منکی پوکس دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج: ڈبلیو ایچ او

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئس نے پیر کو کووڈ-19 وبائی بیماری اور یوکرین پر حملے کے بعد منکی پوکس بیماری کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک مشکل چیلنج قرار دیا۔

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئس نے پیر کو کووڈ-19 وبائی بیماری اور یوکرین پر حملے کے بعد منکی پوکس بیماری کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک مشکل چیلنج قرار دیا۔

انڈیپینڈنٹ اخبار نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں گیبریئس کے حوالے سے کہا کہ کوویڈ کی وبا صرف دنیا کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاست سے پیدا ہونے والی بیماری بھی بنی نوع انسان کے لیے ایک بڑا بحران ہے، جس کے ساتھ انہیں دیگر قدرتی آفات جیسے قحط، خشک سالی اور ہر قسم کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اتوار کو ڈبلیو ایچ او نے کہاکہ 21 مئی تک، 92 لیبارٹریوں میں تصدیق شدہ کیس اور منکی پوکس کے 28 مشتبہ کیس زیر تفتیش ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کو 12 رکن ممالک سے رپورٹس موصول ہوئی ہیں اور انہیں وبائی مرض کے طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے۔

اب تک منکی پاکس کے انفیکشن سے کسی مریض کی موت نہیں ہوئی ہے۔اسپوتنک کے مطابق منکی پوکس ایک نایاب وائرل بیماری ہے جو عام طور پر جنگلی جانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہے لیکن یہ جسمانی تعلقات قائم کرنے اورسانس کی بوندوں کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے۔ اس بیماری سے اموات کی شرح ایک فیصد سے لے کر 10 فیصد تک ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button