وقت موت بھی ہو سکتی ہے ، دوسری طرف مضر اثرات سے متاثرہ فردکوزندہ رہنے کے لئے منشیات پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ نشے کی عادت ایک سنگین مسئلہ ہے حتی کہ اگر عادی فردنشہ آور ادویات بھی استعمال کر رہا ہو پھر بھی مضر اثرات انتہائی نقصان دہ ہو سکتے ہیں ۔ منشیات کی عادت کس طرح افراد اور معاشرے کو نقصان پہنچا رہی ہے . جو شخص منشیات استعمال کر رہا ہو اس کی طبیعت میں کچھ خاص تبد یلیاں رونما ہو جاتی ہیں ۔

اسی لئے اسلام میں عقل کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، قرآن مجید نے بے شمار مواقع پر مسلمانوں کو تدبر اور تفکر کی دعوت دی ہے ، تدبر اور تفکر کی حقیقت کیا ہے ؟ یہی کہ انسان جن چیزوں کا مشاہدہ کرے اور جو کچھ سنے اورجانے ، عقل کو استعمال کر کے اس میں غور و فکر کرے اور انجانی حقیقتوں اور ان دیکھی سچائیوں کو جاننے اور سمجھنے کی سعی کرے اسی لئے قانون اسلامی کے ماہرین اور فلاسفہ نے لکھا ہے کہ شریعت کے تمام احکام بنیادی طور پر پانچ مقاصد پر مبنی ہیں ، دین کی حفاظت ، جان کی حفاظت ، نسل کی حفاظت ، مال کی حفاظت اور عقل کی حفاظت ، گویا عقل اور فکر و نظر کی قوت کو برقرار رکھنا اور اسے خلل اور نقصان سے محفوظ رکھنا اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے ۔چنانچہ اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور جن سے منع فرمایا گیا ہے ، ان میں ایک نشہ کا استعمال بھی ہے ، قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ اس کو حرام بلکہ نا پاک قرار دیا ہے:

يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون۔ اے ایمان والو ! بیشک شراب اور جوا اور ( عبادت کے لئے ) نصب کئے گئے بت اور ( قسمت معلوم کرنے کے لئے ) فال کے تیر ( سب ) ناپاک شیطانی کام ہیں ۔ سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ (المائدة : 90 ) کیونکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق و کردار ہے ، نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب کر تی ہے اور روحانی اور باطنی ناپاکی ظاہری ناپاکی سے بھی زیادہ انسان کے لئے مضر ہے ، احادیث میں بھی اس کی بڑی سخت وعید آئی ہے اور بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری صفائی اوروضاحت کے ساتھ اس کے حرام اور گناہ ہوئے کو بنایا ہے ، آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ اور چیز حرام ہے ۔

( بخاری ) حضرت جابر بن عبد اللہ سے آپؐ کا ارشاد مروی ہے کہ جس شے کی زیادہ مقدار نشہ کا باعث ہو ، اس کی کم مقدار بھی حرام ہے ۔ ( ترمذی ) یہ نہایت اہم بات ہے کیونکہ عام طور ںشہ کی عادت اسی طرح ہوتی ہے کہ معمولی مقدار سے انسان شروع کرتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ زہر امیر انجکشن کے بغیر اس کی تسکین نہیں ہوتی نشہ ایک ایسا لفظ ہے جس کے زبان پر آتے ہی اس کی خرابیاں نگاہوں کے سامنے رقص کرنے لگتی ہیں ، اصل میں اس کی خرابیاں واضح ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک صالح و صحت مند معاشرہ اسے ہرگز قبول نہیں کرتا۔

منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل ناامید ہو چکے ہیں ۔ ہمارے نوجوان اکثر و بیشتر معاشرتی ردعمل اور نامناسب رہنمائی کی وجہ سے نشے جیسی لعنت کو اپنا لیتے ہیں ۔ آج ہماری نوجوان نسل منشیات ، شراب ، جوے اور دیگر علتوں میں مبتلا ہو کر نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ اپنے خاندان والوں کے لیے بھی اذیت اور ذلت و رسوائی کا سبب بن رہی ہے ۔ ملک و قوم کی ترقی اور مستقبل کے ضامن یہ نوجوان جرائم پیشہ ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ نشہ جسم کے ساتھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی سلب کر کے رکھ دیتا ہے ۔

