مودی حکومت نے ریلوے کو عام آدمی سے دور کر دیا:ڈیرک اوبرائن

ڈیرک اوبرائن نے وزارت ریلوے کے کام کاج پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب تک جتنے بھی ریلوے وزرا رہے ہیں انہوں نے عام آدمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی نہ کسی بنیادی آئیڈیا پر کام کیا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: ترنمول کانگریس نے کہا ہے کہ ریل ہر شہری کے سفر کا ایک بنیادی ذریعہ ہے، لیکن گزشتہ سات سالوں میں مودی حکومت نے عام آدمی کو مرکز میںرکھ کر ایک بھی بنیادی آئیڈیا پر کام نہیں کیا، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں ۔ راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے جمعرات کو وزارت ریلوے کے کام کاج پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب تک جتنے بھی ریلوے وزرا رہے ہیں انہوں نے عام آدمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کسی نہ کسی بنیادی آئیڈیا پر کام کیا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے ریلوے کے وزیر کے طور پر مادھو ڈنڈاوتے کو برتھ پر گدی نصب کیے جانے، نتیش کمار کے تتکال نظام ریزرویشن شروع کرنے، لالو پرساد یادو کی غریب رتھ اور ممتا بنرجی کی دورنتو ٹرین شروع کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے پچھلے سات سالوں کے دور میں ایسا کوئی قابل ذکر آئیڈیا نظر نہیں آتا ہے کیونکہ حکومت ریلوے سے متعلق پروجیکٹوں کو سامنے لاتے وقت عام آدمی کو ذہن میں نہیں رکھتی ہے۔

طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی حکومت یقینی طور پر ایک آئیڈیا لے کر آئی ہے اور وہ بلٹ ٹرین ہے جس پر 200 کروڑ روپے فی کلومیٹر لاگت آئے گی۔ دوسرا آئیڈیا وندے بھارت ٹرین کا ہے جس کا کرایہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے تیجس ٹرین کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کرنے کی بھی شدید مخالفت کی۔

بی جے پی کے نیرج شیکھر نے کہا کہ اب ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں میں صفائی پر خصوصی زور دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ٹرینوں میں سفر کرنا آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بکولا ریلوے اسٹیشن کا نام جئے پرکاش نارائن کے نام پر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاری کے اخراجات میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے ریلوے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button