منگوڈ کے ضمنی الیکشن کی صورت میں کے سی آر منفرد انداز میں سرگرم ہوں گے

ٹی آر ایس سپریمو کے سی آر،بی جے پی اور کانگریس جو فی الوقت کافی سرگرم ہیں، کا سامنا کرنے کیلئے خصوصی حکمت عملی وضع کرنے کی تیاری کریں گے تاہم کے چندر شیکھر راؤ کے سامنے پارٹی میں اندرونی خلفشار اور ٹی آر ایس قائدین کی ناراضگی اہم و بڑے چیالنجس ہیں۔

حیدرآباد: کانگریس کے ناراض رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی اگر پارٹی کی ابتدائی رکنیت کے علاوہ ایم ایل اے کی حیثیت سے استعفیٰ دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے کہا ہے، تو حلقہ اسمبلی منگوڈ کا ضمنی الیکشن ناگزیر ہوجائے گا ایسی صورت میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس کے سربراہ و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ منفرد انداز میں بہت جلد متحرک وسرگرم ہونے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔

ٹی آر ایس سپریمو کے سی آر،بی جے پی اور کانگریس جو فی الوقت کافی سرگرم ہیں، کا سامنا کرنے کیلئے خصوصی حکمت عملی وضع کرنے کی تیاری کریں گے تاہم کے چندر شیکھر راؤ کے سامنے پارٹی میں اندرونی خلفشار اور ٹی آر ایس قائدین کی ناراضگی اہم و بڑے چیالنجس ہیں۔

ضمنی الیکشن سے قبل ان تمام مسائل کو حل کرتے ہوئے پارٹی کو صحیح سمت پر گامزن کرنا بھی کے سی آر کیلئے امتحان ہی رہے گا۔ ٹی آر ایس پارٹی ذرائع کے مطابق کے چندر شیکھر راؤ پارٹی اندرونی خلفشار پر قابو پالیں گے اور تمام ناراض وبرہم قائدین کی شکایتوں کو دور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ متحرک کریں گے اور اس سلسلہ میں پارٹی کے تمام طبقات کا تعاون حاصل کریں گے۔

حلقہ اسمبلی حضور آباد کے ضمنی الیکشن میں شکست کے صدمہ سے باہر نکلنے کیلئے کے سی آر، یقینا منگوڈ کے مجوزہ ضمنی الیکشن میں کسی بھی صورت میں کامیابی حاصل کرنا چاہیں گے۔ کے سی آر کا احساس ہے کہ آئندہ سال منعقد شدنی اسمبلی انتخابات سے قبل ضمنی الیکشن (منگوڈ) میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے کے چندر شیکھر راؤ سردست دہلی میں قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کررہے ہیں۔ حضور آباد کے ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد منگوڈ حلقہ کے انتخاب میں کے سی آر کو پہلی بار بی جے پی سے راست طور پر سامنا رہے گا۔

اس لئے کے چندر شیکھر راؤ، ہر ضلع کے منتخب پارٹی قائدین کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کرتے ہوئے عملی منصوبہ تیار کریں گے اور پارٹی قائدین سے بات چیت کے ذریعہ زمینی صورتحال سے واقفیت حاصل کریں گے۔ وہ، اپوزیشن جماعتوں کو موثر جواب دینے اور پارٹی کو مستحکم بنانے کیلئے ٹی آر ایس قائدین کو ہدایت دیں گے۔

اگر چیکہ حکمراں جماعت ٹی آر ایس کی تمام اسمبلی حلقوں پر مضبوط گرفت ہے اور اسے عوام کی بھی تائید وحمایت حاصل ہے مگر انتخابات میں پارٹی کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ اندرونی جھگڑے اور گروہی سیاست ہے۔ یہ دونوں مسائل سب سے بڑے چیالنجس ہیں۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کے سی آر، ہر اسمبلی حلقہ میں اندرونی جھگڑوں پر قابو پالیں گے اور پارٹی قائدین کی شکایتوں کو دور کریں گے اور سینئر قائدین کے انحراف کے سلسلہ کو روکنے میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔ جہاں تک حلقہ اسمبلی منگوڈ کا معاملہ ہے، 2018 کے الیکشن میں اس حلقہ سے ٹی آر ایس امیدوار کے پربھاکر ریڈی کو 74,679 ووٹ ملے تھے جبکہ موجودہ کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے 97,239 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔

بی جے پی امیدوار جی منوہر ریڈی کو 12,725 ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ ٹی آ رایس پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کے چندر شیکھر راؤ، تمام ناراض قائدین کو پرگتی بھون مدعو کریں گے۔ پارٹی قیادت کے مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔ سہل ولچکدار طریقہ اپناتے ہوئے وہ، آگے بڑھیں گے۔

پارٹی قائدین کے درمیان موجودہ اختلافات کو دور کرنے کی سعی کریں گے اور ضمنی الیکشن میں ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔ تمام قائدین سے ملاقات کیلئے کے چیف منسٹرکے سی آر دستیاب رہیں گے۔ انتظامیہ سطح پر بھی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ طویل عرصہ سے زیر التواء مسائل حل کرنے کیلئے چند فوری و اہم فیصلہ لیں گے۔

آسرا پنشن وظائف کی منظوری، دھرانی پورٹل سے متعلق شکایتوں کا ازالہ کرنے کیلئے فعال کردار ادا کریں گے۔ حکومت کی شبیہ کو بہتر بنانے جسے اپوزیشن نے خراب کیا ہے، کی بھر پور سعی کریں گے۔ ان تمام امور سے نمٹنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ فوری طور پر فعال وسرگرم ہوجائیں گے اور ان کے خلاف پیدا کردہ اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ، فیصلہ لینے میں تاخیر کرتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button