آج اگر دنیا واقعتا منشیات کی گرفت سے آزاد ہونا چاہتی ہے تو اسے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے راستے ہیں جنھیں اپنا کر اس دنیا کو منشیات کے چنگل سے آزادی دلائی جاسکتی ہے ۔ دنیا سے اس سنگین و خطرناک لعنت کے خاتمے کا واحد ذریعہ اسلام ہے ۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس میں منشیات کے قلع کو قمع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے ۔ اسلام نے اس لعنت سے سماج کے تحفظ کے لیے جو قوانین متعین ہیں وہ اس قدر جامع ہیں کہ ان اصولوں پر کاربند ہوجانے کے بعد منشیات کے لجس وجود سے زمین پاک ہو سکتی ہے ۔

دنیا میں سوائے اسلام کے دوسرا کوئی مذہب ایسا نظر نہیں آتا جس میں نشے کے تمام ذرائع پر ایسا قدغن لگایا گیا ہو جیسا کہ اسلام نے لگایا ہے ۔ اسلام نے اسے ام الخبائث کا نام دیا یعنی تمام جرائم کی ماں کا نام دے کر اس کے جملہ پوشیدہ عیوب و نقائص بیان کردیے ۔ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے اس کو پر لحاظ سے ممنوع قرار دیا حتی کہ ایک شراب ہی نہیں بلکہ جملہ نشہ اور اشیاء کو حرام فرما کر روئے زمین سے منشیات کا ہی قص پاک کردیا ۔ ایک انگریز قانون داں بنتام لکھتا ہے کہ : اسلامی شریعت کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں شراب حرام ہے ۔

ہم نے دیکھا ہے کہ جب افریقہ کے لوگوں نے شراب کا استعمال کرنا شروع کیا تو ان کی نسلوں میں پاگل پن سرایت کرنے لگا ۔ یورپ کے جن لوگوں کو اس کا چسکا لگ گیا ان کی بھی عقلوں میں تغیر آنے لگا ۔ یہ تو ایک نشہ آور مشروب کا ذکر ہے جس کی ممانعت نے اہل دنیا پر اسلامی قوانین کی عظمت کا نقش مرتب کردیا جب حرمت نشہ کے مکمل قوانین کا جائزہ لیا جائے کا تو دنیا کے پاس سوائے اسلام کے کوئی جائے پناہ نہ رہ جائے گی۔سڑکو ں اور پتھروں پر بکھرے ہوئے منشیات کے عادی افراد کے حلیے اور ٹھکانوں سے تو اکثر لوگ باخبر اور واقف ہیں اور ان پر نفرین بھی بھیجتے ہیں لیکن کیا کیا جائے شہر کے پوش علاقوں اور اعلی درس گاہوں میں زیرتعلیم ان نوجوانوں کا جو انتہائی تیزی سے نشے کو فیشن کے نام پراپنا رہے ہیں ۔ صد حیف کہ جب تک ان بچوں کے والدین پر یہ کربناک حقیقت آشکار ہوتی ہے تب تک ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا ۔

اس وقت دنیا بھر میں 15 سے 64 سال کی عمر کے 35 کروڑ لوگ کسی نہ کسی نشے میں مبتلا ہیں ۔ دنیا کی تقریبا سات ارب آبادی میں سے ساڑھے چار ارب افراد کی عمریں 15 سے 64 سال کے درمیان ہیں جن میں نشے کے عادی افراد کی شرح سات فیصد ہے ۔ اخروی مضرات : حضرت انس بن مالک رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں : انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے دس لعنتیں فرمائی ہیں بذات خود شراب پر، شراب بنانے والے پر، شراب بنوانے والے پر، شراب فروخت کرنے والے پر، شراب خریدنے والے پر، شراب اٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائے اس پر ، شراب کی قیمت کھانے والے پر .. شراب پینے والے پر ، شراب پلانے والے پر منشیات فروشی پر پابندی اور ا س کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اپنی جگہ لیکن والدین کا اپنے بچو ں پر نظر رکھنے کا عمل انتہائی ضروری ہے ۔

بچوں کے ساتھ ان کے دوستوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت کے فو ائد بتائیں ۔ جہاں ان کے قدموں میں ہلکی سی بھی لرزش نظر ائے ان پر قابو پانے کی کوشش کریں بصورت دیگر زندگی کا یہ اہم ترین سرمایہ ضائع ہو سکتا ہے ۔ تعلیمی نصاب میں منشیات کے مضر اثرات کو نمایاں کرکے پیش کیا جائے۔ غرض اس خطرناک وبا سے نجات اس وقت ممکن ہے ، جب تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی قومی ، ملی اور دینی فریضہ سمجھ کر اس کے خلاف ایک منظم حکمت عملی کے ساتھ برسرپیکار ہوجائیں گے ۔

