مودی، ہندوتوا کی سیاست پر عمل پیرا: اسد الدین اویسی

اویسی نے الزام عائد کیا کہ 2014 میں جب سے نریندر مودی برسر اقتدار آئے ہیں تب سے وہ، سیکولرازم کو تباہ کرنے اور ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

حیدرآباد: صدر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین اسد الدین اویسی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت، گذشتہ 8برسوں سے ہندوتوا سیاست پر عمل پیرا ہے۔

  حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کا ماننا ہے کہ ہجومی تشدد سے طلاق ثلاثہ پر امتناع کیلئے قانون سازی، مساجد کے مذہبی کردار کو تبدیل کرنے سے اترپردیش اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں مسلمانوں کے مکانات پر بلڈور چلانے تک یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ایجنڈہ کو نافذ کرنے کیلئے مل جل کر کام کررہے ہیں۔

 بی جے پی، گذشتہ 8برسوں سے نفرت کی سیاست کررہی ہے۔ نظریاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے وہ تشدد کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ گذشتہ8 برسوں میں وہ، تشدد کو قانونی حیثیت دے رکھی ہے۔ اویسی نے یہ الزام عائد کیا ہے۔ مجلس کے صدر کا احساس ہے کہ ہندوتوا ہندو مت کے برخلاف ہے۔

وہ ہندوتوا کو ملک کے دستور اور تکثیری تہذیب کیلئے خطرہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور ہندوتوا مساوات پر یقین نہیں رکھتا اور یہ نظریہ صرف ایک قوم ایک ملک کی بات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ہندوراشٹرا کا آئیڈیا ہندوبالادستی پر مبنی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر ہندوؤں کو محکوم بنائے رکھنا ہے۔ ہندوتوا، دستور اور دستور کے اخلاقیات کے لئے خطرہ ہے۔ اویسی نے الزام عائد کیا کہ 2014 میں جب سے نریندر مودی برسر اقتدار آئے ہیں تب سے وہ، سیکولرازم کو تباہ کرنے اور ملک کو ہندو راشٹرا بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

 اسد الدین اویسی نے اس احساس کا اظہار کیا کہ اگر سیکولر ازم فوت ہوجائے گا تب ہندوستان کا مکمل تصور بھی ختم ہوجائے گا۔ ہندوستان کو متحد رکھنے اور اس عظیم قوم کی تنوع اور تکثیریت کو جو مضبوط بنائے رکھتی ہے وہ صرف سیکولرازم ہے۔ ملک کے اخلاقیات تنوع اور تکثیریت ہی ملک کو مضبوط ومستحکم بناتی ہیں اور اسے مضبوط بھی ہونا چاہئے۔

مسلمانوں کے سرکردہ رہنما، ہندوستان کے اخلاقیات کے تحفظ کیلئے لڑائی لڑنے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی ایک مضبوط ومستحکم ہندوستان کیلئے ہے جہاں تمام ہندوستانیوں کے حقوق اور اقدام کا تحفظ ہو، ہماری یہ لڑائی، انصاف کیلئے، آزادی کیلئے مساوات اوربھائی چارہ کیلئے ہے۔ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔

 ہندوتوا نظریات کے ذریعہ ملک کو کمزور اور تباہ وبرباد کیا جاچکا ہے۔2014 میں بی جے پی جب سے برسر اقتدار آئی ہے تب سے ہجومی تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے محمداخلاق، پہلو خان،  حافظ جنید اور دیگر کو ہلاک کیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت نے کبھی تشدد کی مذمت نہیں کی۔ قبل ازیں اسد الدین اویسی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ گوڈسے کے نظریات کے حامل ہندوتوا عناصر نے مسلمانوں کی لنچنگ کی۔

مجرمین کو ہندوتوا نظریات کے حامل قائدین کی پشت پناہی رہتی ہے۔ مسلم قائد اسد الدین اویسی نے اس بات کی نشاندہی کی۔ اشتعال انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کو فروغ دینا ہندوتوا تنظیموں کا کلچر ہے انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ کی مثال پیش کی۔ پہلے یوگی کو لوک سبھا کارکن بنایا گیا پھر انہیں یو پی کے چیف منسٹر کا عہدہ دیا گیا ہے۔

اسی طرح نفرت پر مبنی تقاریر پر مودی کو انعام دیا گیا2002 کے گجرات فسادات کے بعد مودی کو اہمیت ملی تب وہ اس ریاست کے چیف منسٹر تھے۔ اسد الدین اویسی نے پیش قیاسی کی کہ بی جے پی سے معطل ترجمان نپور شرما بی جے پی کی پوسٹر گرل بنے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button