منکی پوکس بیماری یوروپ کے آٹھ ممالک میں پھیل گئی

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جساریوچ نے کہا کہ تنظیم کو منکی پوکس کے 37 تصدیق شدہ کیسز کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے اور مزید 71 مشتبہ کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یورخ: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) یورپ کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس ہنری کلوگ نے ​​کہا کہ یورپ کے آٹھ ممالک پہلے ہی منکی پوکس کے کیسز کی تصدیق کر چکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جساریوچ نے کہا کہ تنظیم کو منکی پوکس کے 37 تصدیق شدہ کیسز کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے اور مزید 71 مشتبہ کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر نے کل ایک بیان میں کہا’’حالیہ دنوں میں، ڈبلیو ایچ او کے یورپی خطے کے کم از کم آٹھ ممالک – بیلجیم، فرانس، جرمنی، اٹلی، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ – میں منکی پوکس کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ باہر کے ممالک جہاں منکی پوکس ایک مقامی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے، حال ہی میں آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ میں بھی ایسے ہی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ یورپ میں رپورٹ ہونے والے زیادہ تر کیسز میں ہلکی علامات ہیں، لیکن خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق عام طور پر زیادہ تر لوگ بغیر علاج کے چند ہفتوں میں ہی منکی پوکس سے صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور قوت مدافعت کم رکھنے والے افراد میں یہ بیماری زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔

علامات شروع میں فلو جیسی ہوتی ہیں، بخار، سردی لگنا، اور سوجن لمف نوڈس کے ساتھ، اس کے بعد بڑے پیمانے پر دانے ہوتے ہیں۔ منکی پوکس وائرس آسانی سے منتقل نہیں ہوتا ہے اور عام طور پر متاثرہ شخص کے ساتھ جسمانی رابطے سے پھیلتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button