بہر حال کائنات کی تاریخ میں صحابہ کرام کی مقدس جماعت نے نبی کریم صلی اللہ وسلم کے طور طریق بطور اسوہ اپناکر ہر میدان میں فتح مندی کا وہ پرچم لہرایا دنیا جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لئے سرورکائنات صلی اللہ وسلم کے طرز حیات کے مقابلے میں دنیا کی کوئی تہذیب وتمدن کوئی ثقافت ومعاشرت ان کی آنکھوں کو خیرہ اور دلوں کو فریفتہ نہ کرسکی۔

تقدیر ملت کے ستاروں کی روشنی اس وقت تک ماند نہیں پڑسکتی جب تک اس ملت کے ہاتھوں میں ”اسوئہ حسنہ“ کی مشعل اپنے پورے استحکام کے ساتھ باقی رہے گی۔ ملت کے افراد کو اسوئہ نبوی سے کیا ضابطے اور حیاتِ انسانی کے کیا کیا اصول ملتے ہیں وہ کون سی ذمہ داریاں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کی روشنی میں ملت کے ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے افراد، یعنی نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے جس پر چل کر چین وسکون کا غلبہ ہو اور پورا مسلم معاشرہ بلکہ پوری دنیا امن وامان کا گہوارہ بن جائے۔

یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے اور اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملت کے نوجوانوں کی حیثیت کیا ہے۔ دراصل نوجوانانِ ملت کی مختلف حیثیتیں ہیں اور مختلف حیثیت سے مختلف حالات میں اس کی مختلف ذمہ داریاں ہیں ہم اس وقت حالات وواقعات کے پیش نظر چند حیثیتوں کی تعیین کرکے تعلیمات نبوی اور سیرت طیبہ کی روشنی میں ہر ایک کو الگ الگ تحریر کرتے ہیں کہ کس حیثیت سے نوجوان کے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

(۱) نوجوان خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے۔
(۲) نوجوان اہل قرابت و رشتہ داروں کے ایک فرد کی حیثیت سے۔
(۳) نوجوان معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے۔
(۴) نوجوان ملک کے ایک فرد کی حیثیت سے۔
(۵) نوجوان اپنے ذاتی کردار کی حیثیت سے۔
(۶) نوجوان اپنے جذبات کی حیثیت سے۔

اگر نوجوانان ملت اپنی حیثیت کو شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی روشنی میں سمجھیں اور اس پر عمل کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو یقینا ہمارا بگڑا ہوا معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہوجائے اور گھر، خاندان، اور معاشرہ چین وسکون اور امن وامان کا گہوارہ بن جائے۔ کسی شاعر نے بڑے ہی درد کے ساتھ کہا ہے:

اگر ہم اپنی روش بدل کر رہ ہدایت پہ ہوں روانہ
خدائی نصرت بھی ساتھ ہوگی مٹے گا یہ دور جابرانہ

نوجوان خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے: نوجوان اپنے والدین کا لاڈلا ان کی امیدوں و آرزؤں کا مرکز ان کی تمناؤں کا مظہر اور ان کی ضعیفی کا سہارا اور بڑھاپے کی لاٹھی ہوتا ہے۔ مذہب اسلام نے والدین کے حقوق کی رعایت اور ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید بیان کی ہے والدین کی اہمیت اور ان کی عظمت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم نے توحید جیسے بنیادی عقیدے کا تذکرہ کیا اسی کے ساتھ ساتھ فوراً والدین کے ساتھ حسن سلوک، ان سے مخاطب کے وقت لہجے کی نرمی، اور ان کے سامنے عاجزی ونیازمندی اور ان کے لئے دعاء وغیرہ کے اہتمام کا حکم دیا سورئہ بنی اسرائیل کے اندر باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلاَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَا اَوْ کِلٰہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْ ہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا

ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف بھی نہ کہو، اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہنا اور ان کے لئے یوں دعاء کرتے رہنا اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ رب العزت نے والدین کے ادب واحترام اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو اپنی عبادت کے ساتھ ملاکر واجب فرمایا جیسا کہ سورہ لقمان کے اندر اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملاکر لازم فرمایا: ان اشْکُرْلِی وَلِوَالِدَیْکَ (میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گذار ہونا واجب ہے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button